Feelingsss

Feelingsss “Feelings are something you have; not something you are.”

27/04/2026

‏محترم والدین...
اپنی طلاق یافتہ بیٹی کو کھلی بانہوں سے گھر میں ویلکم کریں کیونکہ مری ہوئی بیٹی سےطلاق یافتہ بہتر ہوتی ہے💔🌸

27/04/2026

*حرام تعلق، حرام ہی رہتا ہے*
چاہے تم ایک دوسرے کو فجر کے لیے جگاتے ہو،
چاہے تمہارے والدین کو اس کا علم ہو،
چاہے تم دین کی باتیں کرتے ہو اور ایک دوسرے کو اسلامی اقوال بھیجتے ہو،
چاہے تمہارے درمیان سچی محبت اور گہرا جذباتی تعلق ہو،
چاہے اس سے بچنا تمہارے لیے مشکل ہو،
چاہے تمہیں لگے کہ وہ تمہیں اللہ کے قریب لے آیا/لےآئی ہے،
اور چاہے تم اسے چھپا کر رکھتے ہو🥀
یاد رکھو، جو چیز اللّٰهﷻ نے حرام قرار دی ہے، وہ کسی بھی صورت میں حلال نہیں ہو سکتی جب تک اسے صحیح طریقے (نکاح) سے حلال نہ کیا جائے۔
اصل کامیابی یہ ہے کہ انسان اپنی خواہشات کو اللہ کے حکم کے آگے جھکا دے، کیونکہ یہی تقویٰ ہے اور یہی وہ راستہ ہے جو دل کو سکون دیتا ہے۔

Haram is Haram even if everyone else is doing it

27/04/2026

*سال 2001۔ NUST۔ مکینیکل انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ۔
پہلا دن۔* ساٹھ لڑکوں کے بیچ ایک لڑکی داخل ہوتی ہے۔ نام سارہ قریشی۔ کلاس کے پیچھے بیٹھتی ہے۔ لیکچرر گھور کر دیکھتا ہے۔ لڑکے سرگوشی کرتے ہیں۔ کوئی پوچھتا ہے “بی بی آپ غلط کلاس میں آ گئی ہیں، ہوم اکنامکس والی بلڈنگ ساتھ والی ہے”۔ سارہ مسکراتی ہے اور کاپی کھول لیتی ہے۔ اسے پتہ ہے کہ وہ غلط کلاس میں نہیں، غلط صدی میں پیدا ہوئی ہے۔ مگر صدی بدلنے کے لیے کسی ایک کو تو پہلا قدم اٹھانا پڑتا ہے۔ وہ قدم سارہ نے اس دن اٹھا لیا اور پھر چار سال تک NUST کی لیب میں سب سے آخر میں لائٹ بند کر کے جانے والی وہی لڑکی تھی جسے پہلے دن کلاس کا راستہ پوچھا گیا تھا۔ گارڈ رات دس بجے ٹوکتا تھا “بی بی گھر جاؤ، یہاں لڑکیوں کا کیا کام”، سارہ جواب دیتی تھی “چاچا، جہاز کا انجن بنا رہی ہوں، صبح تک ہو جائے گا تو چلی جاؤں گی”۔ گارڈ ہنستا تھا۔ سارہ نہیں ہنستی تھی۔

کیونکہ اسے پتہ تھا کہ پاکستان کی پہلی فیمیل مکینیکل انجینئر بننے کے لیے راتیں کالے کرنی پڑتی ہیں۔ 2005 میں ڈگری ملی۔ NUST کی تاریخ میں پہلی لڑکی۔ لوگوں نے کہا “چلو شاباش، اب نوکری کرو یا شادی”۔ سارہ نے دونوں باتیں سنیں اور تیسری کر دی۔ آٹوموٹو انڈسٹری جوائن کی۔ پاکستان کے ہب میں۔ جہاں انجن تو بنتے تھے مگر چھوٹے۔ سارہ نے وہاں UAV یعنی ڈرون کا آٹو پائلٹ سسٹم ڈیزائن کیا۔ وہ سسٹم جو ڈرون کو خود بخود اڑاتا ہے، بلندی سنبھالتا ہے، ہوا کے تھپیڑے میں بیلنس رکھتا ہے۔ انڈسٹری نے کہا “یہ لڑکی تو کام کی ہے”۔ مگر سارہ کا خواب بڑا تھا۔

