10/03/2025
حضرت صالح علیہ السلام اور اللہ کی اونٹنی: ایک عظیم نشانی
حضرت صالح علیہ السلام انبیاء میں سے ایک جلیل القدر نبی تھے، جنہیں اللہ تعالیٰ نے قوم ثمود کی ہدایت کے لیے بھیجا۔ قوم ثمود اپنی طاقت، شان و شوکت اور چٹانوں کو تراش کر عالی شان محلات بنانے میں مشہور تھی، لیکن ان کا سب سے بڑا مسئلہ یہ تھا کہ وہ اللہ کی نعمتوں کے باوجود سرکش اور نافرمان ہو چکے تھے۔ وہ بتوں کی پوجا کرتے اور اللہ کے رسول کی مخالفت میں پیش پیش رہتے تھے۔
حضرت صالحؑ نے انہیں سمجھایا کہ "اللہ کے سوا کسی کو نہ پوجو، وہی تمہارا خالق ہے، وہی رزق دیتا ہے، اور وہی زندہ اور مردہ کرتا ہے۔" لیکن قوم ثمود ضد اور غرور میں تھی، وہ کہنے لگے:
"اگر تم واقعی اللہ کے نبی ہو تو ہمیں کوئی معجزہ دکھاؤ!"
قوم ثمود نے حضرت صالحؑ سے ایک انوکھی فرمائش کی۔ انہوں نے کہا:
"اگر تم اپنے رب سے کہو کہ وہ اس پہاڑ سے ایک بڑی اور حاملہ اونٹنی نکال دے، تو ہم تم پر ایمان لے آئیں گے!"
یہ ایک ناممکن سی بات تھی، کیونکہ کسی چٹان سے زندہ جانور نکلنا انسانی عقل سے باہر تھا۔
لیکن حضرت صالحؑ اللہ کے نبی تھے، انہوں نے دعا کی، اور اللہ نے اپنی قدرت کا مظاہرہ کرتے ہوئے پہاڑ کو چیر کر ایک عظیم الجثہ اونٹنی نکال دی!
یہ کوئی عام اونٹنی نہیں تھی، بلکہ یہ اللہ کی خاص نشانی تھی۔ یہ اتنی بڑی تھی کہ پوری قوم حیران رہ گئی۔ قرآن میں اللہ تعالیٰ نے اس اونٹنی کو "نَاقَةُ اللَّهِ" (اللہ کی اونٹنی) کہا، یعنی یہ خاص طور پر اللہ کی جانب سے ایک نشانی تھی۔
حضرت صالحؑ نے اپنی قوم کو واضح طور پر حکم دیا:
یہ اونٹنی اللہ کی نشانی ہے، اس کا احترام کرنا۔
یہ مخصوص دنوں میں پانی پیے گی، اور اس دن کوئی اور جانور پانی نہیں پی سکے گا۔
اسے کوئی نقصان نہ پہنچانا، ورنہ اللہ کا عذاب تم پر آئے گا۔
قوم ثمود نے ان شرائط کو قبول کر لیا، اور اونٹنی ان کے درمیان آزادانہ گھومتی رہی۔ وہ جس دن پانی پیتی، اس دن قوم ثمود کے باقی جانور پانی نہیں پیتے تھے، اور اگلے دن قوم کے جانوروں کے لیے پانی ہوتا تھا۔
شروع میں تو قوم ثمود خاموش رہی، لیکن پھر وہ اونٹنی کو دیکھ کر حسد کرنے لگے۔ انہیں لگا کہ یہ تو ایک زحمت بن گئی ہے، کیونکہ یہ اتنی بڑی تھی کہ ان کے لیے پانی کے مسائل پیدا ہو رہے تھے۔
ایک دن، قوم ثمود کے کچھ سرکش سرداروں نے ایک سازش تیار کی۔ انہوں نے ایک آدمی قدار بن سالف کو اکسایا کہ وہ اونٹنی کو قتل کر دے۔
اس شخص نے ایک تیر مارا اور پھر اپنی تلوار سے اللہ کی نشانی کو قتل کر دیا!
قرآن میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
"فَعَقَرُوا النَّاقَةَ وَعَتَوْا عَنْ أَمْرِ رَبِّهِمْ وَقَالُوا يَا صَالِحُ ائْتِنَا بِمَا تَعِدُنَا إِنْ كُنْتَ مِنَ الْمُرْسَلِينَ"
(پس انہوں نے اونٹنی کی کونچیں کاٹ ڈالیں اور اپنے رب کے حکم سے سرکشی کی اور کہنے لگے: اے صالح! لے آؤ وہ عذاب جس کا تم وعدہ دیتے ہو، اگر تم واقعی سچے ہو۔)
(سورۃ الاعراف: 77)
جب اونٹنی کو قتل کر دیا گیا، تو حضرت صالحؑ بہت غمزدہ ہوئے۔ انہوں نے اپنی قوم کو وارننگ دی:
"اب تمہیں صرف تین دن کی مہلت ہے، اس کے بعد اللہ کا عذاب تم پر آ جائے گا!"
قوم ثمود نے بجائے ڈرنے کے، حضرت صالحؑ کا مذاق اڑایا اور کہا:
"یہ تو کوئی جادوگر نکلا! اگر سچا ہے تو عذاب کیوں نہیں آتا؟"
جیسے ہی تین دن مکمل ہوئے، اللہ کا وعدہ پورا ہوا۔
پہلے دن قوم کے لوگوں کے چہرے پیلے پڑ گئے۔
دوسرے دن ان کے چہرے سرخ ہو گئے۔
تیسرے دن ان کے چہرے سیاہ ہو گئے اور وہ خوف سے کانپنے لگے۔
پھر اچانک ایک زبردست زلزلہ اور بادلوں سے بھیانک چیخ نکلی، جس نے پوری قوم کو ہلاک کر دیا۔
"فَأَخَذَتْهُمُ الرَّجْفَةُ فَأَصْبَحُوا فِي دَارِهِمْ جَاثِمِينَ"
(پس انہیں زلزلے نے آ لیا اور وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے۔)
(سورۃ الاعراف: 78)
حضرت صالحؑ اور ان کے چند مومن ساتھی اس عذاب سے پہلے ہی محفوظ مقام پر چلے گئے تھے، اور یوں اللہ نے انہیں بچا لیا۔
اونٹنی کی کہانی کا سبق
اللہ کی نشانیاں معمولی نہیں ہوتیں، جو ان کی بے حرمتی کرتا ہے وہ سخت عذاب میں مبتلا ہوتا ہے۔
دنیاوی طاقت اور دولت غرور میں مبتلا کر سکتی ہے، لیکن اللہ کے حکم کو نہ ماننے والوں کا انجام عبرتناک ہوتا ہے۔
اللہ نے ہر نبی کو اپنی قوم کے لیے ایک معجزہ دیا، مگر جو لوگ ہٹ دھرمی پر قائم رہے، وہ تباہ کر دیے گئے۔
یہی وجہ ہے کہ آج بھی جب کوئی بڑی آزمائش یا قدرتی تباہی آتی ہے، تو لوگ حضرت صالحؑ کی قوم ثمود کا ذکر کرتے ہیں۔ ان کی سرکشی اور انجام ایک کھلی حقیقت ہے کہ جب اللہ کی نشانیوں کی بے حرمتی کی جاتی ہے، تو اس کا نتیجہ تباہی کی صورت میں نکلتا ہے۔
اللہ ہمیں صبر، حق کی پہچان اور نبیوں کے راستے پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین!