Novels special

Novels special Tasawwuf

09/06/2021

Kisi ki b situation jaane bgair judge na krein🙏🙏
Q k apki judgement se dosra kitna hurt ho skta hai apko andaza b nhi

26/05/2021
12/05/2021

Allah says, "And if there comes to you from Satan an evil suggestion, then seek refuge in Allah. Indeed, He is the Hearing, the Knowing." (Noble Qur'an: 41:36)

Moreover, the way to protect ourselves from Satan is to know him and his strategies and be Allah's sincere slaves by following the guidance of the Qur'an and the Sunnah. Therein lies our protection. For Satan has no authority over Allah's sincere slaves.

"Indeed, My servants - no authority will you have over them, except those who follow you of the deviators." (Qur'an 15:42)

27/03/2021

✒️ Insan apni zindagi me mushkil se mushkil takleef b bardasht kr leta hai magr jb baat aati hai uski izat e nfs pe tou najaane q itna kamzor ho jaata hai
Bardasht aur sabr kahin door chor k khud ke liye muqable ke maidan me karha ho jata hai.
Akhir aisa q hai
Q insaan yh roop ikhtiyar kr leta hai😒❓

10/03/2021

🌹🌷🌷💐💐🌷🌷
لکھتا ہے وہی ہر بشر کی تقدیر
وَالـلّٰـہُ عَـلٰی کُـلِّ شَـیْـئٍ قَـدِیْــرٌ

جس کے تابع ہیں جنّات و انسان
فَـبِــأَيِّ آلَاء رَبِّــكُــمَــا تُــكَــذِّبَــانِ

*ابــتــدا ہے وہـی اور وہـی انــتــہــا*
*وَتُـعِـزُّ مـن تـشـاء وَتُـذِلُّ مـن تـشـاء*

*‏تنہائی میں بھی رہو گناہ سے دور*
*ﻭَﺍﻟــﻠَّــﻪُ ﻋَــﻠِــﻴــﻢٌ ﺑِـﺬَﺍﺕِ ﺍﻟــﺼُّــﺪُﻭﺭِ*

*ہے تجھ کو بس طلب کی جوت*
*کُــلُّ نَــفْــسٍ ذَائــقــة الْــمَــوْتِ*


*انساں کو ہے لاحاصل کا جنون*
*قَـــدۡ أَفۡـــلَـــحَ ٱلۡـــمُـــؤۡمِـــنُـــونَ*

*غیب سے نکال دیتا ہے وہ سبیل*
*حَـسْـبُـنَـا الـلَّـهُ وَنِــعْــمَ الْـوَكِـيـلُ*

*ہر ایک کو دیتا ہے صلہ بہترین*
*إِنَّ الـــلَّـــهَ مَـــعَ الــصَّــابِــرِيــنَ*

*اس سے مانگو وہ ہے بڑا کریم*
*فَـــاِنَّ الــلّٰــهَ غَــفُــوْرٌ رَّحِــیْــمٌ*

*تخلیقِ انسانی کا ہے مقصد*
*قُــــلْ هُــــوَ الـــلّٰـــهُ اَحَــــدٌ*

*تـیـری رضـا میں ہی ہے سـکـون*
*فَـإِنَّـمَـا يَـقُـولُ لَـهُ كُـن فَـيَـكُـونُ*

Caption it,
20/12/2020

Caption it,

15/11/2020

ناول: سہارا کون بنتا ہے
بقلم: عریش
قسط: 6

سیٹھ علیم اور قاسم اپنے سیکورٹی انچارج نعمان کی بات سن کر آگے بڑھے اور تفصیل پوچھنے لگے اور وہ انہیں تفصیل بتانے لگا۔
"قاسم تم نعمان کے ساتھ جاو اور نعمان تم چار پانچ بندے ساتھ لے لو اور فوراً موقع پر پہنچو جو بھی ہو اگر راز ہمارا راز ہی ہے تو ٹھیک ورنہ تمہیں پتہ ہے کیا کرنا ہے" علیم نے ہدایات دیتے ہوئے کہا۔
"یس سر آپ بےفکر ہو جائیں میں سب ہینڈل کر لوں گا" نعمان نے پسٹل بیلٹ میں اڑستے ہوئے اور سائیڈ پر رکھی گن اٹھاتے ہوئے تیزی سے کہا اور قاسم کے ہمراہ باہر نکل گیا۔

خولہ ایک جوس کارنر میں کھڑکی کے پاس بیٹھی تھی. اس کے نظریں سڑک کے پار ایک بنگلے کے گیٹ پر تھیں۔ اچانک گیٹ کھولتا ہوا دیکھائی دیا تو خولہ چونکی۔
گیٹ سے باہر ایک کار آئی جس کی ڈرائیونگ سیٹ پر قاسم بیٹھا تھا اس کے ساتھ والی سیٹ پر ایک آدمی جو کہ حلیے سے کوئی گارڈ لگ رہا تھا وہ بیٹھا تھا اس کے ہاتھوں میں ایک لیپ ٹاپ تھا اس گارڈ نے ایک ہاتھ سے ایک سمت کی طرف اشارہ کیا اور گاڑی اس سمت کی طرف روانہ ہونے لگی اس کار کے پیچھے ایک اور کار نظر آئی جس میں بھی گارڈ سوار تھے وہ کار بھی قاسم کی کار کے پیچھے چل پڑی۔
خولہ تیزی سے اٹھی بل پہلے ہی پے کر چکی تھی اور تقریباً بھاگتے ہوئے پارکنگ میں آئی اور بلیک کلر کی سیوک ہنڈا کا دروازہ کھولا اور تیزی سے اسی سمت روانہ ہوئی جس طرف قاسم کی گاڑی روانہ ہوئی تھی ایک ہاتھ سے سٹیرنگ سنبھالتے ہوئے دوسرے ہاتھ سے فون پر ایک نمبر ڈائل کرنے لگی۔ سکرین پر ڈئیر نام جگمگانے لگا۔ تھوڑی دیر بعد دوسری طرف سے کال اٹینڈ ہوئی تو خولہ نے موبائل کان سے لگا لیا اور کہنے لگی۔
" کتنا کام باقی ہے قاسم یہاں سے گارڈز کے ساتھ نکلا ہے ابھی اور لگتا ہے وہ تمہاری طرف ہی آ رہے ہیں"
"پاسورڈ توڑنے میں تھوڑا وقت لگا اور بہت سی فائلز بھی سیکورٹی کوڈز میں سیو ہیں میں ساری ہی فائلز اپنے لاپ ٹاپ میں ٹرانسفر کر رہا ہوں کیونکہ سیکورٹی توڑنے میں وقت لگے گا مجھے کم سے کم بیس منٹ اور چاہیے ہوں گے اگر درمیان میں ہی کنکشن کٹ کیا یا کچھ اور ہوا تو تمام فائلز کرپٹ ہو جائیں گی پھر ان کو ری کور کرنا بہت ہی مشکل ہو جائے گا تقریباً ناممکن سمجھو کیونکہ چند فائلز ریکور ہو بھی گئیں تمام فائلز ریکور نہیں ہو سکیں گی" سیاہ پوش جس کا نام ضرار تھا تفصیل بتاتے ہوئے بولا۔
"اوہ یہ تو معاملہ گڑبڑ ہو گیا وہ زیادہ سے زیادہ دس سے پندرہ منٹ میں تمہارے پاس ہوں گے ایسا لگ رہا ہے جیسے لیپ ٹاپ یا موبائل میں جی پی ایس کام کر رہا ہے" خولہ نے کہا تو نارمل انداز میں مگر ہلکی سے پریشانی اس کے الفاظ سے نمایاں تھی۔
"میں دیکھ لوں گا ان کو آنے دو" ضرار کے لہجے میں بےخوفی اور انتہا درجے کی پر اعتمادی تھی۔
"نہیں میں نہ مڈبھیڑ چاہتی ہوں اور نہ یہ چاہتی ہوں کہ تم کسے کے سامنے آو اور یہ بھی نہیں چاہتی کہ ڈیٹا ہمارے ہاتھ نہ لگے قاسم کی تیزی سے لگتا ہے کوئی بہت ہی اہم بات ہے جس سے ہم بےخبر ہیں اور یہ موقع بار بار نہیں ملتا" خولہ نے تیزی سے کہا۔
"تم ایسا کرو کہ باہر مین گیٹ کھول دو اور اپنی جیکٹ اور ہیلمٹ دروازے کے باہر رکھ دو اور اندر رہ کر اپنا کام کرو باہر چاہے کچھ بھی ہو تم نے باہر نہیں آنا" خولہ نے ایک ثانیے چپ رہنے کے بعد کہا۔
"کیا کرنے والی ہو" ضرار نے تجسس سے پوچھا۔ وہ اچھی طرح جانتا تھا خولہ ایسی بلا کا نام ہے کہ جب وہ ایکشن میں آتی ہے تو کچھ پتہ نہیں چلتا کہ وہ کیا کرنے والی ہے اور جب تک پتہ چلتا ہے وہ بازی جیت چکی ہوتی ہے۔
"یہ ان باتوں کا وقت نہیں ہے جو بھی ہوا تمہیں پتہ لگ جائے گا تم کام مکمل کرو اور پلان کے مطابق وہاں سے نکل کر گھر پہنچو" خولہ نے یہ کہتے ہی کال کاٹ دی اور دوبارہ سے فون پر مصروف ہو گئی اس کی گاڑی کافی فاصلے سے قاسم اور گارڈز کا تعاقب کر رہی تھی۔
***************۔

