Pyar k sadke

Pyar k sadke This page was described funny movies or pics.

21/05/2025
*یہ تو خوابوں کی مہربانیاں ہیں 💔**کہ جانے والے دِکھائی تو دیتے ہیں 😔*__💔
22/04/2025

*یہ تو خوابوں کی مہربانیاں ہیں 💔*

*کہ جانے والے دِکھائی تو دیتے ہیں 😔*__💔

Hi
01/04/2025

Hi

دل کے قصے اور نصیبـــــــــ کے ادھورے حصےجب اللّٰه کُن فرمائے گا تو پورے ہو جائیں گے🤲ان شاء اللہ_❤️🤲🏻
13/07/2024

دل کے قصے اور نصیبـــــــــ کے ادھورے حصے
جب اللّٰه کُن فرمائے گا تو پورے ہو جائیں گے🤲

ان شاء اللہ_❤️🤲🏻

Ik muhabbat tere naam se
13/07/2024

Ik muhabbat tere naam se

Ik skoon teri chahat se
13/07/2024

Ik skoon teri chahat se

29/06/2024

*◼: چنگیز خان کو زندگی میں دو بڑی جنگوں اور سات چھوٹی جھڑپوں میں شکست ہوئی ، ہر بار مدِ مقابل ایک ہی تھا : سلطان جلال الدین خوارزم شاہ۔ چنگیز خان نے صرف ایک ہی دشمن کو بہادری پر خراج تحسین پیش کیا تھا وہ جلال الدین تھا۔ نور الدین کورلاخ نے درست کہا تھا سلطان جلال الدین مسلم دنیا کا فدیہ تھا۔ یہ نہ ہوتا تو چنگیز خان کے ہاتھوں مسلم دنیا کی تباہی کی داستان زیادہ طویل اور دلفگار ہوتی۔ اُس کا باپ چنگیز سے مقابلے کے لیے اس کا مشورہ مان لیتا تو شاید دنیا کی تاریخ مختلف ہوتی۔ اُس کے اپنے ہی بھائی سازشیں کر کے تخت پر قابض نہ ہوتے تو شاید پھر بھی تاریخ کی کروٹ کچھ اور ہوتی۔ کیسا انسان تھا ، تخت بھائیوں کے پاس چھوڑ کر جنگل کو نکل گیا کہ سلطنت کسی اور آمائش میں نہ پڑ جائے۔*

*شکست کی راکھ سے اس نے عزیمت کا پرچم اٹھایا ۔ کبھی ہزار کبھی پانچ ہزار ، جتنے جنگجو ملتے وہ ان کے ساتھ چنگیز خان کے لیے چیلنج بنا رہا یہاں تک کہ وہ وقت آیا جب اس کے پاس ایک لشکر جرار تھا۔ اس نے چنگیز خان کو لکھا : تم میرے لیے جنگل جنگل خاک چھان رہے ہو، میں اس وقت یہاں بیٹھا ہوں ۔ تم آؤ گے یا میں آؤں‘‘۔*

*میجر ریوٹی نے لکھا ہے چنگیز خان کی زندگی میں یہ پہلا موقع تھا اسے کسی نے یوں چیلنج کیا ہو اور چنگیز خان چیلنج قبول کرنے کی ہمت نہ کر سکا ۔ اسے معلوم تھا اگر جلال الدین یوں للکار رہا ہے تو شیر کے منہ میں سر دینا حکمت نہیں ۔۔۔۔۔۔ یہ میرے الفاظ نہیں ، چنگیز خان کے اس تذبذب کی یہ کہانی امیر عطّا نے صدیوں پہلی لکھ دی تھی ۔ وہ لکھتے ہیں شیرِ خوارزم کے اس چیلنج نے چنگیز کو پاگل کر دیا تھا۔ وہ صبح سے شام لشکر کی تیاریوں پر صرف کرنے لگ گیا۔ لیکن پھر بھی اسے تسلی نہیں ہو رہی تھی کہ کیا وہ جلال الدین کا مقابلہ کرنے کو تیار ہے یا ابھی کچھ کمی رہ گئی ہے۔ اسے معلوم تھا للکارنے والا کون ہے۔ یہاں تک کہ پھر ایک گھوڑے پر سلطان کے لشکر کے سالاروں میں جھگڑا ہو گیا اور پُھوٹ پڑ گئی۔ افغان سالار ناراض ہو کر لشکر لے کر چلا گیا۔ امیر عطا لکھتے ہیں جلال الدین کو خبر ہوئی تو بھاگ کر خیمے سے باہر آیا ، ان کی منتیں کیں ، رویا کہ ایسا نہ کرو ، مسلمانوں کے مستقبل کا خیال کرو لیکن قدرت کو شاید یہی منظور تھا۔لشکر آدھا رہ گیا۔ چنگیز خان تو گویا اسی موقع کے انتظار میں تھا۔ باقی تاریخ ہے۔*

