Hijrat

Hijrat یہ پیج عمدہ اور با ذوق شاعری کیلیے ھے۔

27/04/2026
27/04/2026

گلی میں درد کے پرزے تلاش کرتی تھی
مرے خطوط کے ٹکڑے تلاش کرتی تھی

کہاں گئی وہ کنواری اداس بی آپا
جو گاؤں گاؤں میں رشتے تلاش کرتی تھی

بھلائے کون اذیت پسندیاں اس کی
خوشی کے ڈھیر میں صدمے تلاش کرتی تھی

عجیب ہجر پرستی تھی اس کی فطرت میں
شجر کے ٹوٹتے پتے تلاش کرتی تھی

قیام کرتی تھی وہ مجھ میں صوفیوں کی طرح
اداس روح کے گوشے تلاش کرتی تھی

تمام رات کو پردے ہٹا کے چاند کے ساتھ
جو کھو گئے تھے وہ لمحے تلاش کرتی تھی

کچھ اس لیے بھی مرے گھر سے اس کو تھی وحشت
یہاں بھی اپنے ہی پیارے تلاش کرتی تھی

گھما پھرا کے جدائی کی بات کرتی تھی
ہمیشہ ہجر کے حربے تلاش کرتی تھی

تمام رات وہ زخمہ کے اپنے پوروں کو
مرے وجود کے ریزے تلاش کرتی تھی

دعائیں کرتی تھی اجڑے ہوئے مزاروں پر
بڑے عجیب سہارے تلاش کرتی تھی

مجھے تو آج بتایا ہے بادلوں نے وصیؔ
وہ لوٹ آنے کے رستے تلاش کرتی تھی

27/04/2026

‏حُسن کہتے ہیں ، جسے عشق و محبت والے
جوہرِ چشمِ بصیرت کے سوا کچھ بھی نہیں

ہجر ہو وصل ہو اے دوست عدم ہو کہ وجُود
اِک تری چشمِ عنایت کے سوا کُچھ بھی نہیں

آرزُو سہارنپوری

27/04/2026

سونف کا شربت نسخہ ہے:
سونف شربت کا نسخہ
اجزاء:
2 کھانے کے چمچ سونف
2 کپ پانی
1-2 چمچ چینی یا حسب ذائقہ
½ چائے کا چمچ کالا نمک (اختیاری)
½ چائے کا چمچ لیموں کا رس (اختیاری)
پودینے کے چند پتے
آئس کیوبز
ہدایات:
1. سونف کے بیجوں کو 1 کپ پانی میں 3-4 گھنٹے یا رات بھر بھگو دیں۔
2. بھیگی ہوئی سونف کے بیجوں کو اسی پانی سے ہموار پیسٹ میں پیس لیں۔
3. مکسچر کو باریک چھلنی یا کپڑے سے چھان لیں۔
4. پانی میں چینی، کالا نمک اور لیموں کا رس ملا دیں۔ اچھی طرح مکس کریں۔
5. مزید 1 کپ ٹھنڈا پانی اور چند آئس کیوبز شامل کریں۔
6. شیشے میں ڈالیں، پودینے کے پتوں سے گارنش کریں۔
7. ٹھنڈا کرکے سرو کریں۔
Saunf Ka Sharbat
Saunf Sharbat Recipe (English)

Ingredients:
2 tbsp fennel seeds
2 cups water
1–2 tbsp sugar or as per taste
½ tsp black salt (optional)
½ tsp lemon juice (optional)
A few mint leaves
Ice cubes

Instructions:
1. Soak fennel seeds in 1 cup water for 3–4 hours or overnight.
2. Grind the soaked fennel seeds with the same water to a smooth paste.
3. Strain the mixture through a fine sieve or cloth.
4. Add sugar, black salt, and lemon juice to the strained water. Mix well.
5. Add 1 more cup of chilled water and a few ice cubes.
6. Pour into glasses, garnish with mint leaves.
7. Serve chilled.

