Dr. Adil Siddiqui

Dr. Adil Siddiqui پروفیسر ڈاکٹر عادل صدیقی (مرحوم)
شاعر، ماہرتعلیم

زمین کھا گئی، آسمان کیسے کیسے!تحریر: شہباز زکی Shahbaz Zaki وقت کی ریت پر کچھ نقش ایسے ہوتے ہیں جو مٹتے نہیں، بلکہ جوں ج...
04/05/2026

زمین کھا گئی، آسمان کیسے کیسے!
تحریر: شہباز زکی Shahbaz Zaki
وقت کی ریت پر کچھ نقش ایسے ہوتے ہیں جو مٹتے نہیں، بلکہ جوں جوں برس گزرتے ہیں، وہ اور گہرے ہوتے چلے جاتے ہیں۔ آج جب پسرور کی گلیوں کا تصور ذہن میں ابھرتا ہے تو ایک چہرہ، ایک آواز، ایک شخصیت بے اختیار آنکھوں کے سامنے آ کھڑی ہوتی ہے —
ڈاکٹر عادل صدیقی۔ وہ پنجاب کی مٹی کا وہ سپوت تھے جس نے پسرور کو صرف ایک شہر نہیں، ایک ادبی دستاویز بنا دیا تھا۔ آج جب وہ ہم میں نہیں ہیں تو دل سے بے ساختہ یہ صدا نکلتی ہے — زمین کھا گئی، آسمان کیسے کیسے!

یہ سن دو ہزار دو یا تین کی بات ہے۔ ڈاکٹر عادل صدیقی کا معمول تھا کہ وہ ماڈل ٹاؤن پسرور میں میری بسم اللہ اکیڈمی میں کبھی کبھار تشریف لاتے۔ چائے کا ایک کپ سامنے ہوتا اور پھر شروع ہو جاتی وہ گفتگو جو گھنٹوں طول کھینچتی — ادب کی، شاعری کی، پنجاب کی تہذیب کی، زندگی کی۔ وہ بے تکلف بیٹھکیں محض الفاظ کا تبادلہ نہیں تھیں — وہ ایک روشن چراغ کا قرب تھا جس کی حرارت آج بھی دل میں محسوس ہوتی ہے۔ کاش میں اُن لمحوں کی قدر اور زیادہ کر سکتا — مگر تقدیر کو شاید کچھ اور ہی منظور تھا۔

مغرب نے ولیم ورڈزورتھ کو "شاعرِ فطرت" کا خطاب دیا — وہ شاعر جس نے پہاڑوں، جھرنوں اور جنگلوں میں زندگی کی روح تلاش کی۔ ڈاکٹر عادل صدیقی ہمارے پنجاب کے ورڈزورتھ تھے۔ فرق صرف یہ تھا کہ ورڈزورتھ کا میدان انگلستان کی وادیاں تھیں، اور عادل صدیقی کا میدان پنجاب کے کھیت، دیہات کی پگڈنڈیاں، صبح کی اوس اور پرندوں کی چہچہاہٹ تھی۔ ان کی پنجابی شاعری محض شاعری نہیں تھی — وہ قدرت کا وہ ترجمہ تھا جو صرف کوئی حساس اور باطنی آنکھ رکھنے والا شاعر ہی کر سکتا ہے۔

ان کا مصرع "پالے ٹھر دے پنچھی" جب ہمارے درمیان چائے کی چُسکیوں کے ساتھ زیرِ بحث آیا تو اس ایک فقرے نے کتنے ہی در وا کر دیے۔ ٹھنڈ میں ٹھٹھرتا پنچھی محض ایک پرندہ نہیں — وہ زندگی کی اس حقیقت کا استعارہ تھا جو سرد اور بے رحم حالات میں بھی پرواز کا خواب نہیں چھوڑتی۔ یہی تو ڈاکٹر عادل صدیقی کا کمال تھا — وہ قدرت کو دیکھتے نہیں، محسوس کرتے تھے، اور پھر اسے لفظوں میں ڈھال کر قاری کے دل کی گہرائیوں میں اتار دیتے تھے، بالکل ویسے جیسے ورڈزورتھ نے کہا تھا کہ فطرت کبھی دھوکہ نہیں دیتی۔