حیدر کو پہلے دن ہی اندازہ ہو گیا تھا کہ اب کی زندگی ایک مشکل ترین مرحلے میں داخل ہو چکی ہے مگر کسی سے کیا شکوہ یہ راہ اس نے خود چنی تھی۔ صبح فجر کی اذان سے پہلے اٹھایا گیا تہجد پڑھائی گئی پھر کچھ ایکسر سائز پھر اذان ہوئی تو تلاوت پھر نماز اس کے بعد پھر چند ایکسر سائز اور ان ایکسرسائزوں کے لیے مشینوں کا استعمال نہیں بلکہ قدرتی انداز کو اپنایا جا رہا تھا درخت سے الٹا سیدھا لٹکنا، دوڑ، پش اپس اور نہ جانے کیا کیا کروایا گیا اب اسے چھت پر بیٹھا کر منہ مشرق کی جانب کیا ہوا تھا ساتھ ہی ماسٹر بیٹھا تھا جس کا منہ بھی مشرق کی جانب تھا دور آسمان کے کونے سرخی مائل ہو کر سورج کی آمد کی اطلاع دے رہے تھے ماسٹر نے اسے چوکڑی مار کر بیٹھنے کو کہا اور بس ایک ہی ہدایت کی ابھرتے ہوئے سورج کو اس وقت تک دیکھنا ہے جب تک آنکھیں آسانی سے اسے دیکھ سکیں اور اب وہ افق پر نظریں جمائے بیٹھا تھا کہ سورج کا کونہ دیکھائی دیا اس نے اپنی نظریں ابھرتے سورج پر مرکوز کر دیں آہستہ آہستہ ایک سرخ گول ٹکیہ سامنے آنے لگی اور حیدر اس کو غور سے دیکھ رہا تھا کہ ماسٹر کی آواز سنائی دی۔
"ناک سے گہرا سانس لو اور منہ کے راستے خارج کرو آنکھیں سورج پر رکھو اور انتہائی گہرائی سے سوچو تصور کرو کہ سورج کی روشنی تمہاری آنکھوں سے گزر کر تمہارے جسم کے ہر حصے تک پہنچ رہی ہے اور اسے منور کر رہی ہے" ماسٹر نے سورج کو گھورتے ہوئے کہا۔
حیدر نے اس ہدایت پر عمل کرنا شروع کیا تو اسے حیرت کا جھٹکہ لگا کیونکہ اس چیز کا تجربہ اسے پہلے نہیں تھا جیسے ہی اس نے گہرائی سے تصور کیا کہ سورج کی روشنی اس کے جسم۔میں جذب ہو رہی ہے ایک سنسنی سی لہر اس کے بدن میں دوڑ گئی اسے محسوس ہو رہا تھا جیسے یہ صرف اسکا تصور نہیں بلکہ واقعی ابھرتا سورج اس کی رگ رگ میں اترتا جا رہا ہے جب سورج کی روشنی کچھ تیز ہوئی ماسٹر اٹھا اور حیدر کو نیچے آنے کا اشارہ کیا۔
نیچے کمرے میں پہنچ کر ماسٹر کہنے لگا۔
"سارا کمال دماغ کا ہوتا ہے جب کبھی بے دھیانی میں اچانک ہمارا ہاتھ کسی گرم چیز سے چھوتا ہے تو ایک سیکنڈ کے کچھ حصے تک ہمیں اندازہ نہیں ہوتا کہ ہمارا ہاتھ کسی گرم شے سے چھو گیا ہے پھر اچانک درد کا احساس ہوتا ہے ایسا اس لیے ہوتا ہے کہ جسم کا جو حصہ گرم چیز سے ٹچ ہوتا ہے وہ حصہ فوراً دماغ کو پیغام بھیجتا ہے کہ یہاں کوئی گرم چیز ہے جس سے میں چھو گیا ہوں دماغ فوراً جلن کا احساس پیدا کرتا ہے اور اس حصے کو فوراً وہاں سے ہٹنے کا کہتا ہے یہ سب پراسس انتہائی تیز رفتاری سے ہوتا جو شخص اپنے دماغ پر قابو پا لے وہ ایسے حیرت انگیز کارنامے سرانجام دے سکتا ہے جس کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا جب ڈاکٹر کسی کے جسم کا کوئی حصہ سن کرتے ہیں وہ دراصل پیغام رساں سیلز کا راستہ روک دیتے ہیں کیمیکلز سے جس سے پھر درد کا احساس نہیں ہوتا" ماسٹر اتنا کہہ کر چپ ہوئے۔
اب میں تمہیں بتاوں گا سورج کی طرف اس طرح کیوں دیکھا گیا ہے" ماسٹر نے کہا تو حیدر ہمہ تن گوش ہو کر ماسٹر کی طرف دیکھنے لگا۔
**************۔
عمر تیز تیز قدموں سے یونیورسٹی کی ایک راہدری میں جا رہا تھا کہ اچانک ایک کلاس روم کا دروازہ کھلا اور عمر اپنی رو نظریں جھکائے کلاس روم سے ایک ماڈرن اور جدید فیشن سے آراستہ لڑکی سے جا ٹکڑایا تصادم کافی سخت تھا دونوں زمین پر جا گرے۔ عمر کا سر دروازے کی چوکھٹ سے تھوڑا باہر نکلے لوہے کے ایک کونے سا جا ٹکرایا اور درد کی ایک شدید لہر اسکے جسم میں دوڑ گئی لڑکی انتہائی غصے سے اٹھ کھڑی ہوئی اور اونچی آواز سے چلائی "یو ایڈیٹ تم ان۔۔۔۔۔" اتنا کہا ہی تھا کہ اچانک اس کی نظر عمر پر پڑی جس کے سر سے خون بہہ کر اس کے رخسار تک آ پہنچا تھا اسکا خون دیکھ کر لڑکی فوراً چپ ہو گئی۔
"آر یو اوکے، لگتا ہے زیادہ گہری چوٹ لگ گئی ہے" لڑکی نے گبھرا کر آدھی انگلش آدھی اردو میں عمر کی خیریت دریافت کی۔
"معاف کرنا مس میری غلطی ہے" نظریں جھکائے عمر نے کہا۔
لڑکی آنکھیں پھاڑ کر اسے دیکھنے لگی کیونکہ واضح غلطی اسی کی تھی وہ موبائل میں اتنا مصروف تھی کہ ٹانگ مار کر اس نے دروازہ کھولا تھا اور بغیر سامنے دیکھے سیدھا عمر سے ٹکڑا گئی اور وہ اسے اپنی غلطی مان رہا تھا کچھ اس کا بہتا خون دیکھ کر اسے شرمندگی اور تاسف ہو رہا تھا۔
"نہیں غلطی میری تھی" لڑکی نے شرمندگی سے کہا۔
"چلیں غلطی جس کی بھی ہے ہم ایک دوسرے کو معاف کرتے ہیں اوکے اللہ حافظ" عمر نے سادگی سے کہا اور آگے چل پڑا
"جی بالکل بالکل اللہ حافظ" وہ بوکھلا سی گئی۔
یہ کیسا لڑکا ہے ایک بار دیکھا تک نہیں کہ ٹکڑایا کس سے ہوں خون بہہ رہا ہے پرواہ نہیں دوسرے کی غلطی بھی اپنے سر مونڈھ رہا ہے سر جھٹکتی ہوئے وہ آگے بڑھنے لگی تو عمر کے کچھ الفاظ اس کے کانوں میں پڑے اور وہ بےاختیار اس کے پیچھے چل پڑی۔ پتہ نہیں درد کی وجہ سے اس کے الفاظ منہ سے نکلے یا بےخودی تھی وہ اپنے آپ سے مخاطب تھا شاید
"استغفراللہ یا اللہ میں گنہگار ہوں اور اس سے زیادہ سزا کا حقدار تھا، الحمداللہ یا اللہ تیرا شکر ہے یہ تکلیف اگر سزا ہے تو میرے گناہ معاف ہوں گے اگر آزمائش ہے تو جزا ملے گی"
شاید اللہ سے مخاطب ہو کر اب خود سے خودکلامی کرتا چلا جا ریا تھا کپڑے تبدیل کرنے ہوں گے جلدی ورنہ جماعت نکل جائے گی"
اس لڑکی کے قدم اسی جگہ جم گئے کیا ایسے بھی نوجوان پائے جاتے ہیں یونیورسٹی میں وہ حیرت سے سوچ رہی تھی۔
یہ عائزہ کبیر اور عمر فاروق کی پہلی ملاقات تھی۔
*************۔

