بابے تے شک؟

بابے تے شک؟ پیج لائک کیں اور
آپکے قہقہوں کی ذمہ داری بابے کی!!

10/03/2025

پاکستان کے اکثریت گھروں میں مظلوم عورتیں زندہ ہیں جبکہ ظالم بابے عرصہ دراز سے دار فانی سے کوچ کر چکے ہیں

05/09/2024

ایک مراثی اپنے مرشد کے دربار پہ گیا، فاتحہ کے بعد جذبات سے مغلوب ہوکے بولا: مرشد سائیں! مینوں ایتھے اپنے کول ای رکھ لو۔

دربار سے باہر نکلا تو اسکے سینے میں درد کی ٹیسیں شروع ہوگئیں، بیوی نے پوچھا: سرتاج خیر اے؟

میراثی دھیمی آواز میں بولا: کج نہیں، اندر اک چول جئی مار بیٹھاں، لگدا قبولیت دا ویہلا سی🤣🤣
۔۔۔

28/08/2024

‏آدم خور قبیلے کا اک فرد اپنے بیٹے کےساتھ شکار کی تلاش میں نکلا
اچانک بیٹےکی نظر اک خوبصورت خاتون سیاح پر پڑی جو رستہ بھٹک کر انکی طرف آ رہی تھی
لڑکا اسے دیکھ کر بولا ابا وہ رہا شکار اس کو پکڑ کر کاٹ لیں
باپ عورت کو دیکھ کر بولا میرا خیال ہے کہ اسکو پکڑ لیتے ہیں
اور گھر جا کر تیری ماں کو پکا لیتے ہیں

28/08/2024

‏ایک مشہور مؤرخ اور سیاح نے اپنے سفر نامہ میں لکھا ہے کہ جب سکندر اعظم آدھی دنیا فتح کرتا ہوا پنجاب کی حدود میں داخل ہوا تو دونوں فوجیں دریائے جہلم کے دونوں کنارے پر آمنے سامنے خیمہ زن ہوئیں

دونوں لشکروں کے اہلچیوں کا تبادلہ ہوا لیکن کوئ بات نہ بن سکی چنانچہ جنگ لازم ٹھہری

اور جنگ کے اصول طے کرنے کا مرحلہ ایا تو پنجاب کے لشکر نے صرف یہی ایک شرط رکھی کہ جب تک پنجاب سے ساگ کا سیزن ختم نہیں ہو جاتا تب تک جنگ نہ لڑی جائے اس دوران یونانی لشکر بھی کچھ آرام کر لے اور ہم بھی ساگ سے توانائی حاصل کر لیں

چنانچہ سفر سے تھکی ہاری یونانی فوج دریاے جہلم کے اُس پار اور پنجاب کا لشکر اِس پار خیمہ زن ہو گیا

دن گزرتے گیئے جب بھی سکندری لشکر کا قاصد جنگ کا پیغام لاتا تو جواب میں اسے ساگ کا ڈبہ تھما دیا جاتا کہ دیکھو ابھی ساگ ختم نہیں ہوا ہے لہذا طے کردہ اصول کے مطاطق جنگ نہیں لڑی جا سکتی

کئی مہینے گزر گئے لیکن ساگ ختم نہیں ہوا دوسری طرف جب یونانی لشکر جائزہ لیتا تو دریا کے دوسری طرف مسلسل آگ جلتی دکھائی دیتی دیگیں چولہے پر چڑھی دکھائی دیتیں

سکندر نے اپنے جاسوسوں سے ساگ کے بارے میں معلومات حاصل کی کہ اخر یہ ساگ ختم ہو گا جس پر جاسوسوں نے بتایا کہ جناب پنجاب میں ساگ سب سے پہلے سندھ سے متصل کے علاقے سے شروع ہوتا ہے اور ڈیڈھ مہینہ تک ساگ کا عروج رہتا ہے جیسے ہی مغربی پنجاب میں ساگ اپنے اختتامی مراحل میں پہنچتا ہے تو وسطی پنجاب سے ساگ کی سپلائی شروع ہو جاتی ہے اس طرح مہینہ دو مہینے یہ ساگ نکال جاتا ہے
جیسے ہی وسطی پنجاب سے ساگ کا خاتمہ ہوتا ہے تو مشرقی پنجاب سے لشکر کو ساگ کی کمک پہنچ جاتی ہے اور اس طرح مزید مہینہ ڈیڈھ مہینہ لگ جاتا ہے لیکن جب مشرقی پنجاب کے اخری علاقوں میں ساگ اپنے اختتامی مراحل میں ہوتا ہے تو یہ لوگ ساگ کو محفوظ کرنا شروع کر دیتے ہیں اور اگلے دو مہینے تک مزید ساگ کھاتے ہیں

