Bazm_e_navidajiz

Bazm_e_navidajiz Just for poetry

15/10/2023

اپنا سقراط قبیلے سے تعلق ٹھہرا
ہم سے قاتل کو مسیحا نہیں لکھا جاتا

آج وہ غیر سے ملنے کو چلے ہیں عاجز
اُن کی رفتار کا عالم نہیں دیکھا جاتا

نوید عاجز ✨

02/07/2023

*غزل*
*نوید عاجزؔ*

دلِ ناصبور کی ہاؤ ہو، ترے رو بہ رو، مجھے یاد ہے
مری ہر خوشی تھی لہو لہو، ترے رو بہ رو، مجھے یاد ہے

وہ جو قربتوں میں تھے فاصلے، شبِ وصل بھی نہ وہ طے ہوئے
نہ تُو میں ہوا، نہ تو میں ہی تُو، ترے رو بہ رو، مجھے یاد ہے

مرے کج ادا، تری بے رخی نے قضا کیے ہیں وہ لوگ بھی
تری چاہ میں جو تھے با وضو، ترے رو بہ رو، مجھے یاد ہے

مجھے یاد ہے مرے ہم سخن! مرے عجز میں بھی تھا بانکپن
نہ طلب تھی کوئی نہ جستجو، ترے رو بہ رو، مجھے یاد ہے

یہ زیان و سود کے سلسلے ترے جاں نثاروں نے تج دیے
تجھے یاد ہے؟ وہ تھے سرخ رو، ترے رو بہ رو، مجھے یاد ہے

مری ذات کی تو شکستگی سے تھا بے خبر مرے چارہ گر
مرا چاکِ دل رہا بے رفو، ترے رو بہ رو، مجھے یاد ہے

مری کم نصیبی سوال تھی ترے جود پر، مرے ساقیا!
میں تھا تشنہ لب، میں تھا بے سبو، ترے رو بہ رو، مجھے یاد ہے

جو مشابہت کی وجوہ تھیں، تھیں مرے شمار سے بیشتر
ترے جیسا بیٹھا تھا ہو بہو، ترے رو بہ رو، مجھے یاد ہے

یہ بجا سہی وہ صراطِ صدق پہ گامزن نہ ہوا مگر
تھا نویدِؔ خستہ بھی عفو جو، ترے رو بہ رو، مجھے یاد ہے

("شجر زار" سے انتخاب)

02/07/2023

*غزل*
*نوید عاجزؔ*

اے جفا جُو! آزما کے دیکھ تو
نقشِ لوحِ دل مٹا کے دیکھ تو

اک چراغِ آرزو ہے کیا جلا
دیکھ تو تیور ہوا کے، دیکھ تو

آئنہ ہے ہر کسی کے ہاتھ میں
جبر کے پہرے ہٹا کے دیکھ تو

لوٹ آیا ہوں تری دہلیز سے
معجزے میری انا کے دیکھ تو

دیکھ تو نمرود کو، شدّاد کو
ہیں خدا، بندے خدا کے؛ دیکھ تو

مائلِ عشق و وفا اب حوصلہ
ناز اب اُس بےوفا کے دیکھ تو

اے نویدؔ! ایسی خوشی نایاب ہے
رونے والوں کو ہنسا کے دیکھ تو

("شجر زار" سے انتخاب)

28/06/2023

*رانگڑی غزل*
*نوید عاجز*

رے بیڑو! تنے کیا بیرا یہ الفت چیج کیا ہووے؟
جگر پر چوٹ لاگے جس کے، بس اس نے پتہ ہووے

وہ سسری لونڈیا تو دل میں گھسری جا رئی میرے
نجر بھر دیکھ بیٹھا تھا، بس اتنی سی خطا ہووے

میں روزانہ مناتا ہوں، چول سا مانتا کونی
نرا دلبر ہے بکواسی، یوں ہی مجھ سے خفا ہووے

کبھی انگہ نئیں آنا، کبھی انگہ نئیں جانا
حکم سسرا لگاوے یوں کہ وہ جیسے خدا ہووے

مرا محبوب بھی عاجز ہے بالکل چاند کی طریو
وہ دن بھر دکھے کونی، رات کو چھت پہ چڑھا ہووے

27/06/2023

*غزل*
*نوید عاجز*
*مجموعہ: شجر زار*

تیرا ہنسنا گلاب کی مانند
میرا رونا چناب کی مانند

میں کہ نا آشنا ہوں لفظوں سے
اور وہ چہرہ کتاب کی مانند

چند لمحوں کی بات لگتی ہے
عمر گزری ہے خواب کی مانند

یوں تو گزری ہے بعد بھی تیرے
پر مسلسل عذاب کی مانند

حال اپنا بھی اب تو عاجز ہے
میر خانہ خراب کی مانند

27/06/2023

*غزل*
*نوید عاجز*
*مجموعہ: شجر زار*

یا تو بزمِ غیر میں پینا پلانا چھوڑ دے
یا ہمارے ساتھ پھر ملنا ملانا چھوڑ دے

یا مریض ہجر کے بچنے کی کچھ تدبیر کر
یا مسیحائی کا یہ دعویٰ پرانا چھوڑ دے

یا برس کر دل کی اجڑی کھیتیاں آباد کر
یا گھٹا بن کر مری گلیوں میں آنا چھوڑ دے

یا تو پھر لاشوں پہ ماتم کے لیے تیار رہ
یا پھر اپنے عاشقوں کو آزمانا چھوڑ دے

یا مرے زخموں کا بھی چارہ کرے وہ خوب رو
یا نوید اس سے کہو مجھ کو ستانا چھوڑ دے

Address

Pakpattan
45

Telephone

+923022639289

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Bazm_e_navidajiz posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Establishment

Send a message to Bazm_e_navidajiz:

Share

Category