CirCle Of information ?

CirCle Of information ? Organizations

علم الاعداد   ہر شخص کا ایک لکی نمبر ہوتا ہے جو اس کی خوش قسمتی کی علامت ہوتا ہے۔ یہ نمبر کیسے معلوم کیا جاتا ہے، اس کے ...
23/03/2023

علم الاعداد

ہر شخص کا ایک لکی نمبر ہوتا ہے جو اس کی خوش قسمتی کی علامت ہوتا ہے۔ یہ نمبر کیسے معلوم کیا جاتا ہے، اس کے بارے میں قسمت کا حال بتانے والے اکثر خاموشی اختیار کر لیتے ہیں،لیکن ویب سائٹ ’ہیپی لائف رپورٹ‘ پر علم الاعداد کے ایک ماہر نے یہ طریقہ سب کو بتا دیا ہے۔

طریقہ یہ ہے کہ ایک کاغذ پر 1سے 9تک اعداد بائیں سے دائیں ایک سطر میں لکھ لیجئے۔ اب ان اعداد کے نیچے دوسری سطر میں A,B,Cکے حروف لکھنا شروع کردیں۔ حرف A ہندسے1 کے نیچے آئے گا، حرف Bہندسے 2 کے نیچے اور اس طرح حرف Iہندسے 9 کے نیچے آئے گا۔ اس کے بعد تیسری سطر میں اس سے اگلے حروف لکھنا جاری رکھیں، یعنی تیسری سطر میں ہندسے 1 کے نیچے Jاور آخری ہندسے 9 کے نیچے Rآئے گا۔ اس سے آگے کے حروف چوتھی سطر میں آئیں گے۔ ہندسے 1 کے نیچے Sاور ہندسے 8کے نیچے Zآئے گا۔
ساری اے، بی، سی نو ہندسوں کے نیچے لکھنے کے بعد دیکھئے کہ آپ کے نام کے حروف کے اوپر کون کون سے ہندسے آ رہے ہیں۔ ان تمام ہندسوں کو جمع کرلیجئے۔ اس طرح دو ہندسوں پر مشتمل ایک عدد حاصل ہو گا۔اس عدد کے دو ہندسوں کو آپس میں جمع کیجئے اور یہی آپ کا لکی نمبر ہے۔

ہندسوں اور اعداد کی ترتیب یوں ہو گی:
1 2 3 4 5 6 7 8 9

A B C D E F G H I
J K L M N O P Q R

S T U V W X Y Z
مثال کے طور پر اگر آپ کا نام Ahmad Ali ہے تو ان دو لفظوں کے حروف کے اعداد اور ان کا حاصل جمع یہ ہیں:

Ahmad = 1+8+4+1+4 = 18
Ali = 1+3+9 = 13

اب ان دونوں اعداد کو جمع کریں یعنی:
18+13 = 31

اب اس عدد کے دو ہندسوں کو جمع کر لیجئے، یعنی:
3+1 = 4

تو اس طرح آپ کا لکی نمبر 4 ہے۔
علم الاعداد کے ماہرین لکی نمبر کے کچھ عمومی اوصاف بھی بیان کرتے ہیں، جو کچھ یوں ہیں:

اگر آپ کا لکی نمبر 1 ہے تو

آپ آزاد خیال، تخلیقی ذہن کے مالک، پرعزم اور دوستانہ رویہ رکھنے والے شخص ہیں۔

اگر آپ کا لکی نمبر 2 ہے تو آپ دوسروں کی رہنمائی کرنے والے اور اچھا مشورہ دینے والے ہیں، دوسروں کے ساتھ ملنا جلنا پسند کرتے ہیں اور توانائی سے بھرپور زندگی

اگر آپ کا لکی نمبر 3ہے تو

آپ سماجی میل جول میں دلچسپی رکھتے ہیں اور دوسروں کے ساتھ بات چیت سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ آپ ایک پرامید شخص ہیں۔

لکی نمبر 4 والے لوگ زیادہ منظم اور ذمہ دار ہوتے ہیں۔ ان کے دوست بہت کم ہوتے ہیں اور یہ مضبوط ارادے کے مالک ہوتے ہیں۔

اگر آپ کا لکی نمبر 5 ہے تو

آپ متعدد اقسام کے ٹیلنٹ رکھنے والے باہمت شخص ہیں، آپ سماجی میل جول کو پسند کرتے ہیںاور سیلز، قانون اور سیاست کے شعبوں میں کامیابی حاصل کرسکتے ہیں۔

لکی نمبر 6والے لوگ وفادار، خیال رکھنے والے، ذمہ دار اور سخی طبیعت کے مالک ہوتے ہیں۔ یہ گھر کے کام کاج میں بھی بہت خوش رہتے ہیں۔

اگر آپ کا لکی نمبر 7 ہے

تو آپ گہری سوچ بچار کرنے والے، حاضر دماغ، دلکش، ادبی ذوق رکھنے والے اور روحانی معاملات میں گہری دلچسپی رکھنے والے شخص ہیں۔

لکی نمبر 8والے لوگ صاف گو اور اپنے مقصد سے گہری لگن رکھنے والے ہوتے ہیں، یہ بہت محنتی لوگ ہوتے ہیں اور دوسروں کی مدد کرنے میں پیش پیش رہتے ہیں۔

اگر آپ کا لکی نمبر 9 ہے تو آپ درد دل رکھنے والے فیاض طبیعت کے مالک ہیں۔ آپ ایک جذباتی انسان بھی ہیں جو دوسروں کو دکھی دیکھ کر بے تاب ہوجاتے ہیں اور جب تک ان کی مدد نہ کرلیں چین سے نہیں بیٹھتے.

نام کی اعداد جاننے کے لیے اس پوسٹ کو پانچ گروپ میں شیئر کرکے کمنٹ کریں
اپنا نام اردو میں لکھ کر سینڈ کریں

اہرام مصر۔۔۔ایک دوسرا رخ۔۔اس میں کوئی شک و شبہ کی گنجائش نہیں کہ اہرام مصر (Pyramids of Giza) زمانہ قدیم کا ایک عجوبہ تھ...
11/02/2023