27/04/2026

ساٹھ کی دَھائی کی فِلم ❞مَمتا❝ میں مَجروح سُلطانپوری کا لِکھا ، رَوشن کی سُریلی دُھن لتا کی مَن موھنی آواز میں یہ گیت آج بھی کانوں میں رَس گھولتا ھے۔

رَھیں نہ رَھیں ھم ، مَہکا کریں گے
بن کے کلی ، بن کے صَبا ، باغِ وَفا میں۔

موسم کوئی ھو ٫ اِس چَمن میں
رنگ بن کے رھیں گے ، ھم خَراماں
چاھت کی خُوشبو ٫ یونہی زُلفوں سے
اُڑے گی ، خَزاں ھو یا بہاراں۔

یُونہی جُھومتے ٫ اور کِھلتے رَھیں گے
بَن کے کلی ، بَن کے صَبا ، باغِ وفا میں۔

کھوئے ھم ایسے ٫ کیا ھے مِلنا
کیا بِچھڑنا ٫ نہیں ھے یاد ھم کو
کُوچے میں دِل کے ٫ جب سے آئے
صِرف دِل کی زمیں ھے ٫ یاد ھَم کو۔

اِسی سرزمیں پہ ٫ ھم تو رھیں گے
بَن کے کلی ، بن کے صَبا ، باغِ وفا میں۔

جب ھم نہ ھوں گے ٫ جب ھَماری
خاک پہ تُم رُکو گے ٫ چَلتے چَلتے
اَشکوں سے بِھیگی ٫ چاندنی میں
اِک صَدا سی سُنو گے ٫ چَلتے چَلتے

وھیں پہ کہیں ھم ، تُم سے مِلیں گے
بن کے کلی ، بن کے صَبا ، باغِ وَفا میں۔

رَھیں نہ رَھیں ھَم ، مہکا کریں گے
بَن کے کلی ، بَن کے صَبا ، باغِ وَفا میں۔

❞مَجروح سُلطانپوری❝

فائدہ کیا ہے زمانے میں خسارہ کیا ہےخاک ہو جائیں گے ہم لوگ ہمارا کیا ہےجیتنے والوں کا ہم کو نہیں کچھ علم کہ ہمہار کر سوچت...
27/04/2026

فائدہ کیا ہے زمانے میں خسارہ کیا ہے
خاک ہو جائیں گے ہم لوگ ہمارا کیا ہے

جیتنے والوں کا ہم کو نہیں کچھ علم کہ ہم
ہار کر سوچتے رہتے ہیں کہ ہارا کیا ہے

دیکھو اے عمرِ رواں خواہشیں رہ جائیں گی!
تم گزر جاؤ گی چُپکے سے تمھارا کیا ہے

تہ بہ تہ دھڑکنیں تجسیم ہوئی جاتی ہیں
پے بہ پے اُس نے مرے دل سے گزارا کیا ہے

وہ اگر دیکھ لے اک بار محبت سے تو پھر
ذر٘ۂ خاک چمک اُٹھے ستارہ کیا ہے

وصل اور ہجر کی تفصیل میں جا کر دیکھو
عشق تشویش کا باعث نہیں یارا کیا ہے

ناؤ کس چڑیا کو کہتے ہیں مجھے کیا معلوم
لہر کیا شے ہے ندی کیا ہے کنارہ کیا ہے

خواب میں ہم کو فلک پار بلاتا ہے کوئی
جانے کیا نام ہے اُس کا وہ ہمارا کیا ہے

سوچنا یہ ہے کہ آزر ہمیں جانا ہے کہاں
دیکھنا یہ ہے مقدر کا اشارہ کیا ہے

دلاورعلی آزر

یوں ملا کرتے ہو مشکل سے جو آسانی میں جان لے لو گے مری جان پریشانی میں وہ مرے ہیں یا کسی اور کے چھوڑو اس کو ہے نشہ وکھرا ...
27/04/2026

یوں ملا کرتے ہو مشکل سے جو آسانی میں
جان لے لو گے مری جان پریشانی میں

وہ مرے ہیں یا کسی اور کے چھوڑو اس کو
ہے نشہ وکھرا سُنا کرتے ہیں بیگانی میں

جن کو مل جاتے ہیں لمحے بھی تری قربت کے
اُن کا ہوتا نہیں نقصان رائیگانی میں

کیسے سمجھیں وہ بھلا بات کا مطلب تیری
عمر گزری ہو یہاں جن کی بھی نادانی میں

دیکھو مشکل ہے نظر آۓ وہ دنیا کو کبھی
جو نظر آتا ہے دیوانے کو دیوانی میں

میری نظریں تو ہیں کمزور مگر اُردو نہیں
میر و غالب کو پڑھا ہے سُنو جوانی میں

عشق پر روز لکھا لکھ کے سُنایا بھی رضا
اور یہ ہی کام نا کر پاۓ پشیمانی میں

سید محتشم رضا

یہ جو حاصل ہمیں ہر شے کی فراوانی ہےیہ بھی تو اپنی جگہ ایک پریشانی ہےزندگی کا ہی نہیں ٹھور ٹھکانہ معلومموت تو طے ہے کہ کس...
27/04/2026