اُن کی شخصیت بھی ان کی شاعری کی طرح نرم، پُرخلوص اور بے ریا تھی۔ ایک عظیم شاعر اور پروفیسر ہونے کے باوجود جس انکسار سے وہ ملتے تھے — وہ آج کے دور میں نایاب ہے۔ انہوں نے اپنے بیٹے کو میری اکیڈمی میں انگریزی سیکھنے کے لیے داخل کروایا — ایک بڑے شاعر کا ایک معلم پر یہ اعتماد میرے لیے آج بھی باعثِ فخر ہے۔ چھ سات کتابوں کی صورت انہوں نے اپنا جو ادبی خزانہ چھوڑا ہے، وہ پسرور کی روح اور پنجاب کا ضمیر ہے۔

اور یہی وہ بات ہے جو مجھے آج یہ سطریں لکھنے پر مجبور کرتی ہے۔ یہ مضمون صرف ایک عقیدت مند کی یادوں کا نوحہ نہیں — یہ نئی نسل کے لیے ایک پکار ہے۔ آج کے نوجوان جو پسرور کی مٹی سے جڑے ہیں، انہیں جاننا چاہیے کہ ان کے شہر نے کیا کیا ہیرے جنم دیے۔ ڈاکٹر عادل صدیقی کو پڑھیں، ان کی شاعری کو سمجھیں — یہ اپنی جڑوں سے جڑے رہنے کا سب سے خوبصورت طریقہ ہے۔

میں ان دنوں تحصیل پبلک ہائی اسکول اور بسم اللہ اکیڈمی کی مصروفیات میں اس قدر الجھا رہا کہ اس درِ دانش سے جتنا فیضیاب ہونا چاہیے تھا، نہ ہو سکا۔ یہ میری زندگی کی ان چند حسرتوں میں سے ایک ہے جو دل کے کسی گوشے میں ہمیشہ کسک دیتی رہے گی۔ کاش اُن چائے کی بیٹھکوں کو اور طول دیتا، کاش اُن کے علم کے سمندر سے چند قطرے اور سمیٹ سکتا۔

اب جب وہ اس دنیا میں نہیں رہے، دل یہی دعا کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کی روح کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ جن آنکھوں نے قدرت کی ہر ادا میں معنی تلاش کیے، جس دل نے دیہاتی زندگی کو شاعری کا تاج پہنایا — وہ ہستی فانی دنیا سے گئی، مگر اپنا نور یہیں چھوڑ گئی۔
زمین کھا گئی، آسمان کیسے کیسے — مگر ایسے ستارے کبھی نہیں بجھتے، وہ بس آنکھوں سے اوجھل ہو جاتے ہیں۔

از قلمِ — ایک عقیدت مند، ایک شاگردِ ادب

ALLAH PAK DR SAB KA DARJAT BULAND FARMAYA OR JANATUL FERDOOS MA JAGA ATTA FARMAYA AMEEN
16/01/2026

ALLAH PAK DR SAB KA DARJAT BULAND FARMAYA OR JANATUL FERDOOS MA JAGA ATTA FARMAYA AMEEN

ڈاکٹرعادل صدیقی کی حیات وخدمات معروف پنجابی شاعرڈاکٹرعادل صدیقی سابق صدرشعبہ اردوگورنمنٹ سیٹلائیٹ ٹاٶن کالج گوجرانوالہ م...
10/01/2026

