18/07/2026
🌾 پاکستان کا زرعی شعبہ: 5-6 سال پہلے بمقابلہ آج کے حالات 🌾
السلام علیکم ایگرو ورلڈ (AgroWorld) کے معزز دوستو!
آج ہم ایک ایسے موضوع پر بات کرنے جا رہے ہیں جو پاکستان کے ہر کسان، زمیندار اور زراعت سے وابستہ شخص کے دل کی آواز ہے۔ گزشتہ چند برسوں میں ہمارے ملک کے زرعی منظر نامے میں بہت بڑی تبدیلیاں آئی ہیں۔ آئیے ایک ایماندارانہ موازنہ کرتے ہیں کہ 5-6 سال پہلے (2020-2021) ہمارے زراعت کے کیا حالات تھے اور آج (2026) ہم کہاں کھڑے ہیں۔
1۔ لاگتِ پیدائش (Input Costs)
5-6 سال پہلے: کھاد (یوریا، ڈی اے پی)، تصدیق شدہ بیج اور پیسٹی سائیڈز (زرعی ادویات) کی قیمتیں عام کسان کی پہنچ میں تھیں۔ لاگت کم ہونے کی وجہ سے کسان سکون سے فصل کاشت کر لیتا تھا اور نقصان کا خطرہ کم تھا۔
آج کے حالات: مہنگائی اور روپے کی قدر میں کمی کی وجہ سے زرعی ان پٹس کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں۔ اچھے بیج اور معیاری ادویات خریدنا اب ایک عام کسان کے لیے چیلنج بن چکا ہے، جس کی وجہ سے فی ایکڑ لاگت دگنی سے بھی زیادہ ہو چکی ہے۔
2۔ آبپاشی اور توانائی کے اخراجات (Irrigation & Fuel)
5-6 سال پہلے: ڈیزل کی قیمتیں اور بجلی کے ٹیرف نسبتاً مستحکم تھے۔ ٹیوب ویل چلانا اور فصلوں کو پانی دینا اتنا بھاری نہیں پڑتا تھا، جس سے کسان پاشی کے اخراجات آسانی سے برداشت کر لیتا تھا۔
آج کے حالات: پٹرولیم مصنوعات اور بجلی کے بھاری بلوں نے کسان کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔ اب پاشی پر آنے والے اخراجات فصل کے کل منافع کا ایک بڑا حصہ نگل جاتے ہیں، اور پانی کی دستیابی بھی پہلے سے زیادہ مشکل ہو چکی ہے۔
3۔ موسمیاتی تبدیلیاں (Climate Change)
5-6 سال پہلے: موسموں میں بدلاؤ آ رہا تھا، لیکن اس کی شدت اتنی غیر متوقع نہیں تھی۔ فصلوں کے سائیکل (بوائی اور کٹائی کا وقت) کافی حد تک شیڈول کے مطابق چلتے تھے۔
آج کے حالات: حالیہ برسوں میں بے وقت کی بارشوں، شدید گرمی کی لہروں (Heatwaves) اور موسمیاتی تبدیلیوں نے کپاس، گندم اور چاول کی فصلوں کو شدید متاثر کیا ہے۔ کسان کی پوری محنت ایک ہی طوفان یا غیر متوقع موسم کی وجہ سے خطرے میں پڑ جاتی ہے۔
4۔ مارکیٹ ریٹ اور کسان کا منافع (Market Rates & Returns)
5-6 سال پہلے: اگرچہ فصلوں کے سرکاری ریٹ آج کے مقابلے کم تھے، لیکن چونکہ لاگتِ پیدائش کم تھی، اس لیے کسان کے پاس بچت (Profit Margin) بہتر ہوتی تھی۔ کسان خوشحال تھا کیونکہ مارکیٹ میں استحکام تھا۔
آج کے حالات: فصلوں کے ریٹ (جیسے گندم، کپاس، یا دھان) بظاہر زیادہ نظر آتے ہیں، لیکن جب اس کا موازنہ کھاد، اسپرے اور ڈیزل کے اخراجات سے کیا جائے تو کسان کے ہاتھ میں کچھ نہیں بچتا۔ بعض اوقات تو لاگت بھی پوری نہیں ہوتی۔
📝 خلاصہ: پہلے حالات ٹھیک تھے یا اب؟
اگر حقیقت پسندی سے دیکھا جائے تو 5-6 سال پہلے کے حالات آج کے مقابلے میں بہت بہتر اور مستحکم تھے۔ اس وقت زراعت ایک منافع بخش اور پرسکون پیشہ تھا کیونکہ کسان کو اپنی لاگت کا اندازہ ہوتا تھا اور مارکیٹ میں اتنی غیر یقینی صورتحال نہیں تھی۔
آج کا کسان صرف فصل نہیں اگا رہا، بلکہ وہ مہنگائی، موسم اور مارکیٹ کے اتار چڑھاؤ کے خلاف ایک جنگ لڑ رہا ہے۔ زراعت کو دوبارہ پیروں پر کھڑا کرنے کے لیے کسانوں کو سستی بجلی، سستی کھاد اور جدید ٹیکنالوجی کی فوری ضرورت ہے۔
آپ کی کیا رائے ہے؟
ایگرو ورلڈ کے معزز زمیندار بھائیو اور دوستو! آپ کے خیال میں آپ کو کس دور میں زیادہ بچت اور سکون تھا؟ نیچے کمنٹس میں اپنی قیمتی رائے کا اظہار ضرور کریں اور بتائیں کہ آپ کو اس وقت کن بڑے چیلنجز کا سامنا ہے۔
#کاشتکاری