سکندر نے حیرت سے اپنے جاسوس کی طرف دیکھا اور پوچھا کہ ابھی ساگ مزید کتنی دیر چلے گا ؟؟؟

جس پر مصاحب نے جواب دیا کہ مزید تین مہینے ساگ کا عروج رہے

سکندر نے ایک لمبی سانس لی اور کرسی سے ٹیک لگاتے ہوے پوچھا کہ کیا تین مہینے بعد ساگ ختم ہو جاے گا

جی حضور جاسوس بلکل نے جھٹ سے جواب دیا

سکندر نے جوش سے کہا تو پھر تیاری رکھو ہم تین مہینے بعد جنگ شروع کریں گے

اور مزید انتظار نہیں کریں گے اگر مجھے پتہ ہوتا کہ ساگ کیا بلا ہے تو کبھی ساگ کے بعد جنگ کرنے کی شرط قبول نہ کرتا

لیکن حضور ہم پھر بھی حملہ نہیں کر سکتے مصاحب نے ڈرتے ہوے بتایا

کیوں نہیں کر سکتے سکندر نے غصے سے مٹھیاں بھینچتے ہوے پوچھا

کیونکہ حضور پھر گرمیاں شروع ہو جائیں گی اور گرمیوں میں دریا جہلم میں بہت زیادہ پانی آ جاتا ہے اور دریا کی روانی اس قدر بڑھ جاتی ہے کہ دریا پار کرنا ممکن نہیں ہوتا اگر ہم نے اس دوران دریا پار کرنے کی جرات کی تو سارا لشکر دریا میں غرق ہو جاے گا اور کوئ بھی نہیں بچے گا

تو پانی کب اترے گا سکندر نے تلملاتے ہوے پوچھا

جناب پانی تو سردیاں شروع ہوتے ہی اترے گا
سکندر کے مشیر خاص نے جواب دیا

تو ٹھیک ہے ہم سردیاں شروع ہوتے ہی حملہ کریں گے اور مزید انتظار نہیں کریں گے سکندر نے اپنی تلوار کے دستے پر ہاتھ رکھتے ہوے کہا

لیکن حضور ہم ایسا نہیں کر سکتے وزیر با تدبیر نے سکندر سے مخاطب ہوتے ہوے کہا

کیوں نہیں کر سکتے سکندر نے غصے سے جھنجلاتے ہوے پوچھا

کیونکہ حضور سردیاں شروع ہوتے ہی پھر ساگ کا موسم شروع ہو جاے گا اور یہ لوگ پھر ساگ کھا رہے ہوں گے
اگر ہم نے معاہدے کی رو سے ان پر ساگ کے موسم میں حملہ کیا تو دنیا کی تاریخ اپ کو بزدل اور دغاباز کے طور پر یاد کرے گی کہ سکندر ایک بزدل ادمی تھا جس نے معاہدہ کرنے کے باوجود معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوے دشمن پر دھوکے سے حملہ کیا

جس پر سکندر ء اعظم چیختے ہوئے اپنی کرسی سے اٹھا اور ٹانگ مار کر کرسی کو پرے گرایا اپنے ہاتھوں پر دندیاں وڈی

اور بھاگ کر ایک ٹیلے پر کھڑا ہو گیا اور اپنی فوج کو اونچی اواز میں حکم دیا

پین یکو اج دی رات ای اپنے ٹینٹ پٹو تے واپس مڑیئے
اوے قاصدا جا بھج کے انہاں دا ساگ والا ڈبہ وی واپس کر کے آ فیر آکھن گے کہ سکندر چور سی تے ساڈا ساگ والا ڈبہ نال ای لے گیا۔

