Hafiz fabrics

Hafiz fabrics Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Hafiz fabrics, Mandibhauddin, Mandi Bahauddin.

*جائے نماز پر کئے گئے سجود کی سرگوشیاں رب کے عرش سے ٹکراتی ہیں*
*اور یہی وہ جگہ ہے جہاں رو لو تو سامنے والا سوال نہیں کیا کرتا_*
*اپنے سارے راز اور ساری باتیں اپنے رب سے کہا کریں*
*بے شک وہ ہی سب کی مشکلیں آسان کرنے والا ہے.*

05/03/2026
Like Share & Follow
27/01/2026

Like Share & Follow

```ALLHAMDULILLAH WINTER COLLECTION ```          *FARASHA 502**Lawn Hit Codes**Stuff: Best Quality Pure LAWN* Front Full...
27/01/2026

```ALLHAMDULILLAH WINTER COLLECTION ```

*FARASHA 502*

*Lawn Hit Codes*
*Stuff: Best Quality Pure LAWN*

Front Full Heavy Embroidered
Daman Heavy Embroidered
Sleeves Heavy Embroidered
Lawn Emb dupatta
Trouser Plain
With Catalog & Bag

_After Wash Guaranteed_
_Same as Original_
*WholeSale Price _3700/-_*
(Excluded Delivery)+923446290097

عبداللہ بن زید رحمۃ اللہ علیہ ایک بزرگ ولی تھے ۔ آپ نے ساری زندگی نکاح نہیں کیا، جوانی گزر گئی بڑھاپا آیا ایک دن بیٹھے ح...
26/01/2026

