Saif Ullah Warraich319

Saif Ullah Warraich319 🎥 Learn • Create • Grow
📚 Education | Creativity | Fun
Whatsapp : +923028765595

15/06/2026

کل اپنے میٹرک کے کلاس فیلوز کے ساتھ گزارا ہوا دن یادوں کی کتاب کا ایک خوبصورت باب بن گیا۔ دیہات کے پرسکون ماحول میں ٹیو بب ویل کے ساتھ بنے ہوئے پول میں نہانے کا مزہ، اپنے ہاتھوں سے کھانا پکانے کی خوشی، اکٹھے بیٹھ کر کھانا کھانا، پرانی باتوں کو یاد کرنا، قہقہے لگانا اور بے شمار خوبصورت لمحے بانٹنا واقعی دل کو خوش کر گیا۔ وقت گزر جاتا ہے، لیکن ایسے دن اور ایسے دوست ہمیشہ یاد رہتے ہیں۔ زندگی کی مصروفیات کے درمیان دوستوں کے ساتھ گزارے گئے یہ چند گھنٹے ایک نئی تازگی اور خوشی دے گئے۔ اللہ کرے یہ دوستی، محبت اور خوبصورت یادیں ہمیشہ قائم رہیں۔ ❤️🌿

آج بھی جب میں ماضی کے اُس فیصلے کو یاد کرتا ہوں تو دل میں ایک ہی دردناک سوال اٹھتا ہے کہ اگر اُس دن میں نے صرف ایک بار م...
14/06/2026

آج بھی جب میں ماضی کے اُس فیصلے کو یاد کرتا ہوں تو دل میں ایک ہی دردناک سوال اٹھتا ہے کہ اگر اُس دن میں نے صرف ایک بار میرب کی بات سن لی ہوتی تو شاید میری زندگی کبھی برباد نہ ہوتی۔ میرب
صرف میری بیوی نہیں تھی،
وہ میرے گھر کی خوشی، میرے والدین کا سہارا اور میری ہر پریشانی میں میرا ساتھ دینے والی ساتھی تھی، مگر چند جعلی تصویروں، جھوٹے ثبوتوں اور لوگوں کی باتوں نے میرے دل میں اُس کے خلاف شک پیدا کر دیا۔

وہ روتی رہی، منتیں کرتی رہی اور بار بار کہتی رہی کہ وہ بے قصور ہے، لیکن میری انا نے میرے کان بند کر دیے تھے۔ میں نے اُس پر الزام لگایا، اُسے گھر سے نکال دیا اور طلاق دے دی، یہ جانے بغیر کہ وہ میرے بچوں کی ماں بننے والی تھی۔ اُس نے مجھے یہ خبر دینے کی بے شمار کوششیں کیں مگر میں اُس وقت رانیہ کی باتوں میں آ چکا تھا، جو بظاہر ہمدرد اور معصوم دکھائی دیتی تھی مگر حقیقت میں میرے گھر کی تباہی کی وجہ بن رہی تھی۔

ایک سال بعد جب میں رانیہ کے ساتھ ہائی وے سے گزر رہا تھا تو میری نظر سڑک کنارے کھڑی میرب پر پڑی، جو پرانے کپڑوں میں دو ننھے بچوں کو سینے سے لگائے کھڑی تھی۔ میری نظریں بچوں پر ٹھہر گئیں کیونکہ اُن کی آنکھیں اور چہرے کے نقوش بالکل میری طرح تھے۔ اُس لمحے میرے اندر کچھ ٹوٹ گیا۔ اُس رات میں سو نہ سکا اور اگلے ہی دن سچ جاننے کے لیے تحقیقات کروائیں۔ چند دنوں بعد حقیقت سامنے آئی تو میرے قدموں تلے زمین نکل گئی۔ میرب بے قصور تھی، تمام ثبوت جعلی تھے، گواہوں کو خریدا گیا تھا، اور یہ سب رانیہ کی سازش تھی۔ یہاں تک کہ ہسپتال کے ریکارڈ بھی تبدیل کر دیے گئے تھے تاکہ مجھے اپنے بچوں کی پیدائش کی خبر نہ مل سکے۔ پھر میں نے ایک پرانا وائس میسج سنا جس میں میرب کمزور آواز میں کہہ رہی تھی،

