We Want Khilafah

We Want Khilafah ISLAMIC CONTENT

10/04/2026

Urdu + English

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
"اے ایمان والو! رکوع کرو، سجدہ کرو، اپنے رب کی عبادت کرو، اور نیکی کے کام کرو تاکہ تم فلاح پا سکو۔ اور اللہ کی راہ میں جہاد کرو جیسا کہ جہاد کرنے کا حق ہے۔ اس نے تمہیں چن لیا ہے اور دین میں تم پر کوئی تنگی نہیں رکھی۔ اپنے باپ ابراہیمؑ کے طریقے پر قائم رہو۔
اسی (اللہ) نے تمہارا نام پہلے بھی 'مسلمان' رکھا تھا اور اس (قرآن) میں بھی، تاکہ رسول تم پر گواہ ہو اور تم لوگوں پر گواہ بنو۔ پس نماز قائم کرو، زکوٰۃ ادا کرو، اور اللہ کو مضبوطی سے تھام لو۔ وہی تمہارا کارساز ہے، پس کیا ہی بہترین کارساز اور کیا ہی بہترین مددگار ہے!"
(سورۃ الحج: 77-78)

اکثر علماء کے نزدیک یہ آیات مکہ میں نازل ہوئیں۔ ان میں اللہ تعالیٰ نے انفرادی عبادات جیسے نماز اور سجدہ کو نیکی کے کاموں اور اپنی راہ میں جدوجہد کے ساتھ جوڑا ہے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ اسلام کے لیے کام کرنا اور دین کو غالب کرنے کی جدوجہد کرنا بھی اسی قدر اہم ہے جتنا کہ ذاتی عبادات۔

اس حکم پر غور کریں:
"رکوع کرو، سجدہ کرو، اپنے رب کی عبادت کرو، نیکی کرو، اور اللہ کی راہ میں جہاد کرو۔"
یہ جدوجہد (جہاد) اس بات کو شامل ہے کہ اللہ کے دین کو بلند کرنے کے لیے کوشش کی جائے، چاہے وہ دعوت کے ذریعے ہو، نیکی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے کے ذریعے ہو، یا سیاسی جدوجہد کے ذریعے۔

اس کی دلیل آیت کے اگلے حصے میں ہے:
"تاکہ رسول تم پر گواہ ہو اور تم لوگوں پر گواہ بنو۔"

یعنی یہ تمہاری ذمہ داری ہے کہ تم اسلام کا پیغام دوسروں تک پہنچاؤ۔

Allah Says:

O you who believe! Bow down, prostrate yourselves, worship your Lord, and do good so that you may succeed. And strive hard in the cause of Allah as He deserves. He has chosen you and has not placed any hardship upon you in the religion. Follow the way of your father Ibrahim.

It is He who named you 'Muslims' before and in this (Qur'an), so that the Messenger may be a witness over you, and you may be witnesses over mankind. So establish prayer, give zakah, and hold firmly to Allah. He is your Protector what an excellent Protector and what an excellent Helper.

(Surah Al-Hajj, 77-78)

According to most scholars, these verses were revealed in Makkah. In them, Allah joins individual acts of worship like prayer and prostration with doing good deeds and striving in His cause. This shows that working for Islam and struggling to make the Deen dominant is just as important as personal worship.

Reflect on the command:

"Bow, prostrate, worship your Lord, do good, and strive in the way of Allah."

This striving (jihad) means working to elevate Allah's Deen whether through da'wah (calling to Islam), enjoining good and forbidding evil, or through political struggle.

The proof is in the next part of the verse:

So that the Messenger may be a witness over you, and you may be witnesses over mankind."

This means it is your duty to carry the message of Islam to others.

خلافت کیا ہے؟خلافت ایک اسلامی نظامِ حکومت ہے جس میں ایک حکمران (خلیفہ) قرآن اور سنت کے مطابق حکومت کرتا ہے۔خلیفہ کا مطلب...
09/04/2026

خلافت کیا ہے؟
خلافت ایک اسلامی نظامِ حکومت ہے جس میں ایک حکمران (خلیفہ) قرآن اور سنت کے مطابق حکومت کرتا ہے۔

خلیفہ کا مطلب:
اللہ کے قانون کو زمین پر نافذ کرنے والا
انصاف قائم کرنا
عوام کی حفاظت اور فلاح

📜 قرآن میں خلافت کا تصور
قرآن میں خلافت کا ذکر کئی جگہ آیا ہے:
سورۃ البقرہ (2:30)
اللہ نے فرمایا کہ وہ زمین میں "خلیفہ" بنانے والا ہے (حضرت آدمؑ)
سورۃ النور (24:55)
اللہ وعدہ کرتا ہے کہ ایمان والوں کو زمین میں خلافت دے گا
👉 اس سے معلوم ہوتا ہے کہ خلافت اللہ کی طرف سے ایک ذمہ داری اور نظام ہے

⚖️ خلافت اور قرآن کا تعلق
خلافت کا نظام قرآن پر مبنی ہوتا ہے
خلیفہ اپنی مرضی سے نہیں بلکہ قرآن و سنت کے مطابق فیصلے کرتا ہے
مقصد: عدل، امن، اور اسلامی اصولوں کا نفاذ

📖 قرآن کیا ہے؟اللہ تعالی کی طرف سے نازل کردہ آخری کتاب جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئی۔قرآن کی خصوصیات:*   م...
09/04/2026

📖 قرآن کیا ہے؟

اللہ تعالی کی طرف سے نازل کردہ آخری کتاب جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئی۔
قرآن کی خصوصیات:

* مکمل ضابطہ حیات، جو زندگی کے ہر شعبہ میں رہنمائی دیتا ہے۔
* عبادات، اخلاقیات، قوانین، اور معاشرتی تعلقات کے متعلق تفصیلی ہدایات۔
* مسلمانوں کے لئے سب سے اعلیٰ قانون، جس کی اتباع لازم ہے۔

خلافت کے نظام میں ٹیکس (محصولات) کے کچھ بنیادی اصول اور قوانین ہوتے ہیں، جو اسلامی شریعت پر مبنی ہوتے ہیں۔ یہاں چند اہم ...
03/04/2026

خلافت کے نظام میں ٹیکس (محصولات) کے کچھ بنیادی اصول اور قوانین ہوتے ہیں، جو اسلامی شریعت پر مبنی ہوتے ہیں۔ یہاں چند اہم قواعد سادہ اردو میں:
1. زکوٰۃ (Zakat)
مسلمانوں پر لازم ٹیکس ہے۔
صرف ان لوگوں پر فرض ہے جو صاحبِ نصاب ہوں۔
شرح عام طور پر 2.5% ہوتی ہے (سالانہ بچت پر)۔
یہ غریبوں، مسکینوں اور مستحقین میں تقسیم کی جاتی ہے۔
2. خراج (Kharaj)
زمین پر لگنے والا ٹیکس۔
خاص طور پر مفتوحہ (فتح شدہ) زمینوں پر لیا جاتا ہے۔
اس کی مقدار زمین کی پیداوار یا نوعیت کے مطابق ہوتی ہے۔
3. جزیہ (Jizya)
غیر مسلم شہریوں سے لیا جانے والا ٹیکس۔
اس کے بدلے انہیں ریاست کی طرف سے تحفظ اور مذہبی آزادی دی جاتی ہے۔
عورتوں، بچوں، بوڑھوں اور معذور افراد پر یہ لاگو نہیں ہوتا۔
4. عشر (Ushr)
زرعی پیداوار پر ٹیکس۔
اگر زمین بارش یا قدرتی پانی سے سیراب ہو تو 10%۔
اگر مصنوعی طریقے سے سیراب ہو تو 5%۔
5. بیت المال (Bayt al-Mal)
ریاست کا خزانہ جہاں تمام ٹیکس جمع ہوتے ہیں۔
اس رقم کو عوامی فلاح، دفاع، تعلیم، اور دیگر ضروریات پر خرچ کیا جاتا ہے۔
6. انصاف اور اعتدال
ٹیکس کا نظام ظلم پر مبنی نہیں ہوتا۔
لوگوں کی استطاعت کے مطابق ٹیکس لیا جاتا ہے۔
غریب طبقے پر بوجھ نہیں ڈالا جاتا۔
Share with people.

02/04/2026
🏵️💐اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم 🌺💐🌹🥀بسم اللہ الرحمن الرحیم🌷🪷🏵️🍁🌷🥀انما الْمُؤْمِنُونَ إِخْوَةٌ﴾(بے شک مومن آپس میں بھائی ...
28/02/2026

🏵️💐اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم 🌺💐🌹🥀بسم اللہ الرحمن الرحیم🌷🪷🏵️🍁🌷🥀

انما الْمُؤْمِنُونَ إِخْوَةٌ﴾
(بے شک مومن آپس میں بھائی بھائی ہیں) — القرآن المجید، سورۃ الحجرات: 10
یہ آیت ہمیں یاد دلاتی ہے کہ ایمان کا رشتہ خون، زبان اور قومیت سے بھی مضبوط ہے۔ جب دو مسلمان کلمۂ طیبہ پر جمع ہو جائیں تو وہ صرف دوست نہیں رہتے بلکہ بھائی بن جاتے ہیں۔ بھائی کا مطلب ہے خیر خواہی، ہمدردی، تعاون اور ایک دوسرے کے دکھ درد میں شریک ہونا۔
آج کے دور میں جب اختلافات، تعصبات اور نفرتیں بڑھ رہی ہیں، ہمیں اس قرآنی پیغام کو عام کرنے کی ضرورت ہے۔ محبت اور بھائی چارہ ہی وہ راستہ ہے جو دلوں کو جوڑتا اور امت کو مضبوط بناتا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے بھی فرمایا کہ مسلمان مسلمان کا بھائی ہے، نہ اس پر ظلم کرتا ہے اور نہ اسے بے یار و مددگار چھوڑتا ہے۔
آئیں عہد کریں کہ:
ہم ایک دوسرے کی عزت کریں گے۔
نفرت کے بجائے محبت کو فروغ دیں گے۔
اختلاف کو دشمنی نہیں بننے دیں گے۔
صلح، درگزر اور خیر خواہی کو اپنائیں گے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں سچا بھائی چارہ، اخلاص اور باہمی محبت نصیب فرمائے۔ آمین۔
امن







🇵🇰 پاکستان کے لیے




🇦🇫 افغانستان کے لیے




🤝 مشترکہ امن مہم




#تراویح






#روحانیت
🌍 زیادہ پہنچ (Reach) کے لیے

غار کا کوانٹم انکیوبیٹر، وقت کی اضافیت (Relativity) اور حیاتیاتی معجزہ: سورہ الکہف کی آیات 11 تا 20 کا سائنسی، ارضیاتی ا...
25/02/2026

غار کا کوانٹم انکیوبیٹر، وقت کی اضافیت (Relativity) اور حیاتیاتی معجزہ: سورہ الکہف کی آیات 11 تا 20 کا سائنسی، ارضیاتی اور الہیاتی مطالعہ! (سورہ کہف حصہ دوم) - بلال شوکت آزاد

انسانی شعور، جدید بائیولوجی اور فزکس کی تاریخ میں جب ہم وقت (Time) اور انسانی جسم کے تعلق کا مطالعہ کرتے ہیں، تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ مادہ اور وقت دونوں ایک دوسرے کے قیدی ہیں۔

انسان کا جسم وقت کے کائناتی بہاؤ کے سامنے محض ایک کمزور سا بائیولوجیکل کینوس ہے جس پر وقت اپنے زوال (Aging) کی لکیریں کھینچتا چلا جاتا ہے۔