عبداللہ بن زید رحمۃ اللہ علیہ ایک بزرگ ولی تھے ۔ آپ نے ساری زندگی نکاح نہیں کیا، جوانی گزر گئی بڑھاپا آیا ایک دن بیٹھے حدیث مبارکہ پڑھ رہے تھے تو اس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان پڑھا جس کا مفہوم یہ تھا کہ:
"جنت میں کوئی اکیلا نہیں ہو گا جو نکاح کی عمر میں نہیں پہنچا یا پہنچا بھی تو کسی وجہ سے نہیں ہوا اور وہ مسلمان ہی مرا تو اللہ مسلمان مردوں اور عورتوں کا جنت میں آپس میں نکاح کر دے گا"۔
جب یہ حدیث پاک پڑھی تو دل میں خیال آیا کہ یہاں تو نکاح نہیں کیا تو جنت میں ہونا ہی ہونا ہے تو جنت میں میری بیوی کون ہو گی دعا کی کہ یا اللہ مجھے دکِھا تو سہی جنت میں میری بیوی کون ہو گی؟
پہلی رات دعا قبول نہیں ہوئی دوسری رات بھی دعا قبول نہیں ہوئی تیسری رات دعا قبول ہو گئی، خواب میں کیا دیکھتے ہیں کالے رنگ کی عورت ہے حضرت بلال حبشی کے دیس کی رہنے والی حبشہ کے دیس کی اور وہ کیا کہتی ہے کہ:
"میں میمونہ ولید ہوں اور میں بصریٰ میں رہتی ہوں"۔
پتہ مل گیا آنکھ کھلی حضرت کی تہجد کا وقت تھا نوافل پڑھے نماز فجر باجماعت ادا کی اور سواری لے کر حضرت عبداللہ بن زید بصریٰ گۓ وہاں لوگوں نے بڑا استقبال کیا حضرت کا نام ہی بہت بڑا تھا بیٹھا کر پوچھا حضرت بتاۓ بغیر کیسے آنا ہوا خیر تو ہے آپ نے پوچھا یار یہ تو بتاؤ یہاں کوئی میمونہ ولید رہتی ہے لوگوں نے حیران ہو کر پوچھا حضرت آپ اتنے دٗور سے چل کر میمونہ ولید سے ملنے آۓ ہیں آپ نے فرمایا کیوں اُس سے کوئی نہیں مل سکتا نہیں حضور وہ تو دیوانی ہے لوگ اُسے پتھر مارتے ہیں، حضور نے پوچھا کیوں مارتے ہیں حضور کام ہی ایسے کرتی ہے کوئی رو رہا ہو تو اسے دیکھ کر ہنسنے لگتی ہے اور کوئی ہنس رہا ہو تو رونا شروع کر دیتی ہے اور وہ اجرت پر پیسے لیکر لوگوں کی بکریاں چراتی ہے آج بھی وہ ہماری بکریاں لیکر جنگل میں گئ ہے آپ آرام فرمائیں عصر کے بعد آ جائے گی آپ مل لیجیے گا۔
حصْرت نے فرمایا عصر کس نے دیکھی کہا وہ کس سمت گئ ہے لوگوں نے کہا حضور جنگل نہ جائیں بہت خوفناک جنگل ہے آپ نے فرمایا بتاؤ کس طرف گئ ہے لوگوں نے بتایا آپ فرماتے ہیں کہ میں نکل گیا آپ فرماتے ہیں کہ جب میں جنگل گیا واقعی خوفناک جنگل تھا جنگلی جانوروں کی بھرمار تھی قدم قدم پر کوئی نہ کوئی چیز کھڑی ہے آپ فرماتے ہیں کہ قربان جاؤں اس عورت کی مردانگی پر وہ اس جنگل میں کس طرح بکریاں چرا رہی ہے شیروں نے اس کی بکریوں کو ابھی تک کھایا نہیں اتنے درندے ہیں سارے مل کر حملہ کر دیں تو کیا کرے یہ اکیلی عورت کس کس کو روکے گی؟ خیر آپ فرماتے ہیں کہ وہ جگہ جہاں لوگوں نے مجھے بتائی تھی میں وہاں پہنچ گیا جب میں وہاں پہنچا تو منظر دیکھ کر میں حیران رہ گیا دو حیران کر دینے والے منظر تھے۔
پہلا میمونہ ولید ؒ بکریاں نہیں چرا رہی تھی بلکہ اُس جنگل میں جاۓ نماز بچھا کر نوافل پڑھ رہی تھی پر بکریاں چرانا تو بہانہ تھا یہ تو بہانہ تھا کنارہ کشی کا، لوگ یہی سمجھتے تھے میمونہ سارا دن بکریاں چراتی ہے لیکن میمونہ بکریاں نہیں چرا رہی تھی۔
دوسرا کیا دیکھا کہ میمونہ تو نماز پڑھ رہی ہیں پھر بکریاں کون چرا رہا ہے بکریاں تو ایک جگہ نہیں رکتی کہیں اِدھر جاتی ہیں کہیں اُدھر آپ فرماتے ہیں کہ میمونہ نماز پڑھ رہی تھی اور شیر بکریاں چرا رہے ہیں بکریاں چر رہی ہیں شیر انکے اردگرد گھوم رہے ہیں اگر کوئی بکری بھاگتی ہے اس کی فطرت ہے شرارت کرنا تو شیر اُسے پکڑ کر واپس لے آتا ہے لیکن کہتا کچھ نہیں۔
آپ فرماتے ہیں میں حیران و پریشاں کھڑا تھا کہ یہ کیسے ہو گیا ہے یہ فطرت کیسے بدل گئ لوگ کہتے ہیں فطرت نہیں بدلتی یہ شیروں اور بکریوں میں یاری کیسے ہو گئ آپ فرماتے ہیں میں دنگ حیران و پریشاں کھڑا ہوں مجھے نہیں پتہ کہ کب میمونہ ولید نے نماز ختم کر دی اور مجھے مخاطب کر کے کہتی ہیں کہ:
"اے عبداللہ ملنے کا وعدہ تو جنت میں تھا آپ یہاں آ گئے"۔
آپ فرماتے ہیں میں حیران رہ گیا اس سے پہلے تو ملاقات بھی نہیں ہوئی تو حضرت میمونہ ولید کو میرا نام کیسے پتہ چل گیا۔
تو آپ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت میمونہ ولیدؒ سے سوال کیا اِس سے پہلے ہم ملے نہیں ملاقات نہیں ہوئی ہماری تو میرا نام کیسے پتہ چلا آپ کو تو جواب کیا ملا حضرت میمونہ ولیدؒ فرماتی ہیں عبداللہ جس اللہ نے رات کو تجھے میرے بارے میں بتایا ہے اُسی اللہ نے مجھے آپکے بارے میں بتایا ہے
آپ فرماتے ہیں کہ جس چیز نے مجھے سب سے زیادہ حیران کیا وہ یہ تھا کہ یہ فطرت کیسے بدلی میں نے حضرت میمونہ ولید ؒ سے پوچھا آپ یہ تو بتاؤ یہ شیروں نے بکریوں کے ساتھ یاری کیسے کر لی یہ تو غذا ہے انکی اگر شیر بکریوں کے ساتھ یاری لگاۓ گا تو کھاۓ گا یہ معاملہ کیسے ہو گیا تو حضرت میمونہ ولید ؒ فرماتی ہیں جب سے میں نے رب سے صلح کر لی ہے اُس دن سے اِن شیروں نے میری بکریوں کے ساتھ صلح کر لی ہے۔
ہم سب بھی صلح کر لیں، یاری لگا لیں کہیں دیر نہ ہو جاے رب کے ساتھ اپنا تعلق مضبوط کر لیں، کتنے سال گزر گئے ہم نے کوئی اللہ کی بات مانی لیکن وہ کِھلا بھی رہا ہے، پِلا بھی رہا ہے، دِکھا بھی رہا ہے، سُنا بھی رہا ہے، سُلا بھی رہا ہے، جگا بھی رہا ہے، نماز پڑھیں اللہ کی یاد میں زندگی بسر کریں، یہی حقیقی کامیابی ہے۔
یا اللہ ہم سب پر اپنا فضل و کرم فرما ۔ آمین
Like Share & Follow