"حارث، ڈاکٹر کہہ رہے ہیں بچے آنے والے ہیں، بس ایک بار آ جاؤ، اپنے بچوں کو دیکھ لو۔" یہ سن کر میری آنکھوں سے آنسو بہنے لگے کیونکہ میں اپنے بچوں کی پیدائش، اُن کی پہلی مسکراہٹ اور اُن کے ابتدائی لمحوں سے محروم رہ چکا تھا۔ میں فوراً میرب کے پاس پہنچا مگر اُس نے بچوں کو اپنے قریب کر لیا اور کہا، "قریب مت آنا۔" اُس کی آنکھوں میں برسوں کا درد تھا۔ میں نے معافی مانگی مگر اُس نے کہا کہ میں صرف سچ جان گیا ہوں، اُس کا درد کبھی نہیں سمجھ سکتا۔ اُس دن مجھے احساس ہوا کہ کچھ زخم لفظوں سے نہیں بھرتے۔ پھر بھی میں روز اُس کے پاس جاتا رہا، بچوں کے لیے چیزیں لاتا رہا اور خاموشی سے اپنے کیے کی سزا بھگتتا رہا۔ وقت گزرتا گیا، اور ایک دن بارش میں میرا ایک بیٹا لڑکھڑاتا ہوا آیا اور میری ٹانگ سے لپٹ گیا، پھر دوسرا بھی میرے قریب آ گیا۔ میں نے دونوں کو سینے سے لگا لیا اور بے اختیار رو پڑا۔

میرب چند قدم دور کھڑی تھی۔ اُس کی آنکھوں میں پہلی بار نفرت کے بجائے ہلکی سی نرمی تھی۔ اُس نے آہستہ سے کہا، "میں ماضی نہیں بھول سکتی، لیکن اگر تم واقعی بدل گئے ہو تو شاید ہم اپنے بچوں کے لیے ایک نئی زندگی شروع کر سکتے ہیں۔" اُس لمحے مجھے احساس ہوا کہ معافی مانگنا آسان ہے، مگر کسی ٹوٹے ہوئے دل کا اعتماد دوبارہ جیتنا دنیا کی سب سے مشکل آزمائش ہے۔ بارش برس رہی تھی، میرے بچے میری بانہوں میں تھے اور میرب میرے قریب کھڑی تھی، اور ایک سال بعد پہلی بار مجھے محسوس ہوا کہ شاید میرا گھر واپس آ گیا ہے۔

13/06/2026

Easy way to create such fifa World Cup Ai images and prompt in first comment

♦️ اہم اپڈیٹ – سرکاری ملازمین کے لیے خوشخبری✅ ایڈہاک ریلیف 2022 (15%) اور ایڈہاک ریلیف 2025 (10%) بنیادی تنخواہ (Basic P...
13/06/2026

♦️ اہم اپڈیٹ – سرکاری ملازمین کے لیے خوشخبری
✅ ایڈہاک ریلیف 2022 (15%) اور ایڈہاک ریلیف 2025 (10%) بنیادی تنخواہ (Basic Pay) میں ضم کر کے Pay Scales Revised کر دیے گئے ہیں۔
✅ ایڈہاک ریلیف الاؤنس 2026 = 7% منظور کیا گیا ہے۔
✅ اسکیل ریویژن سے:
Basic Pay میں اضافہ ہوتا ہے۔
سالانہ انکریمنٹ (Annual Increment) کی رقم بڑھ جاتی ہے۔
مستقبل کے الاؤنسز اور مراعات پر بھی مثبت اثر پڑتا ہے۔
✅ وفاق کی جانب سے اسکیل ریویژن کے بعد عموماً صوبے بھی یہی نظام اپناتے ہیں۔
تمام ملازمین کو مبارکباد اور جدوجہد کرنے والوں کو خراجِ تحسین۔ 🌹

پیدائش سے بڑھاپے تک کا سفر ایک ہی تصویر میں! 😄دو سال کی عمر میں ضد،چھ سال میں شرارت،پندرہ میں خواب،تیس میں ذمہ داریاں،او...
13/06/2026

پیدائش سے بڑھاپے تک کا سفر ایک ہی تصویر میں! 😄دو سال کی عمر میں ضد،چھ سال میں شرارت،پندرہ میں خواب،تیس میں ذمہ داریاں،
اور ساٹھ میں یہی سوچ:
"یار، بچپن ہی اچھا تھا!" 😂❤️

12/06/2026

How to Save WhatsApp View Once Photos & Videos!
Learn this simple trick for Android 📱 and iPhone 🍎 in just a few seconds! 👀🔥