اسے زمین پر نہیں، آسمان میں اڑنا تھا۔ اسکالرشپ ملی۔ UK چلی گئی۔ Cranfield University۔ دنیا کی ٹاپ ایرو اسپیس یونیورسٹی۔ وہاں PhD شروع کی۔ موضوع؟ Aerospace Propulsion۔ آسان لفظوں میں: جہاز کا انجن۔ اب ذرا رکو اور سوچو۔ لاہور کی ایک لڑکی، جسے NUST میں کلاس کا راستہ بتایا گیا تھا، اب دنیا کے سب سے مشکل موضوع پر PhD کر رہی ہے۔ اور اکیلی نہیں کر رہی۔ MSc کے گورے لڑکوں کو پڑھا بھی رہی ہے۔ وہ حیران ہو کر پوچھتے ہیں “You are from Pakistan? And you are teaching us jet engines?” سارہ کہتی ہے “Yes, and I will build one too”۔ پی ایچ ڈی کے دوران اس کا واسطہ پڑا ایک ایسے مسئلے سے جس نے پوری دنیا کو پریشان کیا ہوا تھا۔ جب جہاز اڑتا ہے تو پیچھے سفید لکیر چھوڑتا ہے۔ ہم سب نے دیکھی ہے۔ اسے کنٹریل کہتے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں بادل ہے۔ مگر سائنس کہتی ہے کہ یہ کاربن ڈائی آکسائیڈ سے دو گنا زیادہ خطرناک ہے۔ یہ گلوبل وارمنگ کی سب سے بڑی وجہ ہے۔ مطلب تمہاری گاڑی سے زیادہ جہاز کا وہ سفید دھواں زمین کو گرم کر رہا ہے۔ پچاس سال سے سائنسدان حل ڈھونڈ رہے تھے۔ امریکہ، جرمنی، جاپان سب فیل۔ سارہ نے اپنے والد مسعود لطیف قریشی کے ساتھ بیٹھ کر کہا “ابو، اگر مسئلہ دھوئیں کا ہے تو دھواں ہی ختم کر دیتے ہیں”۔ باپ فزسٹ تھا، بیٹی انجینئر۔ دونوں نے لیب میں تالا لگا دیا۔ 2018 کا سال تھا۔

تین سال لگے۔ نیندیں حرام ہوئیں۔ Cranfield کے پروفیسر
بھی ساتھ مل گئے۔ اور پھر ایک دن انجن اسٹارٹ ہوا۔ انجن نے دھواں باہر نہیں پھینکا۔ اندر ہی پکڑ لیا۔ کیسے؟ اس کے اندر ایک پریشر بیسڈ کنڈنسیشن سسٹم لگا ہے۔ یہ سسٹم ایگزاسٹ کے گرم بخارات کو ٹھنڈا کرتا ہے۔ بخارات پانی بن جاتے ہیں۔ وہ پانی جہاز کے ایک ٹینک میں جمع ہو جاتا ہے۔ کنٹریل؟ زیرو۔ دھواں؟ زیرو۔ گلوبل وارمنگ میں جہاز کا حصہ؟ ختم۔ اور کہانی یہاں نہیں رکی۔ سارہ نے کہا “یہ پانی ضائع کیوں کریں؟” اس نے سسٹم میں ایک اور کمال کر دیا۔ پائلٹ جب چاہے بٹن دبا کر وہ پانی بادلوں میں چھوڑ سکتا ہے۔ مطلب جہاز سے مصنوعی بارش۔ جہاں قحط ہو، وہاں پانی۔ ایک انجن، تین کام۔ ایک: گلوبل وارمنگ کم۔ دو: مصنوعی بارش۔ تین: فیول ایفیشنسی بڑھ گئی کیونکہ انجن کا درجہ حرارت کنٹرول میں رہا۔ دنیا نے جب یہ سنا تو سانس روک لی۔ امریکہ اور UK نے فوراً دو انٹرنیشنل پیٹنٹ دے دیے۔ 2018 میں ہی سارہ پاکستان واپس آئی۔ والد کے ساتھ مل کر کمپنی بنائی: Aero Engine Craft Private Limited۔ پاکستان کی تاریخ کی پہلی کمرشل جیٹ انجن R&D کمپنی۔ پرائیویٹ سیکٹر میں۔ ایک عورت کی لیڈرشپ میں۔ لیب لاہور میں لگائی۔