ڈاکٹرعادل صدیقی کی حیات وخدمات

معروف پنجابی شاعرڈاکٹرعادل صدیقی سابق صدرشعبہ اردوگورنمنٹ سیٹلائیٹ ٹاٶن کالج گوجرانوالہ مرکزی رکن مجلس عاملہ پاکستان رائٹرزگلڈ 65برس کی عمرمیں وفات پاگئے ۔ان کا شمارپاکستان کے صف اول کے پنجابی شاعروں اورادیبوں میں تھا ۔پاکستان ٹیلی ویژن اورریڈیوپرمشاعرے پڑھنے کاانکو اعزازحاصل تھا۔احسان دانش و منیرنیازی جیسے شاعروادیب ان کے مداح تھے، غلام مصطفی بسمل، سجاد النبی، انورمسعود، عطاء الحق قاسمی، امجداسلام امجد، ڈاکٹرحفیظ احمد، ڈاکٹراجمل نیازی، جان کاشمیری، ڈاکٹراحسان اللہ طاہر، اکبرعلی غازی، ضیاء محمد ضیاء اوردیگرمعروف شعراء وادبا ء کی ہم عصری ومجلس ان کوحاصل تھی اوروہ انکی ۔اوروہ ان کی پنجابی زبان سے والہانہ عشق تھاپنجابی کے علاوہ اردومیں بھی اشعار کہتے تھے ان کے اردو شعری مجموعے بھی ادبی دنیامیں اپناایک بلندمقام ومرتبہ رکھتے ہیں ۔ڈاکٹرعادل صدیقی ؒمرحوم (محمد شبیرصدیقی) کی پیدائش عبدالعظیم صدیقیؒ (مرحوم )کے ہاں 5دسمبر1954ء کو برہان پور چوہان تحصیل پسرورضلع سیالکوٹ میں ہوئی برہان پورضلع سیالکوٹ کی تحصیل پسرورکایک چھوٹاسادیہات ہے لیکن ۔آپ برہان پور چوہان کی ایک بلند ہمت ،محنتی اورانتہائی قابل فخرعلمی وادبی شخصیت تھے جنہوں نے انتہائی کسمپرسی کے باوجود تعلیم سے وابستگی رکھی اورشب وروز محنت کی وجہ سے پے درپے ترقیاں حاصل کیں آپ ایک اچھے معلم اور بہترین شاعروادیب بنے مزیدڈاکٹر صاحب کو یہ اعزاز حاصل تھاکہ وہ برہان پور کے پہلے پی ایچ ڈی سکالر تھے جنہوںنے بعنوان ’’مولابخش کشتہ شاعر تے نثرنگار‘‘پرپی ایچ ڈی کامقالہ لکھ کر 2003 میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی ۔
۔آپ حلقہ احباب ذوق پسرورکے اوّلین جنرل سیکرٹری ہونے کے ساتھ انجمن ترقی برائے پنجابی واردوادب برہان پوراورمجلس علمی کے صدرتھے ۔پاکستان کے معروف شاعروادیب فخربرہان پو رپروفیسر حفیظ صدیقی ؒسابق صدرشعبہ اردوایم اے ۔او کالج لاہوروجنرل سیکرٹری پاکستان رائٹرزگلڈکے شاگردخاص ہونے کے علاوہ پھوپھی زادبھائی بھی تھے ۔آپ کے پندرہ ۱۵شعری مجموعوں کو علمی وادبی حلقوں میں شرف قبولیّت حاصل ہے ۔جب کہ سولہواں ۱۶مجموعہ ’’رُتاں بدلن والیاں نیں‘‘طباعت کے آخری مراحل میں ہے لیکن اسکی طباعت سے قبل ہی آپ آخرت کوسدھارگئے اللہ تعالی انکوجنت الفردوس میں بلندمقام عطافرمائے ۔ آپ کو یہ اعزاز حاصل تھاکہ آپ کی مشہور تصنیف حمد ونعتــ’’بھاگاں والے اکھر‘‘ جی سی یونیورسٹی فیصل آباد کے شعبہ پنجابی کے ایم اے پنجابی کے نصاب میں شامل ہے ۔
شعبہ تعلیم سے وابستگی :
آپ نے 10اکتوبر 1973ء کو بطور PTC ٹیچر گریڈ(9)میں گورنمنٹ پرائمری سکول دھاموکے درویش کے سے اپنی تدریسی زندگی کا آغاز کیا ۔
1980ء کو بطور SV ٹیچر گریڈ(9) میں گورنمنٹ اسلامیہ ہائی سکول کلاسوالہ میں آپ کی تقرری ہوئی۔
1986 ء کو گریڈ(14) میں آپ کی ترقی ہوئی اورکشمیر ہائی سکول سوہاوہ میں تقرری ہوئی ۔
پنجاب سروس کمیشن کے ذریعے کالج میں تقرری :