ضرار کے سامنے دو لیپ ٹاپ کھلے پڑے تھے اور ایک لیپ ٹاپ سے دوسرے لیپ ٹاپ میں ڈیٹا ٹرانسفر جاری تھا اور وہ کمرے میں ٹہل رہا تھا اس کی نظریں بار بار ونڈو سے باہر گیٹ کی طرف جا رہیں تھیں جو اس نے خولہ کے کہنے پر کھول دیا تھا وہ لاہور تھا جب اسے خولہ کی کال آئی اور اس نے اسے فوراً اسلام آباد آنے کا کہا تھا وہ لاہور آیا تو خولہ نے اسے اپنی ایک سہیلی صدف کی سٹوری سنائی تو اس نے جوش سے کہا کہ وہ قاسم کو سبق سیکھا دے گا مگر خولہ نے طنزیہ انداز میں کہا کہ یہ نیک کام وہ بھی کرسکتی تھی مگر اس صرف اس لیے بلایا گیا ہے کیونکہ وہ سافٹ وئیر اور آئی ٹی میں ماہر تھا اور خولہ نے کہا تھا کہ اسے صرف وہی کام کرنا ہے اس نے بضد ہو کر خولہ کو منایا تھا کہ لیپ ٹاپ اور موبائل وہ اڑا کر لائے گا جس کی اجازت خولہ نے بڑی مشکل سے ایک شرط پر دی تھی کہ اسے خولہ کے پلان کے مطابق کاروائی کرنا ہو گا تو ضرار نے ہامی بھر لی تھی لیکن اس وقت اسے اندازہ نہیں تھا کہ یوں معاملات اس رخ کو چل پڑیں گے وہ یہ سوچ سوچ کر پریشان تھا کہ خولہ کیسے اس معاملے کو نمٹائے گی اس کے کہنے پر وہ اپنی جیکٹ ،بیگ اور ہیلمٹ دروازے کے باہر رکھ آیا تھا اس نے وقت دیکھا ابھی بھی اسے پندرہ منٹ چاہیے تھےاپنا کام نمٹانے میں۔ وہ انہی سوچوں میں گم تھا کہ اسے ایک کار گیٹ کے اندر آتی دیکھائی دی اور اس کے عضلات سخت ہوگئے۔

(جاری ہے)

