Syed Murtaza Bukhari

Syed Murtaza Bukhari سید مرتضیٰ بخاری
Motivational Speaker ! Social Worker ! Writer.

04/06/2026

زراعت کے تمام اہم شعبہ جات کون سے ہیں؟



















01/06/2026

Agriculture Full Course – Introduction to Modern Farming | Day 1

22/12/2025

تاریخ میں پہلی بار محکمہ جنگلات نے جڑی بوٹیوں کی آمدن مقامی آبادی میں تقسیم کر دی۔ سیکریٹری جنگلات سید عبد الوحید شاہ اور چیف کنزرویٹر محمود غزنوی کا خصوصی خطاب

بینک کیسے پیسہ کماتے ہیں ،  اور پاکستان میں پرائیویٹ بینک قائم کرنے کے لیے کیا درکار ہوتا ہے؟تحریر: مرتضیٰ بخاریہم میں س...
20/12/2025

بینک کیسے پیسہ کماتے ہیں ، اور پاکستان میں پرائیویٹ بینک قائم کرنے کے لیے کیا درکار ہوتا ہے؟
تحریر: مرتضیٰ بخاری
ہم میں سے اکثر لوگ بینک کو صرف ایک محفوظ جگہ سمجھتے ہیں جہاں پیسہ جمع کروایا جاتا ہے، مگر اصل سوال یہ ہے کہ بینک آخر پیسہ کماتے کیسے ہیں؟ حقیقت یہ ہے کہ بینک محض رقوم رکھنے کا ادارہ نہیں بلکہ ایک مکمل کاروباری اور مالیاتی نظام ہے جو عوام کے اعتماد اور ان کی جمع شدہ رقوم پر کھڑا ہوتا ہے۔ جب کوئی شہری اپنی رقم سیونگ یا کرنٹ اکاؤنٹ میں جمع کرواتا ہے تو بینک اس رقم پر یا تو کم منافع دیتا ہے یا بعض اوقات بالکل بھی نہیں دیتا، جبکہ اسی رقم کو بینک آگے کاروبار، صنعت، زراعت، ہاؤسنگ اور دیگر شعبوں کو زیادہ شرحِ سود یا منافع پر قرض دے کر آمدنی حاصل کرتا ہے، اور قرض پر وصول کی گئی رقم اور صارف کو دیے گئے منافع کے درمیان فرق ہی بینک کی بنیادی کمائی بنتا ہے۔ اس کے علاوہ بینک اکاؤنٹ مینٹیننس فیس، اے ٹی ایم اور آن لائن ٹرانزیکشن چارجز، ڈیبٹ و کریڈٹ کارڈ فیس، فارن ٹرانزیکشنز اور دیگر سروسز کے ذریعے بھی خطیر آمدنی حاصل کرتے ہیں، جبکہ ایک بڑا اور محفوظ ذریعہ حکومتی بانڈز اور سیکیورٹیز میں سرمایہ کاری ہے، جہاں بینک حکومت کو قرض دے کر یقینی منافع کماتے ہیں۔ پاکستان میں اس پورے نظام کی نگرانی اسٹیٹ بینک آف پاکستان کرتا ہے جو بینکوں کو سخت قوانین کا پابند بناتا ہے تاکہ عوامی رقوم کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے، اسی لیے بینکوں کو ایک مخصوص رقم بطور ریزرو لازمی رکھنی ہوتی ہے۔ اگر کوئی فرد یا ادارہ پاکستان میں اپنا پرائیویٹ بینک قائم کرنا چاہے تو یہ عمل نہایت سنجیدہ، مہنگا اور طویل ہوتا ہے، جس کے لیے سب سے پہلے اسٹیٹ بینک آف پاکستان سے اصولی اجازت لینا ضروری ہے، اس کے بعد مضبوط اور شفاف مالی ذرائع ثابت کرنا، تجربہ کار بورڈ آف ڈائریکٹرز اور اعلیٰ مینجمنٹ مقرر کرنا، مکمل بزنس پلان، رسک مینجمنٹ سسٹم، جدید آئی ٹی انفراسٹرکچر اور سیکیورٹی نظام فراہم کرنا لازمی ہوتا ہے، اور سب سے اہم شرط یہ ہے کہ اسٹیٹ بینک کے موجودہ قواعد کے مطابق ایک نیا پرائیویٹ بینک قائم کرنے کے لیے کم از کم تقریباً 10 ارب روپے یا اس سے زائد ادا شدہ سرمایہ (Paid-up Capital) ہونا ضروری ہے، تاکہ بینک عوامی رقوم کی ذمہ داری احسن طریقے سے نبھا سکے۔ یہ تمام حقائق ہمیں یہ سمجھاتے ہیں کہ بینکنگ محض پیسہ کمانے کا ذریعہ نہیں بلکہ عوامی اعتماد، قومی معیشت اور مالی استحکام سے جڑی ایک بڑی ذمہ داری ہے، اور ایک باشعور معاشرے کے لیے ضروری ہے کہ وہ بینکنگ نظام کو سمجھے، سوال کرے اور اپنی مالی زندگی کے فیصلے علم اور فہم کے ساتھ کرے، کیونکہ مالی شعور ہی مضبوط فرد، مستحکم ادارے اور طاقتور قوم کی بنیاد بنتا ہے۔







