HMY Gamer

HMY Gamer HMY Gamer
Play To Win!

HMY Gamer HMY Gamer
03/11/2022

HMY Gamer HMY Gamer

09/10/2022

وفات سے 3 روز قبل جبکہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ام المومنین حضرت میمونہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کے گھر تشریف فرما تھے، ارشاد فرمایا کہ
"میری بیویوں کو جمع کرو۔"
تمام ازواج مطہرات جمع ہو گئیں۔
تو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا:
"کیا تم سب مجھے اجازت دیتی ہو کہ بیماری کے دن میں عائشہ (رضی اللہ عنہا) کے ہاں گزار لوں؟"
سب نے کہا اے اللہ کے رسول آپ کو اجازت ہے۔
پھر اٹھنا چاہا لیکن اٹھہ نہ پائے تو حضرت علی ابن ابی طالب اور حضرت فضل بن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما آگے بڑھے اور نبی علیہ الصلوة والسلام کو سہارے سے اٹھا کر سیدہ میمونہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کے حجرے سے سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کے حجرے کی طرف لے جانے لگے۔
اس وقت صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس (بیماری اور کمزوری کے) حال میں پہلی بار دیکھا تو گھبرا کر ایک دوسرے سے پوچھنے لگے
رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کو کیا ہوا؟
رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کو کیا ہوا؟
چنانچہ صحابہ مسجد میں جمع ہونا شروع ہو گئے اور مسجد شریف میں ایک رش لگ ہوگیا۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کا پسینہ شدت سے بہہ رہا تھا۔
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے اپنی زندگی میں کسی کا اتنا پسینہ بہتے نہیں دیکھا۔
اور فرماتی ہیں:
"میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے دست مبارک کو پکڑتی اور اسی کو چہرہ اقدس پر پھیرتی کیونکہ نبی علیہ الصلوة والسلام کا ہاتھ میرے ہاتھ سے کہیں زیادہ محترم اور پاکیزہ تھا۔"
مزید فرماتی ہیں کہ حبیب خدا علیہ الصلوات والتسلیم
سے بس یہی ورد سنائی دے رہا تھا کہ
"لا إله إلا الله، بیشک موت کی بھی اپنی سختیاں ہیں۔"
اسی اثناء میں مسجد کے اندر آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کے بارے میں خوف کی وجہ سے لوگوں کا شور بڑھنے لگا۔
نبی علیہ السلام نے دریافت فرمایا:
"یہ کیسی آوازیں ہیں؟
عرض کیا گیا کہ اے اللہ کے رسول! یہ لوگ آپ کی حالت سے خوف زدہ ہیں۔
ارشاد فرمایا کہ مجھے ان پاس لے چلو۔
پھر اٹھنے کا ارادہ فرمایا لیکن اٹھہ نہ سکے تو آپ علیہ الصلوة و السلام پر 7 مشکیزے پانی کے بہائے گئے، تب کہیں جا کر کچھ افاقہ ہوا تو سہارے سے اٹھا کر ممبر پر لایا گیا۔
یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا آخری خطبہ تھا اور آپ علیہ السلام کے آخری کلمات تھے۔
فرمایا:
" اے لوگو۔۔۔! شاید تمہیں میری موت کا خوف ہے؟"
سب نے کہا:
"جی ہاں اے اللہ کے رسول"
ارشاد فرمایا:
"اے لوگو۔۔!
تم سے میری ملاقات کی جگہ دنیا نہیں، تم سے میری ملاقات کی جگہ حوض (کوثر) ہے، خدا کی قسم گویا کہ میں یہیں سے اسے (حوض کوثر کو) دیکھ رہا ہوں،
اے لوگو۔۔۔!
مجھے تم پر تنگدستی کا خوف نہیں بلکہ مجھے تم پر دنیا (کی فراوانی) کا خوف ہے، کہ تم اس (کے معاملے) میں ایک دوسرے سے مقابلے میں لگ جاؤ جیسا کہ تم سے پہلے (پچھلی امتوں) والے لگ گئے، اور یہ (دنیا) تمہیں بھی ہلاک کر دے جیسا کہ انہیں ہلاک کر دیا۔"