اہرام مصر۔۔۔ایک دوسرا رخ۔۔

اس میں کوئی شک و شبہ کی گنجائش نہیں کہ اہرام مصر (Pyramids of Giza) زمانہ قدیم کا ایک عجوبہ تھا۔۔۔نہ صرف اس سے اونچی تعمیر تقریبا" چار ہزار سال تک نہ ہوئی بلکہ اس کو بنانے میں ریاضی سمیت کئی حیرت انگیز پہلووں کا خاص خیال رکھا گیا جو اس دور کے بادشاہوں کی شان و شوکت، بلند خیالی اور پڑھے لکھے مصری سماج کی عکاسی کرتا ہے۔۔
البتہ ہزاروں سال بعد ان اہرام کے بارے ایک مخصوص ایجنڈے کے تحت سازشی تھیوریاں پھیلائی جا رہی ہیں، جن کا تدارک کرنا ضروری ہے۔
پہلی بات کہ مصر میں زمانہ قدیم میں صرف یہ تین اہرام نہیں بنائے گئے تھے۔ اب تک دریافت ہونے والے چھوٹے بڑے اہراموں کی تعداد 118 سے زیادہ ہے، جن میں کئی ان تین اہرام سے پہلے بنائے گئے تھے۔ جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس زمانے میں ایسی تعمیرات کرنے کے ماہرین اور سنگ تراشوں کی کثیر تعداد موجود تھی۔۔۔۔لائم اسٹون کے وسیع ذخائر زیادہ دور نہیں تھے، دریائے نیل اہرام کے قدموں میں بہتا تھا جس کے بہاو پر گرینائیٹ کے بڑے بڑے پتھروں کو مضبوط تختوں کی مدد سے لانا ممکن تھا۔ میٹیریل اور ذرائع آمدو رفت کے علاوہ بیشمار تجربہ کار آرکیٹیکٹس، سنگ تراش، مزدور اور ہزاروں غلام میسر تھے، ایک عظیم الشان سلطنت کے خزانے ان کاموں کے لئیے مختص ہوں اور وقت کی قید بھی نہ ہو تو ایسے شاہکار بن کر رہتے ہیں۔ آخر چینیوں نے 21 ہزار کلومیٹر سے لمبی دیوار چین بھی کھڑی کر دی تھی جو ان جیسے ہزاروں اہراموں سے بڑھکر ہے۔۔
اہرام کی تعمیر کتنی بھی مشکل اور محنت طلب ہو، ان کی خوبصورتی لاجواب تھی جو کیسے بنائے گئے کے سوال کی نسبت کہیں زیادہ حیران کن تھی۔۔جیسا کہ تصویر میں نظر آتا ہے، ان اہراموں کی باہری سطحیں سفید لائم اسٹون کی تھیں، جنہیں رگڑ رگڑ کر بیحد ملائم کر دیا گیا تھا۔۔ ان اہراموں کے سروں پر سونے چاندی سے بنے نہایت وزنی تاج ان کی شان و شوکت میں بیحد اضافہ کرتے تھے۔۔جب ان اہراموں پر سورج کی روشنی پڑتی تو دیکھنے والوں کی آنکھیں چندیا جاتیں۔ دور صحرا میں دیکھنے والوں کو ایسے لگتا جیسے تین سورج روشنیاں بکھیر رہے ہوں۔۔۔ اہراموں کے سروں سے پھوٹنی والی روشنی سے سورج کی روشنی بھی ماند پڑ جاتی۔۔۔
یہ اہرام تین ہزار سال سے زیادہ یونہی چمک دمک اور حیرت کا مرکز بنے رہے۔ اس دوران یونانیوں، رومنز اور دوسری قوموں نے ان علاقوں پر قبضہ کیا لیکن کسی نے ان اہرام کو نہ چھیڑا۔۔البتہ گزشتہ ہزار سال میں انھیں تباہ کرنے کی بھرپور کوششیں کی گئی۔۔اس کا باہری لائم اسٹون اکھاڑ کر عمارتوں اور مقدس عبادت گاہوں میں استعمال کر لیا گیا۔۔اس کے سونے چاندی کے بنے وزنی تاج اتار کر غائب کر دیئے گئے۔۔اسی پر بس نہ کی گئی تو گزشتہ سو ڈیرھ سو سال میں مغربی لٹیروں اور مقامیوں نے ان اہراموں میں ( جو دراصل بادشاہوں اور امراء کے مقبرے تھے)چھپی بے پناہ دولت کا صفایا کر دیا۔۔۔
آخر جب مصری بھی دوسری اقوام کی طرح نئی دنیا کا حصہ بنے تو کئی ممالک کی طرح سیاحت پر بھرپور توجہ دینا شروع کی۔۔ہونا تو یہ چاہیئے تھا کہ ان اہرام کو دوبارہ پرانی شکل و صورت میں بحال کیا جاتا۔ ان بے ڈھنگے چھوٹے بڑے بے ترتیب گرینائیٹ کے پتھروں پر سفید ملائم پتھر لگائے جاتے اور ان کی سونے چاندی سے تاج پوشی کی جاتی، دریائے نیل کا رخ موڑ کر اسے ان کے قدموں میں لایا جاتا، لیکن انھوں نے مشکل اور مہنگا کام کرنے کی بجائے تجسس اور دیومالائی طرز کی کہانیاں پھیلانی شروع کر دیں، جن میں ان مغربی لٹیروں نے اپنی فلموں اور کتابوں کے ذریعے بھرپور ساتھ دیا۔۔۔
جیسا کہ ایک دانشور کا قول ہے کہ ان چیزوں بارے غور ضرور کریں کہ کیسے بنیں، لیکن اصل غور طلب بات یہ ہے کہ وہ قوم اب ایسی چیزیں کیوں نہیں بناتی۔۔۔
اگرچہ دیوار چین اہرام مصر سے کہیں بڑا، مشکل اور مہنگا پراجیکٹ تھا، لیکن انھوں نے کبھی بھی نہیں کہا کہ اسے جنوں یا دوسرے سیارے سے آئی مخلوق نے بنایا تھا۔۔ایسا کہنا ان لاکھوں مزدوروں، ماہرین تعمیرات اور سنگ تراشوں کی بے عزتی کے مترادف ہے، جنہوں نے انھیں بناتے ہوئے اپنا خون پسینہ بہایا اور پتھروں کے ساتھ چنے گئے۔

10/02/2023

ہارپ کیا ہے؟

ہائی فریکوئنسی ایکٹو ایرورل ریسرچ پروگرام یا ہارپ، سازشی نظریات گھڑنے والوں کے لئے بڑا زرخیز میدان ہے۔ چاند پر لینڈنگ کی طرح اس سائنسی پروگرام کو ان حضرات کی طرف سے اتنی توجہ کیوں ملی ہے؟ اس کے لئے ایک نظر اس کی تاریخ پر۔

موسم کنٹرول کئے جا سکتے ہیں، طوفان برپا کئے جا سکتے ہیں، زلزلے لائے جا سکتے ہیں، دریا اچھالے جا سکتے ہیں، میزائل اور جہاز گرائے جا سکتے ہیں، دنیا بھر کا مواصلاتی نظام ناکارہ کیا جا سکتا ہے، لوگوں کے ذہنوں اور موڈ پر اثرانداز ہوا جا سکتا ہے۔ یہ وہ دعوے ہیں جو اس پروگرام کے ساتھ وابستہ رہے ہیں۔ اگر ان میں سے کوئی ایک بھی دعویٰ درست ہوتا تو یہ دنیا میں ٹیکنالوجی کا طاقتور ترین پروگرام ہوتا اور یہ حکومتی یا عسکری راز ہوتا۔ اس کے برعکس یہ کلاسیفائیڈ بھی نہیں ہے۔ البتہ، اس کی فنڈنگ میں یو ایس ائیر فورس، نیوی اور ڈارپا کا حصہ بھی ہے۔ 2014 میں اس کے بجٹ میں کی جانے والی تخفیف کی وجہ سے اس پروگرام کی زمین اور آلات سمیت پروگرام کی ملکیت یونیورسٹی آف الاسکا کے حوالے کر دی گئی تھی۔ اب یہ پروگرام یہ یونیورسٹی چلاتی ہے۔

