Feelingsss

Feelingsss “Feelings are something you have; not something you are.”

کافی دوست کہتے ہیں کہ فیس بک پر لکھنا ایویں ای فضول ہے کوئی پڑھتا ہی نہیں کسی کے پاس ٹائم ہی نہیں ہوتا لیکن میں کہتا ہوں...
24/08/2026

کافی دوست کہتے ہیں کہ فیس بک پر لکھنا ایویں ای فضول ہے کوئی پڑھتا ہی نہیں کسی کے پاس ٹائم ہی نہیں ہوتا لیکن میں کہتا ہوں لوگ بڑے شوق سے پڑھتے ہیں کچھ پڑھ کر ری ایکٹ یا کومنٹ کر دیتے ہیں لیکن کچھ لوگ خاموش طبیعت کے مالک ہوتے ہیں وہ ری ایکٹس کومنٹس کیے بغیر پڑھ کر آگے نکل جاتے ہیں دونوں کو سر آنکھوں پر سجانے کا ہنر تو نہیں آتا لیکن کوشش ضرور کی جا سکتی ہے گزارش ہے کہ آج وہ لوگ حاضری لگائیں جو ہماری پوسٹ پڑھتے ہیں ویسے تو ری ایکٹس کومنٹس سے پتا چل ہی جاتا ہے لیکن آج میں اس پوسٹ پر سب کو ایک ساتھ دیکھنا چاہتا ہوں اور وہ دوست بھی حاضری لگا کر شرف بخشیں جو صرف پڑھ کر ہی آگے نکل جاتے ہیں تاکہ دل کو تسلی ہو جائے کہ کہیں نہ کہیں تو پڑھا جا رہا ہے💙

24/08/2026

کیا تم نے کبھی سوچا ہے
تم سے میلوں دور بیٹھا ایک شخص
تمہاری تصویر کو زوم کر کے
کن حسرت بھری
نگاہوں سے دیکھتا ہوگا
اور پھر لا شعوری طور پر
اپنے ہی ہاتھوں کی لکیروں میں کھو جاتا ہوگا
کیا تم سوچ سکتے ہو

24/08/2026

نیکی پرانی نہیں ہوگی
گناہ بھولایا نہیں جائے گا
بدلہ دینے والا پروردگار کبھی فنا نہیں ہوگا
اب جیسا چاہو ویسا بن جاؤ

عمر گزری ہے چراغوں کی حفاظت کرتےاب ہوا تیز چلے تو ملال رہنے دو
24/08/2026

عمر گزری ہے چراغوں کی حفاظت کرتے
اب ہوا تیز چلے تو ملال رہنے دو

23/08/2026
23/08/2026

ایک دعا ہی دے دیں۔کہتے ہیں دعائیں تقدیر بدل دیتی ہیں☺️

کچھ دعائیں زبان سے نہیں نکل پاتیں…آنکھیں نم ہوتی ہیں،دل بھاری ہوتا ہے،اور انسان صرف آسمان کی طرف دیکھتا ہے۔یاد رکھو،تمہی...
23/08/2026

کچھ دعائیں زبان سے نہیں نکل پاتیں…
آنکھیں نم ہوتی ہیں،
دل بھاری ہوتا ہے،
اور انسان صرف آسمان کی طرف دیکھتا ہے۔
یاد رکھو،
تمہیں الفاظ نہ بھی ملیں
تو تمہارا رب تمہارے دل کا حال جانتا ہے۔

23/08/2026

اس نے اپنی نومولود بیٹی کو بیچ دیا تھا میں نے اس کی مجبوری کے بارے میں نہیں سوچا تھا پتہ نہیں کیوں میرا ذہن اس طرف جا ہی نہیں سکا تھا کہ ایک ماں کی ممتا اپنی اولاد کو کیسے بیچ سکتی ہے اور اگر بیچتی ہے تو وہ کتنی مجبور ہوتی ہے میرا مقصد اس کو شرمندہ کرنا تھا میں نے اس سے پوچھا تھا کہ تم نے بیٹی کو کتنے میں بیچا تو اس نے جواب دیا تھا کہ 15 ہزار روپے میں ۔ میں حیران رہ گیا تھا کہ صرف 15 ہزار روپے میں اور اب تم قانونی کاروائی کا سامنا کر رہی ہو تمہیں اندازہ بھی ہے کہ اس پہ تمہارا کتنا خرچ ہو جائے گا اس نے میرے سوال کا کوئی جواب نہیں دیا تھا مگر اس کی انکھیں بھڑ ائی تھیں مجھے اس پر کوئی رحم نہیں ا رہا تھا میں نے اگلا سوال کیا تھا کہ ان 15 ہزار روپے سے تم نے کیا خریدا تھا اس کی انکھوں سے انسو باہر نکلا اور اس نے کہا کہ بچے بھوکے تھے میں نے ان کے لیے روٹی خریدی میں نے پھر بھی خاموشی اختیار نہیں کی تھی کیونکہ میں اسے ذلیل کرنا چاہتا تھا میں نے کہا تھا کہ تم نے کتنے عرصے کے لیے ان 15 ہزار کی روٹی خرید لی تھی اس نے جواب دیا کہ شاید ایک مہینے کا بھی راشن نہ آتا مگر میں نے تین دن کے لیے راشن خریدا تھا اور پھر میں پکڑی گئی اس سے پہلے کہ میں مزید کوئی بات کرتا انویسٹیگیشن افیسر بھی وہاں ا گیا تھا