11مئی 1987ء کو بطور لیکچرر(پنجابی )گریڈ (17)میں گورنمنٹ مرے کالج سیالکوٹ میں آپ کا تقرر ہو ا۔
27مئی 1999ء کو بطور اسسٹنٹ پروفیسرگریڈ(18)میں آپ کی تقرری گورنمنٹ کالج میانی سرگودھا میں ہوئی ۔
20-04-1999کو بطور پرنسپل گورنمنٹ کالج مترانوالی میں آپ کا تقرر ہوا۔
2004تا 2006گورنمنٹ ڈگری کالج پسرور میں بطور صدر شعبہ پنجابی آپ نے اپنی خدمات سرانجام دیں ۔
2006ء میں بطور صدر شعبہ پنجابی گورنمنٹ کالج گوجرانوالہ میں آپ کا تقرر ہوا۔
4دسمبر2014ء کو اسی گورنمنٹ کالج گوجرانوالہ سے بطور ایسوسی ایٹ پروفیسرگریڈ (19) میں آپ نے ریٹائرمنٹ حاصل کی ۔
اعزازات :
آپ ایک محنتی اورمستقل مزاج انسان تھے اسی وجہ سے آپ کو اپنی بہترین خدمات کی وجہ سے بے شمارانعامات سے نوازا گیا جن کی تفصیل درج ذیل ہے۔
1 ۔ ایم ۔اے پنجابی میں پنجاب یونیورسٹی میں اول پوزیشن حاصل کرنے پر خصوصی انعام ملا۔
2۔ کتاب’’کلر وچ گلاب ‘‘پر بورڈ آف انٹر میڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن گوجرانوالہ کی جانب سے سند امتیاز تصنیف کتب انعامی مقابلہ سال 1996میں دوم پوزیشن حاصل کرنے پر۔
کتاب ’’نوید موسم گل‘‘ پر بورڈ آف انٹر میڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن گوجرانوالہ کی جانب سے سند امتیاز تصنیف کتب انعامی مقابلہ سال 2000میں دوم پوزیشن حاصل کرنے پر۔
کتاب ’’ کچ دیاں ٹونباں ‘‘ پر مسعود کھدرپوش ٹرسٹ لاہور کی جانب سے پہلا انعام ۔
سیٹیزن کونسل پسرور کی جانب سے تحصیل پسرور کے بہترین شاعر کے طور پراعزازی شیلڈ ۔
ڈاکٹر عادل صدیقی کی اردوشاعری پر الخیر یونیورسٹی آزاد جموں کشمیرسے ایم ۔فل ۔اردوکی طالبہ شاہدہ پروین نے ایک مقالہ بعنوان’’ ڈاکٹر عادل صدیقی:شخصیت و فن ‘‘ مکمل کیا ہے اس کے علاوہ ان کی پنجابی شاعری پر بھی علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی سے ایم ۔فل پنجابی پر کام ہورہا ہے ۔
پنجابی واردوشعری تصانیف :
ڈاکٹر عادل صدیقی کے ابھی تک تین اردواوربارہ پنجابی شعری مجموعے چھپنے کے بعد اہل علم ودانش سے داد وصول کرچکے ہیں جنکی تفصیل درج ذیل ہے اوراس کے علاوہ غیر مطبوعہ مجموعوں پر ابھی کام جاری ہے ۔
1۔ پالے ٹھردے پنچھی
2۔ برفان ونڈداسورج
3۔ کلّر وچ گلاب
4۔ جگنو،پھُل تے تتلی
5۔ نویدِموسم گُل
6۔ بنداکھیاں وچ منظر
7۔ کچ دیاں ٹونباں
8۔ بھاگاں والے اکھر
9۔ غزل تم سے عبارت ہے
10۔ حرف صداواں لبھدے نیں
11۔ سُولاں نال پریت
12 ۔ ابھی کچھ خواب باقی ہیں
13۔ سوچاں وچ سویرے
14۔ سدھراں دے پرچھاویں
15 ۔ من وچ وسدے چیتر
16۔ رُتاں بدلن والیاں نیں
وفات :
آپ تقریبا۵سال سے صاحب فراش تھے لیکن اس کے باوجودان کاشعروادب سے ایک لمحہ کے لئے رشتہ منقطع نہیں ہواانکے قلب واذہان کی رفعتوںکوانکی بیماری بھی شکست نہ دے سکی یہاںتک کہ وفات سے کچھ گھنٹے قبل بھی ایک آخری غزل لکھوائی ۔اس کے بعدطبیعت کی ناسازی میں شدت آئی جس کے باعث انہیں گورنمنٹ سول ہسپتال سیالکوٹ منتقل کردیاگیاجہاں ۹جنوری 2019ء بروزبدھ رات 1بج کر10منٹ پرمیں اپنے خالق حقیقی سے جاملے ۔