21/12/2023

ساگ راجاؤں مہاراجوں اور پہلوانوں کی غذا ہے۔ تاریخ کے اوراق پلٹتے جائیں تو آپ جانیں گے کہ محمد بن قاسم سندھ ساگ کی دعوت اڑانے آیا تھا اور خود دو راتیں ساگ گھوٹتا رہا تھا۔ بعد میں مکھن اور مکئی کے آٹے کے حصول کے لیے اسے مقامی سورماؤں سے جنگ لڑنی پڑی تھی۔ جس مظلوم خاتون کے خط کا ذکر اس ساری روداد کے دوران سننے کو ملتا ہے شنید ہے کہ اس میں بھی یہی ظلم درج تھا کہ راجے مہاراجے مظلوم رعایا کو ساگ کھانے سے روکتے تھے اور پکانے پہ سزائیں دیتے تھے۔ واللّٰہ اعلم

27/11/2023

"من پسند عورت کا وزن بیشک چار من ہی کیوں نہ ہو پھر بھی وہ مرد کو گلاب کا پھول ہی لگتی ہے❤😅

26/11/2023

آج کی اچھی بات 😀

کسی گاؤں میں ایک پہلوان رہتا تھا، اپنے علاقے کا بہت مشہور اور جانا مانا۔ اسکی ایک ہی بیٹی تھی، بہت لاڈ اور پیار سے پالی ہوئی، خوبصورت اور نازک سی۔ بیٹی جوان ہوئی تو اسکی شادی کی فکر ہوئی۔
چونکہ پہلوان تھا اس لیئے بیٹی کے لیئے ایک پہلوان ہی پسند آیا۔ اونچا لمبا تنے ہوئے بدن کا مالک، گھنی موچھوں والا،گھبرو، زمیندار۔
آخر پہلوان نے نازو پلی بیٹی وداع کردی۔۔
چھے ماہ بھی نا گزرے تھے کہ پہلوان داماد نے بیٹی کو مار پیٹ کر نکال دیا کہ گھر کا کوئی کام نہیں آتا اسے۔

باپ کا دل بہت رنجیدہ ہوا مگر کسی کو کچھ نا کہا کہ فضول میں تماشا بنے گا اور بیوی سے کہا کہ اسے ہر چیز سکھاؤ جو گھرداری کے لیئے ضروری ہوتی ہے۔ ماں نے بیٹی کو جھاڑو پوچا، کھانا پکانا سب سکھایا اور چند ماہ بعد صلح صفائی کے لیے داماد کو بلایا، معافی مانگی کہ شرمندہ ہیں لاڈ پیار میں گھرداری ناسکھائی اور بیٹی کو شوہر سنگ وداع کردیا۔

چھے ماہ نا گزرے تھے کہ بیٹی پھر مار کھا کر میکے واپس اگئی کہ کوئی سینا پرونا نہیں آتا۔ پہلوان بہت دکھی ہوا مگر پھر بیوی کو کہا اسے سینا پرونا سکھاؤ۔

بیوی نے سلائی کڑھائی، گوٹاکناری، رضائیاں بچھائیاں یہاں تک کے پراندے اور ازاربند بھی سکھائے۔ پہلوان نے پھر داماد کو بلایا، غلطی کی معافی مانگی اور بیٹی رخصت کردی۔

پھر چند ماہ گزرے، بیٹی پھر نیل و نیل، مار کھا کر میکے واپس کہ کھیت کھلیان نہیں سنبھال سکتی میرے ساتھ، گائے بھینسوں کا دودھ دوہنا نہیں آتا۔ پہلوان بہت ہی دکھی اور رنجیدہ کہ یاالٰہی!! کیسا نصیب ہے بیٹی کا۔ مگر چونکہ بڑی عزت تھی زمانے میں لہذا خاموش رہا اور بیٹی کو ساتھ لے جاکر کھیتی باڑی کے کام سکھائے اور ایک بار پھر بیٹی بہت دعاؤں کے ساتھ رخصت کردی۔

پھر چند دن گزرے کہ پھر بیٹی روتی ہوئی میکے واپس۔ پہلوان نے سوال کیا بیٹی اب کیا ماجرہ ہوا؟ کہنے لگی میرا شوہر کہتا ہے تو آٹا گھوندھتے ہوئے ہلتی بہت ہے۔