اس کا مقصد کیا ہے؟ زمین کی فضا میں آئینوسفئیر کی سٹڈی، اس کا خلائی موسم سے انٹر ایکشن اور ان کی وجہ سے ریڈیو ویوز پر مواصلات پر ہونے والے اثرات کی سٹڈی، انتئی کم فریکوئنسی (وی ایل ایف اور ای ایل ایف) ریڈیو ویوز کی جنریشن۔ اس کم فریکوئنسی پر بڑی دور تک رابطے کئے جا سکتے ہیں۔ زیرِ زمین سٹرکچرز کا مشاہدہ جا سکتا ہے۔ زیرِ سمندر آبدوزوں سے رابطہ رکھا جا سکتا ہے۔ یہ پیچیدہ سائنس ہے اور یہ پروگرام جس طریقے سے کام کرتا ہے، وہ بھی پیچیدہ ہے۔ بنیادی اصول یہ ہے کہ کوشش کی جائے کہ جس طرح سورج زمین کی بالائی سطح کے ساتھ انٹرایکٹ کرتا ہے، وہی کام کرنے کی کوشش کی جائے تا کہ آئینوسفئیر پیدا کیا جا سکے اور پھر اس کے اثرات کا مطالعہ ہو سکے۔ اس کو ایک کنٹرولڈ طریقے سے ایسے کرنا جسے دہرایا جا سکے، یہ اس پروگرام کا چیلنج ہے، اور ظاہر ہے کہ اس کو بہت بہت چھوٹے سکیل پر کیا جا سکتا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس کی سائنس کو سمجھنے کیلئے تھوڑا سا تعارف آئینوسفئیر کا۔ بالائی فضا میں یہ علاقہ زمین سے ساٹھ کلومیٹر سے ایک ہزار کلومیٹر کی بلندی پر ہے اور مسلسل تغیرپذیر ہے۔ فضا اس قدر باریک ہے کہ سورج سے آنے والی الٹراوائلٹ اور ایکس ریز یہاں پہنچ سکتی ہیں، لیکن اتنی کثیف ہے کہ یہ یہاں جذب ہو کر گیس کو آئن بنا دیتی ہیں یعنی یہ ریڈی ایشن ایٹم یا مالیکیول سے الیکٹران کو دھکیل کر نکال دیتی ہے۔ مثبت اور منفی چارج الگ ہو جاتے ہیں۔ اس کی وجہ سے زمین کے گرد چارجڈ پارٹیکلز کا ایک خ*ل سا بن جاتا ہے۔ اس وجہ سے یہ آئینوسفئیر کہلاتا ہے۔ قطبین کے قریب اورورا بننے کی وجہ بھی یہی پراسس ہے جو اس کے دوران خارج ہونے والی روشنی اور حرارت کا نتیجہ ہے۔ زمین کے قریب فضا میں مثبت اور منفی چارج بہت جد ایک دوسرے سے مل جاتے ہیں لیکن بالائی فضا میں دور دور ہونے کی وجہ سے یہ پارٹیکل دیر تک آزاد رہتے ہیں۔ ان آزاد الیکٹران کی موجودگی کی وجہ سے بالائی فضا کنڈکٹر کا کام کرتی ہے۔ اس تہہ کو ڈی، ای اور ایف، تین تہوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔

یہ اثر ساٹھ کلومیٹر سے شروع ہو جاتا ہے، تین سو کلومیٹر پر سب سے زیادہ ہوتا ہے اور ایک ہزار کلومیٹر تک یہ تقریبا ختم ہو جاتا ہے کیونکہ اتنی بلندی پر فضائی غلاف نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے۔ چونکہ یہ تہیں کنڈکٹر کا کام کرتی ہیں تو یہ زمین سے آنے والی الیکٹرومیگنیٹک ویوز، جیسا کہ ریڈیو براڈکاسٹ ہے، کے ساتھ انٹرایکٹ کرتی ہیں۔ فریکونسی کے حساب سے کچھ ریڈیو ویوز جذب ہو جاتی ہیں، کچھ منعکس ہو جاتی ہیں۔ چونکہ یہ تہیں سورج کی شعاعوں کی وجہ سے بنتی ہیں، اس لئے رات اور دن، سردی اور گرمی میں ان میں بہت فرق پڑ جاتا ہے۔ سب سے نچلی تہہ “ڈی لئیر” صرف دن کے وقت ہوتی ہے اور رات کو مکمل طور پر غائب ہو جاتی ہے۔ اسی طرح شمسی موسم سے بھی یہ متاثر ہوتی ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ہارپ دو سے دس میگاہرٹز کا ریڈیو سگنل استعمال کرتا ہے۔ اس کی مدد سے آئینوسفئیر کے چھوٹے سے علاقے، جو کہ اس تجربہ گاہ کے عین اوپر ہے، وہاں پر گیس کے مالیکیولز کو اور 3.6 میگاواٹ کی توانائی سے ایکسائیٹ کرتا ہے۔ اس کے لئے استعمال کیا جانے والا اس کا مین آلہ آئینوسفئیر ریسرچ انسٹرومنٹ (آئی آر آئی) ہے۔ یہ چوبیس ایکڑ پر پھیلا ہوا 180 اینٹینا پر مشتمل فیزڈ ایرے ریڈیو ٹرانسمیٹر ہے۔ اس سے ایک بیم پھینکی جاتی ہے۔ جب یہ آئینوسفئیر میں پہنچتی ہے تو فریکوئسی کے مطابق، اس کا سائز ساٹھ سے سو کلومیٹر کے درمیان پھیل چکا ہوتا ہے۔ آسمان کے چھوٹے ٹکڑے پر اس کا رخ تیزی سے بدل کر اس سے گرم ہونے کا عمل ماڈیولیٹ کر کے کم فریکوئنسی کے سگنل جنریٹ کئے جا سکتے ہیں۔ انتہائی اختصار کے ساتھ، یہ ہارپ ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس پر پھیلی جانے والی سب سے بڑی غلط فہمی پاور کی آوٗٹ پُٹ ہے۔ اس سے منسلک بلند و بانگ دعووں کی سب سے بڑی بنیاد ان پر ہے اور اس کی سائنس کو نہ سمجھنے پر ہے۔ ٹرانسمیٹر کی پاور ساڑھے تین میگاواٹ ہے، جبکہ سازشی مواد میں لکھا جانے والا فِگر پونے چھ گیگا واٹ ہے۔ ڈیڑھ ہزار گنا بڑا فِگر دراصل ایک بالکل ہی مختلف چیز کا ہے، جس کو براڈکاسٹ انڈسٹری میں موثر ریڈی ایشن پاور (ای آر پی) کہا جاتا ہے۔ یہ اضافی نظر آنے والا نمبر اس وجہ سے نہیں کہ اس میں اضافی توانائی بن جاتی ہے بلکہ اس اصطلاح کی اپنی ڈیفی نیشن کی کے طریقے کی وجہ سے ہے۔ کسی بیم کا فوکس جتنا اچھا ہو گا، یہ فگر اتنا زیادہ ہو گا۔ فضا میں جذب ہونے کے بعد ہارپ کا جتنا سگنل آئنوسفئیر تک پہنچتا ہے، یہ محض 36 ملی واٹ فی مربع میٹر ہے۔ (ملی کا مطلب ہزاروں حصہ ہے)۔ اس کے مقابلے میں سورج کی توانائی ہارپ کی توانائی سے 37000 گنا زیادہ ہے۔ ایک سائنسدان کے مطابق، یہ پروگرام ایک دریا کو گھریلو ہیٹر کے ساتھ گرم کرنے کی طرح ہے۔

اگر آپ کہیں کہ اس کا ثبوت کہ پاور پونے چھ گیگا واٹ کیوں نہیں؟ تو یہ بہت آسان ہے۔ یہ سیٹ اپ الاسکا میں ہے اور اس ریاست کی پوری کیپیسیٹی ہی 2.5 گیگاواٹ ہے۔ سازشی لٹریچر کے دعووں کے لئے صرف اس ایک آلے کو چلانے کے لئے ریاست کی پوری توانائی سے دگنے سے زیادہ دینا پڑے گا۔ ایریزونا میں نصب امریکا کا سب سے بڑا نیوکلئیر پاور پلانٹ پالو ورڈی بھی اتنی بجلی پیدا نہیں کرتا۔ ہارپ کے نزدیک اتنا بڑا پاور جنریٹر اور اس تک بجلی لانے کا نیٹورک کہاں ہے؟ کہیں پر بھی نہیں۔ ہارپ کیلئے پاور کہاں سے جنریٹ ہوتی ہے؟ اسی سائٹ پر لگے ڈیزل کے پانچ جنریٹرز سے، جن کو دیکھا جا سکتا ہے۔ چند میگاواٹ کے ڈیزل جنریٹرز کی طاقت سے دنیا میں کیا کچھ کیا جا سکتا ہے؟ یہ حساب کتاب کرنا اتنا مشکل نہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ہارپ کے بارے میں غلط فہمیوں کا بڑا ماخذ اس کی تاریخ ہے۔ الاسکا میں کام کرنے والی تیل اور گیس کی کمپنی اٹلانٹک رچ فیلڈ (آرکو) کو الاسکا کے شمالی سلوپ علاقے میں پائے جانے والی گیس فیلڈ کے حقوق حاصل تھے، لیکن یہ ذخائراس گیس کے گاہکوں سے بہت دور تھے۔ گیس کو مائع میں تبدیل کر کے ٹرانسپورٹ کرنا بہت مہنگا تھا۔ اس لئے یہ ذخائر ناقابلِ استعمال تھے۔ آرکو کو اس کے قریب ایک کسٹمر کی ضرورت تھی۔ برنارڈ ایسٹ لنڈ پلازمہ فزکس میں کام کرنے والے سائنسدان تھے جنہوں نے فیوژن ٹارچ کی ڈویلپمنٹ میں کردار ادا کیا تھا۔ ایسٹ لنڈ 1980 کی دہائی میں آرکو کے لئے کام کر رہے تھے اور ان کی پروکشن ٹیکنالوجی کے شعبے کے سربراہ تھے۔ انہوں نے ایک انوکھا خیال پیش کیا۔ آرکو ان اضافی توانائی کے ذخائر سے بڑے اینٹینا بنا کر آئینوسفئیر میں گیس ایٹمز کو گرم کر سکتی ہے اور مصنوعی پلازما بنا سکتی ہے۔ زمین کے مقناطیسی فیلڈ کے ساتھ ریڈیو بیم سائیکلوٹرون کا کام کرے گی۔ زمین پر آلات کی مدد سے اس عمل کو کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔ یہ پلازمہ زمین کی مقناطیسی لائنز کے ساتھ ساتھ چلے گا اور ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہو سکتا ہے۔ آرکو اور برنارڈ ایسٹ لنڈ کو یہ پیٹنٹ 11 اگست 1987 کو ملا۔