*آخری بڑی لڑائی دریائے سندھ کے کنارے ہوئی جب سازشوں اور داخلی جھگڑوں سے نڈھال سلطان جلال الدین تیس ہزار پناہ گزینوں ، تین ہزار گھڑ سواروں اور پانچ سو کے قریب محافظوں کے ساتھ ہندوستان جا رہا تھا کہ چنگیز خان دو لاکھ کے لشکر کے ساتھ آن پہنچا۔ تین ہزار گھڑ سواروں کا مقابلہ پچاس ہزار گھڑ سواروں سے تھا۔ گلوبل کرونالوجی آف کانفلیکٹ کے مصنف نے لکھا کہ جلال الدین یوں لڑا کہ چنگیز خان حیران رہ گیا۔ اس نے چنگیز کے لشکر کو ادھیڑا اور اس کے مرکز تک جا پہنچا۔ پھر ستر ہزار کی مزید کمک چنگیز کو آن پہنچی۔ زخموں سے نڈھال سلطان گھیرے میں آگیا تو چنگیز نے حکم دیا اسے زندہ گرفتار کر کے پیش کیا جائے۔ سلطان کے سامنے چنگیز تھا اور پیچھے دریائے سندھ ۔ اُس نے گرفتاری دینے کی بجائے پہاڑ سے گھوڑا دریا میں ڈال دیا۔ یہ نسیم حجازی کی نہیں میجر ریوٹی کی روایت ہے کہ چنگیز خان کو اس کے تعاقب میں گھوڑا دریا میں ڈالنے کی ہمت نہ ہو سکی۔ وہ حیران کھڑا زخمی سلطان کو دیکھتا رہا ، اسے یقین نہیں آ رہا تھا کوئی یوں بھی کر سکتا ہے۔ پھر اس نے اپنی فوج کے سالاروں کو بلا کر کہا : اس شخص کو دیکھو، اس کی ماں کو اس پر فخر ہونا چاہیے ، کیسا بہادر پیدا کیا۔ لیکن یہی وہ وقت تھا جب سلطان کی ماں وہی پاس دریائے سندھ میں ڈوب رہی تھی۔*

*یہ واقعہ ازبک ، فارسی اور ترک لوک داستانوں کا حصہ ہے اور اس کی منظر کشی بھی کی گئی ہے۔ یہ مقام پاکستان میں ہے اور ’’ گھوڑا ترپ‘‘ کے نام سے مشہور ہے۔ لوگ دیکھتے ہیں اور یقین نہیں کرتے کہ کوئی یہاں پہاڑ سے سیدھا نیچے دریا میں گھوڑا کیسے ڈال سکتا ہے۔*

ﺍﯾﮏ ﭼﻮﮨﺎ ﮐﺴﺎﻥ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﺑﻞ ﺑﻨﺎ ﮐﺮ ﺭﮨﺘﺎ ﺗﮭﺎ، ﺍﯾﮏ ﺩﻥ ﭼﻮﮨﮯ ﻧﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮐﮧ ﮐﺴﺎﻥ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺑﯿﻮﯼ ﺍﯾﮏ ﺗﮭﯿﻠﮯ ﺳﮯ ﮐﭽﮫ ﻧﮑﺎﻝ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ،ﭼ...
27/06/2024

ﺍﯾﮏ ﭼﻮﮨﺎ ﮐﺴﺎﻥ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﺑﻞ ﺑﻨﺎ ﮐﺮ ﺭﮨﺘﺎ ﺗﮭﺎ،