یہ جو حاصل ہمیں ہر شے کی فراوانی ہے
یہ بھی تو اپنی جگہ ایک پریشانی ہے

زندگی کا ہی نہیں ٹھور ٹھکانہ معلوم
موت تو طے ہے کہ کس وقت کہاں آنی ہے

کوئی کرتا ہی نہیں ذکر وفاداری کا
ان دنوں عشق میں آسانی ہی آسانی ہے

کب یہ سوچا تھا کبھی دوست کہ یوں بھی ہوگا
تیری صورت تری آواز سے پہچانی ہے

چین لینے ہی نہیں دیتی کسی پل مجھ کو
روز اول سے مرے ساتھ جو حیرانی ہے

یہ بھی ممکن ہے کہ آبادی ہو اس سے آگے
یہ جو تا حد نظر پھیلتی ویرانی ہے

کیوں ستارے ہیں کہیں اور کہیں آنسو ہیں
آنکھ والوں نے یہی رمز نہیں جانی ہے

تخت سے تختہ بہت دور نہیں ہوتا ہے
بس یہی بات ہمیں آپ کو بتلانی ہے

دوست کی بزم ہی وہ بزم ہے امجدؔ کہ جہاں
عقل کو ساتھ میں رکھنا بڑی نادانی ہے

امجد اسلام امجد

27/04/2026

ایک دن حضرت رسول خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) اپنی زوجہ زینب بنت جحش کے حجرہ سے نکل کر امّ سلمہ کے حجرہ میں داخل ہوئے کچھ دیر کے بعد کسی نے ام سلمہ کے دروازہ پر دستک دی آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا: ام سلمہ اٹھو !اور دروازہ کھول دو۔
ام سلمہ نے کہا :یہ کون اہم شخص ہے جس کے لئے میں اٹھ کر دروازہ کھولوں۔ ہوسکتا ہے دروازہ کھولتے وقت میرے ہاتھوں پر اس کی نظر پڑے جب کہ ابھی کل ہی آپ کی ازواج کے مکمل پردے کے بارے میں ایک سخت آیت نازل ہوئی ہے؟
رسول خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ) نے فرمایا: اے ام سلمہ! رسول کے حکم کی اطاعت خدا کے حکم کی اطاعت ہے۔ رسول کی مخالفت خدا کی مخالفت ہے۔ دروازہ پر جو شخص ہے وہ کوئی معمولی اور نادان نہیں ہے۔
وہ بغیر اجازت کے گھر میں داخل نہیں ہوگا۔ وہ شخص ایسا ہے جو خدا و رسولؐ کو دوست رکھتا ہے خدا و رسولؐ اس کو دوست رکھتے ہیں۔
ام سلمہ کا بیان ہے : میں نے اٹھ کر دروازہ کھولا۔ علی (علیہ السلام) نے اپنے دونوں ہاتھ پیچھے کرلئے اور کنارے کھڑے ہوگئے۔ تاکہ میں حجرہ میں چلی جاؤں اور پردہ میں ہو جاؤں علی (علیہ السلام) اس وقت گھر میں داخل ہوئے جب میرے پیروں کی آواز بھی سنائی نہیں دے رہی تھی وہ گھر میں آئے اور رسول خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ) کو سلام کیا۔
رسول خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ) نے بلند آواز میں فرمایا: اے ام سلمہ! کیا اس شخص کو پہچانتی ہو؟ عرض کیا: جی وہ علی ابن ابی طالب (علیہ السلام) ہیں۔ فرمایا: وہ میرا بھائی ہے اس کا اخلاق میرا اخلاق ہے اس کا گوشت میرا گوشت اور اس کا خون میرا خون ہے۔