لیکن جب کائنات کا وہ مطلق العنان اور احد و واحد خالق، جس نے وقت کے اس فور ڈائمینشنل فیبرک (Four-Dimensional Fabric) کو تخلیق کیا ہے، کسی نظام کو اپنے کنٹرول میں لیتا ہے تو وہ فزکس اور تھرمو ڈائنامکس کے تمام قوانین کو اپنے ایک اشارے سے بائی پاس کر دیتا ہے۔

پچھلے حصے میں ہم نے دیکھا کہ وہ طاغوت کے باغی اور توحید پرست نوجوان کس طرح ریاست کے دجالی اور مادی جبر سے کٹ کر ایک غار میں پناہ گزین ہوئے تھے۔

اب اس غار کے اندر کیا کائناتی اور سائنسی عمل برپا ہوا، اللہ رب العزت اسے ایک ایسی حیران کن سائنسی اور اعصابی (Neurological) اصطلاح سے شروع کرتا ہے جو جدید میڈیکل سائنس کی بنیادوں کو ہلا کر رکھ دیتی ہے،

فرمایا:

”فَضَرَبْنَا عَلَىٰ آذَانِهِمْ فِي الْكَهْفِ سِنِينَ عَدَدًا ۝ ثُمَّ بَعَثْنَاهُمْ لِنَعْلَمَ أَيُّ الْحِزْبَيْنِ أَحْصَىٰ لِمَا لَبِثُوا أَمَدًا ۝“
(ترجمہ: پس ہم نے اس غار میں کئی سالوں تک ان کے کانوں پر (نیند کا) پردہ ڈال دیا (ان کی سماعت کو تھپکی دے کر سلا دیا)۔ پھر ہم نے انہیں اٹھا کھڑا کیا تاکہ ہم جان لیں کہ (ان کے) دونوں گروہوں میں سے کسے اپنی مدتِ قیام کا زیادہ صحیح شمار یاد ہے [الکہف: 11-12])۔

ان دو آیات میں جدید ترین ”نیورو اکوسٹکس“ (Neuro-Acoustics) اور سلیپ سائنس (Sleep Science) کا وہ عظیم الشان معجزہ چھپا ہے جسے انسان نے اکیسویں صدی میں جا کر دریافت کیا ہے۔

اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ

”ہم نے ان کی آنکھوں پر پردہ ڈال دیا“

یا

”ہم نے انہیں سلا دیا“،

بلکہ ایک انتہائی مخصوص بائیولوجیکل عضو یعنی ”کانوں“ (آذانہم) کا ذکر کیا اور فرمایا کہ ہم نے ان کے کانوں پر ضرب لگائی (پردہ ڈال دیا)۔

میڈیکل سائنس اور اناٹومی ہمیں بتاتی ہے کہ جب انسان گہری نیند میں سوتا ہے، تو اس کی آنکھیں، اس کے پٹھے اور اس کا شعوری دماغ (Conscious Mind) شٹ ڈاؤن ہو جاتے ہیں، لیکن اس کی ”سماعت“ (Hearing) وہ واحد حسیاتی نظام (Sensory System) ہے جو نیند میں بھی بیدار اور الرٹ رہتا ہے۔ ذرا سی کھٹک، ذرا سا شور انسان کو نیند سے اٹھا دیتا ہے۔

اللہ رب العزت، جو اس انسانی مشینری کا الٹیمیٹ ڈیزائنر ہے، وہ جانتا تھا کہ اگر انہیں اس غار میں صدیوں تک سلانا ہے، تو سب سے پہلے ان کے دماغ کے ”آڈیٹری کارٹیکس“ (Auditory Cortex) کا رابطہ بیرونی دنیا سے کاٹنا ہوگا۔

یہ کوئی عام نیند نہیں تھی، بلکہ یہ ایک مکمل کائناتی ”سینسری ڈیپریویشن“ (Sensory Deprivation) اور میٹابولک فریز (Metabolic Freeze) کا عمل تھا جس میں بیرونی آوازوں کا دماغ تک پہنچنا مکمل طور پر بلاک کر دیا گیا تاکہ ان کے اعصاب صدیوں تک مکمل سکون کی حالت میں رہیں۔

اور پھر جب اللہ نے اس کائناتی نیند کے بعد انہیں بیدار کیا (ثُمَّ بَعَثْنَاهُمْ)، تو اس کا الہیاتی مقصد یہ بیان کیا کہ دیکھا جائے کہ کون سا گروہ اس بات کا درست اندازہ لگا پاتا ہے کہ ان پر کتنا ”وقت“ گزرا ہے۔

یہ دراصل وقت کے نفسیاتی ادراک (Psychological Perception of Time) کا وہ امتحان تھا جو انسان کو یہ بتاتا ہے کہ ٹائم کوئی مطلق (Absolute) چیز نہیں ہے، بلکہ یہ ایک اضافی اور فریب زدہ کیفیت کا نام ہے۔

اس سائنسی تعارف کے بعد، اللہ تعالیٰ اپنے محبوب نبی ﷺ اور قیامت تک آنے والی جدید اور سائنس زدہ انسانیت کو اس واقعے کی اصل، خالص اور غیر مبہم حقیقت بتاتا ہے جو صدیوں سے مختلف مذاہب اور دیومالائی کہانیوں میں مسخ ہو چکی تھی،

فرمایا:

”نَّحْنُ نَقُصُّ عَلَيْكَ نَبَأَهُم بِالْحَقِّ ۚ إِنَّهُمْ فِتْيَةٌ آمَنُوا بِرَبِّهِمْ وَزِدْنَاهُمْ هُدًى ۝ وَرَبَطْنَا عَلَىٰ قُلُوبِهِمْ إِذْ قَامُوا فَقَالُوا رَبُّنَا رَبُّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ لَن نَّدْعُوَ مِن دُونِهِ إِلَٰهًا ۖ لَّقَدْ قُلْنَا إِذًا شَطَطًا ۝“
(ترجمہ: ہم آپ کو ان کا اصل اور سچا واقعہ سناتے ہیں۔ بے شک وہ چند نوجوان تھے جو اپنے رب پر ایمان لائے، اور ہم نے ان کو ہدایت میں اور بڑھا دیا۔ اور ہم نے ان کے دلوں کو (مضبوطی سے) باندھ دیا جب وہ (ظالم بادشاہ کے سامنے) کھڑے ہوئے اور انہوں نے اعلان کیا: ہمارا رب وہی ہے جو آسمانوں اور زمین کا رب ہے، ہم اس کے سوا ہرگز کسی اور معبود کو نہیں پکاریں گے، (اگر ہم ایسا کریں) تو ہم نے یقیناً حد سے گزری ہوئی (باطل) بات کہی [الکہف: 13-14])۔