جیہڑے لوکی دُکھ دی راہ وچ سُکھ دے بوٹے لاجاندے نیں او  ویلے  دے  متھے   اُتّے  اپنا   ناں ل  کھو ا  جاندے  نیں ۔۔۔کَلّر ...
10/01/2026

جیہڑے لوکی دُکھ دی راہ وچ سُکھ دے بوٹے لاجاندے نیں
او ویلے دے متھے اُتّے اپنا ناں ل کھو ا جاندے نیں
۔۔۔
کَلّر وچ گلاب اگانا چاہنا واں
میں دھرتی دا روپ سجانا چاہنا واں
۔۔۔
دنیا اینی کاروباری ہو گٸی اے
اک دوجے دی یاد وی بھاری ہوگٸی اے
۔۔۔۔
کرداراں دے نال حیاتی ملدی اے
عملاں سیتی زندہ موٸے ہوگٸے نیں
۔۔۔۔۔
زندگی کی راہوں میں یہ غبار کیسا ہے
ہر طرف زمانے میں خلفشار کیسا ہے

کیسی بادشاہی اور کہاں کی مختاری
بَس میں کچھ نہیں تو پھر اختیار کیسا ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس توں بہتر نہ کوٸی چیز شفا رکھدی اے
موت ہر روگ دا دارو تے دوا رکھدی اے
۔۔۔
ساڈیاں سدھراں کَچ دیاں ٹونباں
ساڈا ہر اک سُفنہ شیشہ
۔۔۔۔
اکلاپے وچ گھڑی دی ٹِک ٹِک میرا مَن پرچاندی اے
کِنّی بیتی کِنّی باقی مینوں یاد دلاندی اے
۔۔۔۔
اپنے توں اَگّے سوچ ہی جس آدمی دی نہیں
سمجھو کہ اونہوں سار ہی اس زندگی دی نہیں
۔۔۔۔۔۔۔
اللہ دی پہچان ضروری بندے لٸی
ہستی دا عرفان ضروری بندے لٸی

جیہڑا ویلے دی رمز نوں جان دا نہیں
اوہ تے اپنا آپ پچھان دا نہیں
۔۔۔۔۔
بیتیا ویلا اج تک عادل پرتیا نہیں
کسراں پورے فیر خسارے کر لٸیے
۔۔۔۔
دل وچ ماسہ سار نہیں ہُندی ویلے دی
کَندھاں نال کلنڈر ٹنگے ہُندے نیں
۔۔۔۔۔
وقت دا پنچھی اُڈ جاوے تے مُڑ قابو نہیں آٶندا
صدیاں پِچھے رہ جاندا اے پل دا اُکیا ہو یا
۔۔۔۔۔۔۔
میریاں شعراں وچ ادراک اے جیون دا
اک اک مصرعے وچ ایہدی تفیسر کراں
۔۔۔۔۔
میں وی سورج وانگوں اَکدا تَھکدا نہیں
نِت فکراں دی لَو ورتاندا رہنا واں

ڈاکٹر عادل صدیقی ؒ

اللہ سوہنا ڈاکٹرصاحب دی مغفرت فرما کر درجات بلند کرے آمین

ڈاکٹر عادل صدیقی ؒ کا شمار پاکستان کے مایہ ناز پنجابی شعرا ٕ میں ہوتا ہے آپ نے 1986ء میں پنجاب یونیورسٹی سے ایم ۔اے پنجا...
09/01/2026