ایک آدمی کی بیوی چالیس سال کی عمر میں انتقال کر گئی۔ جب اس کے دوستوں اور رشتہ داروں نے اسے دوبارہ شادی کرنے کا مشورہ دیا...
12/01/2026

ایک آدمی کی بیوی چالیس سال کی عمر میں انتقال کر گئی۔ جب اس کے دوستوں اور رشتہ داروں نے اسے دوبارہ شادی کرنے کا مشورہ دیا، تو اس نے جواب دیا کہ اس کی بیوی کا سب سے بڑا تحفہ یہ ہے کہ اس نے اسے ایک بیٹا دیا، اور وہ اپنی زندگی اسی بیٹے کے ساتھ گزارے گا۔

‏جیسے ہی بیٹا بڑا ہوا، اس نے اپنے تمام کاروبار کی ذمہ داریاں بیٹے کے سپرد کر دیں۔ وہ اکثر اپنے دفتر میں یا کسی دوست کے دفتر میں وقت گزارنے لگا۔

‏بیٹے کی شادی کے بعد، وہ آدمی زیادہ تنہا محسوس کرنے لگا۔ اس نے گھر کا مکمل انتظام اپنی بہو کے سپرد کر دیا۔

‏بیٹے کی شادی کے ایک سال بعد، وہ دوپہر کا کھانا کھا رہا تھا جب بیٹا دفتر سے آیا۔ وہ ہاتھ دھو کر کھانے کے لیے تیار ہو رہا تھا۔ بیٹے نے سنا کہ والد نے کھانے کے بعد دہی مانگی، تو بیوی نے جواب دیا کہ آج گھر میں دہی نہیں ہے۔
‏کھانا کھانے کے بعد، والد باہر چہل قدمی کے لیے نکل گیا۔ کچھ دیر بعد، بیٹا اپنی بیوی کے ساتھ کھانے بیٹھ گیا۔ کھانے کے برتن میں دہی موجود تھا، مگر بیٹے نے بغیر کسی ردعمل کے کھانا کھایا اور پھر دفتر چلا گیا۔
‏حیرت انگیز خبر
‏کچھ دنوں بعد، بیٹے نے اپنے والد سے کہا، "آج آپ کو عدالت جانا ہے اور آپ کی شادی ہو رہی ہے!" والد نے حیرت سے اپنے بیٹے کی طرف دیکھا اور کہا، "بیٹا! مجھے اب شادی کی ضرورت نہیں، اور میں تم سے بہت محبت کرتا ہوں۔ تمہیں بھی ماں کی ضرورت نہیں، تو پھر میری دوبارہ شادی کیوں؟"

‏بیٹے نے جواب دیا، "بابا، میں آپ کے لیے اپنی ماں کو واپس نہیں لا رہا، نہ ہی اپنی بیوی کے لیے ایک ساس۔ میں صرف آپ کے لیے دہی کا انتظام کر رہا ہوں! کل سے میں آپ کی بہو کے ساتھ کرائے کے گھر میں رہوں گا اور آپ کے دفتر میں ایک ملازم کی حیثیت سے کام کروں گا، تاکہ آپ کی بہو دہی کی قیمت جان سکے۔"

