11/01/2026
"کبھی رک گئے، کبھی چل دیئے، کبھی چلتے چلتے بھٹک گئے
یوں ہی عمر ساری گزار دی، یوں ہی زندگی کے ستم سہے،
کبھی نیند میں، کبھی ہوش میں، تو جہاں ملا تجھے دیکھ کر
نہ نظر ملی، نہ زباں ملی، یوں ہی سر جھکا کے گزر گئے،
کبھی زلف پر، کبھی چشم پر، کبھی تیرے حسیں وجود پر
جو پسند تھے میری کتاب میں، وہی شعر سارے بکھر گئے،
مجھے یاد ہے کبھی ایک تھے، مگر آج ہم ہیں جدا جدا
وہ جدا ہوۓ تو سنور گئے، ہم جدا ہوۓ تو بکھر گئے،
کبھی عرش پر، کبھی فرش پر، کبھی ان کے در کبھی در بدر
غم عاشقی تیرا شکر یہ، ہم کہاں کہاں سے گزر گئے
پروین شاکر💔💔