15/11/2020

ناول: سہارا کون بنتا ہے
بقلم: عریش
قسط: 5

عمار نے دوڑتے ہوئے بائیک والے سیاہ پوش کو پکڑنے کی کوشش کی مگر جنگلا پھلانگنے سے لے کر بائیک تک پہنچنے تک کا وقت سیاہ پوش کے لیے کافی تھا اس نے بائیک سٹارٹ کی اور تیزرفتاری سے آگے نکل گیا عمار نے قاسم کی گاڑی سے اس کا پیچھا کرنے کا سوچا مگر پھر اس کی نظر قاسم پر پڑی جو بےسدھ لیٹا تھا اور اس کے سر سے خون بہہ رہا تھا عمار نے جلدی سے اس کو اسے اٹھایا اور گاڑی کی پچھلی سیٹوں پر بٹھا دیا پھر جلدی سے اپنی گاڑی کو سائیڈ پر لگا کر قاسم کی گاڑی کو نزدیکی ہسپتال کی طرف دوڑا دیا۔
ہسپتال پہنچتے ہی قاسم کو ایمرجنسی میں لے جایا گا جبکہ عمار نے فوراً قاسم کے والد کو فون کر کے ہسپتال پہنچنے کا کہا اور خود ڈاکٹر کی طرف بڑھ گیا۔
"ڈاکٹر صاحب کوئی گہری چوٹ تو نہیں آئی" عمار نے تشویش سے پوچھا۔
"نہیں ایسی کوئی بات نہیں بس نازک حصے پر ضرب لگائی گئی ہے جس کی وجہ سے بےہوش ہو گیا سر کا زخم بھی گہرا نہیں بینڈج کر دی ہے اور انجکشن لگا دیا ہے پانچ منٹ تک ہوش آ جائے گا" ڈاکٹر نے کہا اور باہر چلا گیا۔
عمار سیاہ پوش کے بارے میں سوچنے لگا وہ کون تھا جان بوجھ کر ٹکڑایا اور کیا لے کر گیا عمار باہر آیا اور قاسم کی کار کا معائنہ کرنے لگا قاسم کا موبائل اور لیپ ٹاپ دونوں غائب تھے۔
عمار واپس آیا جب تو قاسم کو ہوش آ رہا تھا۔
ہوش میں آنے کے بعد قاسم پہلے خالی خالی نظروں سے عمار کو دیکھتا رہا پھر جب شعور کی چمک آنکھوں میں نمودار ہوئی تو چونک کر خود کو دیکھنے لگا۔
"کون تھا وہ کیا ہوا" قاسم نے گڑبڑا کر پوچھا
"کوئی چور تھا تمہارا موبائیل اور لیپ ٹاپ لے گیا" عمار نے تسلی دیتے ہوئے کہا۔
"کیا میرا لیپ ٹاپ لے گیا" قاسم نے دہراتے ہوئے کہا۔
"او گاڈ لیپ ٹاپ لے گیا" قاسم کا رنگ فق ہو گیا اور وہ گبھرایا ہوا اور خوفزدہ نظر آ رہا تھا۔
"کیا ہوا لیپ ٹاپ ہی لے گیا ہے نیا لے لینا" عمار اس کا ردعمل دیکھ کر حیران ہو رہا تھا قاسم کے پاس اتنا پیسہ تھا کہ اسے تو دس لیپ ٹاپ بھی چلے جاتے پھر بھی پرواہ نہ ہوتی لیکن اب ایسے پریشان نظر آ رہا تھا جیسے ساری جمع پونجی کوئی لے گیا ہو۔
اس سے پہلے عمار اسکی پریشانی کی وجہ پوچھتا کمرے کا دروازہ کھلا اور قاسم کے ابو سیٹھ علیم اندر داخل ہوئے اور پوچھا۔
"کیا ہوا یہ کیسے ہوا" قاسم کی طرف دیکھتے ہوئے وہ پریشان سے نظر آنے لگے
بجائے واقعہ بتانے کے قاسم نے فوراً سرسیمگی سے کہنے لگا
"پاپا وہ چور میرا موبائل اور لیپ ٹاپ لے گیا جلدی کچھ کیجیے"
"کیا لیپ ٹاپ لے گیا" سیٹھ علیم بھی پریشان نظر آنے لگے
"ِیہ تو بہت برا ہوا" علیم اٹھ کر ادھر ادھر ٹہلنے لگے۔ اور فوارً فون نکال کر کوئی نمبر ڈائل کرنے لگے۔
"قاسم کا موبائل اور لیپ ٹاپ کوئی چھین کر لے گیا ہے سارے کام چھوڑ دو فوراً تلاش شروع کرو اور کیا کرنا ہے تمہیں پتہ ہے موبائل اور لیپ ٹاپ دونوں میں سپشل جی پی ایس لگا ہوا ہے جتنی جلدی ہو سکے یہ کام کرو"
قاسم فون پر کسی کو ہدایات دیتے ہوئے کہنے لگے۔
عمار حیرانی سے دونوں باپ بیٹے کو دیکھ رہا تھا ایک لیپ ٹاپ کے پیچھے اتنی پریشانی۔ اور کیا مطلب تھا اس بات کا تمہیں پتہ ہے کیا کرنا ہے اور یہ سب کسے کہہ رہے تھے۔
قاسم نے مختصراً بتایا کہ کیا ہوا تھا۔
"چلو بیٹا گھر چلتے ہیں" علیم نے قاسم کو کہا تو قاسم فوراً بیڈ سے نیچے اتر آیا۔
"تمہارا بہت بہت شکریہ بیٹا لیکن معاف کرنا تھوڑی ایمرجنسی ہے گھر پر تو جانا پڑے گا" علیم نے عمار سے کہا اور عجلت میں باہر چلے گئے
"بعد میں ملتے ہیں" قاسم نے بھی تیزی سے باہر جاتے ہوئے عمار سے کہا۔
عمار احمقوں کی طرح کمرے میں اکیلا کھڑا رہ گیا اسے سمجھ ہی نہیں آ رہی تھی یہ ہو کیا رہا ہے۔ اس کی گاڑی تو حادثے کی جگہ کھڑی تھی قاسم نے بھی ادھر ہی جانا تھا لیکن اس نے بھی نہیں کہا کہ آو تمہیں۔وہاں ڈراپ کر دیں گے۔
وہ باپ بیٹا تو بس لیپ ٹاپ کے بارے میں پریشان تھے۔
عمار نے سر جھٹکتے ہوئے باہر کا رخ کیا۔
یہ گتھی فی الحال وہ سلجھا نہیں پا رہا تھا۔
******************۔