واٹس ایپ ایک ایپ نہیں، ایک سوچہم روزمرہ زندگی میں جن سہولیات کو معمول سمجھ کر استعمال کرتے ہیں، اکثر ان کے پیچھے چھپی جد...
19/12/2025

واٹس ایپ ایک ایپ نہیں، ایک سوچ

ہم روزمرہ زندگی میں جن سہولیات کو معمول سمجھ کر استعمال کرتے ہیں، اکثر ان کے پیچھے چھپی جدوجہد، فکر اور اصولوں سے ناواقف رہتے ہیں۔ واٹس ایپ بھی ایسی ہی ایک مثال ہے ، آج یہ ایپ دنیا بھر میں اربوں لوگوں کی روزمرہ ضرورت بن چکی ہے، مگر اس کی کہانی محض ٹیکنالوجی کی نہیں بلکہ وژن، اعتماد اور اصولوں کی کہانی ہے ، واٹس ایپ کی بنیاد 2009 میں جان کوم اور برائن ایکٹن نے رکھی۔ یہ دونوں اس سے قبل یاہو (Yahoo) میں ملازمت کر چکے تھے اور ٹیکنالوجی کی دنیا میں خاصا تجربہ رکھتے تھے۔ جان کوم کا تعلق ایک غریب گھرانے سے تھا ، وہ بچپن میں یوکرین سے امریکہ آئے، غربت اور مشکلات کا سامنا کیا اور سرکاری امداد پر زندگی گزاری ، یہی پس منظر ان کے مزاج میں سادگی اور صارف کی نجی زندگی کے احترام جیسی قدروں کو مضبوط کرنے کا سبب بنا ، واٹس ایپ بنانے کا بنیادی مقصد ابتدا ہی سے واضح تھا۔ یہ ایک ایسی ایپ ہونی چاہیے جو سادہ ہو، تیز ہو، اشتہارات سے پاک ہو اور صارف کی پرائیویسی پر کوئی سمجھوتہ نہ کرے۔ اسی سوچ کے تحت واٹس ایپ نے طویل عرصے تک نہ تو اشتہارات دکھائے اور نہ ہی صارفین کا ڈیٹا کاروباری مقاصد کے لیے استعمال کیا ، اس ایپ کی اصل طاقت صارفین کا اعتماد تھا، جو دن بدن بڑھتا چلا گیا ، جیسے جیسے واٹس ایپ کی مقبولیت میں اضافہ ہوا، دنیا کی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی نظریں اس پر جمنے لگیں۔ بالآخر 2014 میں فیس بک، جو اب میٹا (Meta) کہلاتی ہے، نے واٹس ایپ کو تقریباً انیس ارب ڈالر میں خرید لیا۔ یہ ٹیکنالوجی کی تاریخ کی ایک بڑی اور غیر معمولی ڈیل تھی ، اس خریداری سے واٹس ایپ کو عالمی سطح پر مزید وسائل اور وسعت تو ملی، مگر اس کے ساتھ کچھ فکری اختلافات بھی جنم لینے لگے ، فیس بک کے بزنس ماڈل اور واٹس ایپ کے بنیادی اصولوں کے درمیان فرق نمایاں تھا۔ ڈیٹا کے استعمال، اشتہارات اور آمدنی کے ذرائع جیسے معاملات پر جان کوم اور برائن ایکٹن اپنے مؤقف پر قائم رہے ، ان کا ماننا تھا کہ صارف کی نجی معلومات کسی صورت تجارتی فائدے کا ذریعہ نہیں بننی چاہئیں۔ یہی اصولی اختلافات بالآخر اس فیصلے کا باعث بنے کہ پہلے برائن ایکٹن اور بعد ازاں جان کوم نے واٹس ایپ سے علیحدگی اختیار کر لی ، واٹس ایپ کی کہانی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ حقیقی کامیابی صرف مالی منافع میں نہیں بلکہ اعتماد، مقصد اور اصولوں پر قائم رہنے میں ہوتی ہے۔ بعض اوقات اپنے نظریے کی حفاظت کے لیے بڑے فیصلے اور بڑی قربانیاں بھی دینا پڑتی ہیں، مگر یہی فیصلے انسان کو تاریخ میں زندہ رکھتے ہیں ، بطور مینیجر، معلم اور سماجی کارکن ہمیں بھی یہ سوچنا چاہیے کہ ہم جو نظام، ادارے یا منصوبے تشکیل دے رہے ہیں، ان کی بنیاد کس قدر مضبوط اقدار پر ہے۔ کیونکہ دیرپا اثر وہی کام چھوڑتا ہے جو لوگوں کی آسانی، اعتماد اور فلاح کو مقدم رکھتا ہے۔

