20/12/2025
شوکت نواز میر — بک ڈپو مالک اور عوامی رہنما
شوکت نواز میر یکم جنوری 1976 کو مظفرآباد میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد کاروبار سے وابستہ تھے، اور آٹھویں جماعت سے ہی شوکت نواز میر نے والد کا ہاتھ بٹانا شروع کر دیا۔ کم عمری ہی سے سماجی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا ان کی شخصیت کا نمایاں پہلو رہا۔
یہ خاندان شروع سے ہی نظریۂ الحاقِ پاکستان پر یقین رکھتا ہے اور اس نظریے کی فکری و سماجی سطح پر نمائندگی کرتا آیا ہے۔ اسی ماحول میں پرورش پانے کے باعث شوکت نواز میر کے اندر عوامی مسائل کے لیے حساسیت پیدا ہوئی۔
شوکت نواز میر نے 2003 میں پہلی مرتبہ مظفرآباد میں تاجروں کی تنظیم کا انتخاب جیتا۔ اس کے بعد بنک روڈ کے تاجروں کی تنظیم کے انتخابات میں بھی کامیابی حاصل کی۔ مظفرآباد شہر کی تمام تاجر تنظیموں نے متفقہ طور پر انہیں اپنا چیئرمین
منتخب کیا۔
2013 میں وہ آزاد کشمیر بھر میں تاجروں کی تنظیم کے سیکریٹری جنرل منتخب ہوئے۔ 2015 میں تاجروں کے انتخابات عدالتی حکمِ امتناہی کے باعث رک گئے جبکہ 2020 میں کورونا وبا کے سبب انتخابات منعقد نہ ہو سکے۔
نومبر 2022 میں شوکت نواز میر نے 4800 ووٹ حاصل کر کے مرکزی انجمن تاجران کے صدر کا انتخاب جیتا، جبکہ ان کے مدمقابل امیدوار 2100 ووٹ حاصل کر سکے۔
انہوں نے آزاد کشمیر بھر کے تاجروں کو ایک پلیٹ فارم پر متحد کرنے کے لیے طویل اور صبر آزما جدوجہد کی اور بالآخر آل آزاد کشمیر انجمن تاجران کے قیام میں کلیدی کردار ادا کیا، جہاں وہ سیکریٹری جنرل نامزد ہوئے۔
شوکت نواز میر کا مظفرآباد میں ذاتی بک ڈپو ہے، جو علمی و ادبی حلقوں میں ایک معتبر پہچان رکھتا ہے اور آزاد کشمیر کے سب سے مشہور بک ڈپو مالکان میں شمار ہوتے ہیں۔ کتابوں سے وابستگی نے ان کے مزاج میں برداشت، مکالمہ اور فکری وسعت پیدا کی، جس کے باعث وہ کشمیر بھر میں ایک سنجیدہ اور باوقار سماجی شخصیت کے طور پر جانے جاتے ہیں۔وہ دریا بچاؤ مہم کا سرگرم حصہ رہے اور سول سوسائٹی کے ہمراہ 84 دن تک مظفرآباد میں پُرامن دھرنا دیے رکھا۔
16 اگست 2023 کو عوامی حقوق کے لیے جموں کشمیر عوامی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کا قیام عمل میں آیا، جس کے 32 اراکین میں شوکت نواز میر بھی شامل ہیں۔ اس پلیٹ فارم سے آٹے کی رعایتی قیمت، بجلی کے نرخوں میں کمی اور اشرافیہ کی مراعات کے خاتمے کے لیے ایک سالہ پُرامن تحریک چلائی گئی،جو کامیابی سے ہمکنار ہوئی۔
یہ تحریک عوامی سطح پر بے مثال مقبولیت حاصل کرنے میں کامیاب رہی اور آزاد کشمیر کی تاریخ کی سب سے بڑی پُرامن عوامی جدوجہد کے طور پر جانی جاتی ہے۔ تحریک کے دوران کمیٹی کے اراکین نے تحمل، برداشت اور معاملہ فہمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اسے ہر صورت پُرامن رکھا۔
اس تحریک کے مطالبات کسی ایک طبقے تک محدود نہیں تھے، اسی لیے ہر شعبۂ زندگی، ہر مکتبِ فکر اور ہر نظریے سے تعلق رکھنے والے افراد اس جدوجہد کا حصہ بنے۔
شوکت نواز میر آج بھی عوامی حقوق، اتحاد اور اجتماعی شعور کی بات کرتے ہیں اور یہی ان کی اصل پہچان ہے۔