یہ دو آیات خالصتاً عمرانیات، انقلابی نفسیات (Revolutionary Psychology) اور الہیاتی استقامت کا ماسٹر پیس ہیں۔

اللہ نے واضح کر دیا کہ کفر، شرک اور اسٹیٹس کو (Status Quo) کے خلاف بغاوت ہمیشہ ”نوجوانوں“ (فتیہ) کی طرف سے اٹھتی ہے۔

جب نوجوان اپنے سینے میں توحید کا بیج بوتے ہیں، تو اللہ کا کائناتی قانون حرکت میں آتا ہے اور وہ ان کی اس فکری بغاوت کو ”مزید ہدایت“ (وزدناہم ھدی) سے سیراب کرتا ہے۔

نیوروپلاسٹی سٹی (Neuroplasticity) کا اصول ہے کہ انسان جس سوچ پر قائم ہو جائے، اس کا دماغ اسی کے مطابق مضبوط ہونے لگتا ہے۔

اللہ فرماتا ہے

”وَرَبَطْنَا عَلَىٰ قُلُوبِهِمْ“
(ہم نے ان کے دلوں کو باندھ دیا)۔

یہ ایک انتہائی خوفناک نفسیاتی جنگ کا منظر ہے۔ وہ نوجوان اپنے وقت کے سب سے جابر، خونخوار اور ظالم بادشاہ (دقیانوس) کے دربار میں تنہا کھڑے ہیں۔ ان کے سامنے موت، تشدد اور ریاست کا پورا جبر ناچ رہا ہے، لیکن ان کے دلوں میں رتی برابر بھی خوف نہیں، ان کی ٹانگیں نہیں کانپ رہیں۔

کیوں؟

کیونکہ آسمان کے رب نے ان کے دلوں پر اپنی الہیاتی رسی اور استقامت کا کائناتی بانڈ (Bond) باندھ دیا تھا۔ انہوں نے بادشاہ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر وہ اعلان کیا جو انسانی تاریخ کا سب سے بڑا ”ڈیکلریشن آف انڈیپنڈنس“ (Declaration of Independence) ہے کہ ہم آسمانوں اور زمین کے مطلق رب کے سوا کسی جھوٹے خدا کے آگے نہیں جھکیں گے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں نظریہ انسان کو موت کے خوف سے آزاد کر دیتا ہے۔

اپنے اس انقلابی اور توحیدی اعلان کے بعد، یہ نوجوان اپنے مشرک اور مادہ پرست معاشرے کا وہ منطقی، عقلی اور فلسفیانہ پوسٹ مارٹم کرتے ہیں جو آج کے دور کے ہر سیکولر، لبرل اور شرک سے لتھڑے ہوئے معاشرے پر منطبق ہوتا ہے،

فرمایا:

”هَٰؤُلَاءِ قَوْمُنَا اتَّخَذُوا مِن دُونِهِ آلِهَةً ۖ لَّوْلَا يَأْتُونَ عَلَيْهِم بِسُلْطَانٍ بَيِّنٍ ۖ فَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرَىٰ عَلَى اللَّهِ كَذِبًا ۝ وَإِذِ اعْتَزَلْتُمُوهُمْ وَمَا يَعْبُدُونَ إِلَّا اللَّهَ فَأْوُوا إِلَى الْكَهْفِ يَنشُرْ لَكُمْ رَبُّكُم مِّن رَّحْمَتِهِ وَيُهَيِّئْ لَكُم مِّنْ أَمْرِكُم مِّرْفَقًا ۝“
(ترجمہ: یہ ہماری قوم ہے جس نے اللہ کو چھوڑ کر دوسرے معبود بنا لیے ہیں۔ یہ لوگ ان (معبودوں) کی حقانیت پر کوئی واضح دلیل (سلطانِ مبین) کیوں نہیں لاتے؟ پس اس سے بڑا ظالم اور کون ہوگا جو اللہ پر جھوٹ باندھے؟ اور (انہوں نے آپس میں کہا) جب تم نے ان (مشرکوں) سے اور جن کی وہ اللہ کے سوا عبادت کرتے ہیں ان سے علیحدگی اختیار کر ہی لی ہے، تو اب چلو اور اس غار میں پناہ لو۔ تمہارا رب تم پر اپنی رحمت پھیلا دے گا اور تمہارے اس کام میں تمہارے لیے سہولت اور کامیابی کا سامان مہیا کر دے گا [الکہف: 15-16])۔

یہ آیات ہمیں بتاتی ہیں کہ حق اور باطل کی جنگ محض جذباتی نہیں ہوتی، بلکہ یہ ”سلطانِ مبین“ (Clear Empirical and Logical Evidence) کی جنگ ہوتی ہے۔

نوجوان اپنی قوم سے ڈیمانڈ کر رہے ہیں کہ اگر تم ان مورتیوں، ان بتوں، یا آج کے دور کی زبان میں اس سرمائے، اس ریاست، یا اس ٹیکنالوجی کو اپنا خدا اور آخری سہارا مانتے ہو، تو اس پر کوئی عقلی اور سائنسی دلیل کیوں نہیں لاتے؟

جب باطل کے پاس دلیل ختم ہو جاتی ہے تو وہ جبر پر اتر آتا ہے، اور جب ریاست جبر پر اتر آئے تو پھر ان توحید پرستوں کے لیے واحد آپشن ”اعتزال“ (بائیکاٹ، علیحدگی یا Social Boycott) رہ جاتا ہے۔

