01/04/2026
محترم دوستو، میں جناب صائم خان راست کی شہرہ آفاق تصنیف "خواب نگر کے دروازے" (دوسری اشاعت) کے مطالعے پر اپنے جذبات کا اظہار کرتا ہوں، جو میرے لئے محض ایک کتاب حاصل کرنے کا نام نہیں ہے، بلکہ ایک ایسے تخلیقی جہان میں قدم رکھنے کی سعادت ہے جہاں الفاظ معنی کی نئی جہتیں کھولتے ہیں اور قاری کو باطنی تہوں تک لے جاتے ہیں جو عام طور پر رسائی سے باہر ہوتی ہیں۔
یہ ناول محض ایک سادہ بیانیہ نہیں ہے، بلکہ اس میں ایک گہری علامتی فضا، تہہ در تہہ داخلی کشمکش اور ایک نہایت فکر انگیز و پراثر اسلوب پوری شدت کے ساتھ جلوہ گر ہے۔ جناب صائم خان راست نے خواب اور حقیقت کے مابین جو ربط قائم کیا ہے وہ محض ایک ادبی تکنیک نہیں، بلکہ ایک فکری تجربہ ہے جو قاری کو اپنے حصار میں لے لیتا ہے اور اسے کہانی کا ایک زندہ کردار بنا دیتا ہے۔
ناول میں موجود ہر دروازہ ایک علامت ہے، جو ایک نئی جہت، ایک نیا سوال، ایک نئی پیچیدگی اور ایک نئی معنویت کو جنم دیتی ہے۔ یہ دروازے قاری کو سوچنے پر مجبور کرتے ہیں کہ آیا خواب حقیقت سے فرار ہیں یا حقیقت کا کوئی گہرا روپ۔ یہی سوال اس تخلیق کو ایک عام کہانی سے بلند کر کے ایک فکری مکالمہ بنا دیتا ہے۔
اس تصنیف میں زبان کی چاشنی، خیال کی وسعت اور اسلوب کی ندرت اس خوبی سے یکجا ہوئی ہے کہ قاری خود کو ایک فکری و جذباتی بھنور میں گھرا ہوا محسوس کرتا ہے۔ جملوں کی ساخت، الفاظ کا انتخاب اور بیان کی رمزیت مل کر ایک ایسا ماحول تشکیل دیتی ہے جو قاری کے ذہن و دل دونوں پر بیک وقت اثر انداز ہوتا ہے۔ یہ کتاب صرف پڑھی نہیں جاتی، بلکہ محسوس کی جاتی ہے، جھیلی جاتی ہے اور دیر تک اپنے اثرات قاری کے باطن میں موجزن رکھتی ہے۔
مزید برآں، اس ناول میں جو فکری گہرائی اور نفسیاتی پیچیدگی موجود ہے وہ اسے محض ایک تخلیقی کاوش نہیں، بلکہ ایک سنجیدہ ادبی دستاویز کا درجہ عطا کرتی ہے۔ یہ قاری کو اپنے وجود، اپنی پہچان اور اپنے خوابوں کی ماہیت پر غور کرنے پر مجبور کرتی ہے اور یہی کسی بھی عظیم ادب کی پہچان ہوتی ہے۔
میں تہہ دل سے جناب صائم خان راست کا شکر گزار ہوں کہ انہوں نے اپنی اس بیش قیمت تخلیق سے نوازا۔ یقینِ کامل ہے کہ "خواب نگر کے دروازے" اردو ادب کے افق پر ایک تابناک اور یادگار اضافہ ثابت ہوگی اور اہلِ ذوق کے دلوں میں دیرپا مقام حاصل کرے گی۔