خان نے حیدر کے کہنے پر اسکا سکول تبدیل کروا دیا تھا اور اسکے لیے بڑی مشکل سے ایک ایسا ٹرینر ڈھونڈا تھا تو اس کے بیٹے کی خواہش کے مطابق اسے لڑنے کا فن سکھا سکے اور مارشل آرٹس میں ماہر بنا سکے۔ لیکن مسئلہ یہ بنا کہ وہ شخص عجیب تھا اسکا کہنا تھا وہ اسی شرط پر سکھائے گا کہ اسے پوارا اختیار ہو گا وہ جو چاہے کرے اور حیدر کو اس کے ساتھ ہی رہنا ہو گا جب تک اس کی ٹریننگ چلتی رہی گی گھر جانے کی اجازت نہیں ہو گی مہینے میں ایک دن بس وہ گھر جا سکے گا اور نہ حیدر سے ملنے کی کسی کو اجازت ہو گی۔ یہ شرطیں سن کر خان کا تو دماغ ہی گھوم گیا پہلے تو وہ یہ پروگرام ہی کینسل کر کے گھر آیا لیکن حیدر نے شرطیں ماننے پر اصرار کیا تو مجبوراً حیدر کو لے کر دوبارہ اس شخص کے پاس پہنچ گیا جو ماسٹر کے نام سے مشہور تھا۔ اس نے یقین دہانی کروائی تھی کہ حیدر کی پڑھائی بھی چلتی رہے گی اسکا معاوضہ بھی اچھا خاصا تھا جو عام متوسط طبقے کا بندہ شاید ادا نہ کر پاتا۔
حیدر کو ماسٹر کے پاس چھوڑ کر خان افسردہ سا واپس چلا گیا اسکی ماں بھی بہت پریشان تھی لیکن حیدر کی خوشی کی خاطر انہوں نے دل پر پتھر رکھ لیا تھا۔
حیدر کا پہلا دن تھا اور وہ سر جھکائے ماسٹر کے سامنے کھڑا تھا۔
"آگ کی بھٹی سے گزر کر کندن بننا نہایت مشکل ہے بہت تکلیف سے گزرنا پڑتا ہے کیا یہ بات تم جانتے ہو" ماسٹر نے پہلی بار حیدر سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا۔
"جی۔ماسٹر مجھے پتہ ہے مگر میں اس کے لیے تیار ہوں" حیدر نے مضبوط لہجے میں جواب دیا۔
"چلو دیکھتے ہیں" ماسٹر نے کرسی سے اٹھتے ہوئے کہا۔
حیدر کے سامنے سے گزرتے ہوئے ماسٹر کی لات آہستہ سے گھومی اور حیدر کی پنڈلی سے ذرا نیچے پتہ نہیں کون سی رگ پر لگی لیکن شدید درد کی لہر حیدر کی ٹانگ میں دوڑی وہ بےاختیار لڑکھڑایا اگر کرسی کا سہارا نہ لیتا تو زمین پر گر پڑتا۔
حیدر ہونٹ بھینچ کر درد ضبط کرنے کی کوشش کرنے لگا۔
حیدر کو حیرانی ہوئی ماسٹر نے ضرب تو بہت ہلکی سی لگائی تھی مگر درد اتنا شدید کیوں ہوا۔ اس سے پہلے وہ کچھ اور سوچتا ماسٹر کی لات ایک بار پھر گھومی اور اسی جگہ دوبارہ لگی۔ اس بار حیدر اپنے منہ سے نکلنے والی چیخ نہ روک سکا اور ساتھ ہی زمین پر گر گیا درد اتنا شدید تھا کہ اس کا پورا جسم اینٹھ سا رہا تھا۔
اتنے میں دوسرے کمرے میں فون کی بیل بجی اور ماسٹر دوسرے کمرے میں چلا گیا۔
درد کی شدت سے حیدر کی آنکھیں نم ہو گئیں۔
چند لمہوں کے بعد ماسٹر کمرے میں آیا اور آتے ہی کہنا لگا۔
"ِیہاں سے جاتے ہوئے تمہارے ابو کا شدید ایکسیڈنٹ ہو گیا ہے اور وہ انتہائی سیریس حالت میں ہسپتال میں ایڈمٹ ہیں۔
حیدر تڑپ کر اٹھا درد کی لہر تو اٹھی مگر اس نے پرواہ نہ کی درد تکلیف سب بھول چکا تھا بس دل چاہ رہا تھا کہ۔اڑ کر اپنے ابو کے پاس چلا جائے۔
"پلیز مجھے جلدی ان کے پاس لے چلیں" حیدر نے گڑگڑاتے ہوئے کہا۔
" چلو" یہ کہتے ہوئے ماسٹر باہر کی طرف چلے تو حیدر دوڑتے ہوئے ان کے پیچھے جانے لگا درد کی لہریں تو اٹھ رہیں تھیں لیکن حیدر کا ذہن اپنے ابو کی طرف الجھا تھا۔
پارکنگ میں کار کے پاس پہنچ کر ماسٹر اچانک مڑا اور حیدر کی طرف دیکھ کر کہنے لگا "چلو واپس کمرے میں"
مگر میرے ابو" حیدر نے ہراساں ہو کر کہا۔
"تمہارے ابو کو کچھ نہیں ہوا میں نے جھوٹ بولا تھا کیونکہ تمہیں پہلا سبق دینا تھا"
ماسٹر نے اطمینان سے کہا اور واپس کمرے کی طرف چل۔پڑا۔
یہ کیسا سبق ہے پریشان و حیران حیدر بھی ان کے پیچھے کمرے کی طرف چل پڑا۔
کمرے میں پہنچ کر ماسٹر ایک کرسی پر بیٹھ گیا جبکہ حیدر ان کے سامنے کھڑا ہو گیا۔
"ایک بات بتاو ایمانداری سے اگر میں تمہیں تمہارے ابو کے بارے میں یہ حادثے والا جھوٹ نہ بولتا تو کیا اس حالت میں تم دوڑتے ہوئے باہر جاتے سوچ کر بتاو" ماسٹر مسکرا رہا تھا۔
حیدر سوچنے لگا درد شدید تھا اس وقت لیکن اپنے ابو کے بارے میں سن کر وہ سب کچھ بھول گیا تھا پہلے تو یہ حالت تھی کہ شاید وہ کھڑا نہ ہو پاتا لیکن ابو کا سن کر نہ جانے کہاں سے اتنی قوت ارادی اور برداشت آ گئی تھی کہ وہ درد کو نظرانداز کر کے بھاگنے لگا تھا۔ ہاں اگر ایسی بات نہ سنتا تو وہ ایسی قوت کا مظاہرہ نہیں کر سکتا تھا۔
"نہیں سر میں اگر وہ بات نہ سنتا تو شاید اس طرح کا ردعمل ظاہر نہ کر پاتا" حیدر نے آہستہ سے جواب دیا۔
"کیوں نہیں کر پاتے تم وہی درد وہی پھر کیوں نہیں ایسا کر پاتے" ماسٹر نے پوچھا تو حیدر کوئی جواب نہ دے سکا۔
اوکے میں بتاتا ہوں "اکثر نوٹ کیا ہو کہ بعض اوقات ہمیں سر، ٹانگ یا جسم کے کسی اور حصے میں درد ہوتا ہے تو وہ محسوس ہوتا رہتا ہے تکلیف ہوتی رہتی ہے لیکن اگر اس وقت بےدھیانی میں کوئی ایسی چیز سامنے آ جائے جس میں بہت زیادہ دلچسپی پیدا ہوجائے تو ہم اس میں کھو جاتے ہیں مثلاً کوئی دلچسپ سی فلم یا کسی بچے کی کوئی کیوٹ سی حرکتیں یا اسی طرح کا کوئی اور دلفریب منظر سامنے آجائے تو جب تک وہ منظر یا چیز سامنے رہتی ہے تو ہم درد کو بھولے رہتے ہیں لیکن جیسے ہی وہ منظر یا چیز سامنے سے ہٹ جائے یا ختم ہوجائے تو پھر سے درد کا احساس ہونے لگ جاتا ہے" ماسٹر خاموش ہو گیا۔
حیدر نے دل ہی دل میں اعتراف کیا کہ ماسٹر بالکل درست کہہ رہے ہیں
"کیا اس وقت درد ختم ہوجاتا ہے جب ہم اپنی دلچسپ چیز میں کھوئے ہوتے ہیں نہیں درد ہوتا ہے مگر ہم اپنے ذہن کو دوسری طرف اتنا الجھا لیتے ہیں کہ وہ درد کا احساس محسوس نہیں کر پاتا، یہی ہم عام روٹین میں بھی کرسکتے ہیں درد کو کنٹرول کر سکتے ہیں اپنے سوچ اور ذہن پر قابو پا کر عموماً درد اتنا ہوتا نہیں جتنا ہم محسوس کرتے ہیں یہ درد کا خوف اور احساس ہوتا ہے جو درد کی شدت میں تقریباً دس فیصد اضافہ کر دیتا ہے ہم اگر چاہیں تو درد کی اصل شدت سے درد کو دس فیصد کم کر سکتے ہیں " ماسٹر نے سمجھاتے ہوئے کہا۔
"یہیں سے تمہاری ٹریننگ کا آغاز ہو گا درد پر قابو پانا" ماسٹر نے اٹھتے ہوئے کہا۔
حیدر کے دل میں ماسٹر کے لیے اچانک بہت زیادہ عزت پیدا ہو گئی اور عقیدت سے ان کی طرف دیکھنے لگا۔
**************۔

