Balakot News Network

Balakot News Network Saqib DURRANI Balakot

05/06/2025
26/05/2025

فضا میں ہونے والی جنگی طیاروں کی لڑائی کو "ڈاگ فائٹ"
کہا جاتا ہے۔
اب تک کی سب سے لمبی ڈاگ فائٹ جنگ عظیم دوئم میں ہوئی تھی جو تقریباً 52 منٹ تک چلی تھی مگر اب حالیہ پاک بھارت کی کشیدگی میں پاکستان اور انڈیا کی فضائیہ کے درمیان ہونے والی ڈاگ فائٹ کو تاریخ کی سب سے لمبی چلنے والی ڈاگ فائٹ قرار دیا جارہا ہے جو کہ تقریباً ایک گھنٹہ تک جاری رہی۔ اس ڈاگ فائٹ کی تفصیل میں جانے سے پہلے میں آپ کو تھوڑاسا ماضی میں لے جانا چاہتا ہوں۔

2019ء میں پاکستانی فضائیہ کے ہاتھوں مِگ طیاروں کی تباہی اور ابھینندن کی گرفتاری نے بھارت کو ساری دنیا میں شرمسار کردیا تھا۔ بھارت کو تب بہت زیادہ ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا تھا ۔ تب بھارت میں یہ بات بہت زور شور سے اٹھائی گئی تھی کہ پاکستان کے پاس F-16 اورJF-17 تھنڈر جیسے جدید طیارے موجود ہے جبکہ بھارت ابھی بھی MIG-29 جیسے 40 سال پرانے جہاز اڑا رہا ہے جنہیں Flying Coffin یعنی اڑتے ہوئے تابوت کہا جاتا ہے۔تب بھارت میں دفاعی تجزیہ نگاروں اور سابقہ فوجی افسران نے حکومت سے مطالبہ کیا تھا بھارتی فضائیہ کو پاکستان کی طرح جدید بنایاجائے اور شاید یہ بھارتی فضائیہ کی جانب سے دباؤ ہی تھا کہ ایک تقریب میں مودی کو کہنا پڑا تھا کہ اگر رافیل ہوتا تو یہ سب نا ہوتا۔

رافیل 4.5 جنریشن کا طیارہ ہے جو دنیا میں دوسرا جدید ترین طیارہ تصور کیا جاتا ہے جب کہ پہلے نمبر پر امریکہ کا F-35 طیارہ ہے جوکہ 5th جنریشن طیارہ ہے۔ بھارت نے پہلے امریکہ سے F-35 طیارہ خریدنے کی بات کی تھی تو امریکہ نے یہ کہہ کر منع کردیا تھا کہ آپ کے پائلٹس اس قابل نہیں کہ انہیں F-35 جیسا جدید طیارہ فراہم کیا جاسکے۔اس بات پر انڈیا میں بہت لے دے ہوئی تھی اور انڈین میڈیا میں یہ خبر کافی دنوں تک چھائی رہی۔ امریکہ سے انکار سننے کے بعد بھارت نے فرانس سے رافیل طیارے خریدنے کی بات کی اور یوں بھارت اور فرانس میں 36 طیاروں کا معاہدہ طے پاگیا۔

فرانس سے طیارے لینے کے بعد اب باری تھی ایئر ڈیفنس کو مظبوط کرنے کی۔ بھارت نے فرانس سے طیارے لینے کے بعد روس سے منہ مانگے داموں اب تک کا سب سے جدید دفاعی نظام S-400 خریدا ۔اس S-400کی وجہ سے انڈیا اور امریکہ کے درمیان حالات بھی کشیدہ ہوئے مگر پھر بھی بھارت اس ڈیل سے پیچھے نہیں ہٹا اور روس سے S-400 ایئر ڈیفنس سسٹم لیکر ہی مانا۔ جدید طیاروں اور ایئر ڈیفنس سسٹم کے بعد بھارت اسرائیل کے پاس گیا اور اُس سے اب تک کہ سب سے جدید ڈرونز خریدنے کا معاہدہ کیا۔ 2019ء سے لیکر 2025ء تک بھارت نے پاکستان پر اپنی فضائی برتری ثابت کرنے کیلئے ساری دنیا کی جدید ٹیکنالوجی خرید ڈالی۔