اس پیٹنٹ کر پڑھنا خاصا دلچسپ ہے کیونکہ اس میں کئی غیرمعمولی باتوں کہی گئی ہیں۔ اس میں لکھا گیا ہے کہ اس طریقے سے پلازمہ پیدا کرنا مواصلاتی رابطوں پر اثرانداز ہو سکتا ہے۔ نہ صرف زمینی بلکہ سیٹلائیٹ کے ذریعے رابطوں میں بھی، جس سے دفاعی رابطے متاثر ہونا کا بھی اندیشہ ہے۔ یہ وہ وقت تھا جس سے کچھ سال قبل سوویت یونین اور امریکہ نے فضا میں ایٹمی دھماکے کئے تھے۔ ان سے پیدا ہونے والے چارجڈ پارٹیکل بہت دیر فضا میں ٹریپ رہے تھے جو اس وقت متوقع نہیں تھا۔ پیٹنٹ میں اس کا ذکر تھا کہ اس طرح پلازمہ پیدا کرنے سے نیوکلئیر ڈیوائس کے بغیر ویسا اثر پیدا کیا جا سکتا ہے۔ ایک اور دعویٰ بہت بلندی پر اجسام، میزائل یا سیٹلائیٹ، کو ڈریگ فورس کے ذریعے غیرمستحکم کرنے کا تھا۔ اس کے علاوہ موسمی اثرات کا ذکر بھی ہے، جس میں بالائی فضا میں ہوا کے پیٹرن پر اثرات کی بات کی گئی ہے۔ مختلف شکلوں کے پارٹیکلز کے بادلوں کے ڈھیروں کی مدد سے لینز ایفیکٹ پیدا کرنا اور شمسی توانائی کو فوکس کرنے اور جیٹ سٹریم کا رخ بدلنے کے ذریعے طوفان اور بادل کا رخ موڑنے کا بھی لکھا ہے۔ کم فریکوئنسی کی ویوز کے ساتھ زمین کے نیچے دیکھ لینے کا ذکر بھی اس میں موجود ہے۔ ای ایل ایف ویوز کی فریکوئنسی دماغ کی الفا اور تھیٹا رینج میں بھی ہے۔ اس پیٹنٹ میں ان ویوز کو دشمن کی طرف فوکس کر کے ان کا حوصلہ پست کرنے بھی بات کی گئی ہے۔ اوزون بڑھا کر اس میں ہونے والے سوراخ کی مرمت کرنے کا بھی اس میں ذکر کیا گیا ہے۔ ضرر رساں اور زہریلی گیسوں کے مالیکیول توڑنا کا بھی اس میں لکھا گیا ہے۔

آرکو نے یہ پیٹنٹ امریکی دفاعی تحقیق کرنے والے ادارے ڈارپا کے حوالے کر دیا۔ اس میں کئے جانے والے دعوے غیرمعمولی تھے اور پیٹنٹ میں اس کے لئے تجویز کردہ توانائی 100 گیگا واٹ تھی۔ (یہ ہارپ کی توانائی سے 27700 گنا زیادہ ہے)۔ ایسٹ لینڈ کے ڈیزائن کو بنانے کے لئے پچاس لاکھ اینٹینا چاہیے تھے اور اس کے لئے 2600 مربع کلومیٹر کے رقبے کی ضرورت تھی، جو ایک بڑے شہر جتنا تھا۔ اس لئے آرکو اور ایسٹ لنڈ نے یہ تجویز دی تھی کہ اس کے لئے توانائی آرکو کی گیس سپلائی سے آئے۔

اگر محکمہ دفاع اس پروگرام کی حامی بھر لیتا تو آرکو کو اپنی گیس فروخت کرنے کے لئے ایک بہت بڑا صارف مل جاتا۔ کتنا بڑا؟ پاکستان میں کُل توانائی کی کھپت اس وقت 90 گیگاواٹ ہے۔ دنیا کا سب سے بڑا گیس پاور پلانٹ روس کا سرگاٹ پاور پلانٹ پانچ گیگاواٹ کا ہے۔ ایسٹ لینڈ کے پلان کو عملی جامہ کے لئے اس طرح کے اٹھارہ پاور پلانٹ لگانے ہوتے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ایسٹ لینڈ کے خیالات غیرمعمولی بھی تھے لیکن انہوں نے سائنسدانوں کو فضا کے اس حصے پر تجربات کیلئے اس کے مقابلے میں بہت چھوٹے سکیل پر ریسرچ فیسلٹی کے قیام کا آئیڈیا دیا جس سے آئیڈیاز کو ٹیسٹ کیا جا سکے اور آئینوسفئیر کو سمجھا جا سکے۔ اس کے لئے ایک کروڑ ڈالر کی فنڈنگ کی منظوری ملی اور آرکو کو ریسرچ فیسلٹی بنانے کا کام سونپا گیا۔ گاکونا کے علاقے میں افق کے پار ریڈار بنانے کا پراجیکٹ مکمل ہونے سے پہلے کینسل ہو گیا تھا۔ یہ اس پراجیکٹ کی سائٹ بن گئی۔ قطبِ شمالی کے قریب ہونے کی وجہ سے یہ ارورل الیکٹروجیٹ کا بھی فائدہ اٹھا سکتی تھی۔ یہ وہ برقی کرنٹ ہے جو قطبین میں آئینوسفئیر میں سرکولیٹ کرتا ہے اور اس جیٹ سے کم فریکوئنسی کا سگنل بھیجنے کے لئے ایک بڑے اینٹیا کا کام لیا جا سکتا ہے۔ آبدوزوں سے رابطہ کر لینے کی صلاحیت حاصل کرنے کے امکان کی وجہ سے اس اس میں بحریہ کو خاصی دلچسپی تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس تمام پس منظر کے بعد ہم دیکھ سکتے ہیں کہ کونسے الگ الگ آنے والے خیالات آپس میں مل کر نئی کہانیاں کیسے تخلیق کرتے ہیں۔ ایسٹ لنڈ کا پیٹنٹ اور ہارپ کا اصل ریسرچ سنٹر خود بالکل الگ ہیں۔

