27/01/2026
تحریر ضرور پڑھیں
آج اگر یہ مرحوم مردِ مجاہد، جناب فضول سنگھ، زندہ ہوتے تو میں دیکھتا کہ پاکستانی فوج کیسے اسرائیل کو تسلیم کرتی۔ جب تک یہ زندہ تھے، پاکستان کا اسرائیل کو تسلیم کرنا تو دور کی بات ہے، اگر کوئی پاکستان میں اسرائیل کا نام بھی لیتا تو یہ بندہ گرمی سردی کی پروا کیے بغیر مدرسے کے بچوں کو سڑکوں پر نکال کر حکومتِ وقت کے لیے زمین گرم کر دیتا تھا۔
لیکن افسوس کہ آج ان کے انتقال کو ابھی چند دن ہی ہوئے ہیں کہ پاکستانی فوج نے نہ صرف اسرائیل کو تسلیم کر لیا بلکہ اب فلسطین جا کر فلسطینیوں کے خلاف لڑنے کی باتیں بھی کی جا رہی ہیں۔
یہاں سے ہمیں پتا چلتا ہے کہ ملک میں اسلامی قوانین نافذ کرنے اور مسلمانوں کی حفاظت کے لیے ایسے مولویوں کا ہونا کتنا ضروری ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ جب ڈیزل 150 روپے کا تھا تو موصوف کو مہنگائی یاد آ جاتی تھی، اسلام خطرے میں نظر آتا تھا، اور ہر دوسرے ہفتے مہنگائی مکاؤ مارچ نکل آتا تھا۔
لیکن آج جب ڈیزل 280 روپے کا ہو چکا ہے تو نہ اسلام خطرے میں ہے، نہ مہنگائی، اور نہ ہی لانگ مارچ—شاید اس بار ڈیزل ذاتی استعمال کے لیے محفوظ رکھا گیا ہے۔
یہاں سے ہمیں خوب سمجھ آتا ہے کہ ہمارے ہاں مسئلہ اسلامی قوانین کا نہیں، بلکہ مفاد کے گیئر باکس کا ہے، جو ہر حکومت کے ساتھ خود بخود شفٹ ہو جاتا ہے۔
اور یہ بھی پتا چلتا ہے کہ کچھ مولوی حضرات واقعی ملک میں اسلامی نظام کے لیے نہیں بلکہ موسمی احتجاج کے لیے ضروری ہوتے ہیں