پھر مزید ارشاد فرمایا:
"اے لوگو۔۔! نماز کے معاملے میں اللہ سے ڈرو، اللہ سےڈرو۔ نماز کے معاملے میں اللہ سے ڈرو، اللہ سے ڈرو۔"
(یعنی عہد کرو کہ نماز کی پابندی کرو گے، اور یہی بات بار بار دہراتے رہے۔)
پھر فرمایا:
"اے لوگو۔۔۔! عورتوں کے معاملے میں اللہ سے ڈرو، عورتوں کے معاملے میں اللہ سے ڈرو، میں تمہیں عورتوں سے نیک سلوک کی وصیت کرتا ہوں۔"
مزید فرمایا:
"اے لوگو۔۔۔! ایک بندے کو اللہ نے اختیار دیا کہ دنیا کو چن لے یا اسے چن لے جو اللہ کے پاس ہے، تو اس نے اسے پسند کیا جو اللہ کے پاس ہے"
اس جملے سے حضور صلی اللہ علیہ و سلم کا مقصد کوئی نہ سمجھا حالانکہ انکی اپنی ذات مراد تھی۔
جبکہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ وہ تنہا شخص تھے جو اس جملے کو سمجھے اور زارو قطار رونے لگے اور بلند آواز سے گریہ کرتے ہوئے اٹھہ کھڑے ہوئے اور نبی علیہ السلام کی بات قطع کر کے پکارنے لگے۔۔۔۔
"ہمارے باپ دادا آپ پر قربان، ہماری مائیں آپ پر قربان، ہمارے بچے آپ پر قربان، ہمارے مال و دولت آپ پر قربان....."
روتے جاتے ہیں اور یہی الفاظ کہتے جاتے ہیں۔
صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم (ناگواری سے) حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی طرف دیکھنے لگے کہ انہوں نے نبی علیہ السلام کی بات کیسے قطع کردی؟ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا دفاع ان الفاظ میں فرمایا:
"اے لوگو۔۔۔! ابوبکر کو چھوڑ دو کہ تم میں سے ایسا کوئی نہیں کہ جس نے ہمارے ساتھ کوئی بھلائی کی ہو اور ہم نے اس کا بدلہ نہ دے دیا ہو، سوائے ابوبکر کے کہ اس کا بدلہ میں نہیں دے سکا۔ اس کا بدلہ میں نے اللہ جل شانہ پر چھوڑ دیا۔ مسجد (نبوی) میں کھلنے والے تمام دروازے بند کر دیے جائیں، سوائے ابوبکر کے دروازے کے کہ جو کبھی بند نہ ہوگا۔"
آخر میں اپنی وفات سے قبل مسلمانوں کے لیے آخری دعا کے طور پر ارشاد فرمایا:
"اللہ تمہیں ٹھکانہ دے، تمہاری حفاظت کرے، تمہاری مدد کرے، تمہاری تائید کرے۔
اور آخری بات جو ممبر سے اترنے سے پہلے امت کو مخاطب کر کے ارشاد فرمائی وہ یہ کہ:
"اے لوگو۔۔۔! قیامت تک آنے والے میرے ہر ایک امتی کو میرا سلام پہنچا دینا۔"
پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دوبارہ سہارے سے اٹھا کر گھر لے جایا گیا۔
اسی اثناء میں حضرت عبدالرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہ خدمت اقدس میں حاضر ہوئے اور ان کے ہاتھ میں مسواک تھی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسواک کو دیکھنے لگے لیکن شدت مرض کی وجہ سے طلب نہ کر پائے۔ چنانچہ سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دیکھنے سے سمجھ گئیں اور انہوں نے حضرت عبدالرحمن رضی اللہ عنہ سے مسواک لے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کے دہن مبارک میں رکھ دی، لیکن حضور صلی اللہ علیہ و سلم اسے استعمال نہ کر پائے تو سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا نے حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مسواک لے کر اپنے منہ سے نرم کی اور پھر حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کو لوٹا دی تاکہ دہن مبارک اس سے تر رہے۔