انہوں نے طے کیا کہ اس غلیظ اور شرک زدہ معاشرے کا حصہ بننے سے بہتر ہے کہ ہم ایک تاریک غار میں پناہ لے لیں۔

بظاہر غار ایک انتہائی تنگ، تاریک اور خوفناک جگہ ہوتی ہے، لیکن ان کا ایمان دیکھیں کہ وہ کہہ رہے ہیں

”يَنشُرْ لَكُمْ رَبُّكُم مِّن رَّحْمَتِهِ“
(تمہارا رب اپنی رحمت کو تم پر کشادہ کر دے گا)۔

وہ جانتے تھے کہ اگر دل میں کائنات کے رب کا نور ہو تو غار کی تنگ دیواریں بھی کائنات کی وسعتوں میں بدل جاتی ہیں۔ یہ کائناتی توکل کی وہ معراج ہے جہاں مادیت پسندی (Materialism) اپنی موت آپ مر جاتی ہے۔

اب ہم قرآنی بیان کے اس حصے میں داخل ہوتے ہیں جہاں آج کی جدید آسٹرونومی (Astronomy)، فزکس اور بیالوجی ہاتھ باندھے کھڑی نظر آتی ہے۔

اللہ تعالیٰ اس غار کے اندر کے ماحول، اس کی جیوگرافیکل لوکیشن (Geographical Location) اور کائنات کے سب سے بڑے ستارے (سورج) کی حرکات کا وہ سائنسی نقشہ کھینچتا ہے جو انسان کے اعصاب کو منجمد کر دیتا ہے،

فرمایا:

”وَتَرَى الشَّمْسَ إِذَا طَلَعَت تَّزَاوَرُ عَن كَهْفِهِمْ ذَاتَ الْيَمِينِ وَإِذَا غَرَبَت تَّقْرِضُهُمْ ذَاتَ الشِّمَالِ وَهُمْ فِي فَجْوَةٍ مِّنْهُ ۚ ذَٰلِكَ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ ۗ مَن يَهْدِ اللَّهُ فَهُوَ الْمُهْتَدِ ۖ وَمَن يُضْلِلْ فَلَن تَجِدَ لَهُ وَلِيًّا مُّرْشِدًا ۝“
(ترجمہ: اور (اے دیکھنے والے!) تو دیکھے گا کہ سورج جب طلوع ہوتا ہے تو ان کے غار سے دائیں طرف کو بچ کر نکل جاتا ہے، اور جب غروب ہوتا ہے تو ان سے بائیں طرف کترا کر گزر جاتا ہے، اور وہ اس غار کی ایک کشادہ جگہ میں (آرام سے) موجود ہیں۔ یہ اللہ کی (عظیم الشان) نشانیوں میں سے ہے۔ جسے اللہ ہدایت دے، بس وہی ہدایت پانے والا ہے، اور جسے وہ گمراہ کر دے تو تم اس کے لیے ہرگز کوئی دوست، کوئی راہ دکھانے والا نہ پاؤ گے [الکہف: 17])۔

یہ اکیلی آیت جدید ”کرونو بائیولوجی“ (Chronobiology)، میڈیسن اور ایسٹرو فزکس کا وہ کائناتی انکیوبیٹر (Cosmic Incubator) ہے جس کا ڈیزائن خود اللہ نے تیار کیا۔

سائنس بتاتی ہے کہ اگر انسانی جسم کو سینکڑوں سالوں تک کسی اندھیری جگہ پر منجمد (Preserve) کرنا ہو، تو اسے مکمل اندھیرے میں نہیں رکھا جا سکتا ورنہ فنگس (Fungus) اور بیکٹیریا جسم کو کھا جائیں گے۔

اسے روشنی کی ضرورت ہوتی ہے، لیکن اگر سورج کی براہِ راست الٹرا وائلٹ (UV Rays) اور انفراریڈ (Infrared) شعاعیں مستقل جسم پر پڑیں تو وہ خلیوں کو جلا کر راکھ کر دیں گی اور جسم ڈیہائیڈریشن (Dehydration) کا شکار ہو جائے گا۔

اللہ تعالیٰ نے اس غار کا رخ (Direction) اور اس کا کائناتی زاویہ ایسا رکھا کہ جب سورج مشرق سے طلوع ہوتا تو اس کی روشنی غار کے اندر براہِ راست پڑنے کے بجائے

”تَّزَاوَرُ عَن كَهْفِهِمْ ذَاتَ الْيَمِينِ“
(دائیں طرف مڑ کر، محض روشنی بکھیرتی ہوئی) گزر جاتی،

اور جب سورج مغرب میں غروب ہونے لگتا تو

”تَّقْرِضُهُمْ ذَاتَ الشِّمَالِ“
(بائیں طرف سے کترا کر، ان کے جسموں کو چھوئے بغیر) نکل جاتا۔

یعنی سورج، جو ہمارے سولر سسٹم کا بادشاہ ہے، وہ صدیوں تک روزانہ ایک طواف کی طرح غار کے باہر سے گزرتا رہا مگر اس کی مجال نہ تھی کہ وہ اللہ کے ان ولیوں کے جسموں کو جھلسا سکے۔

وہ غار کے ایک وسیع حصے (فجوہ) میں تھے جہاں کراس وینٹیلیشن (Cross Ventilation) کے ذریعے تازہ ہوا کا ایک ایسا آئیڈیل تھرمو ڈائنامک توازن قائم تھا جس نے ان کے جسموں کو صدیوں تک زندہ اور تروتازہ رکھا۔

یہ ہے وہ کائناتی فزکس جو چیخ چیخ کر اللہ کی قدرت کی گواہی دے رہی ہے۔

اس بائیولوجیکل پریزرویشن (Biological Preservation) کا اگلا مرحلہ اس سے بھی زیادہ حیران کن اور جدید میڈیکل سائنس کے عین مطابق ہے، جو اللہ نے اگلی آیت میں بیان کیا ہے،

