04/05/2026
زمین کھا گئی، آسمان کیسے کیسے!
تحریر: شہباز زکی Shahbaz Zaki
وقت کی ریت پر کچھ نقش ایسے ہوتے ہیں جو مٹتے نہیں، بلکہ جوں جوں برس گزرتے ہیں، وہ اور گہرے ہوتے چلے جاتے ہیں۔ آج جب پسرور کی گلیوں کا تصور ذہن میں ابھرتا ہے تو ایک چہرہ، ایک آواز، ایک شخصیت بے اختیار آنکھوں کے سامنے آ کھڑی ہوتی ہے —
ڈاکٹر عادل صدیقی۔ وہ پنجاب کی مٹی کا وہ سپوت تھے جس نے پسرور کو صرف ایک شہر نہیں، ایک ادبی دستاویز بنا دیا تھا۔ آج جب وہ ہم میں نہیں ہیں تو دل سے بے ساختہ یہ صدا نکلتی ہے — زمین کھا گئی، آسمان کیسے کیسے!
یہ سن دو ہزار دو یا تین کی بات ہے۔ ڈاکٹر عادل صدیقی کا معمول تھا کہ وہ ماڈل ٹاؤن پسرور میں میری بسم اللہ اکیڈمی میں کبھی کبھار تشریف لاتے۔ چائے کا ایک کپ سامنے ہوتا اور پھر شروع ہو جاتی وہ گفتگو جو گھنٹوں طول کھینچتی — ادب کی، شاعری کی، پنجاب کی تہذیب کی، زندگی کی۔ وہ بے تکلف بیٹھکیں محض الفاظ کا تبادلہ نہیں تھیں — وہ ایک روشن چراغ کا قرب تھا جس کی حرارت آج بھی دل میں محسوس ہوتی ہے۔ کاش میں اُن لمحوں کی قدر اور زیادہ کر سکتا — مگر تقدیر کو شاید کچھ اور ہی منظور تھا۔
مغرب نے ولیم ورڈزورتھ کو "شاعرِ فطرت" کا خطاب دیا — وہ شاعر جس نے پہاڑوں، جھرنوں اور جنگلوں میں زندگی کی روح تلاش کی۔ ڈاکٹر عادل صدیقی ہمارے پنجاب کے ورڈزورتھ تھے۔ فرق صرف یہ تھا کہ ورڈزورتھ کا میدان انگلستان کی وادیاں تھیں، اور عادل صدیقی کا میدان پنجاب کے کھیت، دیہات کی پگڈنڈیاں، صبح کی اوس اور پرندوں کی چہچہاہٹ تھی۔ ان کی پنجابی شاعری محض شاعری نہیں تھی — وہ قدرت کا وہ ترجمہ تھا جو صرف کوئی حساس اور باطنی آنکھ رکھنے والا شاعر ہی کر سکتا ہے۔
ان کا مصرع "پالے ٹھر دے پنچھی" جب ہمارے درمیان چائے کی چُسکیوں کے ساتھ زیرِ بحث آیا تو اس ایک فقرے نے کتنے ہی در وا کر دیے۔ ٹھنڈ میں ٹھٹھرتا پنچھی محض ایک پرندہ نہیں — وہ زندگی کی اس حقیقت کا استعارہ تھا جو سرد اور بے رحم حالات میں بھی پرواز کا خواب نہیں چھوڑتی۔ یہی تو ڈاکٹر عادل صدیقی کا کمال تھا — وہ قدرت کو دیکھتے نہیں، محسوس کرتے تھے، اور پھر اسے لفظوں میں ڈھال کر قاری کے دل کی گہرائیوں میں اتار دیتے تھے، بالکل ویسے جیسے ورڈزورتھ نے کہا تھا کہ فطرت کبھی دھوکہ نہیں دیتی۔
اُن کی شخصیت بھی ان کی شاعری کی طرح نرم، پُرخلوص اور بے ریا تھی۔ ایک عظیم شاعر اور پروفیسر ہونے کے باوجود جس انکسار سے وہ ملتے تھے — وہ آج کے دور میں نایاب ہے۔ انہوں نے اپنے بیٹے کو میری اکیڈمی میں انگریزی سیکھنے کے لیے داخل کروایا — ایک بڑے شاعر کا ایک معلم پر یہ اعتماد میرے لیے آج بھی باعثِ فخر ہے۔ چھ سات کتابوں کی صورت انہوں نے اپنا جو ادبی خزانہ چھوڑا ہے، وہ پسرور کی روح اور پنجاب کا ضمیر ہے۔
اور یہی وہ بات ہے جو مجھے آج یہ سطریں لکھنے پر مجبور کرتی ہے۔ یہ مضمون صرف ایک عقیدت مند کی یادوں کا نوحہ نہیں — یہ نئی نسل کے لیے ایک پکار ہے۔ آج کے نوجوان جو پسرور کی مٹی سے جڑے ہیں، انہیں جاننا چاہیے کہ ان کے شہر نے کیا کیا ہیرے جنم دیے۔ ڈاکٹر عادل صدیقی کو پڑھیں، ان کی شاعری کو سمجھیں — یہ اپنی جڑوں سے جڑے رہنے کا سب سے خوبصورت طریقہ ہے۔
میں ان دنوں تحصیل پبلک ہائی اسکول اور بسم اللہ اکیڈمی کی مصروفیات میں اس قدر الجھا رہا کہ اس درِ دانش سے جتنا فیضیاب ہونا چاہیے تھا، نہ ہو سکا۔ یہ میری زندگی کی ان چند حسرتوں میں سے ایک ہے جو دل کے کسی گوشے میں ہمیشہ کسک دیتی رہے گی۔ کاش اُن چائے کی بیٹھکوں کو اور طول دیتا، کاش اُن کے علم کے سمندر سے چند قطرے اور سمیٹ سکتا۔
اب جب وہ اس دنیا میں نہیں رہے، دل یہی دعا کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کی روح کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ جن آنکھوں نے قدرت کی ہر ادا میں معنی تلاش کیے، جس دل نے دیہاتی زندگی کو شاعری کا تاج پہنایا — وہ ہستی فانی دنیا سے گئی، مگر اپنا نور یہیں چھوڑ گئی۔
زمین کھا گئی، آسمان کیسے کیسے — مگر ایسے ستارے کبھی نہیں بجھتے، وہ بس آنکھوں سے اوجھل ہو جاتے ہیں۔
از قلمِ — ایک عقیدت مند، ایک شاگردِ ادب