فرماتی ہیں:
" آخری چیز جو نبی کریم علیہ الصلوة والسلام کے پیٹ میں گئی وہ میرا لعاب تھا، اور یہ اللہ تبارک و تعالٰی کا مجھ پر فضل ہی تھا کہ اس نے وصال سے قبل میرا اور نبی کریم علیہ السلام کا لعاب دہن یکجا کر دیا۔"
أم المؤمنين حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہا مزید ارشاد فرماتی ہیں:
"پھر آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی بیٹی فاطمہ تشریف لائیں اور آتے ہی رو پڑیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اٹھہ نہ سکے، کیونکہ نبی کریم علیہ السلام کا معمول تھا کہ جب بھی فاطمہ رضی اللہ تعالٰی عنہا تشریف لاتیں حضور اکرم صلی اللہ علیہ و سلم انکے ماتھے پر بوسہ دیتےتھے۔
حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا اے فاطمہ! "قریب آجاؤ۔۔۔"
پھر حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے ان کے کان میں کوئی بات کہی تو حضرت فاطمہ اور زیادہ رونے لگیں، انہیں اس طرح روتا دیکھ کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا اے فاطمہ! "قریب آؤ۔۔۔"
دوبارہ انکے کان میں کوئی بات ارشاد فرمائی تو وہ خوش ہونے لگیں۔
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد میں نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالی عنھا سے پوچھا تھا کہ وہ کیا بات تھی جس پر روئیں اور پھر خوشی اظہار کیا تھا؟
سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالی عنھا کہنے لگیں کہ
پہلی بار (جب میں قریب ہوئی) تو فرمایا:
"فاطمہ! میں آج رات (اس دنیاسے) کوچ کرنے والا ہوں۔
جس پر میں رو دی۔۔۔۔"
جب انہوں نے مجھے بےتحاشا روتے دیکھا تو فرمانے لگے:
"فاطمہ! میرے اہلِ خانہ میں سب سے پہلے تم مجھ سے آ ملو گی۔۔۔"
جس پر میں خوش ہوگئی۔۔۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالی عنھا فرماتی ہیں:
پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے سب کو گھر سے باھر جانے کا حکم دیکر مجھے فرمایا:
"عائشہ! میرے قریب آجاؤ۔۔۔"
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زوجۂ مطہرہ کے سینے پر ٹیک لگائی اور ہاتھ آسمان کی طرف بلند کر کے فرمانے لگے:
مجھے وہ اعلیٰ و عمدہ رفاقت پسند ہے۔ (میں الله کی، انبیاء، صدیقین، شہداء اور صالحین کی رفاقت کو اختیار کرتا ہوں۔)
صدیقہ عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا فرماتی ہیں:
"میں سمجھ گئی کہ انہوں نے آخرت کو چن لیا ہے۔"
جبرئیل علیہ السلام خدمت اقدس میں حاضر ہو کر گویا ہوئے:
"یارسول الله! ملَکُ الموت دروازے پر کھڑے شرف باریابی چاہتے ہیں۔ آپ سے پہلے انہوں نے کسی سے اجازت نہیں مانگی۔"
آپ علیہ الصلوة والسلام نے فرمایا:
"جبریل! اسے آنے دو۔۔۔"
ملَکُ الموت نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کے گھر میں داخل ہوئے، اور کہا:
"السلام علیک یارسول الله! مجھے اللہ نے آپ کی چاہت جاننے کیلئےبھیجا ہے کہ آپ دنیا میں ہی رہنا چاہتے ہیں یا الله سبحانہ وتعالی کے پاس جانا پسند کرتے ہیں؟"
فرمایا:
"مجھے اعلی و عمدہ رفاقت پسند ہے، مجھے اعلی و عمدہ رفاقت پسند ہے۔"
ملَکُ الموت آنحضرت صلی الله علیہ وسلم کے سرہانے کھڑے ہوئے اور کہنے لگے:
