20/12/2025
بینک کیسے پیسہ کماتے ہیں ، اور پاکستان میں پرائیویٹ بینک قائم کرنے کے لیے کیا درکار ہوتا ہے؟
تحریر: مرتضیٰ بخاری
ہم میں سے اکثر لوگ بینک کو صرف ایک محفوظ جگہ سمجھتے ہیں جہاں پیسہ جمع کروایا جاتا ہے، مگر اصل سوال یہ ہے کہ بینک آخر پیسہ کماتے کیسے ہیں؟ حقیقت یہ ہے کہ بینک محض رقوم رکھنے کا ادارہ نہیں بلکہ ایک مکمل کاروباری اور مالیاتی نظام ہے جو عوام کے اعتماد اور ان کی جمع شدہ رقوم پر کھڑا ہوتا ہے۔ جب کوئی شہری اپنی رقم سیونگ یا کرنٹ اکاؤنٹ میں جمع کرواتا ہے تو بینک اس رقم پر یا تو کم منافع دیتا ہے یا بعض اوقات بالکل بھی نہیں دیتا، جبکہ اسی رقم کو بینک آگے کاروبار، صنعت، زراعت، ہاؤسنگ اور دیگر شعبوں کو زیادہ شرحِ سود یا منافع پر قرض دے کر آمدنی حاصل کرتا ہے، اور قرض پر وصول کی گئی رقم اور صارف کو دیے گئے منافع کے درمیان فرق ہی بینک کی بنیادی کمائی بنتا ہے۔ اس کے علاوہ بینک اکاؤنٹ مینٹیننس فیس، اے ٹی ایم اور آن لائن ٹرانزیکشن چارجز، ڈیبٹ و کریڈٹ کارڈ فیس، فارن ٹرانزیکشنز اور دیگر سروسز کے ذریعے بھی خطیر آمدنی حاصل کرتے ہیں، جبکہ ایک بڑا اور محفوظ ذریعہ حکومتی بانڈز اور سیکیورٹیز میں سرمایہ کاری ہے، جہاں بینک حکومت کو قرض دے کر یقینی منافع کماتے ہیں۔ پاکستان میں اس پورے نظام کی نگرانی اسٹیٹ بینک آف پاکستان کرتا ہے جو بینکوں کو سخت قوانین کا پابند بناتا ہے تاکہ عوامی رقوم کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے، اسی لیے بینکوں کو ایک مخصوص رقم بطور ریزرو لازمی رکھنی ہوتی ہے۔ اگر کوئی فرد یا ادارہ پاکستان میں اپنا پرائیویٹ بینک قائم کرنا چاہے تو یہ عمل نہایت سنجیدہ، مہنگا اور طویل ہوتا ہے، جس کے لیے سب سے پہلے اسٹیٹ بینک آف پاکستان سے اصولی اجازت لینا ضروری ہے، اس کے بعد مضبوط اور شفاف مالی ذرائع ثابت کرنا، تجربہ کار بورڈ آف ڈائریکٹرز اور اعلیٰ مینجمنٹ مقرر کرنا، مکمل بزنس پلان، رسک مینجمنٹ سسٹم، جدید آئی ٹی انفراسٹرکچر اور سیکیورٹی نظام فراہم کرنا لازمی ہوتا ہے، اور سب سے اہم شرط یہ ہے کہ اسٹیٹ بینک کے موجودہ قواعد کے مطابق ایک نیا پرائیویٹ بینک قائم کرنے کے لیے کم از کم تقریباً 10 ارب روپے یا اس سے زائد ادا شدہ سرمایہ (Paid-up Capital) ہونا ضروری ہے، تاکہ بینک عوامی رقوم کی ذمہ داری احسن طریقے سے نبھا سکے۔ یہ تمام حقائق ہمیں یہ سمجھاتے ہیں کہ بینکنگ محض پیسہ کمانے کا ذریعہ نہیں بلکہ عوامی اعتماد، قومی معیشت اور مالی استحکام سے جڑی ایک بڑی ذمہ داری ہے، اور ایک باشعور معاشرے کے لیے ضروری ہے کہ وہ بینکنگ نظام کو سمجھے، سوال کرے اور اپنی مالی زندگی کے فیصلے علم اور فہم کے ساتھ کرے، کیونکہ مالی شعور ہی مضبوط فرد، مستحکم ادارے اور طاقتور قوم کی بنیاد بنتا ہے۔