بھارت نے پورے چھ سال تک اپنی فضائیہ کو تیار کیا تاکہ اُس ہزیمت کا بدلہ لیا جاسکے جو اس نے 2019ء میں اٹھائی تھی۔ جب بھارت سب کچھ خرید چکا تو اب باری تھی پاکستان کے ساتھ دو دو ہاتھ کرنے کی اور اپنی فضائی برتری پاکستان پر ثابت کرنے کی۔ جبکہ پاکستان نے اس سارے عرصے میں چین سے J-10C طیارے اور PL-15 میزائل خرید لیئے ۔

اب آتے ہیں پاکستان اور بھارت کی فضائیہ کے درمیان ہونے والی سب سے لمبی ڈاگ فائٹ کی۔ بھارت کے تقریباً 80 کے قریب جنگی جہازوں نے پاکستان کی طرف اڑان بھری ۔ پاکستانی فضائیہ نے چین کی مدد سے PL-15 میزائلوں کو سیٹلائٹ سےConnect کر رکھا تھا ۔ PL-15 میزائل کی رفتار آواز کی رفتار سے 5 گنا زیادہ ہے اور یہ 300 کلومیٹردور سے اپنے ٹارگٹ کو نشانہ بنا سکتا ہے۔ یعنی ایک طیارہ جو کہ فضا میں اڑ رہا ہے اسے یہ میزائل 300 کلومیٹر دور سے نشانہ بناسکتا ہے اور اس جہاز کو یہ سمجھنے کا موقع بھی نہیں ملے گا کہ آخر اسے نشانہ بنایا کہاں سے جارہا ہے۔ اور یہی کچھ بھارت کے ساتھ ہوا۔

پاکستان نے زمین سے لیکر آسمان اور پھر سیٹلائٹ تک چین کی مدد سے ایک جال بُن رکھا ہے جو اس جال میں پھنسے گا وہ زندہ واپس نہیں جائے گا اور یہی کچھ بھارتی طیاروں کے ساتھ ہوا ۔ پاکستانی فضائیہ انہیں گھیر کر اپنے جال میں لے آئی اور PL-15 نے بھارتی جہازوں کا ٹارگٹ کرنا شروع کردیا۔ PL-15 میزائل 300کلومیٹر دور سے آتا تھا اور بھارتی پائلٹس کو تب پتا چلتا تھا جب میزائل صرف 50 کلومیٹر دور رہ جاتا تھا۔ اور PL-15 کو 50 کلومیٹر کا سفر طے کرنے میں صرف 8 سیکنڈز لگتے ہیں تو اب 8 سیکنڈز میں بھارتی پائلٹس کیا ہی اکھاڑ سکتے تھے ۔نا تو 8 سیکنڈز میں طیارہ واپس موڑا جاسکتا ہے اور ناہی PL-15 میزائل سے پیچھا چھڑایا جاسکتا تھا۔ پھر وہی ہوا جو ہونا تھا یعنی بھارتی طیارے گرکر تباہ ہونا شروع ہوگئے۔