"اے پاکیزہ روح۔۔۔!
اے محمد بن عبدالله کی روح۔۔۔!
الله کی رضا و خوشنودی کی طرف روانہ ہو۔۔۔!
راضی ہوجانے والے پروردگار کی طرف جو غضبناک نہیں۔۔۔!"
سیدہ عائشہ رضی الله تعالی عنہا فرماتی ہیں:
پھر نبی کریم صلی الله علیہ وسلم ہاتھ نیچے آن رہا، اور سر مبارک میرے سینے پر بھاری ہونے لگا، میں سمجھ گئی کہ آنحضرت صلی الله علیہ وسلم کا وصال ہو گیا۔۔۔ مجھے اور تو کچھ سمجھ نہیں آیا سو میں اپنے حجرے سے نکلی اور مسجد کی طرف کا دروازہ کھول کر کہا۔۔
"رسول الله کا وصال ہوگیا۔۔۔! رسول الله کا وصال ہوگیا۔۔۔!"
مسجد آہوں اور نالوں سے گونجنے لگی۔
ادھر علی کرم الله وجہہ جہاں کھڑے تھے وہیں بیٹھ گئے پھر ہلنے کی طاقت تک نہ رہی۔
ادھر عثمان بن عفان رضی الله تعالی عنہ معصوم بچوں کی طرح ہاتھ ملنے لگے۔
اور سیدنا عمر رضی الله تعالی عنہ تلوار بلند کرکے کہنے لگے:
"خبردار! جو کسی نے کہا رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم وفات پا گئے ہیں، میں ایسے شخص کی گردن اڑا دوں گا۔۔۔! میرے آقا تو الله تعالی سے ملاقات کرنے گئے ہیں جیسے موسی علیہ السلام اپنے رب سے ملاقات کوگئے تھے، وہ لوٹ آئیں گے، بہت جلد لوٹ آئیں گے۔۔۔۔! اب جو وفات کی خبر اڑائے گا، میں اسے قتل کرڈالوں گا۔۔۔"
اس موقع پر سب زیادہ ضبط، برداشت اور صبر کرنے والی شخصیت سیدنا ابوبکر صدیق رضی الله تعالی عنہ کی تھی۔۔۔ آپ حجرۂ نبوی میں داخل ہوئے، رحمت دوعالَم صلی الله علیہ وسلم کے سینۂ مبارک پر سر رکھہ کر رو دیئے۔۔۔
کہہ رہے تھے:
وآآآ خليلاه، وآآآ صفياه، وآآآ حبيباه، وآآآ نبياه
(ہائے میرا پیارا دوست۔۔۔! ہائے میرا مخلص ساتھی۔۔۔!ہائے میرا محبوب۔۔۔! ہائے میرا نبی۔۔۔!)
پھر آنحضرت صلی علیہ وسلم کے ماتھے پر بوسہ دیا اور کہا:
"یا رسول الله! آپ پاکیزہ جئے اور پاکیزہ ہی دنیا سے رخصت ہوگئے۔"
سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ باہر آئے اور خطبہ دیا:
"جو شخص محمد صلی الله علیہ وسلم کی عبادت کرتا ہے سن رکھے آنحضرت صلی الله علیہ وسلم کا وصال ہو گیا اور جو الله کی عبادت کرتا ہے وہ جان لے کہ الله تعالی شانہ کی ذات ھمیشہ زندگی والی ہے جسے موت نہیں۔"
سیدنا عمر رضی الله تعالی عنہ کے ہاتھ سے تلوار گر گئی۔۔۔
عمر رضی الله تعالی عنہ فرماتے ہیں:
پھر میں کوئی تنہائی کی جگہ تلاش کرنے لگا جہاں اکیلا بیٹھ کر روؤں۔۔۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کی تدفین کر دی گئی۔۔۔
سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:
"تم نے کیسے گوارا کر لیا کہ نبی علیہ السلام کے چہرہ انور پر مٹی ڈالو۔۔۔؟"
پھر کہنے لگیں:
"يا أبتاه، أجاب ربا دعاه، يا أبتاه، جنة الفردوس مأواه، يا أبتاه، الى جبريل ننعاه."
(ہائے میرے پیارے بابا جان، کہ اپنے رب کے بلاوے پر چل دیے، ہائے میرے پیارے بابا جان، کہ جنت الفردوس میں اپنے ٹھکانے کو پہنچ گئے، ہائے میرے پیارے بابا جان، کہ ہم جبریل کو ان کے آنے کی خبر دیتے ہیں۔)
اللھم صل علی محمد کما تحب وترضا۔
میں نے آج تک اس سے اچّھا پیغا م کبھی پوسٹ نہیں کیا۔
اسلۓ آپ سے گزارش کہ آپ اسے پورا سکون و اطمینان کے ساتھ پڑھۓ۔ان شاء اللہ, آپکا ایمان تازہ ہوجاۓگا۔“
ثواب کی نیت سے فرض سمجھ کر کم از کم 10 گروپوں میں شیئر کریں ارو صدقہ جاریہ میں شامل ہوجائے.
شکریہ