اور پھر وہ کر دکھایا جو آج تک کسی نے نہیں کیا تھا۔ پاکستان کا پہلا سول جیٹ انجن بنا دیا۔ جی ہاں۔ مکمل جیٹ انجن۔ زمین پر چلا کر دکھایا۔ ٹیسٹ ہوا۔ کامیاب۔ اس دن پاکستان دنیا کا چھٹا ملک بن گیا جو کمرشل جیٹ انجن بنا سکتا ہے۔ پہلے پانچ کون ہیں؟ امریکہ، برطانیہ، فرانس، روس، چین۔ چھٹا نام کس نے لکھوایا؟ ایک پاکستانی بیٹی نے۔ سارہ قریشی نے۔ مگر رکو۔ کہانی ابھی باقی ہے۔ اسی دوران سارہ نے ایک اور پیٹنٹ فائل کر دیا۔ کس چیز کا؟ سپرسونک کمرشل ایئرکرافٹ انجن۔ مطلب وہ انجن جو آواز سے تیز جہاز کو اڑائے گا۔ لاہور سے لندن دو گھنٹے میں۔ اور یہ بھی کنٹریل فری۔ دنیا کی بڑی بڑی کمپنیاں ابھی اس پر ریسرچ کر رہی ہیں۔ سارہ نے ڈیزائن مکمل کر لیا۔ اور یہ سب کرنے کے بعد سارہ نے کہا “بس انجن بنانا کافی نہیں، مجھے پتہ ہونا چاہیے پائلٹ کی سیٹ پر بیٹھ کر کیسا لگتا ہے”۔ اس نے پرائیویٹ پائلٹ لائسنس لیا۔ جہاز اڑانا سیکھا۔ Aerobatic flying بھی کی۔ مطلب الٹا سیدھا جہاز اڑانا۔ کیوں؟ کیونکہ سارہ کہتی ہے “اگر میں انجن بناؤں گی تو مجھے پائلٹ کا درد سمجھنا پڑے گا”۔ اب تم بتاؤ۔ اس عورت کو کس چیز نے روکا؟ NUST میں طعنے؟ نہیں۔ انویسٹرز کا انکار؟ نہیں۔ “تم لڑکی ہو” کا لیبل؟ نہیں۔

سارہ ہر دیوار سے ٹکرائی اور دیوار گر گئی۔ آج وہ Cranfield University میں وزٹنگ اکیڈمک ہے۔ وہاں کے پروفیسرز اس سے فیڈ بیک لیتے ہیں کہ ماحول دوست انجن کیسے بہتر ہو۔ Tamgha-e-Imtiaz مل چکا۔ بیس انٹرنیشنل ایوارڈ جیت چکی۔ مگر سارہ کا اصل ایوارڈ وہ ہے جو ابھی آنا ہے۔ جب PIA کا کوئی جہاز لاہور ایئرپورٹ سے اڑے گا اور اس کے پر پر لکھا ہو گا “Engine by Aero Engine Craft – Made in Pakistan”۔ اس دن تمہارا پاسپورٹ دیکھ کر امیگریشن والا نہیں پوچھے گا “ویزہ کہاں ہے؟” وہ پوچھے گا “یہ انجن تمہارے ملک نے بنایا ہے؟” اور تم فخر سے کہو گے “ہاں، ہماری ایک بیٹی نے بنایا ہے”۔

~ منقول

ہزار نصیحتوں کے بعد بھی تم زندگی کو صرف زندگی سے ہی سمجھ سکو گے۔.
27/04/2026

ہزار نصیحتوں کے بعد بھی تم زندگی کو صرف زندگی سے ہی سمجھ سکو گے۔.