ﺍﯾﮏ ﺩﻥ ﭼﻮﮨﮯ ﻧﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮐﮧ ﮐﺴﺎﻥ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺑﯿﻮﯼ ﺍﯾﮏ ﺗﮭﯿﻠﮯ ﺳﮯ ﮐﭽﮫ ﻧﮑﺎﻝ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ،ﭼﻮﮨﮯ ﻧﮯ ﺳﻮﭼﺎ ﮐﮧ ﺷﺎﯾﺪ ﮐﭽﮫ ﮐﮭﺎﻧﮯ ﮐﺎ ﺳﺎﻣﺎﻥ ﮨﮯ -
ﺧﻮﺏ ﻏﻮﺭ ﺳﮯ ﺩﯾﮑﮭﻨﮯ ﭘﺮ ﺍﺱ ﻧﮯ ﭘﺎﯾﺎ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺍﯾﮏ ﭼﻮﻫﮯﺩﺍﻧﯽ ﺗﮭﯽ - ﺧﻄﺮﮦ ﺑﮭﺎﻧﭙﻨﮯ ﭘﺮ ﺍﺱ ﻧﮯ ﮔﮭﺮ ﮐﮯ ﭘﭽﮭﻮﺍﮌﮮ ﻣﯿﮟ ﺟﺎ ﮐﺮ ﮐﺒﻮﺗﺮ ﮐﻮ ﯾﮧ ﺑﺎﺕ ﺑﺘﺎﺋﯽ ﮐﮧ ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﭼﻮﻫﮯﺩﺍﻧﯽ ﺁ ﮔﺌﯽ ﮨﮯ - ﮐﺒﻮﺗﺮ ﻧﮯ ﻣﺬﺍﻕ ﺍﮌﺍﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﻣﺠﮭﮯ ﮐﯿﺎ؟

ﻣﺠﮭﮯ ﮐﻮﻥ ﺳﺎ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﭘﮭﻨﺴﻨﺎ ﮨﮯ؟ ﻣﺎﯾﻮﺱ ﭼﻮﮨﺎ ﯾﮧ ﺑﺎﺕ ﻣﺮﻍ ﮐﻮ ﺑﺘﺎﻧﮯ ﮔﯿﺎ - ﻣﺮﻍ ﻧﮯ ﻣﺬﺍﻕ ﺍﮌﺍﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ... ﺟﺎ ﺑﮭﺎﻳﻴﮯ ﻣﯿﺮﺍ ﻣﺴﺌﻠﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ ﻣﺎﯾﻮﺱ ﭼﻮﮨﮯ ﻧﮯ ﺩﯾﻮﺍﺭ ﻣﯿﮟ ﺟﺎ ﮐﺮ ﺑﮑﺮﮮ ﮐﻮ ﯾﮧ ﺑﺎﺕ ﺑﺘﺎﺋﯽ

ﺍﻭﺭ ﺑﮑﺮﺍ ﮨﻨﺴﺘﮯ ﮨﻨﺴﺘﮯ ﻟﻮﭦ ﭘﻮﭦ ﮨﻮﻧﮯ ﻟﮕﺎ ﺍﺳﯽ ﺭﺍﺕ ﭼﻮﻫﮯﺩﺍﻧﯽ ﻣﯿﮟ ﻛﮭﭩﺎﻙ ﮐﯽ ﺁﻭﺍﺯ ﮨﻮﺋﯽ ﺟﺲ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺯﮨﺮﯾﻼ ﺳﺎﻧﭗ ﭘﮭﻨﺲ ﮔﯿﺎ ﺗﮭﺎ

ﺍﻧﺪﮬﯿﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺩﻡ ﮐﻮ ﭼﻮﮨﺎ ﺳﻤﺠﮫ ﮐﺮ ﮐﺴﺎﻥ ﮐﯽ ﺑﯿﻮﯼ ﻧﮯ ﺍﺱ ﮐﻮ ﻧﮑﺎﻻ ﺍﻭﺭ ﺳﺎﻧﭗ ﻧﮯ ﺍﺳﮯ ﮈﺱ ﻟﯿﺎ - ﻃﺒﯿﻌﺖ ﺑﮕﮍﻧﮯ ﭘﺮ ﮐﺴﺎﻥ ﻧﮯ ﺣﮑﯿﻢ ﮐﻮ ﺑﻠﻮﺍﯾﺎ، ﺣﮑﯿﻢ ﻧﮯ ﺍﺳﮯ ﮐﺒﻮﺗﺮ ﮐﺎ ﺳﻮﭖ ﭘﻼﻧﮯ ﮐﺎ ﻣﺸﻮﺭﮦ ﺩﯾﺎ،

* ﮐﺒﻮﺗﺮ ﺍﺑﮭﯽ ﺑﺮﺗﻦ ﻣﯿﮟ ﺍﺑﻞ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ
ﺧﺒﺮ ﺳﻦ ﮐﺮ ﮐﺴﺎﻥ ﮐﮯ ﮐﺌﯽ ﺭﺷﺘﮧ ﺩﺍﺭ ﻣﻠﻨﮯ ﺁ ﭘﮩﻨﭽﮯ ﺟﻦ ﮐﮯ ﮐﮭﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﺍﻧﺘﻈﺎﻡ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﺍﮔﻠﮯ ﺩﻥ ﻣﺮﻍ ﮐﻮ ﺫﺑﺢ ﮐﯿﺎ ﮔﯿﺎ ﮐﭽﮫ ﺩﻧﻮﮞ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﮐﺴﺎﻥ ﮐﯽ ﺑﯿﻮﯼ ﻣﺮ ﮔﺌﯽ