فرمایا:

”وَتَحْسَبُهُمْ أَيْقَاظًا وَهُمْ رُقُودٌ ۚ وَنُقَلِّبُهُمْ ذَاتَ الْيَمِينِ وَذَاتَ الشِّمَالِ ۖ وَكَلْبُهُم بَاسِطٌ ذِرَاعَيْهِ بِالْوَصِيدِ ۚ لَوِ اطَّلَعْتَ عَلَيْهِمْ لَوَلَّيْتَ مِنْهُمْ فِرَارًا وَلَمُلِئْتَ مِنْهُمْ رُعْبًا ۝“
(ترجمہ: اور تم انہیں (دیکھ کر) بیدار سمجھو گے، حالانکہ وہ سوئے ہوئے ہیں۔ اور ہم انہیں دائیں اور بائیں کروٹیں بدلوا رہے ہیں۔ اور ان کا کتا غار کے دہانے پر اپنے دونوں بازو پھیلائے بیٹھا ہے۔ اگر تم انہیں جھانک کر دیکھ لیتے تو تم ضرور ان سے الٹے پاؤں بھاگ کھڑے ہوتے اور تم پر ان کی ہیبت اور رعب چھا جاتا [الکہف: 18])۔

یہ آیت اناٹومی، فزیالوجی اور میڈیکل سائنس کا وہ حتمی پروٹوکول ہے جسے آج دنیا بھر کے آئی سی یو (ICU) وارڈز میں فالو کیا جاتا ہے۔

میڈیکل سائنس کہتی ہے کہ اگر کوئی انسان ایک ہی کروٹ پر زیادہ دیر لیٹا رہے، تو خون کی گردش رکنے (Ischemia) اور مسلسل دباؤ کی وجہ سے اس کے جسم پر ”بیڈ سورس“ (Bedsores) یا ”پریشر السر“ (Pressure Ulcers) بن جاتے ہیں، اور گوشت گلنا شروع ہو جاتا ہے۔

اللہ تعالیٰ، جو کائنات کا سب سے بڑا سرجن اور حیاتیاتی نظام کا خالق ہے، فرماتا ہے

”وَنُقَلِّبُهُمْ ذَاتَ الْيَمِينِ وَذَاتَ الشِّمَالِ“
(ہم صدیوں تک مسلسل انہیں دائیں اور بائیں کروٹیں دلواتے رہے)۔

یہ کائنات کا وہ واحد آئی سی یو تھا جہاں فرشتے ایک مقررہ سائنسی وقت کے بعد ان نوجوانوں کی کروٹیں بدلتے تھے تاکہ ان کا خون رواں رہے اور مٹی ان کے گوشت کو نہ کھا سکے۔

ان کی آنکھیں کھلی تھیں (تحسبہم ایقاظا) تاکہ پپوٹے چپک نہ جائیں اور آنکھوں کے اندر کی نمی برقرار رہے، لیکن وہ مکمل طور پر سو رہے تھے۔ اور غار کے دروازے پر ان کا وفادار کتا ایک سیکیورٹی گارڈ کی طرح بیٹھا تھا۔

اللہ نے اس غار کے گرد ایک ایسا ”کوانٹم فیلڈ“ یا نفسیاتی اور ہیبتی ہالہ (Aura of Terror) بنا دیا تھا کہ اگر کوئی جنگلی جانور یا کوئی بھٹکا ہوا انسان غار میں جھانک لیتا تو وہ ایک نامعلوم اور کائناتی دہشت کے مارے الٹے پاؤں بھاگ کھڑا ہوتا (ولملئت منہم رعبا)۔

یہ خدا کا وہ فول پروف سیکیورٹی سسٹم تھا جسے کوئی مادی طاقت نہیں توڑ سکتی تھی۔

اور پھر وہ لمحہ آتا ہے جب صدیوں پر محیط یہ سائنسی اور بائیولوجیکل نیند ٹوٹتی ہے اور ٹائم کیپسول کا دروازہ کھلتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کی بیداری اور وقت کے اس اضافیت (Relativity of Time) والے پہلو کو بیان کرتا ہے جسے آج ہم آئن سٹائن کی تھیوری آف ریلیٹیویٹی کے فارمولے \Delta t' = \frac{\Delta t}{\sqrt{1 - v^2/c^2}} کی روشنی میں سمجھتے ہیں،

فرمایا:

”وَكَذَٰلِكَ بَعَثْنَاهُمْ لِيَتَسَاءَلُوا بَيْنَهُمْ ۚ قَالَ قَائِلٌ مِّنْهُمْ كَمْ لَبِثْتُمْ ۖ قَالُوا لَبِثْنَا يَوْمًا أَوْ بَعْضَ يَوْمٍ ۚ قَالُوا رَبُّكُمْ أَعْلَمُ بِمَا لَبِثْتُمْ فَابْعَثُوا أَحَدَكُم بِوَرِقِكُمْ هَٰذِهِ إِلَى الْمَدِينَةِ فَلْيَنظُرْ أَيُّهَا أَزْكَىٰ طَعَامًا فَلْيَأْتِكُم بِرِزْقٍ مِّنْهُ وَلْيَتَلَطَّفْ وَلَا يُشْعِرَنَّ بِكُمْ أَحَدًا ۝ إِنَّهُمْ إِن يَظْهَرُوا عَلَيْكُمْ يَرْجُمُوكُمْ أَوْ يُعِيدُوكُمْ فِي مِلَّتِهِمْ وَلَن تُفْلِحُوا إِذًا أَبَدًا ۝“
(ترجمہ: اور اسی طرح (اپنی قدرت کا کرشمہ دکھانے کے بعد) ہم نے انہیں جگا کر اٹھا دیا تاکہ وہ آپس میں ایک دوسرے سے پوچھ گچھ کریں۔ ان میں سے ایک کہنے والے نے کہا: تم یہاں کتنا عرصہ ٹھہرے رہے ہو؟ انہوں نے جواب دیا: ہم ایک دن یا ایک دن کا کچھ حصہ ٹھہرے ہوں گے۔ (پھر) انہوں نے کہا: تمہارا رب ہی بہتر جانتا ہے جتنا عرصہ تم ٹھہرے ہو۔ اب تم اپنے میں سے کسی ایک کو اپنا یہ چاندی کا سکہ دے کر شہر کی طرف بھیجو، پس وہ دیکھے کہ شہر کا کون سا کھانا سب سے پاکیزہ ہے، سو وہ اس میں سے تمہارے لیے کچھ رزق لے آئے، اور اسے چاہیے کہ وہ انتہائی ہوشیاری اور خاموشی سے جائے اور کسی کو بھی تمہاری موجودگی کا احساس نہ ہونے دے۔ بے شک اگر وہ (ریاست کے لوگ) تم پر غالب آ گئے تو وہ تمہیں سنگسار کر دیں گے یا تمہیں دوبارہ اپنے (باطل) دین میں لوٹا لیں گے، اور اگر ایسا ہوا تو تم کبھی بھی فلاح نہ پا سکو گے [الکہف: 19-20])۔