بھٹکنا انسان کی فطرت میں ہے،چاہے کتنے بھی آپ نیک یا متقی کیوں نا بن جائیں بہکنے کے چانسس پھر بھی موجود ہی رہتے ہیں۔....م...
27/04/2026

بھٹکنا انسان کی فطرت میں ہے،
چاہے کتنے بھی آپ نیک یا متقی کیوں نا بن جائیں بہکنے کے چانسس پھر بھی موجود ہی رہتے ہیں۔....
مگر انداز بدل جاتا ہے!
شیطان کا وار بدل جاتا ہے!
کبھی تقویٰ کے روپ میں!
کبھی نیکیوں کے زعم میں!
کبھی گرا کر کبھی نہ اٹھ پانے کے خوف میں!
کبھی الله کو کھو دینے اور گناہ پر رب سے مایوس کردینے کے حربے سے!
مگر یاد رکھئے شیطان کی جیت اس دن تک نہیں ہوسکتی جب تک آپ خود ہار مان کر رجوع کرنا ترک کردیں۔
بس لوٹنے میں دیر نہ کرنا۔
وہ رب تو انتظار کر رہا ہے، کہ کب میرا بھولا بھٹکا بندہ، جو بندہ تو میرا ہی ہے مگر شیطان کے بہکاوے میں آگیا، میرے در پر واپس آجائے، میں اسے معاف کردوں!
اپنی رحمت سے ڈھانپ لوں!!
میرے اللّٰه تو کہتے ہیں :
اے ایمان والو!
دوڑو! اپنے رب کی مغفرت کی طرف۔۔۔۔۔!!
*میرے بندوں سے کہے دیجئے جنہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا، میری رحمت سے مایوس نہ ہوں۔۔۔۔!♡*
تمہیں اپنے رب کریم سے کس چیز نے دھوکے میں ڈال رکھا ہے۔۔۔۔۔؟؟؟
کتنی محبت ہے ناں! گناہ کرکے آنے والے کو بھی اللّٰه بار بار اپنا کہہ کر بلا رہے ہیں🌸♥️

27/04/2026

زِندگی کو زیادہ لمبا تصّور نہ کریں ۔
جس مُستقبل کے بارے میں ہم دِن رات سوچتے ہیں
ہوسکتا ہے وہ مُستقبل آئے ہی نا۔۔!❤️‍🩹

26/04/2026

‏کوئی تو ہے میرے اندر مجھے سنبھالے ہوئے
‏کہ بے قرار سا ہو کر بھی، برقرار ہوں میں
✨🖤

25/04/2026

Celebrating my 11th year on Facebook. Thank you for your continuing support. I could never have made it without you. 🙏🤗🎉

25/04/2026

*ڈپریشن کوئی قدرتی بیماری نہیں ہے*
*بلکہ کسی رویہ کی طرف سے دیا ہوا بدترین تحفہ ہوتا ہے۔😊

25/04/2026

کرلے جو کرنا ھے
آخر موت ھے!!💔

کیا تم لوگوں کو خوف نہیں آتا کہ کوئی تمہاری وجہ سے تکلیف میں ہے۔۔۔۔کوئی اللہ کے سامنے تمہارا نام لے کر روتا ہے ۔۔۔۔۔اس ل...
25/04/2026

کیا تم لوگوں کو خوف نہیں آتا کہ کوئی تمہاری وجہ سے تکلیف میں ہے۔۔۔۔کوئی اللہ کے سامنے تمہارا نام لے کر روتا ہے ۔۔۔۔۔اس لئے نہیں کہ تمہیں سزا ملے ۔۔۔۔۔بلکہ اس لیے کہ وہ تمھارے ساتھ رہنا چاہتا ہے ۔۔۔اسے تمہارا اس کے ساتھ کیا گیا سلوک تکلیف دیتا ہے ۔۔۔۔۔۔خدارا سوچو تم کسی کو رولا کر خود بھی سکون میں ہو کیا