عمر کو بابا کی ہدایت پر عمل کرتے ہوئے ایک ہفتہ پورا ہو چکا تھا وہ مکمل طور پر نظر کی حفاظت کر رہا تھا اور شاید یہ اسی کا صلہ تھا کہ سوتے سوتے اس کی اچانک آنکھ کھلی اس نے ٹائم دیکھا تو ابھی اذان ہونے میں ایک گھنٹہ باقی تھا وہ حیران تھا کہ آج اچانک آنکھ کیسے کھل گئی وہ بہت گہری نیند میں سونے کا عادی تھا بڑی مشکل سے گھر والے سے فجر کی نماز کے لیے اٹھاتے تھے۔ آنکھ کھلنے کے بعد اس نے لاکھ سونے کی کوشش کی کروٹیں بدلتا رہا مگر نیند آنکھوں سے کوسوں دور تھی آخر تنگ آ کر اس نے سونے کی کوشش چھوڑ دی اور لیٹے لیٹے آسمان کو تکنے لگا لیکن جب بیکاری ہو تو وقت کاٹنا بھی مشکل ہو جاتا ہے تنگ آ کر وہ اٹھا اور ٹہلنے لگا پھر اچانک ایک خیال آیا اس کے ذہن میں کیوں نہ تہجد ہی پڑھ لوں ویسے بھی بیکار ٹہل رہا ہوں یہ سوچ آتے ہی اس نے وضو کیا اور چھت پر جا کر مصلا بچھایا اور نیت باندھ لی اک عجیب سا سکون اس کی رگوں میں اترتا چلا گیا چاندنی رات تھی ہر سو خاموشی دھیمی دھیمی سا ہوا ایسا سکون اس نے پہلے کبھی محسوس نہیں ہوا تھا اسے لگ رہا تھا جیسے دنیا میں کوئی پریشانی نہیں ہر طرف سکون ہی سکون ہے نیت باندھتے ہی اس کے ذہن میں آیا نظر کی حفاظت کرنے میں اس نے جو محنت کی تھی اس کا صلہ ملنا شروع ہو گیا ہے لیکن ابھی بھی کچھ کمی سی محسوس ہو رہی تھی کیا کمی ہے یہ عمر پتہ نہیں لگا پا رہا تھا تہجد سے فارغ ہو کر اس کے ذہن میں بابا کی آواز گونجی بےجان چیزوں سے بھی نظر کی حفاظت کرنا مگر یہ بات وہ ابھی تک نہیں سمجھ پایا تھا کہ کیسی بےجان چیزیں کیسی حفاظت سوچ سوچ کر بھی وہ یہ گتھی نہیں سلجھا پا رہا تھا۔
**************۔

ایک بائیک ایک متوسط سے مکان کے صحن میں آ کر رکی جس پر سیاہ پوش سوار تھا وہ بائیک سے اترا اور اندر کی جانب بڑھا کمرے میں آ کر اس نے اپنا ہیلمٹ اتارا اور پیٹھ پر سے بیگ اتارا اور اس میں سے ایک موبائل اور لیپ ٹاپ نکال کر ٹیبل پر رکھا وہ ایک 26 سالہ خوبرو جوان تھا اس کے بال مڑ کر گردن تک آ رہے تھے صاف پتہ چل رہا تھا اس نے زلفیں رکھی ہوئی ہیں اس کی آنکھوں میں ذہانت کی چمک تھی اس نے لیپ ٹاپ کھولا ہی تھا کہ اچانک موبائل کی بیل بجنے لگی اس نے ہاتھ ڈال کر موبائل جیب سے نکالا تو اس کی سکرین پر ایک نام جگمگا رہا تھا "مائی لائف"۔
اس نے مسکراتے ہوئے کال اٹینڈ کی اور کہنے لگا۔
"اف ایک چڑیل پیچھے لگ جائے تو پیچھا چھڑانا مشکل ہو جاتا ہے" وہ مسکراتے ہوئے کہنے لگا۔
" چڑیل بھی نیک بندوں کے پیچھے نہیں لگتی بلکہ ان سے دور بھاگتی ہے" دوسری طرف سے خولہ کی مسکراتی ہوئی آواز سنائی دی۔
اف اس کے پاس ہر بات کا جواب ہوتا ہے ذہانت بھرا جواب سن کر وہ سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے سوچنے لگا۔
"کہاں ہو تم" اس نے بات کا رخ بدلتے ہوئے کہا۔
"تم اپنے میدان جنگ سے لوٹے ہو، میں اپنے مورچے پر موجود ہوں کیونکہ میری چھٹی حس مسلسل خطرے کا الارم بجا رہی ہے" خولہ کی فکرمند سی آواز آئی۔
"جیسا قاسم کے گھر کا حساب کتاب ہے اس حساب سے تو کوئی فکر کی بات نہیں ہونی چاہیے ایک لیپ ٹاپ ہی تو ہے" اس نے حیران ہوتے ہوئے کہا۔
"جانتی ہوں مگر پھر بھی نہ۔جانے کیوں گڑبڑ کا احساس ہو رہا ہے تم جلدی۔سے پلان کے مطابق ہر چیز وائنڈ اپ کرو جتنی۔جلدی ہو سکے" خولہ نے تیزی سے کہا۔
"تم بھی یہیں آ جاو" اس نے جلدی سے کہا۔
"نہیں جب تک مطلع صاف نہیں ہوتا میں اپنے مورچے پر موجود رہوں گی" خولہ نے جواب دیا اور کال کاٹ دی۔
وہ دونوں نہیں جانتے تھے مطلع صاف ہونے کی بجائے خراب ہونا شروع ہو گیا تھا کیونکہ ان سے کچھ میل دور ایک کمرے میں کمپیوٹر پر بیٹھا شخص اچانک مڑا اور کہنے لگا "سر لوکیشن ٹریس ہو گئی ہے"
اس کے سامنے سیٹھ علیم اور قاسم کھڑے تھے جو نہ جانے کیوں ایک لاپ ٹاپ کے لیے اپنی نیندیں حرام کر رہے تھے۔

(جاری ہے)

14/11/2020

ناول: سہارا کون بنتا ہے
تحریر: عریش
قسط: 4

ساری کلاس پر خاموشی چھائی تھی سوال بھی ایسا تھا جس کا مسلمان ہو کر بھی جواب نہ دینے پر شرمندگی واجب تھی۔
"قصور ہمارا ہے آج کے نوجوانوں کو فرصت ہی نہیں اس ان چیزوں کے بارے میں تحقیق کریں خیر میں آپ کے سوال کا جواب دیتا ہوں مسٹر قاسم" سر راشد نے ایک لمحے کے لیے خاموش ہوئے اور پھر کہنے لگے۔
"آپ نے کہا کہ موجودہ عالمی حالات کے پیش نظر سائنسی اور ٹیکنالوجی دور میں حضرت محمد صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم ہماری رہنمائی کیسے کر رہے ہیں تو سنیں وہ آج بھی رہبری کر رہے ہیں مگر انکی جو راہبری چاہتے ہیں آج کے موجودہ عالمی حالات کیسے ہیں مصر ،عراق، شام، ایران، سعودیہ، افغانیستان وغیرہ میں جنگی حالات ہے لاکھوں مسلمان مارے جا رہے ہیں تو مسٹر قاسم ہمارے نبیؐ نے یہ سب پہلے ہی بتا دیا تھا آپؐ نے فرمایا" مصر میں جب خرابی پیدا ہو جائے گی تو پورے جزیرہ عرب میں خرابی شروع ہو جائے گی" (کتاب الفتن، جامع ترمذی) ایک اور جگہ ارشاد فرمایا "جب مصر میں پیلے جھنڈے نمودار ہو جائیں تو شام والوں کو چاہیے کہ زمین دوز سرنگیں بنا لیں" 2010 میں مصر میں پیلے جھنڈے نمودار ہونا شروع ہوئے جو وہاں کی عوام ہاتھوں میں لے کر سڑکوں پر آ گئی اور مغرب کی جمہوریت لانے کا مطالبہ کرنے لگی احتجاج اتنا بڑھ گیا کہ حکومت گرا دی گی جمہوریت آ گئی اس کے بعد پورے عرب میں انقلاب آنا شروع ہو گئے کرنل قذافی جیسا طاقتور شخص بھی ان سے نہ بچ سکا اور اس کا نتیجہ یہ نکل رہا ہے کہ آج حضرت محمدصَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم کے ملک سعودیہ میں نائٹ کلب کا افتتاح ایک فاحشہ تلاوت قرآن پاک سے کرتی ہے سینمے کھل چکے ہیں وہاں اور ہاں دوسری بات کیا کہی تھی جب پیلے جھنڈے نمودار ہوں مصر میں تو شام کے لوگوں کو زمین دوز سرنگیں بنا لینی چاہیں"
سر راشد جذباتی ہو گئے تھے ان کی آواز بتدریج بلند ہوتی جا رہی تھی۔
" جائیں اٹھا کر اپنا قبلہ جس کو مانا ہے اقوام متحدہ کے ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے سائٹ پر جا کر سرچ کریں فضائی بمباری سے کیسے بچا جا سکتا ہے تو وہ وہی کہیں گے جو چودہ سو سال پہلے حضرت محمدصَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم نے کہا تھا ""زمین دوز تہہ خانے یا سرنگیں" مصر میں جب یہ پیلے جھنڈے نکلے تو ٹھیک اس سے ایک سال بعد شام پر فضائی بمباری شروع ہو گئی تھی کبھی امریکہ کبھی روس کبھی بشارالاسد کبھی ایران تو کبھی کسی ملک کا جہاز آتا بمباری کے نتیجے میں لاکھوں مسلمان جان سے جا چکے ہیں مگر یہ بات ہمارے رہبر بتا چکے تھے اور کیا کرنا ہے وہ بھی بتا چکے تھے مزید بتاوں تو سنو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا مفہوم ہے قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی، جب تک دریائے فرات کے کنارے سونے کا پہاڑ نمودار نہ ہو جائے پھر لوگ اس پر آپس میں اس قدر لڑیں گے کہ سو میں سے ننانوے آدمی اس لڑائی میں مارے جائیں گے۔ اگر تم ایسے حالات کو پالو تو ان لڑنے والوں میں سے نہ ہو جانا۔ (مسند احمد، 12945)
"سن رہے ہو" سر راشد جذباتیت کی انتہا پر پہنچ چکے تھے
"جاو ابھی جا کر گوگل پر سرچ کر کے دیکھو بلیک گولڈ کسے کہتے ہیں تیل کو آج بلیک گولڈ کہا جاتا ہے کیوں سونے کی طرح اس کی ویلیو بھی مستحکم ہے عراق، شام اور ترکی کے جتنے بھی تیل کے ذخائر ہیں وہ سارے دریائے فرات کے آس پاس ہی ہیں 1912 میں یہاں تیل دریافت ہوا تھا اس کے بعد سے آج ابھی تک وہاں جنگ چل رہی ہے بظاہر حو بھی مقاصد ہوں لیکن پس پردہ یہی خزانہ حاصل کرنا مقصد ہے چاہے لاکھوں لوگ مارے جا چکے ہیں اور مارے جا رہے ہیں مگر ان حالات میں کیا کرنا وہ حضرت محمدصَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم بتا رہے ہیں آج بھی تم تو آج کے حالات کی بات کر رہے ہو قیامت تک وہ ہر ہر دور کے بارے میں ہدایات موجود ہیں انؐ کی مگر ان کے لیے جو یہ لینا چاہتے ہوں میں نے صرف ایک حوالے سے مثال دے دی ہیں ورنہ یہ موضوع کھولوں تو سارے حیران ہو جائیں کہ کیسے وہ رہبرؐ آج بھی رہبری کر رہے ہیں"
جوش سے سر راشد کا چہرہ سرخ ہو چکا تھا پیریڈ کا وقت کب کا ختم ہو چکا تھا پوری کلاس ایسے سن بیٹھی تھی جیسے سانس بھی نہ لے رہا ہے کوئی۔
سر راشد نے فائلز اٹھائیں اور جلدی سے باہر چلے گئے۔
عمار بھی آج کی باتیں سن کر حیرت کے سمندر میں گم تھا اف اللہ بالکل پرفیکٹ کہا تھا جسا کہا تھا ویسا ہی ہو رہا ہے آج صیحیح معنوں میں اسے حضرت محمدصَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم کی رہبری سمجھ میں آئی تھی اس نے تو اس طرح سے کبھی نہیں سوچا تھا آج اسکے دل نے مانا بے شک حضرت محمدصَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم قیامت تک کے نبی ہیں پتہ نہیں اتنے کیسے اور رموز تھے جس سے وہ ہی نہیں اکثر مسلمان ناواقف تھے۔ لگ بھگ ساری کلاس ہی اس طرح کی سوچوں میں گم تھی۔

