07/08/2026
پل بتا ایسا کہ تیری یاد جب آئی نہ ہو
لب نہیں کھولے کہیں تیری ہی رسوائی نہ ہو
حشر تک محفوظ عزت دار کی عزت رہے
بزمِ نفرت، بزم الفت پہ اگر چھائی نہ ہو
جی رہے ہیں اس جہاں میں کیسی مشکل زندگی
پوچھ ان سے پاس جن کے ایک بھی پائی نہ ہو
حیف اسلامی ریاست کے بنے قانون پر
لوٹ لے ظالم عدالت میں بھی شنوائی نہ ہو
دورِ حاضر میں وہ عاشق ہی نہیں سمجھا گیا
جس نے بزمِ یار میں محبوبہ نچوائی نہ ہو
محفلِ اغیار میں شب بھر وہ ناچی اس لیے
"سردیوں کے چاند کو احساسِ تنہائی نہ ہو"
وعظ کا انداز عابدؔ کا ہے شعری اس لیے
شیخ کی شاید زباں میں حق کی گویائی نہ ہو
محمد عابدؔ جعفری
*بشکریہ پنجاب آرٹس کونسل جمعرات 06 اگست 2026ء مطابق 22 صفر المظفر 1448ھ ، 22 ساون 2083 بکرمی ، ملتان پاکستان*
Muhammad Abid Jaffari
Adbi Safar International
Iqtibas Point - اقتباس پوائنٹ
Poetry Collection