آج صبح جب میں آفس جا رہا تھا، تو راستے میں ایک کالج کی بچی کو سڑک کنارے اپنی سکوٹی کے ساتھ پریشان کھڑا دیکھا۔ اخلاقی طور...
24/04/2026

آج صبح جب میں آفس جا رہا تھا، تو راستے میں ایک کالج کی بچی کو سڑک کنارے اپنی سکوٹی کے ساتھ پریشان کھڑا دیکھا۔ اخلاقی طور پر یہی مناسب سمجھا کہ اس کی مدد کی جائے۔ میں نے اپنی بائیک گھمائی اور اس کے قریب جا کر رکا

موجودہ حالات کے پیشِ نظر وہ بچی مجھے دیکھ کر سہم سی گئی، لیکن میں نے مناسب فاصلہ برقرار رکھتے ہوئے بڑے ادب سے سلام کیا

"السلام علیکم بیٹا جی! آپ کیوں پریشان ہیں اور یہاں اکیلی کیوں کھڑی ہیں؟"

بچی نے دبی آواز میں جواب دیا اور بتایا کہ سکوٹی اچانک بند ہو گئی ہے، موبائل گھر بھول آئی ہے اور کالج سے بھی لیٹ ہو رہی ہے۔ اس کی آنکھوں میں خوف تھا، کہنے لگی: "ابھی ایک لڑکا پاس سے گزرا، اس نے بہت بدتمیزی کی اور گندی باتیں کیں، میں بہت ڈر گئی ہوں۔"

میں نے اسے حوصلہ دیا: "بیٹا! آپ بالکل پریشان نہ ہوں، آپ میری بیٹیوں کی طرح ہیں۔"

میں نے خود کوشش کی لیکن سکوٹی ٹھیک نہ ہوئی۔ میں نے اسے اپنی بائیک پر بیٹھنے کا کہا تاکہ وہ محفوظ محسوس کرے، پہلے تو وہ ہچکچائی لیکن میرے اصرار اور لہجے کے خلوص نے اسے بھروسہ دلایا۔ میں نے مکینک کو بلوایا، جس نے آکر نقص دور کر دیا۔ جب میں نے مکینک کو پیسے دے کر رخصت کیا اور بچی کو بتایا کہ سکوٹی ٹھیک ہو گئی ہے، تو اس کے چہرے کی خوشی دیدنی تھی ☺️

اس نے شکریہ کے طور پر پرس سے ہزار کا نوٹ نکال کر مجھے دینا چاہا، لیکن میں نے مسکرا کر انکار کر دیا۔ اسے تاکید کی کہ اب کالج کا وقت نکل چکا ہے، اس لیے سیدھی گھر جائیں۔ وہ اپنی منزل کی طرف روانہ ہوئی اور دور جا کر ایک بار پھر ہاتھ ہلا کر الوداع کہا

میری تمام بھائیوں سے گزارش ہے

یہ بچیاں ہماری اپنی ہیں۔ اگر وہ اپنی ضرورت یا تعلیم کے لیے سڑک پر نکلتی ہیں، تو انہیں تحفظ فراہم کرنا ہمارا فرض ہے۔ انہیں راستہ دیں، انہیں عزت دیں، نہ کہ انہیں اکیلا دیکھ کر ہوس زدہ بن جائیں☝️

حقیقی مرد وہ نہیں جس سے عورتیں ڈریں، بلکہ مرد ہونے کا اصل احساس یہ ہے کہ آپ کی موجودگی میں کوئی بھی عورت یا بچی خود کو غیر محفوظ نہ سمجھے 🌟

آئیں عہد کریں کہ ہم اپنے رویوں سے اس معاشرے کو اپنی بیٹیوں کے لیے محفوظ بنائیں گے تاکہ انہیں مرد ذات سے خوف نہیں، بلکہ تحفظ کا احساس ملے 🩵

یہ تحریر fbسے کاپی کی گئی ہے جو آگاہی کے لئیے پھیلائی جا رہی ہے ☝️

*زیادہ سے زیادہ شئیر کریں۔۔۔*

Address

Multan

Telephone

+923116825743

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Feelingsss posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share