29/01/2022

جو اللّٰہ سے محبت کرنے والے ہوتے ہیں وہ پھر تنہائی میں چھپ کر گناہ نہیں کیا کرتے ہیں۔ وہ بعض اوقات لڑکھڑا جاتے ہیں مگر وہ فوراً سنبھل بھی جاتے ہیں۔

وہ خواہش بھی رکھتے ہیں اور خواب بھی دیکھتے ہیں۔ ان کی خواہش خالص ہونے کی ہوتی ہے، حُب اللّٰہ میں شدید ہونے کی ہوتی ہے۔ وہ خواب مشہور ہونے کی دیکھتے ہیں۔ جب روزانہ نامہ اعمال لے کر فرشتہ جاتے ہوں تو کوئی ایک نیکی خالص اللّٰہ کے لئے بتاتے ہوں، وہ انہیں اس ایک نیکی پر استقامت اور تقوی سے جانتے ہوں۔

وہ کبھی ان چیزوں سے شدید محبت کرنے والے ہوں جو اللّٰہ کو نہیں پسند اور وہ چھوڑنا ان کے لئے دشوار اور اذیت والا ہو مگر وہ چھوڑنے کی مسلسل کوشش کرتے ہوں صرف اللّٰہ کی محبت اور ڈر سے کہ کہیں وہ ناراض نہ ہو جائے۔

وہ کامل نہیں ہوتے ہیں، وہ تو اللّٰہ کی رضا کے لئے کوشش اور جی جان لگا دینے والے ہوتے ہیں۔

جب نگاہیں خواہش کرتی ہے کہ دیکھ لو نامحرم کو، جب دل خواہش کرتا ہے کہ سوچ لو نامحرم کو اور جب خواب میں اس نامحرم کی آمد ہونے لگتی ہے، تو وہ چونک کر تڑپ اٹھتے ہیں۔ انہیں اس وقت صرف اور صرف اللّٰہ یاد آتا ہو اور نگاہیں جھک جاتی ہوں اور دل خاموش ہوجاتا ہو اور خواب کو بُھلا دیا جاتا ہو۔ وہ ایک خاص رنگ میں رنگنے والے ہوں، اس رنگ میں جو اللّٰہ نے پسند کیا ہے صبغتہ اللّٰہ کا رنگ۔

وہ عام نہیں خاص ہوتے ہیں۔ وہ جو ہوتے ہیں انہیں سب نہیں پہچانتے، انہیں حُب اللّٰہ میں شدید شخصیت جانتے ہیں۔

تم نے ان کے بارے میں جان لیا ناں۔۔۔۔۔۔۔۔اب ان جیسے بننے میں لگ جاؤ۔۔۔۔۔۔۔۔

تم تنہائوں کو پاک کرنے میں خود کو مصروف کر لو۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تم حُب اللّٰہ کے لئے وہ گناہ چھوڑنے کی کوشش میں خود کو لگا دو، جس گناہ نے صراط المستقیم کے سفر میں دشواریاں لا دی ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔
تم عثمان رضی اللّٰہ عنہ جیسی حیا کی خواہش کو بیدار کرو۔۔۔۔۔۔۔۔
تم یوسف علیہ اسلام جیسی زندگی کی تمنا کے ساتھ ساتھ عمل بھی کرو۔ جہاں نفسانی اور مخالف جنس کی خواہش دعوتِ گناہ دے تو، تمہیں خواہش سے بہتر زندان کا قید عزیز ہو۔۔۔۔۔۔۔۔

یاد رکھو!
تم مومن اور مومنہ ہو۔ تم نہ خود کسی کی طرف مائل ہو اور نہ کسی کو اپنی طرف مائل کرو۔۔۔۔۔۔
تم پاکیزہ زندگی گزارو جو تمہیں روزِ محشر سرخرو کرے۔۔۔۔۔
تم ویسے بنو جن سے اللّٰہ خاص محبت کرتا ہے، جن کے جانے کے بعد زمین پر ذکرِ خیر باقی رہتے ہیں

09/07/2020

جنت میں ابتدائی لمحات کتنے دلکش ہوں گے

جب ہم اپنے اُن عزیز و اقارب سے ملاقات کریں گے، جو عرصہ دراز پہلے فوت ہو گئے تھے اور ہماری نگاہوں سے اوجھل تھے

جب نیکوکار بیٹا اپنے ماں باپ سے ملے گا

اور والدین اپنے ان بچوں سے ملاقات کریں گے، جو بچپن میں ہی فوت ہو گئے تھے

اور بھائی اپنے بھائی سے ملے گا، جو اس سے ملاقات کی خواہش رکھتا ہو گا

جب ہم مریض کو شفایاب دیکھیں گے

اندھے کو انکھیارا

غمگین کو مسرور

بوڑھے کو جوانی کی حالت میں دیکھیں گے

یونہی بڑھیا کو، کہ اُسے بھی حُسن لوٹا دیا گیا ہے

(اور کیسا حسین منظر ہو گا کہ) جب ہم انبیائے کرام علیہم السلام سے ملاقات کا شرف پائیں گے

صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم کو سلام پیش کریں گے

علمائے امت سے مصافحہ کریں گے

مجاہدینِ ملت کا دیدار کریں گے

شہدائے اسلام کی زیارت کریں گے

اور جاگتی آنکھوں سے فرشتوں کو دیکھیں گے

پھر جب ہمیں نہرِ کوثر پر لے جایا جائے گا، تو وہاں ہمارے محبوب، حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم بنفسِ نفیس ہمارا
استقبال کریں گے

اور ہمیں سونے کے برتنوں میں کوثر کے جام بھر بھر کر دیں گے ، جسے ایک بار پینے کے بعد کبھی پیاس نہیں لگے گی

