08/01/2025
وہ میرا ہے تو کبھی بھی نہ آزماؤں اسے
مرا نہیں ہے تو پھر کس لئے ستاؤں اسے
وہ ماہتاب سے بڑھ کر کے ہو گیا سورج
جو خود بھی آئے تو کیسے گلے لگاؤں اسے
میں چاہتا ہوں مرا پیار اس سے ایسا ہو
وہ روٹھتا رہے میں بارہا مناؤں اسے
تمام دن کی مشقت بھری تکان کے بعد
تمام رات محبت سے پھر جگاؤں اسے
مرا حبیب مرے عشق میں کھلونا ہو
وہ ٹوٹ جائے تو پھر جوڑ کر بناؤں اسے
ہوا کرے مرا اس سے مقابلہ یوں بھی
اسی سے جیت کے اس کو ہی ہار جاؤں اسے
وہ جانتا ہے مرے ہر سوال کا مطلب
اگر جواب بھی دے دے تو مان جاؤں اسے
یہی دعا ہے مری رب دو جہاں سے بلالؔ
کسی سے عہد کروں گر تو پھر نبھاؤں اسے
اشہد بلال ابن چyousaf