پہلوان کو اب ساری بات سمجھ میں آگئی کہ اس کے داماد کو عادت پڑ چکی تھی مارنے کی اور بیوی پہ رعب جمانے کی۔ کہنے لگا بیٹی!! میں تجھے سب سکھایا مگر یہ نہیں سکھایا کہ تو بیٹی کس کی ہے۔ بیٹی حیران ہوئی مگر کچھ نا سمجھی۔

چند دن بعد داماد پہلوان کو احساس ہوا کہ بہت عرصہ گزرا مگر اس بار نا سسر نے معافی مانگی نا بیٹی واپس بھیجی۔

خیر خبر لینے سسرال گیا مگر سسر نے دروازے پہ روک لیا اور کہا کہ انہی پیروں پہ واپس چلا جا اور آج کی تاریخ یاد رکھ لے، پورے دوسال بعد آنا اور آکر بیوی لے جانا، اگر اس سے پہلے مجھے تو یہاں نظر آیا تو ٹانگیں تڑوا کر واپس بھیجوں گا۔
داماد کو فکر ہوئی مگر انا آڑے آئی تو چپ چاپ لوٹ گیا۔

دن گزرتے رہے، پہلوان بیٹی کو منہ اندھیرے کھیتوں میں لے جاتا اور سورج نکلنے پر گھر بھیجتا۔ بیوی نے بارہا پوچھا مگر یہ راز نا کھلا کہ ماجرا کیا ہے۔

دوسال گزر گئے، داماد بیٹی کو لینے آیا تو باپ نے خوشی خوشی رخصت کی۔
شروع میں تو بہت پیار محبت رہا مگر آخر ایک دن پہلوان داماد نے عادت سے مجبور چیخنا چلانا شروع کردیا اور مارنے کے لیئے بیوی کی طرف ہاتھ بڑھایا۔ بیوی نے کسی منجھے ہوئے پہلوان کی طرح شوہر کو اٹھا کر زمین پر پٹخ دیا اور خوب کٹ لگائی۔ جب مار کر تھک گئی تو بپھری ہوئی کہنے لگی
" تو شاید بھول گیا ہے کہ میں بیٹی کس کی ہوں؟"
پہلوان سمجھ گیا کہ اب کی بار دو سال میں باپ نے بیٹی کو کیا سکھا کر بھیجا ہے۔

اس کے بعد پہلوان کو دوبارہ کبھی بیوی سے اونچی آواز میں بات کرتے نہیں دیکھا گیا اور بیٹی کبھی دوبارہ مار کھا کر میکے نہیں گئی۔

لہذا ہر چیز ماں کے سکھانے کی نہیں ہوتی، کچھ باتیں کچھ اعتماد باپ بھی بیٹیوں میں لاتاہے۔

24/11/2023

‏کامیاب اور مضبوط مرد وہ ہیں جنہیں عورت کے آنسو اور مولوی کی جذباتی تقریر نہ ہلا سکے۔

21/10/2023

مردوں کو کیا حقوق چاہئیں؟
انہیں بس وٹس ایپ نمبر دے دو، خوش ہو جاتے ہیں۔

20/10/2023

باباجی سے کسی منچلے مرید کی جانب سے سے پوچھا گیا بابا جی ایہہ دسو۔ بندہ چھڑا (کنوارہ) چنگا یا شادی شدہ ۔۔۔۔

بابا جی نے چند لمحے آنکھیں بند کئے سکوت فرمایا۔ اور آنکھیں کھولیں تو ٹھنڈا سانس لے کر ارشاد فرمایا ٹھنڈے پانی سے نہانا اور دکھ تکلیفیں برداشت کرنا ہی مردانگی ہے۔

راتوں کو تاروں کی گنتی کرنا اور تندور سے روٹیاں لگوانا تو نری بادشاہت ہے۔

باقی پتر تساں آپے سیانے او۔😁

16/10/2023

عورت دنیا میں اک حسین ترین تخلیق ہے
بس اسے مولوی کی نگاہ سے نہ دیکھیں🙂

15/10/2023

مرد کو بلاک کرنا کمزور عورت کی نشانی ہے جبکہ مرد کو اگنور کرنا عورت کے کم ظرف ہونے کی😁🥲

Address

Multan
60000

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when بابے تے شک؟ posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Establishment

Send a message to بابے تے شک؟:

Share