اور ہمیں بتایا جا رہا ہو گا کہ یہ ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ ہیں

وہ (دیکھو) وہاں سے عمر رضی اللہ عنہ آ رہے ہیں

اور وہ باحیا (وباصفا) عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ ہیں

اور یہ علی المرتضی رضی اللہ عنہ ہیں

اور ان کے پہلو میں نوجوانانِ جنت کے سردار (حسنینِ کریمین) رضی اللہ عنہم ہیں

اور ہمیں بتایا جائے گا کہ وہ مفسرِ قرآن عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما ہیں

اور جو اُس درخت کے نیچے ہیں وہ خالد بن ولید رضی اللہ عنہ ہیں

اور یہ کثیر الروایت صحابی، ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ہیں

اور ہمیں دور سے ایک بہت ہی پرسوز اور دلنشین آواز میں اذان سنائی دے گی، جب ہم اس کے قریب جائیں گے، تو اذان دینے والے حضرت بلال رضی اللہ عنہ ہوں گے

پھر ہم مزامیر کی مثل ایک میٹھی اور سریلی آواز سنیں گے، تو سب لوگ رب تعالیٰ کی وحدانیت و کبریائی بیان کرتے ہوئے صاحبِ آواز کے بارے میں پوچھیں گے، تو فوراً بتایا جائے گا کہ یہ اللہ کے جلیل القدر نبی داؤد علیہ السلام ہیں

(وہ کیسا نظارہ ہو گا کہ جن کے قصے ہم نے قرآن میں پڑھے، ان میں سے) وہاں اصحابِ اخدود کو دیکھیں گے

اہل کہف، اصحابِ سفینہ، آل فرعون اور اصحابِ قریہ کے مؤمن اور بادشاہ ذو القرنین کو بھی دیکھیں گے

(پھر) جب ہمیں ہمارا خالق و مالک جل جلالہ ارشاد فرمائے گا: اے جنتیو!!!

ہم عرض کریں گے: اے ہمارے رب! ہم تیری خدمت و بندگی میں حاضر ہیں

اللہ تعالیٰ فرمائے گا: کیا تمہیں کسی اور چیز کی طلب ہے، جو میں تمہیں عطا کروں؟

ہم عرض کریں گے: اے ہمارے رب! ہم اس سے بڑھ کر اور کیا مانگیں؟ کہ تو نے ہمارے چہروں کو روشن فرمایا، ہمیں جنت میں داخل کیا اور ہمیں جہنم سے نجات بخشی

پس اللہ عزوجل حجاب اٹھا دے گا اور ہم دیدارِ الٰہی سے مشرف ہوں گے

تب ہمیں پتہ چلے گا کہ جنت کی سب سے عظیم نعمت تو اللہ تعالیٰ کا دیدار ہے

دیدارِ الٰہی کا منظر کیسا حسین ہو گا جب رب تعالیٰ ہمیں فرمائے گا

آج میں نے تم پر اپنی رضا واجب کر دی، اس کے بعد میں تم پر کبھی غضب نہیں فرماؤں گا

جنت میں پہلا لمحہ،پہلی رات اور پہلی صبح کیسی حسین و خوبصورت ہو گی

اوامر و نواہی اور ان پر عمل کا سلسلہ اپنے اختتام کو پہنچا

لوگ حساب و کتاب سے فارغ ہو گئے

منافقت، فسادات، قتل و غارت اور ناپسندیدہ امور والے جہاں کو ہم پیچھے چھوڑ آئے، مصائب و مشقت، کمر کو جھکانے والی ساری چیزیں ختم ہو گئیں

یہ وہ جنت ہے، جس کے مستحق ہم محنت کوشش اور مصیبتوں پر صبر سے ہی بن سکتے ہیں⁦❤️⁩

کاپیڈ۔

23/03/2020

🦋🌼🌼🌼🦋

سرِ لامکان سے طلب ہوئی ‛
سوئے منتہٰی وہ چلے نبی ‛
کوئی حد نہیں ان کے عروج کی ‛

​بلغ العلی بکمالہ​

رخِ مصطفٰی کی یہ روشنی ‛
یہ تجلیوں کی ہما ہمی ‛
کہ ھر اک چیز چمک اٹھی ‛

​کشف الدجٰی بجمالہ​

یہ کمالِ حقِ محمدی ‛
کہ ھر اک پہ نظرِ کرم رہی ‛
سر حشر نعرۂِ اُمتی ‛

​حسنت جمیع خصالہ​

وہی حق دگر ، وہی حق نما ‛
رخِ مصطفٰی ہے وہ آئینہ ‛
کہ خدائے پاک نے خود کہا ‛

​صلو علیہ وآلہ​ وسلّم

06/03/2020

اگر تیرے جسم پہ تیری مرضی ہوتی تو آج تو اتنی موٹی نہ ہوتی ۔
چول جئی

‏ تمام گروپ والوں کی تصویریں اکٹھی کی ہیں 😍جن کی نہیں لگی وہ کمنٹ میں بتادیں پلیز 😇کوئی رہ تو نہیں گیا 🤔 😜😜‏
05/02/2020