پاکستان نے بھارتی طیاروں کو بھارتی حدود میں ہی نشانہ بنانا شروع کردیا تھا اس لیے بھارتی طیاروں کا ملبہ انڈین پنجاب اور جموں کشمیر میں گرا۔ یہ صورتحال دیکھ کر باقی بھارتی طیارے واپس بھاگ گئے۔ اسی لئے تو پاکستان نے کہا تھا کہ ہم نے ابھی تحمل سے کام لیا ورنہ مزید طیارے بھی گرا سکتے تھے۔ اس واقعے کے بعد بھارتی فضائیہ کی حالت یہ ہوگئی کہ بھارت نے اپنے تمام طیارے پاکستانی سرحد سے 300 کلومیٹر دور پارک کردیئے اور اگلے دو دن تک اپنی شرمندگی کو چھپانے کیلئے پاکستان پر اسرائیلی ڈرون مارتا رہا۔پہلے دن بھارت نے پاکستان پر 30اور دوسرے دن 48ڈرونز مارے۔

10مئی کی صبح فجر کے بعد پاکستان نے بھارتی میڈیا کے مطا بق بھارت پر 600 ڈرونز اور 100 میزائل داغ دیئے۔ ان ڈرونز اور میزائلوں نے بھارت کو اوپر سے لیکر نیچے تک ہلا کر رکھ دیا ۔ پاکستان نے پاکستانی سرحد کے قریب بھارت کی تمام ایئر سٹرپس کہ جن پر سے جنگی جہاز اڑان بھرتے تھے، کو تباہ کردیا۔ جموں کشمیر میں بھارتی فوج کا ہیڈ کوارٹر اڑادیا۔ ادھم پور میں بھارتی میزائلوں کا ذخیرہ اڑا دیا ۔ پاکستانی ڈرونز دہلی میں جاکر گِرے۔ بات یہی تک محدود نہیں پاکستان نے بھارت پر سائبر حملہ کرکے ایئر لائنز کا ڈیٹا اڑا دیا، گرڈ اسٹیشنوں کو غیر فعال کردیا اور ٹرینوں کو جام کردیا۔ پاکستان کے ان حملوں کی وجہ پورے بھارت میں Panic پھیل گیا ۔

بھارت میں 140 کروڑ لوگ رہتے ہیں ، ان کو سنبھالنا بھارت کیلئے وبال جان بن چکا تھا۔ پاکستانی حملوں کی وجہ سے پوری بھارتی فضائیہ ڈر کر چھپ کر بیٹھ گئی تھی۔ نوبت یہاں تک آگئی کہ بھارتی فضائیہ کو اندیشہ تھا اگر جہاز پاکستانی سرحد کے 200کلو میٹر قریب بھی گئے تو PL-15 میزائل انہیں نشانہ بنالے گا۔ ڈرونز ، میزائلوں اور سائبر حملوں کے بعد بھارت کی حالت یہ تھی کہ بھارتی فضائیہ کہیں نظر نہیں آرہی تھی اور بھارتی فوج کی بھی حالت پتلی تھی ۔ سارا بھارتی آسمان پاکستان کی فضائیہ کیلئے کھلا ہوا تھا۔ ہمارے طیاروں نے بعد میں بھارت کے اندر گھس کر S-400 بھی تباہ کردیا۔ اگر پاکستان چاہتا تو اپنی فضائیہ اور زمینی فوج کے ذریعے بھارت کے اندر جہاں تک مرضی گھس سکتا تھااور کشمیر پر قبضہ کرسکتا تھا۔ مگر تبھی بھارتی فوج کو حالات کی سنگینی کا اندازہ ہوا اور انہوں نے فوراً صبح 10 بجے پریس کانفرنس کرکے کہا اگر پاکستانی فوج اپنی پیش قدمی روک دے تو ہم بھی مزید کشیدگی نہیں چاہتے۔

اُس کے بعد بھارت نے CNN کے صحافی کے مطابق دبئی، سعودی عرب اور ترکی کے پاؤں پکڑے کہ پاکستان کوروکو ہم جنگ بندی کیلئے تیار ہے۔ دن 12 بجے چین کے وزیر خارجہ نے بیان دیا کہ ہم پاکستان کے ساتھ پورے طریقے سے کھڑے ہیں۔ یہ بیان بھارت پر قیامت بن کر گرا ۔ بھارت نے فوراً ٹرمپ کے پاؤں پکڑے کہ جہاں پناہ پاکستان اندر گھسنے ہی والاہے اگر اُس کے ساتھ چین نے بھی لداخ میں اپنی آرمی ایکٹو کردی تو ہمارا کیا بنے گا۔ تبھی ٹرمپ نے فوراً پاکستان سے رابطہ کیا اور زبردستی جنگ بندی کروادی۔

اگلے دن بھارتی فوج نے 3 دفعہ پریس کانفرنس کی اور تینوں دفعہ یہی کہا کہ ہم مزید کشیدگی نہیں چاہتے اور پاکستان تحمل سے کام لے۔ حد توتب ہوگئی جب شام 5 بجے بھارتی حکومت اور فوج نے خود سے ہی جنگ بندی کا اعلان کردیا جبکہ پاکستان نے یہی کام رات 11 بجے کیا۔ بھارت نے اس بات کا بھی انتظار نہیں کیا کہ جنگ بندی تو دونوں اطراف سے ہوتی ہے اور پاکستان نے تو ابھی تک کوئی جنگ بندی کا اعلان نہیں کیا۔ بھارت نے اپنی طرف سے پہلے جنگ بندی کا اعلان کرکے یہ ثابت کردیا کہ وہ شکست تسلیم کرچکا ہے۔ پاکستان ہمیشہ زندہ باد
Pakistan zindabad..
Pak army zindabad...

24/05/2025

گرمی کی شدید لہر نے پاکستان کو اپنی لپیٹ میں لیا ہوا ہے۔لیکن اس لہر اور اس کے خطرناک اثرات پر بحث، تحقیق اور گفتگو برطانیہ اور امریکہ میں ہو رہی ہے۔ امپیریل کالج لندن اور یونیورسٹی آف ہوائی میں محققین بیٹھے سوچ رہے ہیں کہ موسم کی یہ انگڑائی پاکستان کا کیا حشر کر سکتی ہے لیکن پاکستان کی کسی یونیورسٹی کے لیے یہ سرے سے کوئی موضوع ہی نہیں ہے۔ سوئٹزرلینڈ میں بیٹھا ڈاکٹر رابرٹ روڈ دہائی دے رہا ہے کہ موسموں کے اس آتش فشاں کو سنجیدگی سے لیجئے ورنہ ہزاروں لوگ جان سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے لیکن پاکستان کے اہلِ دانش سیاست کی دلدل میں غرق ہوئے پڑے ہیں۔

ندی خشک پڑی ہے اور چشمے کا پانی نڈھال ہے۔ مارگلہ کے جنگل میں آج درجہ حرارت 42 کو چھو رہا ہے۔ عید پر بارش ہوئی تو درجہ حرارت 22 تک آ گیا تھا لیکن عید سے پہلے اپریل کے آخری دنوں میں بھی یہ 40 سے تجاوز کر گیا تھا۔ مارگلہ میں چیت اور وساکھ کے دنوں میں ایسی گرمی کبھی نہیں پڑی۔ یہ جیٹھ ہاڑ کا درجہ حرارت ہے جو چیت اور وساکھ میں آ گیا ہے۔ موسموں کی یہ تبدیلی بہت خطرناک ہے لیکن یہاں کسی کو پروا نہیں۔ اس معاشرے اور اس کے اہلِ فکر و دانش کو سیاست لاحق ہو چکی اور ان کے لیے سیاست کے علاووہ کسی موضوع پر بات کرنا ممکن نہیں رہا۔

موسموں کی اس تبدیلی سے صرف مارگلہ متاثر نہیں ہو گا، پورے ملک پر اس کے اثرات پڑیں گے۔ مارگلہ میں تو درجنوں چشمے ہیں اور ندیاں۔ کچھ رواں رہتی ہیں، کچھ موسموں کے ساتھ سوکھتی اور بہتی ہیں لیکن جنگل کے پرندوں اور جانوروں کے لیے یہ کافی ہیں۔ سوال تو انسان کا ہے، انسان کا کیا بنے گا؟ افسوس کہ انسان کے پاس اس سوال پر غور کرنے کا وقت نہیں۔

ابلاغ کی دنیا ان کے ہاتھ میں ہے جو سنجیدہ اور حقیقی موضوعات کا نہ ذوق رکھتے ہیں نہ اس پر گفتگو کی قدرت۔ نیم خواندگی کا آزار سماج کو لپیٹ میں لے چکا ہے۔ سرِ شام ٹی وی اسکرینوں پر جو قومی بیانیہ ترتیب پاتا ہے اس کی سطحیت اور غیر سنجیدگی سے خوف آنے لگا ہے۔ نوبت یہ ہے کہ دنیا چیخ چیخ کر ہمیں بتا رہی ہے کہ آپ ماحولیاتی تباہی کے دہانے پر کھڑے ہیں لیکن ہمارا دانشور صبح سے شام تک یہی گنتی کر رہا ہوتا ہے کہ کس قائدِ انقلاب کے جلسے میں کتنے لاکھ لوگوں نے شرکت کی۔ یہی حال سوشل میڈیا کا ہے۔ موضوعات کا افلاس آسیب بن چکا ہے۔

پاکستان ایک زرعی ملک ہے لیکن ماحولیات کی تباہی سے یکسر بے نیاز۔ گلی کوچوں سے پارلیمان تک یہ سوال کہیں زیرِ بحث ہی نہیں کہ درجہ حرارت بڑھنے کا مطلب کیا ہے؟زیرِ زمین پانی کی سطح جس تیزی سے گر رہی ہے، خوفناک ہے۔ چند سال پہلے اسلام آباد میں 70 یا 80 فٹ پر پانی مل جاتا تھا لیکن اب تین سے چار سو فٹ گہرے بور کرائیں تو بمشکل اتنا پانی دستیاب ہے کہ پانچ سے دس منٹ موٹر چل سکتی ہے۔ موسم کی حدت کا عالم یہی رہا تو پانچ دس سال بعد زیرِ زمین پانی چھ سات سو فٹ گہرائی میں بھی مل جائے تو غنیمت ہو گا۔

اسلام آباد دارالحکومت ہے لیکن پانی کا بحران اسے لپیٹ میں لے چکا ہے۔ ایک ٹینکر اب دو ہزار کا ملتا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ یہ ٹینکر بھی تو کنوؤں سے پانی بھر لاتے ہیں، زیرِ زمین پانی کی سطح یونہی نیچے جاتی رہی تو ٹینکرز کہاں سے پانی لائیں گے؟ ایک آدھ سیکٹر کو چھوڑ کر سارا شہر اس مصیبت سے دوچار ہے لیکن اپناکمال دیکھیے کہ شہر میں کسی محفل کا یہ موضوع نہیں ہے۔ نہ اہلِ سیاست کا، نہ اہلِ مذہب کا نہ اہلِ صحافت کا۔ سب مزے میں ہیں۔

یہ بحران صرف اسلام آباد کا نہیں، پورے ملک کا ہے۔ بس یہ ہے کہ کسی کی باری آج آ رہی ہے کسی کی کل آئے گی۔ جب فصلوں کے لیے پانی نہیں ہو گا اور فوڈ سیکیورٹی کے مسائل کھڑے ہو جائیں گے پھر پتا چلے گا کہ آتش فشاں پر بیٹھ کر بغلیں بجانے والوں کے ساتھ کیا ہوتا ہے۔

جنگل کٹ رہے ہیں، درجہ حرارت بڑھ رہا ہے، سمندر کی سطح بلند ہو رہی ہے (یعنی کراچی کے سر پر خطرہ منڈلا رہا ہے)، گلیشیئر پگھل رہے ہیں اور سیلابوں کے امکانات بڑھتے جا رہے ہیں۔ ابھی گلگت بلتستان میں گلیشئر کے پگھلنے سے حسن آباد پل تباہ ہوا ہے۔ کئی گھر اس کی لپیٹ میں آئے ہیں۔ خود اس پل کی تزویراتی اہمیت تھی کہ یہ چین اور پاکستان کو ملا رہا تھا۔ پل کی تزویراتی اہمیت کی نسبت سے یہ حادثہ ہمارے ہاں زیر بحث آ جائے تو وہ الگ بات ہے لیکن ماحولیاتی چیلنج کی سنگینی کو ہم آج بھی سمجھنے سے قاصر ہیں۔ اخبارات، ٹی وی چینلز، سوشل میڈیا، پریس ٹاک، جلسہ عام۔۔۔ کہیں اس موضوع پر کوئی بات ہوئی ہو تو بتائیے۔

مارگلہ کی ندیاں بھی اجنبی ہوتی جا رہی ہیں۔ ابھی چند سال پہلے درہ جنگلاں کی ندی ساون بھادوں میں یوں رواں ہوئی کہ چار ماہ جوبن سے بہتی رہی۔ اب دو سال سے خشک پڑی ہے۔ ساون اس طرح برسا ہی نہیں کہ ندی رواں ہوتی۔ رملی کی ندی بہہ تو رہی ہے مگر برائے نام۔ جب پوش سیکٹروں کا سیوریج ان ندیوں میں ملا دیا جائے گا تو ندیاں شاید ایسے ہی ناراض ہو جاتی ہیں۔ اب تو یوں لگتا ہے نظام فطرت ہی ہم سے خفا ہو گیا ہے۔ موسم ہم سے روٹھتے جا رہے ہیں۔

ہمارے پاس زیادہ وقت نہیں ہے۔ ماحولیات سے جڑے چیلنجز کی سنجیدگی کو سمجھا نہ گیا تو بہت بڑا اور خوفناک بحران ہماری دہلیز پر دستک دینے والا ہے۔

انڈیا نے کسی بھی طرح کی غلطی کی تو 25 کروڑ پاکستانی اپنی فوج کے شانہ بشانہ لڑیں گے انشاءاللہ۔۔ پاک فوج زندہ باد
02/05/2025

انڈیا نے کسی بھی طرح کی غلطی کی تو 25 کروڑ پاکستانی اپنی فوج کے شانہ بشانہ لڑیں گے انشاءاللہ۔۔ پاک فوج زندہ باد

ایڈووکیٹ سردار محمد اشفاق کو تیسری مرتبہ بالاکوٹ بار ایسوسی ایشن کا بلا مقابلہ صدر منتخب کر لیا گیا۔۔۔۔۔۔
07/04/2025

ایڈووکیٹ سردار محمد اشفاق کو تیسری مرتبہ بالاکوٹ بار ایسوسی ایشن کا بلا مقابلہ صدر منتخب کر لیا گیا۔۔۔۔۔۔

Celebrating my 1st year on Facebook. Thank you for your continuing support. I could never have made it without you. 🙏🤗🎉
08/02/2025

Celebrating my 1st year on Facebook. Thank you for your continuing support. I could never have made it without you. 🙏🤗🎉

ورلڈ ریکارڈ۔۔ 2 ماہ کی مختصر ترین مدت میں بجلی کی قیمتوں میں 14 بار اضافہ ۔ اور یہ سہولت صرف پاکستانیوں کے لئے ھے۔۔ اور ...
13/12/2024

ورلڈ ریکارڈ۔۔ 2 ماہ کی مختصر ترین مدت میں بجلی کی قیمتوں میں 14 بار اضافہ ۔ اور یہ سہولت صرف پاکستانیوں کے لئے ھے۔۔ اور بوجھ بھی صرف 455 ارب روپے کا۔۔۔

Address

Mansehra

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Balakot News Network posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category