****************۔

خان غصے سے پاگل ہوا جا رہا تھا کس نے اس کے اکلوتے گیارہ سالہ بیٹے حیدر کا مار مار کر اتنا برا حال کر دیا تڑپ کر بار بار وہ حیدر سے پوچھ رہے تھے بتا یہ کس نے کیا ہے ان کی کھال کھینچ لوں گا مگر حیدر چپ تھا اسکے چہرے اور ماتھے پر پٹیاں لگی ہوئیں تھیں مگر ہونٹوں پر چپ۔
"میں کل سکول جا کر سارے سکول کی ایسی کی تیسی کر دوں گا" اسد اللہ خان غصے سے گرج رہے تھے۔
"آپ ایسا کچھ نہیں کریں گے" آخر حیدر نے اپنی زبان کھولی۔
خان نے حیدر کی طرف حیرت سے دیکھا اور پوچھا "کیوں"۔
"آپ کب تک میری اس طرح سے مدد کرتے رہیں گے آپ مدد کریں گے لیکن اس کا مجھے کوئی فائدہ نہیں"
خان حیرت اور پریشانی سے حیدر کا چہرہ دیکھ رہا تھا اور سوچ رہا تھا کہیں اس کا دماغ تو نہیں چل گیا آج سے پہلے اس طرح حیدر نے کبھی بات نہیں کی تھی۔
"کیا مطلب ہے تمہارا" خان نے اچنبھے سے پوچھا۔
"اگر آپ میری مدد کرنا چاہتے ہیں تو پھر ایسے مدد کریں کہ پھر مجھے کسی کی مدد کی ضرورت نہ پڑے مجھے اس قابل بنائیں کہ مجھے کسی کی مدد کی ضرورت نہ پڑے مجھے مارشل آرٹس سکھوائیں مجھے ایسی بھٹی میں ڈالیں جہاں سے کندن بن کر نکلوں" حیدر نے اتنی سنجیدگی سے کہا جس کی توقع ایک بچے سے نہیں کی جا سکتی۔
حیدر کی بات سن کر خان کا سینہ خوشی سے پھول گیا یہ تو خان مانتا تھا حیدر کی شکل میں اللہ تعالیٰ نے اسے بہت بڑی نعمت سے نوازا ہے آئے دن اس کی کوئی نئی بات اوف خوبی سامنے آتی تھی۔
"او جیندا رہ میرے شیرا، دل خوش کیتا اے، تو دیکھ اب تیرا باپ تیری ایسے مدد کرے گا کہ پھر میرے بیٹے تجھے مدد کی ضرورت نہیں پڑے گی" خان نے وفور جذبات سے حیدر کو اپنے گلے لگاتے ہوئے کہا۔

**************۔

عمر کو کافی مشکلوں کے بعد اب آسانی ہونے لگی تھی اب وہ نظریں جھکا کر چلتا تھا یونیورسٹی بھی کھل چکی تھی نیا ٹرم سٹارٹ ہو چکا تھا لیکن اس نے اپنی روٹین بنا لی تھی نظریں جھکا کر چلنا نظریں جھکا کر بات کرنا اپنی دلچسپی کی خاطر وہ سفر کرتے ہوئے ہینڈ فری لگا لیتا اور تلاوت ترجمے کے ساتھ سنتا رہتا یا کبھی کبھی فیس بک استعمال کر لیتا تھا ایک ہفتہ ایسا کرنے کے بعد اس کو ایسا کرنے کا پہلا پھل ملا۔۔۔

****************۔

عمار یونیورسٹی سے فری ہو کر قاسم اور جواد کے ساتھ کینٹین چلا گیا وہاں ایک گھنٹہ گپ شپ لگا کر وہ گھر جانے کے لیے رخصت ہوئے ان کی تقریباً روز کی یہی روٹین تھی وہ اپنی گاڑی پر گھر کی طرف جا رہا تھا قاسم کی گاڑی کافی آگے جا چکی تھی اس نے یوٹرن لے کر واپس ہونا تھا کیونکہ اس کا اور عمار کا گھر مخالف سمتوں میں تھا۔ قاسم کی گاڑی یو ٹرن لے کر واپس دوسرے روڈ پر آ چکی تھی قاسم نے بائے کا اشارہ کیا تو عمار نے بھی ہاتھ ہلا کر بائے کا اشارہ کیا لیکن اچانک اسی وقت ون وے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایک بائیک قاسم کی گاڑی سے آ ٹکڑائی یہ تو شکر ہے قاسم کی گاڑی اور بائیک کی رفتار آہستہ تھی ورنہ بائیک والے کا شاید کچومر نکل جاتا لیکن پھر بھی بائیک ٹکڑا کر گری اور سوار بھی نیچے گر پڑا اور اٹھ نہ سکا اور زمین پر ہی لیٹ گیا حیرت کی بات یہ تھی بائیک سوار نے گرمی ہونے کے باوجود کافی موٹی جیکٹ پہنی تھی سر پر بلیک ہیلمٹ، سیاہ جیکٹ وہ سر سے پاوں تک سیاہ پوش لگ رہا تھا۔ قاسم گالیاں دیتا ہوا نیچا اترا اور غصے سے بائیک سوار کی پاس پہنچا جیسے ہی قاسم سیاہ پوش کو کندھے سے پکڑ کر اٹھانے کے لیے جھکا اچانک سیاہ پوش کا جسم تڑپا اور جو منظر حیرت اور سراسیمگی سے عمار نے دیکھا اس نے عمار کو بریک لگانے پر مجبور کر دیا سیاہ پوش نے تڑپ کر قاسم کے چھونے سے پہلے ایک زواردار ہاتھ گھومایا اور اسکا مکا جھکتے ہوئے قاسم کی کنپٹی پر لگا قاسم کا سر زور سے جا کر بونٹ سے لگا سیاہ پوش اٹھ کھڑا ہوا جیسے ہی قاسم کا سر ٹکرایا اسی لمحے سیاہ پوش نے دوسری بار مکا لہرایا اور زور سےکنپٹی پر رسید کر دے قاسم لہرا کر زمین بوس ہو گیا۔
عمار نے پیچھے کھڑی گاڑیوں کی پرواہ کیے بغیر کار کا دروازہ کھول کر بھاگا یو ٹرن لے کر آنے میں وقت لگنا تھا جنگلا پھلانگتے ہوئے اس نے دیکھا سیاہ پوش قاسم کی گاڑی میں سے کچھ اٹھا کر بائیک سیدھی کر رہا تھا۔

(جاری ہے)

Address

24
New Garden Town

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Novels special posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share