‏یہ کہانی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ والدین ہمارے لیے اے ٹی ایم کارڈز نہیں بلکہ اصل میں ہمارے دلوں کی دولت ہیں۔ وہ ہماری مرضی پر نہیں بلکہ ہم ان کی خدمت اور احترام کے ذریعے اپنی زندگی گزار سکتے ہیں۔ دنیا کے تمام والدین کو زندہ باد! ہر گھر میں ایسے مثالی رویے اپنائے جانے چاہیے۔
‏منقول
Like Share & Follow

12/01/2026

انسانی جسم جب موت کے بعد تحلیل (Decomposition) کے عمل میں داخل ہوتا ہے تو اس سے ایک نہایت مخصوص اور پہچان میں آنے والی بو خارج ہوتی ہے، جسے ہم عام زبان میں "لاش کی بو" کہہ سکتے ہیں۔ یہ بو دراصل تقریباً 452 مختلف کیمیائی مرکبات (Volatile Organic Compounds) کا مجموعہ ہوتی ہے۔ ان میں سے چار اہم مرکبات ایسے ہیں جو اس مہک کو ناقابلِ برداشت بنا دیتے ہیں:
کیڈاورین (Cadaverine پینٹانو-1,5-ڈائی امائن)
یہ ایک امائن ہے جو انسانی جسم کے پروٹین کے گلنے سڑنے سے بنتی ہے۔ یہ وہی مادہ ہے جو لاش کی تیز، ناگوار اور گھٹن پیدا کرنے والی بو کا بنیادی سبب بنتا ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ یہ مادہ انسانی پیشاب اور منی کی بو میں بھی معمولی مقدار میں پایا جاتا ہے۔
پیوٹریسین (Putrescine بیوٹانو-1,4-ڈائی امائن)
یہ بھی پروٹین کے ٹوٹنے سے پیدا ہونے والی امائن ہے۔ یہ وہی بدبو ہے جو ہمیں سڑے ہوئے کوڑے کرکٹ یا گل سڑ چکے گوشت میں محسوس ہوتی ہے۔ یہ بدبو دماغ میں خوف، کراہت اور بے چینی پیدا کرتی ہے۔
اسکیٹول (Skatole 3-میتھائل انڈول)
یہ ایک دو حلقوں پر مشتمل کیمیائی ساخت رکھتا ہے۔ یہ ہلکا زہریلا ہوتا ہے اور شدید مقدار میں پھیپھڑوں میں پانی بھر جانے (Pulmonary Edema) کا سبب بن سکتا ہے۔ یہی وہ مادہ ہے جو انسانی فضلے کی شدید بدبو پیدا کرتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اگر اس کی مقدار بہت کم ہو تو یہی مادہ خوشبودار پھولوں جیسی مہک دینے لگتا ہے۔
انڈول (Indole)
یہ بھی انسانی فضلے میں پایا جاتا ہے اور اس کی خوشبو بھی کم مقدار میں پھولوں جیسی محسوس ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انڈول کو کئی مشہور پرفیومز میں بھی استعمال کیا جاتا ہے۔
یہ تمام مرکبات مل کر وہ بو پیدا کرتے ہیں جسے انسان فطری طور پر فوراً پہچان لیتا ہے۔ اگر آپ کبھی کسی مردہ جانور کے قریب جائیں اور اس کی بدبو کو محسوس کریں، پھر کبھی انسانی لاش کی بو سے موازنہ کریں، تو آپ سیکھ جائیں گے کہ انسانی جسم کی بو ہمیشہ مختلف اور الگ پہچان رکھتی ہے۔
یہ ایک ایسی حقیقت ہے جو ہمیں زندگی کی ناپائیداری کا احساس دلاتی ہے اور ہمیں یاد دلاتی ہے کہ انسان صرف مٹی کا بنا ہوا وجود ہے۔
Like Share & Follow

01/01/2026

*🌸 _WINTER'S COLLECTION_ 🌸*

🟥 _*BRAND NAME : URGE*_
🟨 *CATEGORY : DHANAK 3PC Embroidered*

> AIRJET DHANAK EMBROIDERED COLLECTION

🟦 *Product Description*
◾Front Heavy Embroidered
◾ Daman Heavy Embroidered
◾Sleeves Heavy Embroidered
◾ Embroidered Trouser (Premium Quality)
◾With Digital Printed Pashmina Shawl
---------------------
💯Percent Stuff Guaranteed
---------------------
🛒 *WholeSale Price*3100

Address

Mandibhauddin
Mandi Bahauddin
50400

Telephone

+923446290097

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Hafiz fabrics posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Establishment

Send a message to Hafiz fabrics:

Share