📙علی ع ولادت سے شہادت تک ،
سید محمد کاظم قزوینی ص 354

*حضرت نُعَیمان رضی اللّٰہ عنہ کا خوبصورت انداز* حضرت نعیمان رضی اللہ عنہ جب بھی مدینہ منورہ میں داخل ہوتے تو جو بھی ان ک...
27/04/2026

*حضرت نُعَیمان رضی اللّٰہ عنہ کا خوبصورت انداز*

حضرت نعیمان رضی اللہ عنہ جب بھی مدینہ منورہ میں داخل ہوتے تو جو بھی ان کوئی چیز نظر آتی لازماً خرید کر نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں پیش کرتے اور عرض کرتے : یارسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم یہ آپ کے لئے تحفہ ہے، اور جب اس چیز کا مالک رقم کا مطالبہ کرتا تو وہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں عرض کرتے : یا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم اس کی قیمت ادا فرمادیں تو نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے : کیا تم نے مجھے تحفہ نہیں دیا تھا؟ وہ عرض کرتے یا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم میرے پاس پیسے نہیں ہیں لیکن مجھے یہ بات پسند ہے کہ آپ اسے تناول فرمائیں، تو نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم تبسم فرماتے اور ارشاد فرماتے ، اس کے مالک کو رقم ادا کی جائے۔
( الاستیعاب فی معرفة الاصحاب 1528/4)

‏یہ آج تک معلوم نہیں ہو سکا کہ لاہورئیے ٹریفک کے سپاہی کو     " سنتری بادشاہ " کیوں کہتے ہیں ۔ ذرا غور کریں تو یہ تو معل...
27/04/2026

‏یہ آج تک معلوم نہیں ہو سکا کہ لاہورئیے ٹریفک کے سپاہی کو " سنتری بادشاہ " کیوں کہتے ہیں ۔ ذرا غور کریں تو یہ تو معلوم ہو جاتا ہے کہ انگریزی کے کچھ الفاظ پنجابی میں ایسے در آئے ہیں کہ یار لوگ انہیں خالص پنجابی ہی سمجھتے ہیں ، مزید غور کریں تو پتہ چلتا ہے کہ " سنتری " کا لفظ دراصل انگریزی کے پہرے دار " سینٹری " سے نکلا ہے جو رفتہ رفتہ سنتری ہو گیا ہے ۔ سنتری کے ساتھ بادشاہ کا لقب اہل لاہور کی فیاضی کا مظہر ہے ۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ ایک زمانے میں ٹریفک پولیس کا سپاہی واقعی بادشاہ ہوتا تھا ۔ لاہور کی مال روڈ کے خالی اور ویران چوکوں میں کھڑا رہتا تھا اور اونگھتا رہتا تھا ، کبھی کبھار کوئی ڈبل ڈیکر بس گزرتی تھی تو وہ چونک جاتا تھا ۔
کوئی سبزی والا ریڑھا گزرتا تو وہ ایک دو مولیاں یا شلغم حاصل کر کے انہیں چباتا رہتا ۔

دن کے وقت ان کا اصل شکار سکول اور کالج سے لوٹنے والے وہ سائیکل سوار ہوتے جو " ڈبلنگ " کے جرم کے مرتکب ہوتے تھے ۔ اگرچہ سائیکل سوار یہ احتیاط ضرور کرتے کہ جونہی کوئی سنتری بادشاہ دکھائی دیتا ، وہ سائیکل سے اتر کر پیدل چلنے لگتے اور ذرا آگے جا کر پھر سے " ڈبل " ہو جاتے لیکن سنتری بادشاہ بھی کچی گولیاں نہیں کھیلے ہوتے تھے وہ بھی ذرا پوشیدہ ہو کر کھڑے ہوتے اور مجرمان کی آمد پر یکدم وارد ہو کر ان کی سائیکل کا ہینڈل پکڑ کر کہتے :
" اوئے تمہارا تو چالان ہو گا "