سردیوں کی یخ بستہ رات میں جب مری کی برف پوش وادیوں پر خاموشی سے برف برس رہی تھی، عشا صدیقی اپنی مرحومہ ماں کا پرانا عروس...
12/06/2026

سردیوں کی یخ بستہ رات میں جب مری کی برف پوش وادیوں پر خاموشی سے برف برس رہی تھی،
عشا صدیقی اپنی مرحومہ ماں کا پرانا عروسی لباس پہنے ٹوٹے ہوئے آئینے کے سامنے کھڑی تھی۔ اس کی آنکھوں میں خواب نہیں بلکہ بے بسی کے آنسو تھے، کیونکہ وہ دلہن بن کر نہیں بلکہ اپنے باپ کے پچاس ہزار روپے کے قرض کی قیمت ادا کرنے جا رہی تھی۔
جس شخص سے اس کا نکاح ہوا، ارسلان احمد، پورے گاؤں کی نظر میں ایک منحوس، تنہا اور پیدائشی بہرا انسان تھا۔ مگر جب عشا اس کے گھر پہنچی تو اسے ظلم نہیں، احترام ملا؛ نفرت نہیں، عزت ملی۔ ارسلان نے کبھی اس پر اپنی مرضی مسلط نہ کی، بلکہ خاموش لفظوں اور ڈائری کے صفحوں کے ذریعے اس کی زندگی میں سکون بھر دیا۔
پھر ایک رات قسمت نے ایسا راز کھولا جس نے برسوں کی تاریکی کو روشنی میں بدل دیا۔ عشا نے ارسلان کے کان سے ایک مردہ کیڑا اور تعویذ نما ٹکڑا نکالا، اور اگلے ہی لمحے برسوں سے خاموش پڑی زندگی میں پہلی آواز گونجی۔ "پانی..." یہ صرف ایک لفظ نہیں تھا، بلکہ ایک ایسی روح کی واپسی تھی جو برسوں سے خاموشی کی قید میں تھی۔ بعد میں حقیقت سامنے آئی کہ جائیداد ہتھیانے کی سازش نے ایک
معصوم بچے سے اس کی سماعت چھین لی تھی۔ علاج کے بعد جب ارسلان نے پہلی بار برف کے
گرنے، ہوا کی سرگوشیوں، جلتی لکڑی کی چٹخ اور عشا کی ہنسی کی آواز سنی تو اس کی آنکھوں سے شکر کے آنسو بہہ نکلے۔

وقت نے کروٹ لی، زمینیں واپس مل گئیں، عزت لوٹ آئی، مگر ارسلان کے لیے سب سے بڑی دولت وہ عورت تھی جس نے اسے دوبارہ دنیا کی آوازوں سے ملا دیا۔ ایک سال بعد جب ان کی ننھی بیٹی نے پہلی بار روتے ہوئے دنیا میں آنکھ کھولی تو ارسلان اسے سینے سے لگا کر رو پڑا اور لرزتی آواز میں بولا،

"اگر تم میری زندگی میں نہ آتیں تو شاید میں کبھی اپنی بیٹی کی آواز نہ سن پاتا۔" باہر برف خاموشی سے برس رہی تھی، مگر اس چھوٹے سے گھر کے اندر محبت، شکرگزاری اور خوشیوں کی ایسی صدائیں گونج رہی تھیں جو ہر
خاموشی سے زیادہ طاقتور تھیں۔

11/06/2026

How electricity bill QR code scan

رات کے تقریباً گیارہ بج رہے تھے۔میری پرانی کتابوں کی دکان بند ہو چکی تھی  میں روز کی طرح تھکا ہارا گھر آ کر خاموشی سے بی...
11/06/2026

