26/07/2025
چھوٹی لالٹین والی لڑکی
ایک پہاڑی گاؤں میں آمنہ نامی ایک ننھی سی بچی رہتی تھی۔ اس کی عمر صرف نو سال تھی، لیکن گاؤں کے سب لوگ اسے "چھوٹی لالٹین والی لڑکی" کہتے تھے۔ ہر شام وہ ایک روشن لالٹین لے کر گلیوں میں نکلتی، بزرگوں کا راستہ دکھاتی اور بچوں کو ان کے گھروں تک پہنچنے میں مدد دیتی۔
آمنہ نے بچپن میں ایک طوفان کے دوران اپنے ماں باپ کو کھو دیا تھا۔ تب سے وہ اپنی نانی کے ساتھ رہتی تھی۔ نانی ہمیشہ کہتی تھیں: "بیٹا، جب دنیا اندھیرے میں ہو تو تم روشنی بن جانا۔" آمنہ نے یہ بات دل سے لگا لی۔
ایک سردی کی رات اچانک زور دار برفانی طوفان آ گیا۔ بجلی چلی گئی اور پورا گاؤں اندھیرے میں ڈوب گیا۔ لوگ خوفزدہ ہو گئے۔ آمنہ نے اپنی چھوٹی سی لالٹین جلائی اور باہر نکل پڑی۔ وہ ایک ایک گھر جا کر آواز لگاتی رہی، لوگوں کو بلاتی اور محفوظ مقام، یعنی کمیونٹی ہال تک پہنچاتی۔
صبح تک طوفان ختم ہو چکا تھا۔ گاؤں پھر سے پرسکون ہو گیا تھا، مگر سب کے دلوں میں آمنہ کی ہمت، محبت اور روشنی بس چکی تھی۔
اس دن کے بعد کوئی اسے صرف "آمنہ" نہیں کہتا تھا۔ وہ امید اور مہربانی کی علامت بن گئی — ایک ننھی بچی جس نے اندھیرے کو روشن کر دیا۔