متعلقہ افیسر نے اس سے سوال جواب شروع کئیے اور میں خاموشی سے دیکھتا رہا اس کی بھی سوچ بالکل میرے نظریے کے مطابق تھی اس کو بھی عورت واضح مجرم نظر ارہی تھی کیونکہ اج کل کے حالات ایسے ہیں یہاں درندے ڈیڑھ ڈیڑھ دو دو سال کی بچیوں کو نہیں چھوڑ رہے یہاں نام نہاد مرد اپنی مردانگی پر قابو نہیں رکھ پا رہے یہاں اپنے گھر میں بیٹیاں ہوتے ہوئے بھی دوسروں کی معصوم بچیوں کو پامال کیا جا رہا ہے اگر اسان الفاظ میں کہیں تو یہاں جنگل کا قانون جاری ہے جو انسان جتنا ظلم کر سکتا ہے وہ کر رہا ہے اداروں کی کمزوریاں ضرور ہوں گی مگر ادارے پھر بھی اپنی استطاعت کے مطابق کام کر رہے ہیں لیکن جب ہر انسان کا ذہن ہی جرم پر مائل ہو تو وہاں ادارے کیا کریں
میں مزید تفصیل میں جانا نہیں جاتا جب انویسٹیگیشن افیسر نے اپنی تفتیش مکمل کر لی اس دوران اس کا رویہ اس خاتون کے ساتھ انتہائی ہتک آمیز رہا اور وہاں سے اٹھتے ہوئے اس نے کہا کہ اب تم ساری زندگی جیل میں رہو گی تمہیں ازادی نصیب نہیں ہوگی تمہیں احساس ہو جائے گا کہ اولاد کو جنم دیں تو پھر ان کی ذمہ داری بھی اٹھاتے ہیں معصوم بچیوں کو بیچا نہیں کرتے اس کی بات سن کر عورت رو پڑی تھی مگر اس عورت کے انسوؤں کا مجھ پر یا اس تفتیشی افسر پر کوئی اثر نہیں ہوا تھا عورت کا جرم ہی ایسا تھا کہ اس پر رحم کیا ہی نہیں جا سکتا تھا تفتیشی افسر وہاں سے چلا گیا اور میں بھی اٹھنے لگا تو اس عورت نے میرے سامنے ہاتھ جوڑے مجھے لگا کہ وہ مجھ سے رحم کی بھیک مانگے گی مجھے کہے گی مجھے یہاں سے چھڑا لو مگر اس نے ایسا کچھ نہیں کہا اس نے میری امیدوں کے برعکس ایک ایسی بات کی کہ میں خود اس کو اس قانونی کاروائی سے بچانے کی کوشش میں شامل ہو گیا

