اسلام کی آواز

اسلام کی آواز قرآن و صحیح احادیث ٌََْ َُْ ٍََْ ََۖ ََُُْ َََّ ََُُْ

04/05/2026
12/08/2025

❣️سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک جو شخص تکبر کے ساتھ اپنا کپڑا گھسیٹتا ہے تو روز قیامت اللہ تعالیٰ اس کی طرف دیکھے گا بھی نہیں۔“ اور عبد اللہ بن دینار سے مروی ابومحمد کی حدیث میں (سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ کی بجائے) سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ہے۔

📚📚📚تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 3665، 5783، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 2085، ومالك فى «الموطأ» برقم:: 1698، وأبو داود فى «سننه» برقم: 4085، 4094، والترمذي فى «جامعه» برقم: 1730، 1731، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 3569، 3576، والحميدي فى «مسنده» برقم: 650، 651، والطبراني فى «الصغير» برقم: 586، وأحمد فى «مسنده» برقم: 4575، 4656»

12/08/2025

💞سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک دین شروع ہوا تو یہ اجنبی تھا اور جلد ہی یہ دوبارہ اسی طرح اجنبی ہو جائے گا جس طرح کہ شروع ہوا تھا پس اجنبیوں کے لیے خوشخبری ہے۔“

📚تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه مسلم فى «صحيحه» برقم: 145، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 3986، وأحمد فى «مسنده» برقم: 9176، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 6190، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 35508، والطبراني فى «الأوسط» برقم: 2777»

12/08/2025

💟عبد الرحمن بن کعب بن مالک اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا عرض کیا ا: کہ اللہ کے رسول! صلی اللہ کہ سہ کہ شعر کے بارے کہ کہ سہ کہا: آپ کیا خیال رکھتے ہیں؟ رسول اللہ صلی اللہ کہ سہا سکتے ہیں کہ: ”بے شک مومن اپنی تلوار اور اپنی زبان کے ذریعے جہاد کرتا ہے، اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں میری جان رہتی ہے، گویا وہ (ہجو کے ذریعہ سے) انھیں نیزوں سے مارتا ہے۔“

📚📚تخریج الحدیث: «إسناده حسن، وأخرجه ابن حبان فى «صحيحه» برقم: 4707، 5786، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 21170، 21172، وأحمد فى «مسنده» برقم: 16026»

✍🏻وضاحت: تشریح: -
اسلام کی سربلندی کے لیے کی جانے والی ہر کوشش کا نام جہاد ہے، جہاد کے ان گنت فضائل اور فوائد ہیں اور اس کی اقسام بھی کئی ہیں۔ مذکورہ حدیث میں جہاد کی دو قسموں کی طرف اشارہ فرمایا گیا ہے:
① جہاد بالسیف: یعنی تلوار وغیرہ کے ذریعے کفار سے جہاد کرنا جسے قتال بھی کہا جاتا ہے۔
② جہاد باللسان: یعنی زبان کے ذریعے جہاد کرنا، اس میں تقریر، تدریس، مناظرات اور دعوت و تبلیغ وغیرہ سب شامل ہیں، کفار کی ہجو کرنا بھی جہاد ہے۔ ایک مسلمان کو موقع ومحل کی مناسبت سے حسب استطاعت ہر طرح کے جہاد میں حصہ لینا چاہیے۔

Address

Multan

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when اسلام کی آواز posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category