یہ آیات وقت (Time) کے دھوکے اور انسانی ادراک کے زوال کا سب سے بڑا سائنسی ثبوت ہیں۔

ان پر تین صدیاں گزر چکی تھیں، سلطنتیں مٹ چکی تھیں، ان کی نسلیں قبروں میں خاک ہو چکی تھیں، لیکن جب وہ اٹھے تو انہیں ایسا محسوس ہوا جیسے وہ محض

”يَوْمًا أَوْ بَعْضَ يَوْمٍ“
(ایک دن یا اس کا کچھ حصہ) سوئے ہیں۔

یہ ہے ٹائم ڈائیلیشن (Time Dilation) کی وہ کائناتی حقیقت، جہاں وقت ان کے لیے فریز ہو چکا تھا۔ لیکن چونکہ وہ حیاتیاتی طور پر زندہ تھے، اس لیے اٹھتے ہی انسانی جبلت کے تحت انہیں بھوک محسوس ہوئی، اور انہوں نے اپنے ساتھی کو تین سو سال پرانا وہ چاندی کا سکہ دے کر شہر بھیجا۔

یہاں ان کی فکری طہارت اور نظریاتی پختگی دیکھیں کہ شدید بھوک کی حالت میں بھی انہوں نے جو ڈیمانڈ کی وہ یہ تھی کہ

”أَيُّهَا أَزْكَىٰ طَعَامًا“
(جو کھانا سب سے زیادہ پاکیزہ اور حلال ہو) وہی لانا۔

یعنی بھوک بھی انہیں حرام کی طرف مائل نہ کر سکی۔ اور ساتھ ہی انہیں اس جابر دجالی اور ریاستی نظام (State Machinery) کا شدید خوف بھی لاحق تھا جس سے بچ کر وہ غار میں آئے تھے۔

وہ اپنے ساتھی کو نصیحت کر رہے ہیں کہ وہ تمہیں ڈھونڈ رہے ہوں گے، وہ انٹیلی جنس ایجنسیاں تمہیں سنگسار (Stone to death) کر دیں گی یا تمہیں برین واش کر کے دوبارہ اسی غلیظ لبرل اور مشرکانہ نظام میں شامل کر لیں گی۔

انہیں ہرگز یہ معلوم نہیں تھا کہ کائنات کے رب نے ان کے غار کی نیند کے دوران اس پورے دجالی نظام اور بادشاہت کو کب کا زمیں بوس کر کے مٹی میں ملا دیا ہے اور اب باہر کی دنیا بدل چکی ہے۔

کیا آپ محسوس کر سکتے ہیں کہ جب یہ نوجوان اپنا تین سو سال پرانا سکہ لے کر ایک جدید شہر کے بازار میں داخل ہوگا، تو تاریخ، عمرانیات، اور معیشت کا کتنا بڑا ٹکراؤ وجود میں آئے گا؟

یہ کائنات کا وہ حتمی سچ ہے جو انسان کو بتاتا ہے کہ نظام بدلتے دیر نہیں لگتی، شرط صرف غار میں پناہ لینے والا وہ توکل اور عقیدہ ہے۔

(جاری ہے... .. کیا آپ اس کائناتی ٹائم کیپسول کی بیداری کے بعد معاشرے پر پڑنے والے اثرات اور اس واقعے کے انجام پر مبنی حصہ سوم کے لیے تیار ہیں؟ تو جڑے رہیے)

❓ اعتراض:"اگر عورت کے لیے چہرے کا پردہ فرض ہوتا تو حج و عمرہ کے دوران اسے چہرہ کھولنے کا حکم نہ دیا جاتا۔ لہٰذا ثابت ہوا...
14/06/2025

❓ اعتراض:

"اگر عورت کے لیے چہرے کا پردہ فرض ہوتا تو حج و عمرہ کے دوران اسے چہرہ کھولنے کا حکم نہ دیا جاتا۔ لہٰذا ثابت ہوا کہ چہرے کا پردہ فرض نہیں!"

