22/12/2025
یہ تصاویر مردان کے صرف ایک یونین کونسل گلی باغ 2 کی ایک سڑک کی حالت دکھاتی ہے باقی شہر کا اندازہ آپ خود لگا لے۔
یہ سڑک پہلے سے پکی اور مکمل طور پر قابلِ استعمال تھی اور عوام روزمرہ آمدورفت کے لیے بغیر کسی مسئلے کے استعمال کر رہی تھی۔
KPCIP (Khyber Pakhtunkwa Cities Improvement Project)(ADB کے تحت) منصوبے کے دوران اس سڑک کو صرف اس مقصد کے لیے کھودا گیا کہ اس کے نیچے سیوریج لائن بچھائی جائے، مگر بدقسمتی سے زیرِ زمین کام مکمل کرنے کے بعد سڑک کو بحال ہی نہیں کیا گیا۔ نتیجتاً ایک درست اور کارآمد اسفالٹ سڑک کو جان بوجھ کر برباد کر کے کیچڑ، پھسلن اور خطرناک راستے میں تبدیل کر دیا گیا۔
یہ صورتحال کسی حادثے کا نتیجہ نہیں بلکہ منصوبہ بندی کے تحت کی گئی کھدائی کے بعد سنگین غفلت کا ثبوت ہے۔ مردان میں اس منصوبے کی ذمہ دار ادارہ Wsscm Mardan M ہے، مگر سڑک کو اس کی اصل حالت میں واپس لانا، جو کہ ہر ایسے منصوبے کا لازمی حصہ ہوتا ہے، مکمل طور پر نظر انداز کر دیا گیا ہے۔ یہ عوام کے ساتھ سراسر ناانصافی ہے کہ ترقی کے نام پر موجود سہولت کو ختم کر دیا جائے اور اس کا کوئی متبادل فراہم نہ کیا جائے۔
آج اس سڑک پر چلنا عام شہری، موٹر سائیکل سوار، بزرگ افراد اور بچوں کے لیے روزانہ کا خطرہ بن چکا ہے۔ گاڑیاں پھسلتی ہیں، حادثات کا خدشہ رہتا ہے، اور بارش یا پانی کے بعد یہ راستہ مکمل طور پر ناقابلِ استعمال ہو جاتا ہے۔ خشک موسم میں یہی سڑک گرد و غبار کا مرکز بن کر سانس اور صحت کے مسائل پیدا کرتی ہے۔ یہ سب اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ منصوبہ عوامی بہتری کے بجائے عوامی مشکلات میں اضافہ کر رہا ہے۔ کام کی رفتار انتہائی سست اور معیار واضح طور پر تیسرے درجے کا ہے، جس سے اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ باقی علاقوں کی صورتحال بھی مختلف نہیں ہوگی۔ یہ صورتحال منصوبے کی مجموعی نگرانی، کنٹریکٹر کی اہلیت اور فنڈز کے درست استعمال پر سنگین سوالات اٹھاتی ہے۔
ایک ایسا ترقیاتی منصوبہ جو پہلے سے موجود پکی سڑکوں کو تباہ کر دے اور مہینوں تک بحال نہ کرے، کسی بھی صورت میں قابلِ قبول نہیں ہو سکتا۔ اگر سیوریج لائن کے لیے سڑک کھودی گئی تھی تو اسے فوری طور پر اسفالٹ کی اصل حالت میں واپس لانا اداروں کی بنیادی ذمہ داری تھی، کوئی احسان نہیں۔ جب تک متاثرہ سڑکیں مکمل طور پر بحال نہیں کی جاتیں، ایسے منصوبوں کو ترقی نہیں بلکہ انتظامی ناکامی اور عوامی اعتماد سے کھلا مذاق ہی کہا جائے گا۔۔
Wsscm Mardan
Deputy Commissioner Mardan