‏ تمام گروپ والوں کی تصویریں اکٹھی کی ہیں 😍
جن کی نہیں لگی وہ کمنٹ میں بتادیں پلیز 😇
کوئی رہ تو نہیں گیا 🤔 😜😜‏

05/02/2020
05/02/2020

دو گھوڑا بوسکی۔۔!!

آج پھیکے سے مسجد میں ملاقات ہوئی۔۔۔! کہنے لگا صاحب جی آپ سے ضروری بات کرنی ہے جی۔۔۔! شام کو کار آؤں گا۔۔۔! پھیکے نے بات کرنی ہو تو شام کا انتظار کون کرے۔۔۔؟ میں نے کہا نہیں یار پھیکے تُو ابھی میرے ساتھ چل اور بتا کیا بات ہے۔۔۔؟ گھر آ کر میں نے بخشو سے چاۓ لانے کو کہا اور پھر پھیکے سے مُخاطب ہوا۔۔۔! ہاں بھئی اب بتا بات کیا ہے کس لیئے اتنا بے چین ہے۔۔۔؟

پھیکا کہنے لگا دو دن رہ گئے تھے کار آنے میں صاحب جی۔۔۔! بیگم صاحبہ کا ڈرائیور چھٹی پر تھا۔۔۔! بڑے صاحب نے مجھے اُن کو بازار لے کر جانے کا کہہ دیا۔۔۔! صاحب جی بیگم صاحبہ نے شاپنگ کرنی تھی۔۔۔! خورے کہاں کہاں سے مہنگے مہنگے کپڑے لیئے۔۔۔! ایک ایک جوڑا ہزاروں کا تھا۔۔۔! مِنٹوں میں لاکھوں کی شاپنگ کر لی جی بیگم صاحبہ نے۔۔۔! میں نے پوچھا بیگم صاحبہ اتنے مہنگے لون کے جوڑے ان میں کیا سونا چاندی لگا ہے۔۔۔؟ ہنس کر بولیں پھیکے تجھے نہیں پتہ یہ “ڈزینر ہیں ڈزینر”۔۔۔!

ایک تو پھیکے کی معصوم شکل اوپر سے ڈیزائنر کو “ڈزینر” کہنے کا انداز مجھے اُس پر بے ساختہ پیار آگیا۔۔۔! پھیکا اب جانے کیا بتانے والا تھا۔۔۔! جب سے میرے بھتیجے مدثر کا ایکسیڈنٹ ہوا تھا میں نے پھیکے کو اپنے بھائی کے گھر مدثر کے پاس بھیج دیا تھا۔۔۔! دو تین ہفتے کے بعد پھیکا چند ایک روز کے لیئے گھر آ جایا کرتا۔۔۔!