ڈاکٹر عادل صدیقی ؒ کا شمار پاکستان کے مایہ ناز پنجابی شعرا ٕ میں ہوتا ہے آپ نے 1986ء میں پنجاب یونیورسٹی سے ایم ۔اے پنجابی کا امتحان اول پوزیشن میں پاس کیا اور گولڈ میڈل کے حقدارٹھہرے۔

11مئی 1987ء کو بطور لیکچرر (پنجابی ) گریڈ (17) میں گورنمنٹ مرے کالج سیالکوٹ تعیناتی ہوٸی ۔
بعد ازاں 4 دسمبر 2014ء کوگورنمنٹ کالج سیٹلاٸٹ ٹاٶن گوجرانوالہ سے بطور صدر شعبہ پنجابی ریٹائرمنٹ حاصل کی۔

آپ نے ” مولابخش کشتہ شاعر تے نثرنگار“ کے عنوان پر PHD کا مقالہ لکھ کر 2003ء میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی

پنجابی شاعری پر آپ کے 13 شہرہ آفاق شعری مجوعے پنجابی زبان و ادب کا شاہکار ہیں .👇

1۔ پالے ٹھردے پنچھی 1985ء

2۔ برفان ونڈداسورج 1991ء

3۔ کلّر وچ گلاب 1995ء

4۔ جگنو،پھُل تے تتلی 1997ء

5۔ بنداکھیاں وچ منظر 2001ء

6۔ کچ دیاں ٹونباں 2004ء

7۔ بھاگاں والے اکھر 2005ء

8۔ حرف صداواں لبھدے نیں 2007ء

9۔ سُولاں نال پریت 2009ء

10۔ سوچاں وچ سویرے 2012ء

11۔ سدھراں دے پرچھاویں 2014ء

12 ۔ من وچ وسدے چیتر 2018ء

13۔ رُتاں بدلن والیاں نیں 2019ء

اوہو لوکی جَگ تے چنگے ہوندے نیں
جیہڑے پیار دے رنگ اچ رنگے ہن

ڈاکٹرعادل صدیقی کی حیات وخدمات معروف پنجابی شاعرڈاکٹرعادل صدیقی (سابق صدرشعبہ اردوگورنمنٹ سیٹلائیٹ ٹاٶن کالج گوجرانوالہ ...
09/01/2026

ڈاکٹرعادل صدیقی کی حیات وخدمات
معروف پنجابی شاعرڈاکٹرعادل صدیقی (سابق صدرشعبہ اردوگورنمنٹ سیٹلائیٹ ٹاٶن کالج گوجرانوالہ مرکزی رکن مجلس عاملہ پاکستان رائٹرزگلڈ ) کا شمارپاکستان کے صف اول کے پنجابی شاعروں اور ادیبوں میں تھا ۔
پاکستان ٹیلی ویژن اورریڈیوپرمشاعرے پڑھنے کاانکو اعزازحاصل تھا۔احسان دانش و منیرنیازی جیسے شاعروادیب ان کے مداح تھے، غلام مصطفی بسمل، سجاد النبی، انورمسعود، عطاء الحق قاسمی، امجداسلام امجد، ڈاکٹرحفیظ احمد، ڈاکٹراجمل نیازی، جان کاشمیری، ڈاکٹراحسان اللہ طاہر، اکبرعلی غازی، ضیاء محمد ضیاء اوردیگرمعروف شعراء وادبا ء کی ہم عصری ومجلس ان کوحاصل تھی
آپ کو پنجابی زبان سے والہانہ عشق تھاپنجابی کے علاوہ اردومیں بھی اشعار کہتے تھے ان کے اردو شعری مجموعے بھی ادبی دنیامیں اپناایک بلندمقام ومرتبہ رکھتے ہیں ۔

ڈاکٹرعادل صدیقی ؒمرحوم (محمد شبیرصدیقی) کی پیدائش عبدالعظیم صدیقیؒ (مرحوم )کے ہاں 5دسمبر1954ء کو برہان پور چوہان تحصیل پسرورضلع سیالکوٹ میں ہوئی ۔

