03/02/2025
جانا ٹھہرا ھے، تو آداب و سلیقے سے نکل
سانس کی گٹھڑی اٹھا، عمر کے میلے سے نکل
تُو ہتھیلی پہ دھری خاک سے بڑھ کر کیا ھے
یہ جو ہونے کا تجھے وہم ھے، ہونے سے نکل
عصر ہو جائے تو پھر دھوپ ٹھہرتی کب ھے
اب فقط لمحوں کو گن، سال مہینے سے نکل