ہارپ سال میں کبھی کبھار مختصر مدت کے لئے آپریٹ کرتا ہے۔ یہ فضا میں مائیکروویو نہیں بھیجتا، یعنی کسی مائیکرویو اوون کی طرح نہیں۔ اس کی فریکوئنسی ریڈیو ویو میں میڈیم اور شارٹ ویو کے بینڈ میں ہے۔ (یہ مائیکروویو سے دو ہزار گنا کم فریکوئنسی ہے)۔ جب یہ آپریٹ کرتا ہے تو کئی ہزاروں کلومیٹر دور تک ریڈیو پر اس کا سگنل پکڑا جا سکتا ہے، جو کسی سیٹی کی آواز کی طرح موصول ہوتی ہے۔ اس فریکوئنسی پر ریڈیو سگنل دور تک جاتے ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کیا ہارپ اپنی نوعیت کا دنیا میں واحد ریسرچ سینٹر ہے؟ نہیں۔ دو اور مراکز بھی ہیں۔ ایک روس میں اور ایک ناروے میں لیکن یہ دونوں اس کے مقابلے میں چھوٹے سائز کے ہیں۔ ہارپ سے ہونے والی تحقیق سے ہمیں آئینوسفئیر میں ان ایفیکٹس کا پتا لگا ہے، جو پہلے نامعلوم تھے۔ عسکری مقاصد کے استعمال کے لئے یہ اتنے حوصلہ افزا نہیں رہے، اس لئے اس کے لئے مختص بجٹ کم کر دیا گیا۔ البتہ اس کے ساتھ منسلک سازشی نظریات ایک جا بجا پھیل کر نت نئے خیالات اور کہانیوں کو مسلسل جنم دے رہے ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

طوفان، سیلاب، زلزلے اور آفات۔ زمین پر ہمیشہ سے آتے رہے ہیں اور آتے رہیں گے۔ اس جیوفزیکل اور موسمیاتی نظاموں کے مقابلے میں انسان بہت ہی کمزور ہے، ان بہت سے عوامل کے آگے ابھی بالکل بے بس ہے۔ ہارپ سے بننے والی کہانیاں اب اس قدر طاقتور ہو گئی ہیں کہ وہ عوامل جن کو “خدا کے کام” یا “فطرت کی قوتیں” کہا جاتا رہا ہے، سائنس سے قطعی نابلد مگر سائنس سے حد درجہ مرعوب لوگوں کی بنائی گئی سازشی کہانیاں، ان کو بھی انسان کے کھاتے میں ڈالتی ہیں۔

پیٹنٹ نمبر 4686605 کے ذریعے گیس کی کمپنی کا اپنا گاہک ڈھونڈنے کی کوشش کی خاطر آنے والے اچھوتے خیال سے شروع ہونے والے اس پراجیکٹ کے ایکوئپمنٹ کی تصویر ساتھ منسلک ہے۔

اور نہیں۔ اس سے نہ موسم کنٹرول کئے جا سکتے ہیں، نہ طوفان برپا کئے جا سکتے ہیں، نہ زلزلے لائے جا سکتے ہیں، نہ دریا اچھالے جا سکتے ہیں، نہ میزائل اور جہاز گرائے جا سکتے ہیں، نہ دنیا بھر کا مواصلاتی نظام ناکارہ کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی لوگوں کے ذہنوں اور موڈ پر اثرانداز ہوا جا سکتا ہے۔ ڈیزل کے پانچ جنریٹروں پر چلنے والا یہ سائنسی آلہ اس قسم کا کوئی کام کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔

25/01/2023

بل گیٹس، جو کہ بیس سال تک دنیا کی تاریخ کے امیر ترین شخص رہے، کی کہانی ہمیں یوں سناٸی جاتی ہے کہ بل گیٹس بہت ذہین و محنتی انسان ہیں۔ بے شک بل گیٹس بہت ذہین و محنتی انسان ہیں لیکن ان کی کہانی کا کچھ حصہ ہمیشہ مخفی رکھا جاتا ہے۔ لیکن کوٸی بھی شخص جو ذہین بھی ہو اور محنتی بھی ہو وہ بل گیٹس کی جگہ پر نہیں پہنچ سکتا اور اس کی چند وجوہات ہیں۔ لیکن وجوہات بتانے سے پہلے آپ کو بل گیٹس کی کہانی سناتے ہیں۔

بل گیٹس کی کہانی 1967 سے شروع ہوتی ہے جب یہ امریکہ کے مہنگے ترین سکول یعنی لیک ساٸیڈ سکول میں 7 ویں کلاس میں پڑھتے تھے۔ اس دور میں کمپیوٹر نیا نیا مارکیٹ میں آیا تھا۔ بل گیٹس اور انکے چار دوست گروپ کی شکل میں سکول کے کمپیوٹر پر گھنٹوں گزارتے تھے اور مختلف پروگرامز تشکیل دینے کی کوشش کرتے۔ لیکن بعد ازاں ان کو محسوس ہوا کہ ان کو اپنے مقاصد کی تکمیل کے لیے سکول ٹاٸمنگ کے بعد بھی کمپیوٹر درکار ہے لہذا بل گیٹس اور ان کے دوستوں نے "کمپیوٹر سینٹر کارپوریشن" نامی نیٹ کیفے پر گھنٹوں گزارنے شروع کردیے۔

بل گیٹس پروگرامنگ میں وقت کے ساتھ ماہر ہوتے گٸے۔ آپ نے اپنے سکول کے لیے بھی پروگرام تیار کیے۔ بعد ازا بل گیٹس کالج چلے گٸے۔ دوران کالج بل گیٹس نے Traf-o-Data کے نام سے کمپنی بناٸ۔ جو فلاپ ہوٸی۔ بعد ازاں بل گیٹس کا داخلہ ہارورڈ یونیورسٹی میں ہو جاتا ہے۔

دوران گریجیشن MITS نامی کمپنی پہلا پرسنل کمپیوٹر متعارف کرواتی ہے۔ بل گیٹس MITS کو فون کرتے ہیں کہ ہم آپ کو آپ کے کمپیوٹر کے لیے سافٹ وٸیر بنا کر دینگے۔ کمپنی کو بل گیٹس کا سافٹ وٸیر بہت اچھا لگتا ہے۔ اس کے بعد بل گیٹس ہارورڈ سے ڈراپ آٶٹ کرتے ہیں اور ماٸیکروسافٹ کمپنی بناتے ہیں۔ مختلف پراجیکٹس کرتے ہیں لیکن بل گیٹس کو خاطر خواہ فاٸدہ نہیں ہوتا۔ بل گیٹس کو پہلا بریک تھرو تب ملتا ہے جب یہ IBM کے لیے سافٹ وٸیر بناتے ہیں۔ اس کے بعد 1985 میں بل گیٹس اپنا پہلا آپریٹنگ سسٹم لانچ کرتے ہیں جس کو Window 1.0 کہتے ہیں۔ پھر Window 98 آتی ہے اور بل گیٹس پیچھے مڑ نہیں دیکھتے۔

یہاں تک پڑھنے کے بعد آپ شاید سوچ رہے ہونگے کہ بل گیٹس تو بڑا محنتی نوجوان تھا۔ اگر ہم بھی بل گیٹس کی طرح محنت کرے تو دنیا کے امیر ترین آدمی بن سکتے ہیں۔ لیکن رکیے ایسا ہرگز نہیں ہے۔ اس کہانی میں ایک Twist ہے اور وہ Twist یہ ہے کہ اگر آپ محنتی و ذہین بھی ہیں پھر بھی آپ بل گیٹس نہیں بن سکتے۔ اب آپ پوچھے گے "کیوں؟"۔ تو آٸیے آپ کو بتاتے ہیں کہ ذہانت و محنت کے علاوہ کونسے عوامل ہیں جنہوں نے بل گیٹس کو دنیا کا امیر ترین انسان بنایا۔