برہان پورضلع سیالکوٹ کی تحصیل پسرورکایک چھوٹاسادیہات ہے لیکن ۔آپ برہان پور چوہان کی ایک بلند ہمت ،محنتی اورانتہائی قابل فخرعلمی وادبی شخصیت تھے جنہوں نے انتہائی کسمپرسی کے باوجود تعلیم سے وابستگی رکھی اورشب وروز محنت کی وجہ سے پے درپے ترقیاں حاصل کیں
آپ ایک اچھے معلم اور بہترین شاعروادیب بنے مزیدڈاکٹر صاحب کو یہ اعزاز حاصل تھاکہ وہ برہان پور کے پہلے پی ایچ ڈی سکالر تھے جنہوںنے بعنوان ’’مولابخش کشتہ شاعر تے نثرنگار‘‘
پرپی ایچ ڈی PHD کامقالہ لکھ کر 2003 میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی ۔

۔آپ حلقہ احباب ذوق پسرورکے اوّلین جنرل سیکرٹری ہونے کے ساتھ انجمن ترقی برائے پنجابی واردوادب برہان پوراورمجلس علمی کے صدرتھے ۔

آپ کے پندرہ 16 شعری مجموعوں کو علمی وادبی حلقوں میں شرف قبولیّت حاصل ہے

آپ کو یہ اعزاز حاصل تھاکہ آپ کی مشہور تصنیف حمد ونعتــ’ ’بھاگاں والے اکھر‘‘ جی سی یونیورسٹی فیصل آباد کے شعبہ پنجابی کے ایم اے پنجابی کے نصاب میں شامل ہے ۔

شعبہ تعلیم سے وابستگی :
آپ نے 10اکتوبر 1973ء کو بطور PTC ٹیچر گریڈ(9)میں گورنمنٹ پرائمری سکول دھاموکے درویش کے سے اپنی تدریسی زندگی کا آغاز کیا ۔
1980ء کو بطور SV ٹیچر گریڈ(9) میں گورنمنٹ اسلامیہ ہائی سکول کلاسوالہ میں آپ کی تقرری ہوئی۔
1986 ء کو گریڈ(14) میں آپ کی ترقی ہوئی اورکشمیر ہائی سکول سوہاوہ میں تقرری ہوئی ۔
پنجاب سروس کمیشن کے ذریعے کالج میں تقرری :
11مئی 1987ء کو بطور لیکچرر(پنجابی )گریڈ (17)میں گورنمنٹ مرے کالج سیالکوٹ میں آپ کا تقرر ہو ا۔
27مئی 1999ء کو بطور اسسٹنٹ پروفیسرگریڈ(18)میں آپ کی تقرری گورنمنٹ کالج میانی سرگودھا میں ہوئی ۔
20-04-1999کو بطور پرنسپل گورنمنٹ کالج مترانوالی میں آپ کا تقرر ہوا۔
2004تا 2006گورنمنٹ ڈگری کالج پسرور میں بطور صدر شعبہ پنجابی آپ نے اپنی خدمات سرانجام دیں ۔
2006ء میں بطور صدر شعبہ پنجابی گورنمنٹ کالج گوجرانوالہ میں آپ کا تقرر ہوا۔
4دسمبر2014ء کو اسی گورنمنٹ کالج گوجرانوالہ سے بطور ایسوسی ایٹ پروفیسرگریڈ (19) میں آپ نے ریٹائرمنٹ حاصل کی ۔

اعزازات :
آپ ایک محنتی اورمستقل مزاج انسان تھے اسی وجہ سے آپ کو اپنی بہترین خدمات کی وجہ سے بے شمارانعامات سے نوازا گیا جن کی تفصیل درج ذیل ہے۔

۔ ایم ۔اے پنجابی میں پنجاب یونیورسٹی میں اول پوزیشن حاصل کرنے پر خصوصی انعام ملا۔

۔ کتاب’’کلر وچ گلاب ‘‘پر بورڈ آف انٹر میڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن گوجرانوالہ کی جانب سے سند امتیاز