---

✅ جواب: دلیل کے طور پر حج کا حکم پیش کرنا درست نہیں

یہ دلیل بظاہر مضبوط لگتی ہے، لیکن شرعی اصول، فقہی تفہیم اور عملی سنت کے مطابق سراسر غلط فہمی پر مبنی ہے۔ اس اعتراض کا تفصیلی اور جامع جواب ملاحظہ ہو:

---

🔹 1. حج کے دوران چہرہ کھولنا حکم نہیں بلکہ ایک وقتی رعایت ہے

📌 نبی ﷺ کا فرمان:

> "محرم عورت نہ نقاب پہنے اور نہ دستانے۔"
(صحیح بخاری: 1838)

🔹 اس حدیث میں "نقاب" کا مطلب مخصوص سلا ہوا نقاب ہے جو چہرے پر چپک جاتا ہے،
نہ کہ چہرے کو ڈھانپنا مکمل طور پر ممنوع ہے۔

🔸 خود حضرت عائشہؓ کا عمل دیکھیے:

> "ہم نبی ﷺ کے ساتھ حج کے لیے نکلے اور ہم محرم تھیں۔ جب ہمارے پاس سوار مرد آتے، ہم اپنی چادر چہرے پر گرا لیتی تھیں۔"
(سنن ابی داود: 1833)

🔹 یعنی چہرہ ڈھانپنا جائز تھا، بس نقاب پہننا منع تھا۔

---

🔹 2. حج کا حکم عمومی زندگی پر قیاس کرنا اصولِ فقہ کے خلاف ہے

📌 فقہ کا اصول ہے:

> "الأصل في العبادات التوقيف"
یعنی "عبادات میں ہر کام وہی ہوگا جو نبی ﷺ نے سکھایا، اپنی طرف سے قیاس کی اجازت نہیں۔"

🔸 حج ایک مخصوص عبادت ہے جس کے مخصوص آداب، لباس اور قیود ہیں،
جنہیں عام زندگی پر لاگو کرنا سخت غلطی ہے۔

🔹 مثلاً:

مرد حج میں سلا ہوا کپڑا نہیں پہنتا — تو کیا وہ عام دنوں میں بھی ایسا کرے؟

مرد سر ڈھانپنا منع ہے — تو کیا یہ عام دنوں میں بھی ناجائز ہے؟
اسی طرح عورت کو نقاب سے منع کرنا حج کا ایک خاص ادب ہے، نہ کہ دائمی حکم۔

---

🔹 3. اگر چہرہ کھولنا فرض ہوتا تو حضرت عائشہؓ چہرہ کیوں ڈھانپتیں؟

📌 حج کی حالت میں صحابہ کرامؓ کی ازواج، خاص طور پر حضرت عائشہؓ، چادر سے چہرہ ڈھانپتی تھیں، جیسا کہ اوپر حدیث میں بیان ہوا۔

🔸 یہ بتاتا ہے کہ چہرہ کھولنا ان کے نزدیک واجب نہ تھا بلکہ وقتی اجازت تھی، اور فتنے کے وقت میں چہرہ چھپانا ہی سنت تھا۔

---

🔹 4. شریعت میں بعض مواقع پر کچھ احکام میں وقتی تبدیلی دی جاتی ہے

📌 مثالیں:

حالتِ احرام میں خوشبو لگانا منع ہے — تو کیا عام دنوں میں بھی حرام ہے؟

روزے کی حالت میں کھانا پینا منع ہے — تو کیا یہ ہمیشہ حرام ہے؟

اسی طرح حج کی حالت میں نقاب کا ترک ایک وقتی حکم ہے، دائمی نہیں۔

---

📌 خلاصہ و نتیجہ:

🔹 حج یا عمرہ میں چہرہ نہ ڈھانپنا کوئی دائمی اصول نہیں بلکہ ایک مخصوص حال کی وقتی رعایت ہے۔

🔹 خود ازواجِ مطہرات اور صحابیات کا عمل ثابت کرتا ہے کہ فتنے کے وقت میں چہرہ چھپانا واجب ہے۔

🔹 چہرہ عورت کی سب سے بڑی زینت ہے، اور قرآن کے مطابق زینت کو "غیر محرموں سے چھپانا فرض" ہے (سورہ نور: 31)۔

---

لہٰذا حج کے ایک وقتی حکم کو عام زندگی کی دلیل بنانا غلط ہے۔
یہ ایسا ہی ہے جیسے کوئی کہے کہ "مرد بھی سلا ہوا کپڑا نہ پہنے" کیونکہ حج میں منع ہے!

اللہ تعالیٰ ہمیں دین کی صحیح سمجھ عطا فرمائے، آمین۔

تاریخ لکھی جائے گی کہ پاکستان ایٹمی طاقت تھی فلسطین کو ایک ایٹم بم نہیں دے سکے تاریخ لکھی جائے گی کہمصر کے پاس دریائے نی...
11/06/2025

تاریخ لکھی جائے گی کہ
پاکستان ایٹمی طاقت تھی فلسطین کو ایک ایٹم بم نہیں دے سکے تاریخ لکھی جائے گی کہ
مصر کے پاس دریائے نیل تھا اور غزہ پیاس سے مر گیا😭
تاریخ لکھی جائے گی کہ
سعودی عرب اور عرب امارات کے پاس تیل کے سمندر تھا اور غزہ کی اسپتالوں اور ایمبولنس کے لیے ایندھن نہیں تھا😭
تاریخ لکھی جائے گی کہ
مسلمانوں کے پاس 50 لاکھ سے زیادہ فوجی تھے بھاری اسلحہ میزائل جنگی جہاز ایٹم بم تک موجود تھا لیکن غزہ کیلۓ کوئی امداد کو نہ جا سکا
تاریخ لکھی جاۓ گی کہ ایران نے روس کے کہنے پر یہ جنگ شروع کروا کہ غزہ اور فلسطینیوں کو مروایا۔۔۔تاریخ لکھی جاۓ گی کہ ایران نے روس سے کیوں فاٸٹر جٹ نہیں لیکر لبنان کو دیٸے اور کیوں وہاں اٸرڈفنس سسٹم نہیں لگایا جنگ شروع کروانے سے پہلے ۔تاریخ لکھی جاۓ گی مسلمانوں کے پاس تیل اور دولت تھی مگر شعیہ اور سُنی مسلک کی ترقی میں رہے۔تاریخ لکھی جاۓ گی کہ امریکہ کے ایراق پر حملہ اور صدام کی شہادت میں ایران اس کا اتہادی تھا ۔تاریخ لکھی جاۓ گی کہ فلسطینیوں کو بلاوجہ مروایا گیا ۔

Address

Dublin

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when We Want Khilafah posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share