1. بل گیٹس ایک مرد تھے۔ اگر وہ عورت ہوتے تو کبھی ارب پتی نہ بن پاتے کیونکہ 1960 کے عشرے میں امریکہ میں صنفی امتیاز بہت زیادہ تھا حتی کہ بینک عورت کو کریڈٹ کارڈ نہیں دیتے تھے، عورتیں جج نہیں بن سکتی تھی، وہ برتھ کنٹرول کی گولیاں نہیں لے سکتی تھی اور بڑی یونیورسٹیز میں عورتوں کو داخلہ نہیں ملتا تھا۔

2. بل گیٹس گورا تھا۔ بل گیٹس اگر حبشی ہوتے تو وہ کبھی ارب پتی نہ بن پاتے۔ کیونکہ 1964 سے پہلے حبشیوں کے لیے یونیورسٹیز، ریسٹورینٹ حتی کہ بسوں میں بھی داخلہ پر پابندی تھی۔

3. بل گیٹس امریکہ میں پیدا ہوۓ اور وہ بھی امریکہ کے شہر سیاٹل میں۔ اگر بل گیٹس دنیا کے کسی اور ملک کو چھوڑیے بلکہ امریکہ کے کسی اور شہر میں پیدا ہوتے تو ارب پتی نہ بن پاتے۔ سیاٹل وہ امریکی شہر ہے جہاں کمپیوٹر ٹیکنالوجی 1960 میں پہنچ چکی تھی اور پہلی پروگرامنگ لینگوٸج بھی یہی پر بنی۔

4. بل گیٹس لیک ساٸیڈ سکول نامی ٹاپ کے مہنگے تعلیمی ادارے میں پڑھتے تھے جہاں ان کو کمپیوٹر کی سہولت ملی جو سیاٹل کے ہر شہری کو میسر نہ تھی۔ اس وقت 20 کڑور کی آبادی والے امریکہ میں فقط 20 ہزار کمپیوٹر تھے۔

5. بل گیٹس کے انکل کینیتھ پال یونیورسٹی آف واشنگٹن کے عہدیدار تھے جس کی وجہ سے یونیورسٹی کی لاٸبریری سے ٹاپ کمپیوٹر بکس بل گیٹس کو ملتی تھی۔

6. بل گیٹس کے والد ولیم گیٹس اپنے بیٹے کو نیٹ کیفے میں کمپیوٹر استعمال کرنے کے لیے 40 ڈالر فی گھنٹہ کے حساب سے دیتے۔ پھر جب بل گیٹس نے کمپنی بناٸی تو بحیثیت وکیل اپنی خدمات بھی مہیا کی۔

8. بل گیٹس نے پہلا سافٹ جو Alter کمپنی کے لیے تیار کیا اس میں سب سے زیادہ کام بل گیٹس کے دوست Montie نے کیا تھا پھر جب بل گیٹس نے Montie کو جاب آفر کی تو اس نے انکار کردیا کیونکہ Montie کے پاپا مڈل کلاس تھے اور وہ کالج ڈراپ آٶٹ کرنا افورڈ نہیں کرسکتا تھا۔ لیکن بل گیٹس امیر تھا لہذا اس نے کالج ڈراپ آٶٹ افورڈ کرلیا۔

7. بل گیٹس کو پہلا بریک تھرو جس آرڈر سے ملا وہ IBM نے دیا۔ یہ آرڈر بل گیٹس کی والدہ میری میکسویل نے IBM کے عہدیدار جان اوپل سے دلوایا تھا جو کہ بل گیٹس کی والدہ کا بہترین دوست تھا۔ حالانکہ یہ آرڈر DIGITAL RESEARCH نامی کمپنی کو ملنا تھا جو کہ اس وقت Microsoft سے بہت زیادہ بڑی کمپنی تھی۔

تو یہ تھی وہ وجوہات جن کی وجہ سے بل گیٹس دنیا کے امیر ترین آدمی بنے۔ اگلی دفعہ جب کوٸی موٹیویشنل سپیکر یا لبرل احمق آپ کو بل گیٹس کی کہانیاں سناۓ اور آپ کے مادی حالات کو نظر انداز کرتے ہوۓ کہے کہ "غربت صرف ایک ذہنی حالت کا نام ہے" یا "تم اپنی غربت کے خود ذمہ دار ہو" تو دلبرداشتہ ہونے کی بجاۓ راستہ بدل لیجیے گا۔

23/01/2023

مرد کو سمجھنے کی جتنی صلاحیت اللہ تعالیٰ نے عورت کو بخشی ہے، مرد کو اس کی ہوا بھی نہیں لگی ،،

مرد کے معاملے میں خود اللہ پاک نے عورت میں وہ (Sensor) لگایا ہے جو دھواں سونگھ کر آگ کی خبر دیتا ہے ،، MBA شوہر دوست کو گھر لاتا ہے اور مڈل پاس بیوی اس کو دس منٹ میں بتا دیتی ہے کہ اس کی نظر ٹھیک نہیں ،، عورت میں مرد کے بارے میں اتنی Applications رکھی گئی ہیں کہ وہ اس کی نظر پڑھ سکتی ہے، اس کی چال پڑھ سکتی ہے ، اس کے الفاظ پڑھ سکتی ہے ،، یہاں تک کہ وہ مرد کی مصنوعی اور حقیقی مسکراہٹ کے فرق کو دن اور رات کی طرح جانتی ہے۔

جھوٹ پکڑنے والی مشین کو دھوکا دیا جا سکتا ہے ،عورت کو دھوکا دینا نا ممکن ہے ، وہ مروت سے چپ کر جائے تو اس کی مہربانی ہے ،جھگڑا دفتر میں ہوتا ہے اور اس کی خبر وہ آپ کا مُکھڑا دیکھ کر دے دیتی ہے ،، آپ ٹریفک وارڈن سے لڑ کر مسکراتے ہوئے گھر میں داخل ہوں مگر وہ اچانک پیچھے سے آ کر کہتی ہے " کس سے لڑ کر آئے ہیں ؟ " اور آپ کا تراہ نکل جاتا ہے، عورت کو خدا نے نفسیاتی طور پر بڑا قوی بنایا ہے۔

پیغمبروں کی حفاظت عورت کو سونپی گئی، کتنے بڑے امتحان کے لئے بھولی بھالی مریم علیہ السلام کو چنا گیا موسی علیہ السلام کی ماں سے کیا کام لیا ؟
موسی علیہ السلام کی 9 سال کی بہن سے کیا کام لے لیا ؟ فرعون کی بیوی سے کیا کام لے لیا ؟ اور شیخِ مدین کی بیٹی نے باپ کے سامنے اجنبی موسی کا پورا Curriculum بیان کیا تھا یا نہیں ؟

کیا وہ ان کو جانتی تھی ؟

اسے کیسے پتہ چل گیا کہ وہ امین بھی ہیں حیاء والے بھی ہیں؟

اللّٰہ پاک نے عورت کو جسمانی طور پر بھی کمزور نہیں بنایا۔ وہ بچہ پیدا کرتی ہے۔ اور مرد کے اندر چالیس سال تک ماں کے دودھ کی طاقت ہوتی ہے۔

اللہ نے اسے نفسیاتی طور پر بہت مظبوط بھی بنایا ہے..!
لہذا عورتوں کو ہر لحاظ سے کمزور سمجھنا غلط فہمی ہے،.