میں نے پوچھا پھیکے آخر تجھے کپڑوں میں کیا دلچسپی ہو گئی۔۔۔؟ صاحب جی مجھے کیا دلچسپی ہونی ہے جی۔۔۔! میں تو بس حیران رہ گیا ایک ایک لون کا جوڑا ہزاروں کا خریدا بیگم صاحبہ نے۔۔۔! صاحب جی آخر تھا تو لون کا جوڑا ہی نا۔۔۔؟ سوچتا ہوں میری کار والی کا بھی دل کرتا ہو گا ڈزینر جوڑا پہننے کا۔۔۔! خورے کیوں صاحب جی دل میں پھانس سی چُبھ گئی۔۔۔! اُس نے تو کبھی فرمائش ہی نہیں کی۔۔۔! سادے سے لون کے تین جوڑوں میں ساریاں گرمیاں لنگھا لیتی ہے جی۔۔۔! میں نے گھر آ کر پوچھا تیرا دل نہیں کرتا سوہنے سوہنے جوڑے لینے کا یہ جو “ڈزینر” ہوتے ہیں۔۔۔! میرے پوچھنے پر ہنس کر کہنے لگی گُڈی کے ابّا لون جُوں جُوں دُھل کر گِھستی ہے نا پِنڈے کو ُسکھ دیتی ہے۔۔۔! مُجھے ایسی فضول سوچیں نہیں آتیں۔۔۔! میں نے کہا پھر بھی بتا تو سہی اگر میں لا کر دوں تو پہنے گی۔۔۔! صاحب جی جانتے ہیں اُس نے کیا کہا۔۔۔! کہنے لگی گُڈی کے ابّا آخر کو تو اِکو چٹا جوڑا ہی پہننا ہے۔۔۔! وہ بھی خورے نصیب ہونا ہے کہ نہیں۔۔۔! اس خاکی پنڈے کو کیڑوں نے ہی کھانا ہے نا۔۔۔! “ڈزینر” پہننے والوں کے پنڈے کوکیا کیڑے نہیں کھائیں گے۔۔۔! تجھے کیا ہو گیا ہے گُڈی کے ابّا۔۔۔! تُو جانتا ہے مجھے ان باتوں سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔۔۔! تُو میرے لیئے ایک ڈزینر جوڑا لانے کی بجائے چار چھ جوڑے لے کر غریبوں میں بانٹ دے۔۔۔! میں خدا کو کیا منہ دکھاؤں گی۔۔۔؟ گُڈی کے ابّا جِس دن میرے دیس کے سب غریبوں کے تَن کجے گئے نا اُس دن میں بھی اپنے آپ کو ڈزینر جوڑے کا حقدار سمجھوں گی۔۔۔! صاحب جی پھیکے غریب کی اتنی امیر بیوی۔۔۔! مجھے اپنا آپ اُس کے سامنے حقیر بونا لگنے لگا جی۔۔۔! صاحب جی اُس نے تو مجھے روا ای دیا۔۔۔! اللہ کا جتنا بھی شکر ادا کروں کم ہے جی اُس نے اتنی صابر شاکر بیوی دی مُجھے۔۔۔! پھیکا روتا جا رہا تھا۔۔۔!
اب میں کیا بتاتا کہ اس کی گھر والی کی یہ بات سُن کر کہ اِس خاکی پنڈے کو تو کیڑوں نے ہی کھانا ہے نا میرے بدن میں بھی سنسنی دوڑ گئی۔۔۔! مجھے اپنا چائنا کی دو گھوڑا بوسکی کا کُرتا چبھنے لگا۔۔۔! اور مجھے لگا میرے بدن پر بے شمار کیڑے رینگ رہے ہیں۔۔۔! پھیکا مجھ سے دُکھ سُکھ کرنے آیا تھا اور ہمیشہ کی طرح مجھے پھر ایک نیا سبق دے گیا۔۔۔! وہ ابھی بھی رو رہا تھا میں نے دلاسہ دیا اور کندھا تھپک کر کہا ہاں پھیکے تو ٹھیک کہتا ہے۔۔۔! نیک اور قناعت پسند بیوی اللہ کی بڑی نعمت ہوتی ہے۔۔۔! یار تجھے تو خوش ہونا چاہیئے جھلیا روتا کیوں ہے۔۔۔؟

پھیکا کہنے لگا صاحب جی اُسی شام بیگم صاحبہ نے مجھے مالی کو بلانے اس کے کواٹر بھیجا۔۔۔! مالی بابا کی بیٹی نے دروازہ کھولا اُس کے کندھے سے پلو سرک گیا۔۔۔! صاحب جی اس کی قمیض کندھے سے پھٹی ہوئی تھی جسے چھپانے کے لیئے وہ بار بار پلو کھینچتی تھی۔۔۔!

پھیکا دھاڑیں مار کر رو رہا تھا۔۔۔! مجھے اُس کے رونے کی وجہ اچھی طرح معلوم ہو گئی تھی۔۔۔!

صاحب جی میں نے اپنی کار والی کو بتایا تو اس نے اسی وقت لون کے دو کرتے مالی بابا کی بیٹی کے لیئے سی کر دیۓ۔۔۔! ہم سو ہی نہیں سکے صاحب جی اور ساری رات ڈزینر لون پہننے والی بیگم صاحبہ کے پھوٹے نصیبے پر روتے رہے۔۔۔!

میں نے اسی شام بخشو سے کہہ کر اپنے سارے بوسکی کے کرتے گاؤں کے غریب کسانوں کو بھجوا دیئے۔۔۔! پھیکا واپس شہر چلا گیا لیکن ُاس دن سے جب بھی اس کی بات یاد آتی ہے بدن پر کیڑے رینگنے لگتے ہیں۔۔۔!

Address

Leiah
31450

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when HMY Gamer posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Establishment

Send a message to HMY Gamer:

Shortcuts

Share