18/08/2025
بابا حضور حضرت واصف علی واصف رحمتہ اللہ علیہ ،
سوال:علم حاصل کرنے کے شوق کا طریقہ کیا ہے ؟
جواب:
: اسکا طریقہ یہ ہے کہ،
" عشق کی اک جست نے طے کردیا قصہ تمام۔ "
:اب یہ نہ کرنا کہ عشق کرنا شروع کر دینا۔
:جب عشق عطا ہوتا ہے تو علم ہی علم بن جاتا ہے،"
:درد عطا ہوتا ہے تو شاعری بن جاتی ہے،'
:ورنہ شاعر بننے کا کوئی اور طریقہ نہیں۔"
:جب درد عطا ہوتا ہے تو پھر وہ شعر کہنا شروع کر دیتا ہے،
"اس کے جو آنسو ہیں نغمات بن جاتے ہیں،
"کئی واقعات ہوتے ہیں،
:اس کے جو خطوط ہوتے ہیں
:بعد میں نادر تحریریں بن جاتی ہیں،
:اور بڑے بڑے واقعات شروع ہو جاتے ہیں،
:یہ علم ہی بنتا جا رہا ہے'
" تو علم جو ہے تعلق سے بنتا ہے، "
" علم عطا سے بنتا ہے،
" علم محبت سے بنتا ہے،
" محبت کا جب بھی بیان ہو گا وہ علم ہی ہوگا،
" علم تو عطا ہو جاتا ہے ،
: لیکن تعلیم جو ہے اسکا شارٹ کٹ کوئی نہیں ہے، '"
" آپ کو اسکی get through guide کوئی نہیں ملے گی ،تعلیم میں طالبعلم کو پڑھنا ہی پڑے گا۔
" اگر آپ تعلیم کے زمانے میں ہیں تو آپ کو ضرور تعلیم حاصل کرنی پڑے گی اور علم کا دور آئے گا تو خود بخود ہی علم مل جائے گا۔ "
جس طرح کہانی کی بات ہے
کہ دنیا میں کہانی کیسے پیدا ہوئی ؟
تو کہانی خود بخود ہی پیدا ہوئی ، کہانی کا کوئی طریقہ نہیں ہے،پہلا بچہ پیدا ہوا تو کہانی پیدا ہو گئی ۔
کسی شخص نے کچھ بیان کیا تو کہانی بن گئی، تجربہ کہانی بنتا ہے،
"واقعات علم بن جاتے ہیں،اور مشاہدہ علم بن جاتا ہے،
" اصلی علم جو ہے وہ محبت ہے'
" تو یہ سفر سے بنتا ہے،
" تو سفر جو ہے یہ خود بخود علم بن جاتا ہے،
: آپ کہاں گئے تھے؟
"کہتا ہے میں وہاں گیا تھا'پھر سفر کا حال بیان کیا،
تو بولتا چلا گیا،،،
" ایک سفر کیا اور بیس سال سے بیان کرتا جارہا ہے،
" یہ بھی علم ہے'
" تو مشاہدہ علم بنتا ہے،
" سفر علم بنتا ہے،
" تکلیف علم بنتی ہے،
" محبت علم بنتا ہے،
" اور یہ سارا علم ہی علم ہے،
" بعض اوقات کوئی آدمی پاس سے گزرے توعلم دے جاتا ہے
: اور جاتے جاتے کہتا ہے
کہ یہ سنبھالنا،پھر پتہ چلتا ہے
کہ وہ علم دے گیا۔
ایسے بھی کوئی علم دیتا ہے۔بعض اوقات کوئی ذات دور سے بھی گزرے تب بھی علم دے جاتی ہے،
بعض اوقت زمانے کا انقلاب آپ کو علم دے جاتا ہے،
حالات زمانہ علم بنتا ہے،
بعض اوقات علم وراثت میں آتا ہے،
کہ بظاہر کوئی وجہ نہیں تھی ،بس بیٹھے بیٹھے علم نازل ہونا شروع ہو گیا ۔۔۔۔۔۔
: بعد میں پتہ چلا کہ باپ علم تھا
جو اندر سے پھوٹ نکلا،
جیسے بڑ کے درخت کی جڑ نکلتی ہے تو اندر سے علم پیدا ہو گیا
جو ایک ہی جیسا تھا،
ایک درخت کا بیٹا بھی اسی درخت کا بیٹا ہوگا
یعنی آم کا بیٹا آم ہی ہو گا،
تو یہی علم ہے،
والدین کا علم بزرگوں کا علم،
ماں باپ کا علم اولاد میں generate ہوتا رہتا ہے،"
" اسکا نسخہ کوئی نہیں ہے، بحرحال یہ ہو سکتا ہے۔ "
گفتگو سرکار امام حضرت واصف علی واصف رحمۃ اللّٰہ علیہ