راؤ انوار سمیت تمام مُلزمان شہید نقیب اللہ محسود   قتل کیس میں بری۔‏نقیب اللّہ محسود کو جعلی پولیس مُقابلے میں قتل کردیا...
23/01/2023

راؤ انوار سمیت تمام مُلزمان شہید نقیب اللہ محسود قتل کیس میں بری۔
‏نقیب اللّہ محسود کو جعلی پولیس مُقابلے میں قتل کردیا گیا تھا!
‏شہید نقیب اللہ محسود کے بڇوں کو ہم کیا جواب دینگے؟؟؟ اور اُس کے والد جو بیٹے کے غم میں اس دُنیا سے چلے گئیے۔۔۔ ۔😢

C- Section ڈاکٹر نے مجھے کہا کہ اب تو آپ کو آپریٹ ہی کروانا پڑے گا۔ مگر ناصرف میرا بلکہ میرے شوہر کا بھی یہی خیال تھا کہ...
22/01/2023

C- Section

ڈاکٹر نے مجھے کہا کہ اب تو آپ کو آپریٹ ہی کروانا پڑے گا۔ مگر ناصرف میرا بلکہ میرے شوہر کا بھی یہی خیال تھا کہ ہمیں تھوڑا انتظار اور کرنا چاہیے۔ ڈاکٹر کی تجویز کے مخالف جاتے ہوئے ہم نے انتظار کا فیصلہ کیا اور اسی روز میری نارمل ڈیلیوری ہو گئی۔‘

اسلام آباد کی رہائشی سائرہ حفیظ مزید بتاتی ہیں ناصرف پہلے بچے کی پیدائش بلکہ ان کی دوسری زچگی کے دوران بھی یہی کچھ ہوا۔ ’میں ہسپتال گئی اور داخل ہو گئی مگر نارمل ڈیلیوری نہیں ہو رہی تھی۔ اگلے روز ڈاکٹر میرے پاس آئیں اور بتایا کہ ہم آپ کو لیبر روم لے کر جا رہے ہیں اور آپ کی ڈیلیوری کروا دیں جو کہ نارمل ہونے کے چانس نہیں ہیں۔ مجھے دوبارہ وہاں پر سٹینڈ لینا پڑا کہ مجھے نارمل ڈیلیوری کروانی ہے۔‘

’میں نے ڈاکٹر کی تجویز کی مخالفت اس لیے کی تھی کیونکہ میں نے اس پر ریسرچ کر رکھی تھی۔ دوسری بات یہ ہے کہ اگر آپ نارمل ڈیلوری کی طرف جاتے ہیں تو خرچہ ایک لاکھ تک ہوتا ہے مگر اگر سی سیکشن کی طرف جاتے ہیں تو خرچہ بڑھ کر ڈھائی سے چار لاکھ تک ہو سکتا ہے۔ میرا تجربہ یہ ہے کہ پریگنینسی کے دوران ہی ڈاکٹر لڑکیوں کے دماغ میں یہ بات بٹھا دیتے ہیں کہ سی سیکشن بچہ پیدا کرنے کا آسان طریقہ ہے۔‘

دنیا میں صدیوں تک بچوں کی پیدائش اکثر گھروں میں ہوا کرتی تھی۔ میڈیکل سائنس کی ترقی اور سی سیکشن سے جہاں ایک طرف ہر سال لاکھوں خواتین اور اُن کے بچوں کی جانیں بچائی جاتی ہیں وہیں اس کے غیر ضروری استعمال میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

انڈیا اور پاکستان دونوں ملکوں میں سی سیکشن سے پیدا ہونے والے بچوں کی تعداد میں مسلسل اور بہت زیادہ اضافہ ہو رہا ہے اور خاص طور پر پرائویٹ ہسپتالوں میں اس کی شرح زیادہ ہے۔

انڈیا سے تعلق رکھنے والی نبیلہ بتاتی ہیں کہ ’وہ میری پہلی دفعہ تھی اور بہت سی نئی ماؤں کی طرح مجھے معلوم نہیں تھا کہ کیا چل رہا ہے۔ جب ڈاکٹر نے مجھے کچھ پیچیدگیوں کے بارے میں بتایا تو میں نے اُن کو گوگل بھی کیا اور لوگوں سے بھی بات کی، مگر چونکہ جیسا ہوتا ہے عین وقت پر کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا۔‘

’ذہن میں ایک ڈر تھا کہ کچھ غلط ہو گیا تو کیا ہو گا۔ جب آپ نو ماہ کا سفر کر کے آ رہے ہوتے ہیں تو دماغ میں یہی ہوتا ہے کہ کوئی چانس نہیں لینا۔ ڈاکٹر بھی آپ کو تجویز کر رہے ہوتے ہیں کہ سی سیکشن کی صورت میں ڈیلیوری کے لیے آپ اپنی پسند کا ٹائم سلیکٹ کر سکتی ہیں، دن سلیکٹ کر سکتی ہیں وغیرہ۔‘

نبیلہ کا پہلا بچہ بھی سی سیکشن سے ہوا۔

تاہم ڈاکٹرز کے حوالے سے ہر خاتون کا تجربہ ایک سا نہیں ہوتا مثلاً دہلی میں ایک ملٹی نیشنل کمپنی میں کام کرنے والے تین سالہ بچے کی ماں، جنہوں نے اپنا نام ظاہر نہیں کیا، بتاتی ہیں کہ وہ سیزیریئن سیکشن سرجری کے لیے پوری طرح سے تیار تھیں لیکن ان کے ڈاکٹر نے انھیں نارمل ڈیلیوری کا مشورہ دیا۔

وہ بتاتی ہیں کہ ’ایک پروفیشنل عورت کے طور پر میں نے سوچا تھا کہ میں ڈیلیوری کے دوران درد اور دیگر پیچیدگیوں سے بچنے کے لیے سی سیکشن سرجری کو ترجیح دوں گی۔ لیکن میرے ڈاکٹر نے مجھے سمجھایا کہ اگر طبی طور پر ضرورت نہ ہو تو سی سیکشن درحقیقت مجھے یا میرے بچے کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔‘

انھوں نے دوستوں سے سنا تھا کہ ڈاکٹر سیزیریئن سیکشن سرجری کو ترجیح دیتے ہیں لیکن جب ان کے ڈاکٹر نے نارمل ڈلیوری کے فوائد اور نقصانات کی وضاحت کی تو نارمل ڈیلیوری کے لیے ان کی حوصلہ افزائی ہوئی۔

سی سیکشن کے ذریعے بچہ پیدا کرنے کے واقعات میں دنیا بھر میں اضافہ ہو رہا ہے، خاص طور پر پاکستان اور انڈیا میں۔

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق دنیا بھر میں سی سیکشن سرجری کی شرح سنہ 1990 میں تقریباً سات فیصد تھی جو 2021 میں بڑھ کر 21 فیصد ہو گئی ہے اور اس رجحان میں اضافہ جاری ہے۔

پاکستان اور انڈیا میں سرکاری صحت کے اداروں کے مقابلے نجی اداروں میں سی سیکشن کرنے کی شرح زیادہ ہے۔

پاکستان میں انسٹیٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس کے اعداد و شمار کے مطابق ملک بھر میں سی سیکشن کے ذریعے بچوں کے پیدائش کی شرح لگ بھگ 22 فیصد ہے یعنی ہر 100 میں سے 22 بچے آپریشن کے ذریعے پیدا ہو رہے ہیں۔ جبکہ پرائیوٹ ہسپتالوں میں سی سیکشن کے ذریعے پیدائش کی شرح 28 فیصد تک ہے۔ یاد رہے کہ 2013 میں یہ شرح صرف 14 فیصد تھی۔

اگر انڈیا کے اعداد و شمار پر نظر ڈالیں تو وہاں 21.5 فیصد بچے سی سیکشن کے ذریعے پیدا ہو رہے ہیں۔ 2016 میں انڈیا میں یہی شرح 17.2 فیصد تھی۔ جبکہ انڈیا کے پرائیوٹ ہسپتالوں میں سی سیکشن کی شرح لگ بھگ 48 فیصد ہے۔

عالمی ادارہ صحت کے مطابق سی سیکشن کے ذریعے بچے کی پیدائش کی قابل قبول شرح 10 فیصد تک ہونی چاہیے۔

دنیا بھر میں ’نارمل ڈیلیوری‘ کو ماں اور بچے دونوں کی صحت اور زندگی کے لیے بہتر سمجھا جاتا ہے اور ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ سی سیکشن سرجری صرف طبی وجوہات کی بنا پر کی جانی چاہیے خاص طور پر جب ’نارمل ڈیلیوری‘ سے ماں اور بچے کے لیے خطرات لاحق ہوں۔