مرتضیٰ بخاری ۔

18/12/2025

لیپا میں قرآن مسابقے کے حوالے سے برادر رضوان اعوان کی جانب سے بنائی گئی ویڈیو ملاحظہ فرمائیں ۔

🌟 لیپا میں ناظرہ و فہم القرآن کلسٹر مقابلہ جات کا شاندار انعقاد 🌟لیپا میں ناظرہ اور فہمُ القرآن پر مشتمل کلسٹر سطح کے مق...
18/12/2025

🌟 لیپا میں ناظرہ و فہم القرآن کلسٹر مقابلہ جات کا شاندار انعقاد 🌟

لیپا میں ناظرہ اور فہمُ القرآن پر مشتمل کلسٹر سطح کے مقابلہ جات کامیابی کے ساتھ منعقد کیے گئے، جن میں لیپا کے تمام سرکاری و نجی تعلیمی اداروں سے سو فیصد طلبہ و طالبات نے شرکت کی۔
طلبہ کی قرأت، فہم اور مجموعی کارکردگی نہایت حوصلہ افزا اور قابلِ دید رہی، جو فیلڈ میں جاری تربیتی اور تعلیمی کاوشوں کے مثبت نتائج کی واضح عکاس ہے۔

اس کامیاب ایونٹ میں ضلع جہلم ویلی کی تعلیمی انتظامیہ کے ساتھ بہترین کوآرڈینیشن رہی۔
ڈی ای او (میل) جناب احمد حسن اور ڈی ای او (نسواں) محترمہ صائمہ نزیر نے ہمارے ہمراہ شرکت کر کے اس بامقصد سرگرمی کی بھرپور حوصلہ افزائی کی۔

📜 کیریکٹر ایجوکیشن فاؤنڈیشن کی جانب سے مقابلہ جات میں شریک تمام طلبہ و طالبات میں سرٹیفکیٹس تقسیم کیے گئے جبکہ پوزیشن ہولڈرز کو شیلڈز دے کر نمایاں کارکردگی کا اعتراف کیا گیا۔

ان شاء اللہ کیریکٹر ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے پلیٹ فارم سے ضلع جہلم ویلی کو ماڈل ضلع بنانے کے لیے منظم اور پائیدار اقدامات جاری رہیں گے، تاکہ قرآن فہمی اور کردار سازی کے میدان میں یہ ضلع دیگر علاقوں کے لیے ایک روشن مثال بن سکے۔

📌 تعلیم، کردار اور قرآن — ہمارا عزم، ہماری پہچان






15/12/2025

ایڈیشنل چیف سیکریٹری و سیکرٹری جنگلات گلگت بلتستان برادر عبدالوحید شاہ کی محکمۂ جنگلات گلگت بلتستان کے گزیٹڈ آفیسرز سے ایک بامقصد نشست، جس میں انہوں نے بطور منیجر و ذمہ دار اس اختیار پر گفتگو کی جو اللہ تعالیٰ انسان کو عطا کرتا ہے، اور اس بات پر روشنی ڈالی کہ اختیار کو دیانت، انصاف اور جواب دہی کے ساتھ کیسے ادا کیا جانا چاہیے ، یہ گفتگو ہر اُس فرد کے لیے نہایت رہنمائی بخش ہے جسے اللہ تعالیٰ نے کسی بھی میدان میں کسی بھی سطح پر اختیار سونپا ہے، اور جو اپنے منصب کو خدمت اور امانت کے تقاضوں کے مطابق نبھانا چاہتا ہے۔

مظفرآباد اکیڈمی میں آج ریڈ فاؤنڈیشن مظفرآباد کی ٹیچرز کی تربیت بحسن و خوبی مکمل ہوئی، جس دوران شرکاء کو قرآن ایجوکیشن کے...
06/12/2025

مظفرآباد اکیڈمی میں آج ریڈ فاؤنڈیشن مظفرآباد کی ٹیچرز کی تربیت بحسن و خوبی مکمل ہوئی، جس دوران شرکاء کو قرآن ایجوکیشن کے بنیادی اصولوں اور معیاری تدریسی رہنمائی سے روشناس کرایا گیا ، اختتامی تقریب میں ریڈ فاؤنڈیشن کے ریجنل منیجر، برادر مظہر، اپنی ٹیم کے ہمراہ خصوصی طور پر شریک ہوئے اور پروگرام کی کامیابی کو سراہا۔

Address

Muzaffarabad
247129

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Syed Murtaza Bukhari posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share