04/06/2025
صبح کا وقت تھا، ہوا میں ہلکی سی نمی اور مٹی کی خوشبو تھی۔ میں ایک سبزے سے بھرے میدان سے گزر رہا تھا۔ زمین گھاس سے ڈھکی ہوئی تھی اور ہر طرف زندگی سانس لیتی محسوس ہو رہی تھی۔
اچانک میری نظر زمین پر پڑی تو جیسے منظر رک سا گیا۔ ایک ہاتھ بھر کے رقبے میں قدرت کا ایک عجیب و غریب مظاہرہ بکھرا ہوا تھا۔ سبز رنگ کے چمکدار، موٹے، ہلکے نیلے دھاریاں لیے ہوئے کیڑے— بظاہر خوفناک، مگر حیرت انگیز حد تک خوبصورت۔
میں نے جھک کر انہیں ہاتھ میں اٹھایا۔ وہ "ہاک موٹھ" کے بچے تھے— ایک ایسی مخلوق جو زندگی کا سفر زمین سے آسمان تک طے کرتی ہے۔ یہ وہ کیڑے ہیں جو کل تتلی بن کر اُڑیں گے۔
ایک لمحے کو میں رُک گیا۔ سوچا، ہم انسان بھی شاید انہی کی طرح ہوتے ہیں۔ ابھی نامکمل، ابھی سفر میں، مگر وقت اور تبدیلی کے ساتھ پروان چڑھتے ہوئے، ایک نئی شکل، ایک نئی اڑان کی طرف۔
قدرت ہر روز ہمارے سامنے کوئی نہ کوئی پیغام رکھتی ہے... بس نظر چاہیے، لمحہ چاہیے۔
جو کیڑا کل تتلی بنے گا، آج شاید ہمیں عجیب لگے...