رات کے تقریباً گیارہ بج رہے تھے۔میری پرانی کتابوں کی دکان بند ہو چکی تھی میں روز کی طرح تھکا ہارا گھر آ کر خاموشی سے بیٹھا تھا کہ اچانک موبائل پر ایک پیغام نمودار ہوا:
"ابو، میں کامیاب ہو گئی.. آج میرا نام رجسٹرڈ نرسوں میں آ گیا ہے۔"
میں چند لمحے سکرین کو گھورتا رہ گیا۔ میرا نام سلیم ہے، عمر اٹھاون سال، اور میری تو کوئی بیٹی ہی نہیں۔ میری دو اولادیں ہیں، دونوں بیٹے۔ پہلے خیال آیا کہ یہ یقیناً غلط نمبر ہے، مگر نہ جانے کیوں دل نے کہا جواب ضرور دو۔ میں نے لکھا:
"مبارک ہو بیٹا، اللہ تمہیں ہمیشہ کامیاب رکھے۔"
چند ہی لمحوں بعد جواب آیا:
"مجھے معلوم تھا آپ یہی کہیں گے۔"
یہ ایک عام سا جملہ تھا، مگر اس کے پیچھے برسوں کی محرومی، انتظار اور محبت کی بھوک چھپی ہوئی محسوس ہو رہی تھی۔ پھر باتوں کا سلسلہ چل نکلا۔ اس نے بتایا کہ اس کا نام مریم ہے، چار سال سے نرسنگ کی تعلیم حاصل کر رہی تھی، حالات سخت تھے، لوگوں نے اس کے خوابوں کا مذاق اڑایا، اسے ناکام کہا، مگر وہ ہار نہیں مانی۔ آج جب اس کی کامیابی کا دن آیا تو سب سے پہلے وہ اپنے والد کو یہ خوشخبری سنانا چاہتی تھی۔
میں کئی بار لکھنے لگا کہ "بیٹا، آپ غلط نمبر پر پیغام بھیج رہی ہیں"، لیکن ہر بار انگلی رک جاتی۔ کیونکہ اب وہ مجھ سے بات نہیں کر رہی تھی، وہ اپنے باپ سے بات کر رہی تھی... اُس باپ سے جس کی توجہ اور محبت کی وہ برسوں سے منتظر تھی۔
دو ہفتے گزر گئے۔ کبھی اس کی ڈیوٹی کے قصے آتے، کبھی کسی مریض کی دعا، کبھی مستقبل کے خواب، اور کبھی زندگی کی تھکن۔ پھر ایک رات اس کا ایک ایسا پیغام آیا جس نے مجھے اندر تک ہلا دیا:
"ابو، آپ نے کبھی مجھ پر فخر کیوں نہیں کیا؟"
میں بہت دیر تک خاموش بیٹھا رہا۔ آنکھیں نم ہو گئیں۔ آخر میں نے پہلی بار سچ لکھ دیا:
"بیٹا، میں تمہارا ابو نہیں ہوں۔"
اس کے بعد جیسے سب کچھ رک گیا۔ تین دن تک کوئی جواب نہیں آیا۔ مجھے لگا شاید میں نے ایک اجنبی دل کو تکلیف پہنچا دی ہے۔ پھر چوتھے دن اس کا مختصر سا پیغام آیا:
"مجھے پچھلے ہفتے ہی پتہ چل گیا تھا کہ نمبر غلط ہے۔"
میں حیران رہ گیا۔
اس نے مزید لکھا:
"میں نے جان بوجھ کر بات جاری رکھی، کیونکہ جس شخص کو میں ابو سمجھ کر پیغام بھیج رہی تھی، اُس نے پہلی بار مجھے یہ کہا تھا کہ اُسے مجھ پر فخر ہے۔"
یہ پڑھ کر میری آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے۔
پھر اس کا آخری پیغام آیا، ایک ایسا جملہ جو آج بھی میرے دل میں گونجتا ہے:
"آپ اجنبی تھے... مگر آپ نے وہ ایک جملہ کہہ دیا جو میرے اپنے والد نے کبھی نہیں کہا۔"
اس کے بعد وہ خاموش ہو گئی۔ نہ اس کا کوئی اور پیغام آیا، نہ میں نے کبھی رابطہ کیا۔ مگر اس ایک غلط نمبر نے مجھے زندگی کا سب سے بڑا سبق سکھا دیا۔
آج بھی جب میری دکان پر کوئی نوجوان اپنی کامیابی کا ذکر کرتا ہے، تو میں مسکرا کر ضرور کہتا ہوں:
"شاباش بیٹا... مجھے تم پر فخر ہے۔"
کیونکہ اب میں جان چکا ہوں کہ بعض اوقات انسان کو دولت، شہرت یا تحفوں کی نہیں، صرف ایک سچے جملے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اور افسوس یہ ہے کہ یہ جملہ اکثر اجنبیوں سے مل جاتا ہے، اُن لوگوں سے نہیں جن کی زبان سے سننے کی خواہش پوری زندگی دل میں زندہ رہتی ہے۔ ❤️🥀 :::

10/06/2026

How to read deleted WhatsApp messages

Address

Leiah
31450

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Saif Ullah Warraich319 posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share