تصنیف کتب انعامی مقابلہ سال 1996میں دوم پوزیشن حاصل کرنے پر۔
کتاب ’’نوید موسم گل‘‘ پر بورڈ آف انٹر میڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن گوجرانوالہ کی جانب سے سند امتیاز تصنیف

کتب انعامی مقابلہ سال 2000میں دوم پوزیشن حاصل کرنے پر۔

کتاب ’’ کچ دیاں ٹونباں ‘‘ پر مسعود کھدرپوش ٹرسٹ لاہور کی جانب سے پہلا انعام ۔l

سیٹیزن کونسل پسرور کی جانب سے تحصیل پسرور کے بہترین شاعر کے طور پراعزازی شیلڈ ۔

آپ کی پنجابی و اردو شاعری پر اب تک ایم فل اردو وپنجابی کے تین مقالہ جات لکھے جا چکے ہیں ۔



پنجابی واردوشعری تصانیف :
ڈاکٹر عادل صدیقی کے ابھی تک تین اردواوربارہ پنجابی شعری مجموعے چھپنے کے بعد اہل علم ودانش سے داد وصول کرچکے ہیں جنکی تفصیل درج ذیل ہے اوراس کے علاوہ غیر مطبوعہ مجموعوں پر ابھی کام جاری ہے ۔
1۔ پالے ٹھردے پنچھی
2۔ برفان ونڈداسورج
3۔ کلّر وچ گلاب
4۔ جگنو،پھُل تے تتلی
5۔ نویدِموسم گُل
6۔ بنداکھیاں وچ منظر
7۔ کچ دیاں ٹونباں
8۔ بھاگاں والے اکھر
9۔ غزل تم سے عبارت ہے
10۔ حرف صداواں لبھدے نیں
11۔ سُولاں نال پریت
12 ۔ ابھی کچھ خواب باقی ہیں
13۔ سوچاں وچ سویرے
14۔ سدھراں دے پرچھاویں
15 ۔ من وچ وسدے چیتر
16۔ رُتاں بدلن والیاں نیں

وفات :
آپ تقریبا۵سال سے صاحب فراش تھے لیکن اس کے باوجودان کاشعروادب سے ایک لمحہ کے لئے رشتہ منقطع نہیں ہواانکے قلب واذہان کی رفعتوں کوان کی بیماری بھی شکست نہ دے سکی یہاںتک کہ وفات سے کچھ گھنٹے قبل بھی ایک آخری غزل لکھوائی ۔
اس کے بعدطبیعت کی ناسازی میں شدت آئی جس کے باعث انہیں گورنمنٹ سول ہسپتال سیالکوٹ منتقل کردیاگیاجہاں ۹جنوری 2019ء بروزبدھ رات 1بج کر10منٹ پرمیں اپنے خالق حقیقی سے جاملے ۔

31/12/2025
14/11/2025

جیون کیہ اے ہور
دن ، مہینے، سال

13/11/2025

ہر مخلص کردار نظر وچ رکھنا واں
اپنا اک اک یار نظر وچ رکھنا واں

تخریباں توں ڈرنا واں میں ہر ویلے
ویلے دا معمار نظر وچ رکھنا واں

میرا دل نہیں حامی نریاں رنگاں دا
پھلاں دی مہکار نظر وچ رکھنا واں

اوندے جاندے لمحے مینوں دسدے
نیں ویلے دی رفتار نظر وچ رکھناواں

نکیاں نکیاں سدھراں میرے من وچ
نیں
میں اپنا پروار نظر وچ رکھنا واں

میریاں لکھتاں تاہیوں مہکاں ونڈ دیاں نیں
پھلاں جیسے رُخسار نظروچ رکھنا واں

جیہنوں وی میں اپنا میت بنا لیناں
پھر اوہدا اتبار نظر وچ رکھنا واں

میرا دل نہیں ڈبدا غم دیاں ویہناں وچ
دکھاں دی منجدھار نظر وچ رکھنا واں

میں کم دی مقدار نہ عادل و یہندا ہاں
بس اوہدا معیار نظر وچ رکھنا واں

Address

Pasrur

Telephone

+923456249272

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Dr. Adil Siddiqui posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Establishment

Send a message to Dr. Adil Siddiqui:

Share

Category