انڈیا میں نارمل ڈیلیوری کی حامی ڈاکٹر نوتن پنڈت کہتی ہیں کہ آج کل ’ہر کوئی ڈیلیوری کی متوقع تاریخ کو پیدائش کی تاریخ کے طور پر لے رہا ہے۔ جبکہ یہ ایک متوقع تاریخ ہے اور اسی لیے اسے پیدائش کی متوقع تاریخ کہا جاتا ہے۔‘

وہ کہتی ہیں کہ ’لیکن جب بچہ اس دن، یا اس دن سے پہلے نہیں پیدا ہوتا ہے تب لوگ ’اینڈیوسڈ لیبر‘ یعنی غیر قدرتی طریقے سے لیبر کروا دیتے ہیں۔ بچے کو اپنے آپ پیدا ہونے دینا چاہیے۔‘

انڈیا کے ایک ہستال میں گائناکالوجی کی سینیئر کنسلٹنٹ ڈاکٹر رینو جین سیزیریئن سیکشن کے ذریعے ڈیلیوری میں اضافے کے تین اہم وجوہات کی نشاندہی کرتی ہیں: ماں کو نارمل ڈیلیوری میں درد کا خوف، ماں کی دوسری ڈیلیوری میں سیزیریئن سیکشن کے زیادہ امکانات کیونکہ پہلی ڈیلیوری سیزیریئن سیکشن تھی، تیسرا اور طرز زندگی میں تبدیلیاں جیسے کہ عام عمل و حرکت میں کمی یا غیر صحت بخش کھانے کے عادات۔

وہ کہتی ہیں کہ ’کھانے کی بُری عادات سے حمل میں وزن بڑھنے کے زیادہ امکانات ہوتے ہیں۔ ایسی خواتین کا خود سے ’لیبر‘ میں جانے کے امکان کم ہوتے ہیں جسکی وجہ سے ان میں طبی طور پر ’لیبر‘ کرانا پڑتا ہے۔‘

وہ کہتی ہیں ’اور سائنسی اعداد و شمار کے مطابق اس طرح کے لیبر میں نارمل لیبر کے مقابلے میں سیزیریئن سیکشن کے واقعے زیادہ ہوتے ہیں‘۔

وہ ایشیائی ممالک میں ایک اور عام وجہ کی نشاندہی کرتی ہیں اور کہتی ہیں کہ ’حمل کے دوران ہوئی ذیابیطس بچے کے جسامت کو بڑھاتی ہے جس سے نارمل ڈیلیوری کے امکانات کم ہوتے ہیں اور اس سے سیزیریئن سیکشن سرجری کی شرح میں اضافہ ہوتا ہے۔‘

حال میں پیشہ ورانہ وجوہات کی بنا پر بھی حمل میں تاخیر کرنے والی خواتین بچے کی پیدائش کے دوران ہونے والی پیچیدگیوں سے بچنے کے لیے سیزیریئن سیکشن سرجری کو ترجیح دیتی ہیں۔

ڈاکٹر نوتن کہتی ہیں کہ نارمل حالات میں ’بہت جلدی ہسپتال جانا بھی سیزیریئن کا باعث بن سکتا ہے۔ جب آپ لیبر کی پوری طرح سے شروعات کا انتظار نہیں کرتے ہیں تو پھر سیزریئن کا مواقع بڑھ جاتے ہیں۔ ہسپتال کا پروٹوکول یہ ہے کہ ہسپتال آنے کے 24 گھنٹوں کے اندر عورت کی ڈیلیوری کرا دی جائے‘۔

انھوں نے کہا کہ ’جب لیبر کنٹریکشن میں 5، 10 منٹ کا فاصلہ ہو تب ماں کو ہسپتال جانا چاہیے۔‘

انگلینڈ میں مقیم ڈاکٹر سعدیہ خان کہتی ہیں کہ ’ڈاکٹر جانتے ہیں کہ اس میں کم وقت لگے گا۔ اس میں ان کا ذاتی مالی فائدہ بھی ہوتا ہے۔‘

وہ کہتی ہیں ’جو ہماری بیسٹ پریکٹس ہے وہ یہ ہے کہ ہم جہاں کوشش ہو نارمل ڈیلیوری کی طرف رجحان بڑھائیں۔ اور خواتین کو اس کے بارے میں زیادہ سے زیادہ معلومات فراہم کریں کہ کیوں سی سیکشن سے بہتر طریقہ نارمل ڈیلیوری ہے۔‘

وہ مزید کہتی ہیں ’مریض کو یہ معلوم نہیں ہوتا ہے کہ انھیں سیزیریئن کی ضرورت ہے یا نارمل ڈیلیوری سے بھی بچے کی پیدائش ہو سکتی ہے۔ انکو یہ بتانا بہت ضروری ہے کہ سیزیرئین کے چند اہم نشانیاں ہیں۔ ہر معاملے میں سیزیریئن نہیں کیا جاتا، یہ نارمل پریکٹیس نہیں ہے‘۔

ترقی یافتہ ممالک میں سیزیریئن سیکشن سرجری کی شرح کو کم کرنے کی کوششیں بہت حد تک ناکام رہی ہیں لیکن چند اقدامات ایسے ہیں جس سے آہستہ آہستہ اس رجحان میں کمی لائی جا سکتی ہے۔

ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ مثال کے طور پر ماں کی بہتر ’کاونسیلینگ‘ کافی مددگار ہو سکتی ہے۔

ڈاکٹر جین کہتی ہیں کہ ’میں عام طور پر دیکھتی ہوں کہ میرے پاس جب جوڑے آتے ہیں تو ماں ڈری ہوتی ہے کہ اس سے نارمل ڈیلیوری نہیں ہو پائیگی۔ ان میں خود اعتماد کی کمی نظر آتی ہے۔‘

ڈاکٹر رینو جین کہتی ہیں ’سیزیریئن سیکشن سرجری میں اضافہ ہونے کے کچھ وجوہات کو ہم روک سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر خاتون کو پر اعتمادی فراہم کرنا۔ ڈیلیوری اور لیبر پر ماں کی پہلے ہی کونسیلنگ کریں، انھیں سمجھائیں کہ لیبر کا عمل کیا اور کیسے ہوتا ہے، وہ اس کے دوران وہ کیا توقع کر سکتی ہیں، لیبر میں ہونے والے درد سے نجات کے لیے ہم کیا کر سکتے ہیں‘۔

وہ کہتی ہیں، ’میرے تجربے میں اگر 100 عورتیں سیزیریئن سیکشن سرجری کے لیے آتی ہیں تو مناسب کاؤنسیلینگ کے بعد ان میں سے 60-70 فیصد نارمل لیبر میں جانے کے لیے تیار ہو جاتی ہیں‘۔

عام طور پر ہنر مند ڈاکٹر سیزیریئن سیکشن سرجری کی تجویز اس وقت کرتے ہیں جب نارمل ڈیلیوری میں طبی طور پر ماں یا بچے کو خطرے کے امکانات ہوتے ہیں۔ لیکن جب طبی وجوہات کی بناء پر اس کی ضرورت نہ ہو تب، ڈبلیو ایچ او کے مطابق، اگر ڈاکٹر اور حاملہ خواتین کچھ بنیادی باتوں کو ذہن میں رکھیں تو سیزیریئن سیکشن سرجری کے غیر ضروری واقعات کو کم کیا جا سکتا ہے۔

ڈبلیو ایچ او کا یہ بھی کہنا ہے کہ سیزیریئن سیکشن کو کم کرنے کے لیے چند ممالک نے کچھ اقدامات اٹھائیں ہیں لیکن اس کے لیے مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔

Address

Islamia Calony D. I. Khan
Pakistan Employees Cooperative Housing Society
2529

Telephone

923119044415

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when CirCle Of information ? posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Establishment

Send a message to CirCle Of information ?:

Share

Category