ﺟﻨﺎﺯﮦ ﺍﻭﺭ ﻣﻮﺕ ﺿﯿﺎﻓﺖ ﻣﯿﮟ ﺑﮑﺮﺍ کاٹنے ﮐﮯ ﻋﻼﻭﮦ ﮐﻮﺋﯽ ﭼﺎﺭﮦ ﻧﮧ ﺗﮭﺎ

ﭼﻮﮨﺎ ﺩﻭﺭ ﺟﺎ ﭼﮑﺎ ﺗﮭﺎ!
ﺑﮩﺖ ﺩﻭر. ﺍﮔﻠﯽ ﺑﺎﺭ ﮐﻮﺋﯽ ﺁﭖ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﻣﺴﺌﻠﮯ ﺑﺘﺎﺋﮯ ﺍﻭﺭ ﺁﭖ ﮐﻮ ﻟﮕﮯ ﮐﮧ ﯾﮧ ﻣﯿﺮﺍ ﻣﺴﺌﻠﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ ﺗﻮ ﺍﻧﺘﻈﺎﺭ ﮐﯿﺠﺌﯿﮯ ﺍﻭﺭ ﺩﻭﺑﺎﺭﮦ ﺳﻮﭼﯿﮟ
ﮨﻢ ﺳﺐ ﺧﻄﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﮨﯿﮟ ﺳﻤﺎﺝ ﮐﺎ ﺍﯾﮏ ﻋﻀﻮ، ﺍﯾﮏ ﻃﺒﻘﮧ، ﺍﯾﮏ ﺷﮩﺮﯼ ﺧﻄﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﮨﮯ ﺗﻮ ﭘﻮﺭﺍ ﻣﻠﮏ ﺧﻄﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﮨﮯ ﺫﺍﺕ ﻣﺬﮨﺐ ﺍﻭﺭ ﻃﺒﻘﮯ ﮐﮯ ﺩﺍﺋﺮﮮ ﺳﮯ ﺑﺎﮨﺮ ﻧﻜﻠﻴﮯ -

ملازم بڑا ہی تابعدار تھا۔مالک نے خوش ہو کے اس کی پانچ ہزار تنخواہ بڑھا دی۔ تابعداری میں فرق نہیں آیا لیکن وہ بہت زیادہ م...
22/06/2024

ملازم بڑا ہی تابعدار تھا۔
مالک نے خوش ہو کے اس کی پانچ ہزار تنخواہ بڑھا دی۔

تابعداری میں فرق نہیں آیا
لیکن وہ بہت زیادہ مشکور بھی نہیں ہوا۔

مالک کو بڑا غصہ آیا کہ میں نے اس کی تنخواہ بڑھائی
لیکن یہ ہے کہ اچھے سے شکریہ بھی ادا نہیں کیا۔
اس نے اگلے ماہ تنخواہ پانچ ہزار کم کر دی۔

ملازم کی ‏تابعداری اب بھی وہی رہی کوئی شکایت نہیں کی۔
مالک نے اسے بلوا بھیجا اور کہا، "بڑے عجیب انسان ہو،
میں نے تمھاری تنخواہ پانچ ہزار بڑھائی، پھر کم کر دی۔

تم جوں کے توں رہے۔ یہ سب کیا ہے؟"

ملازم بولا، "اوہ! آپ نے خود کو رازق سمجھ لیا تھا؟

میرے ہاں بیٹا پیدا ہوا تو اس سے اگلے دن آپ نے تنخواہ پانچ ‏ہزار بڑھا دی۔ میں سمجھ گیا کہ جس خالق نے بچہ دیا اسی نے رزق کا انتظام بھی ساتھ ہی کر دیا ہے،
سو اسی کا شکریہ ادا کیا۔
پھر جس دن آپ نے تنخواہ کم کر دی
اسی دن میری والدہ وفات پا گئیں۔
میں نے جان لیا کہ وہ اپنا رزق اپنے ساتھ لے گئیں۔
سو تب بھی اللہ کا شکر ادا کر کے مطمئن رہا۔"

پھر بولا، "صاحب، ‏یہ روزی روٹی کے فیصلے کہیں اور ہی ہوتے ہیں۔
ہم تو بس مہرے ہیں جنہیں آگے پیچھے کرکے اسباب پیدا کیا جاتے ہیں۔"
سبحان اللہ ، الحمدللہ ، اللہ اکبر☝.

Address

Multan
65000

Telephone

+923457354932

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Pyar k sadke posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Establishment

Send a message to Pyar k sadke:

Share