جب میں وہ وہاں سے اٹھنے لگا تو اس عورت نے میرے سامنے ہاتھ جوڑے اور کہا کہ مجھ پر بے شک ترس نہ کھاؤ رحم نہ کرو لیکن میرے بچے بھوکے ہیں ان کے لیے روٹی کا انتظام کر دو میرے پاس تین ہزار روپے بچے ہوئے تھے وہ ان پولیس والوں نے لے لیے ہیں ان سے کہو کہ میرا جو جرم ہے مجھے اس کی سزا دے لو جہاں باقی 12 ہزار روپے کی سزا دینی ہے وہاں ان تین ہزار روپے کی بھی سزا ہی دے لینا لیکن وہ پیسے واپس کر دو تم ان سے وہ پیسے لے کر میرے بچوں کو دے دینا میرے بچے بھوک سے ہوں گے اور کچھ نہیں تو وہاں سے اٹا ہی خرید لیں گے اور اس میں چینی یا گڑ ملا کے پھانک لیں گے میں نے حیران ہو کر پوچھا کہ ایسا کیوں ؟
وہ روٹی نہیں بناتے ؟
اس عورت نے بہتے کے انسووں کے ساتھ کہا کہ روٹی تو ماں ہی بناتی ہے نا کہ تم خود بنا سکتے ہو ؟
جب تم اتنے سمجھدار ہو کر نہیں بنا سکتے میرے بچے تو ابھی چھوٹے ہیں معصوم ہیں وہ کیسے بنا سکتے ہیں پھر ہم لوگ غریب ہیں مجھے پتہ ہے ان کا کوئی بھی رشتہ دار ان کی خبر گیری نہیں کرے گا تم مجھ پر یہ ایک احسان کر دو اس کے ہاتھ ابھی تک میرے سامنے جڑے ہوئے تھے میں نے سلاخوں کے اندر ہاتھ گھسایا اس کے سر پہ ہاتھ رکھا اور میری بہن کہتے ہوئے مخاطب کیا اور کہا کہ میں پوری کوشش کروں گا کہ اپ کے بچوں کے ساتھ اچھا تعاون کروں گا ان کا خیال رکھو میری بات سن کر وہ عورت مطمئن ہوئی تھی لیکن پھر بھی اس کی انکھوں میں غیر یقینی تھی
اس نے مجھ سے پوچھا تھا کہ تم سچ کہہ رہے ہو ؟
میں نے اسے یقین دلایا تھا کہ بالکل سچ کہہ رہا ہوں اور انشاءاللہ میں ایسا کروں گا سلاخوں کے پیچھے کھڑی اس عورت نے مجھے بہت ساری دعائیں دی تھیں اور میں وہاں سے واپس ا گیا تھا

واپسی پر میں نے اپنے دو چار پڑھنے والے لوگوں سے بات کی تھی اور ان کو سارا واقعہ سنایا تھا ان لوگوں نے نہ صرف ان معصوم بچوں کے لیے راشن کا انتظام کروایا بلکہ اس عورت کو چھڑانے کے لیے انے والے اخراجات کی بھی حامی بھری یقین کرو ایک خاتون جو بیرون ملک سیٹ تھی وہ یہ سارا واقعہ سن کر حیران رہ گئی تھی اور اس نے کہا تھا کہ حقیقت میں مجرم وہ عورت نہیں بلکہ وہ ریاست ہے جہاں ایک ماں اس حد تک مجبور ہو گئی ہے کہ اس نے اپنی نومولود بچی تک کو بیچ دیا ہے وہ حکمران ہیں جنہوں نے مہنگائی اس حد تک بڑھا دی ہے کہ لوگ فقط چند ہزار روپے کی خاطر اپنی اولاد کو بیچ رہے ہیں تاکہ اپنے باقی بچوں کا پیٹ بھر سکیں
بہرحال میرے پڑھنے والوں نے تعاون کیا اور الحمدللہ ان بچوں کے لیے راشن کا انتظام ہو گیا اس عورت کو چھڑانے کے لیے بھی میں نے اپنے طور پر تعلقات استعمال کرنا شروع کر دیے مگر اب اس پر کیس ہو چکا تھا لہذا اس کی ضمانت ہی ممکن تھی اور الحمدللہ اج اس کی ضمانت بھی ہو گئی ہے
میرے ملک میں حالات ایسے ہیں کہ سمجھ ہی نہیں اتی انسان کرے تو کرے کیا جائے تو جائے کہاں میری دعا ہے کہ اللہ تعالی سب کو اپنی حفظ و امان میں رکھے اور کبھی کسی پر ایسا وقت نہ لے کہ اس کو اپنی اولاد بیچنی پڑے

اختتام
قارئین کرام اگر اپ کو میری تحریر پسند ہے تو پھر میں اپ کے شیئر اور فالو کا مستحق ہوں

وہ تیز مزاج جذباتی سا لڑکا آج اتنا سیانا ہے کہ ناپسندیدہ رویوں پہ شکایت نہیں کرتا چھوڑنے والوں کی منتیں نہیں کرتا بلکہ م...
23/08/2026

وہ تیز مزاج جذباتی سا لڑکا آج اتنا سیانا ہے کہ ناپسندیدہ رویوں پہ شکایت نہیں کرتا چھوڑنے والوں کی منتیں نہیں کرتا بلکہ معمول کی طرح مسکرا کے خود ہی دور ہو جاتا ہے وہ آج وہ سارے کام کرتا ہے جو کبھی اس کےلیے سب سے مشکل نہیں بلکہ ناممکن ہوتے تھے.....

Address

Multan

Telephone

+923116825743

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Feelingsss posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share