انہی دنوں کا قصہ ہے کہ میں ایک بھری دوپہر میں اسکول سے واپس آ رہا تھا ۔۔۔۔ اور ڈرائیور کے ساتھ واپس آ رہا تھا ۔۔۔ یعنی سائیکل میرا تھا اور اسے ڈرائیو میرا جماعتی نسیم کر رہا تھا اور میں مزے سے ڈنڈے پر بیٹھا آس پاس کے مناظر سے لطف اندوز ہو رہا تھا ۔ اب ہم بے دھیانی میں مارے گئے ۔ جی پی او کے چوک کے بڑے پیپل کے نیچے پوشیدہ سنتری بادشاہ ہمیں نظر نہ آیا ، جب نظر آیا تو اس نے ہمارے سائیکل کا ہینڈل تھام رکھا تھا اور ہم گرتے گرتے بچے کیونکہ ابھی ہماری ٹانگوں کی لمبائی سائیکل کی اونچائی کے برابر نہیں ہوئی تھی ۔ اس نے ایک گرج دار آواز میں نعرہ لگایا :
" بچو ، تمہارا تو چالان ہو گا ، کیا نام ہے تمہارا ۔۔۔ "

چالان کے نام پر ہم دونوں معصوم بچہ لوگ تھر تھر کانپنے لگے ، پسینے چھوٹ گئے ، ہکلانے لگے اور غسل خانے میں جانے کی شدید حاجت نے سر اٹھایا ۔
اب اس صورتحال سے بچنے کا ایک ہی طریقے تھا ۔ نسیم کو اللہ تعالٰی کی طرف سے ایک خاص ٹیلنٹ سے نوازا گیا تھا ۔ وہ دن یا رات کسی بھی وقت بلا تکلف دو سیکنڈ کے اندر اندر بلا وجہ دھاڑیں مار مار کر رونے پر قادر تھا اور اتنا روتا تھا کہ اس کی اور سننے والوں کی ہچکی بندھ جاتی تھی ۔ اسکول میں اساتذہ بھی اس کا احترام کرتے تھے اور بلا وجہ اسے زدو کوب کرنے سے گریز کرتے تھے ۔
بہر حال اس بھری دوپہر میں جب ہم جی پی او کے چوک میں کھڑے تھے اور ہمیں اپنی اپنی امی جانیں یاد آ رہی تھیں اور ایک سنتری بادشاہ کا غضبناک چہرہ ہمارے سامنے تھا ۔ میں نے نسیم کو اشارہ کیا کہ بھائی میرے شروع ہو جا ۔۔۔ نسیم نے فی الفور منہہ ایک اداس مگر مچھ کی طرح کھولا اور ایک چیخ بلند کی اور بھوں بھوں کرتا رونے لگا ۔ سنتری بادشاہ یکدم پریشان ہو گیا کہ اس کاکے کو تو میں نے کچھ کہا نہیں تو اس نے کس سلسلے میں دھواں دار رونا شروع کر دیا ہے چنانچہ اس نے ڈانٹ کر کہا :

" اوئے چپ کر اوئے "

اس پر نسیم نے اپنی دھاڑیں مارنے کی والیوم مزید بلند کر دی ۔
سنتری بادشاہ مزید پریشان ہو گیا ۔
" اوئے چپ کرتا ہے یا میں لپڑ مار کر چپ کراؤں ۔ "

اس لپڑ مارنے کی دھمکی کی وجہ سے نسیم مزید اشتعال میں آ گیا اور نہایت دردناک آواز میں " ہائے امی ہائے امی " بھی پکارنے لگا ۔ لوگ جمع ہونے لگے ۔ پوسٹ آفس کے باہر جو عرضی نویس اونگھ رہے تھے وہ بھی آ گئے ۔ خاصا مجمع لگ گیا اور ہر ایک یہی پوچھ رہا ہے کہ اس بچے کو کیا ہوا ہے ۔۔۔۔۔ بیٹے آپ کو کس نے مارا ہے ؟

ادھر سنتری بادشاہ کے اوسان خطا ہو چکے تھے اور وہ لوگوں کو قسمیں کھا کھا کر یقین دلانے کی کوشش کر رہا تھا کہ جناب میں نے اس بچے کو کچھ نہیں کہا ، ڈبلنگ کر رہے تھے تو روکا ہے لیکن سنتری بادشاہ کی کسی نے نہ سنی ۔ لوگ کہتے کہ تم نے ضرور اس بچے کو " تنگ " کیا ہے جو اس بھری دوپہر میں رو رو کر اپنی امی کو پکار رہا ہے اور بیچارہ بچہ ہلکان ہو رہا ہے ۔ قصہ مختصر سنتری بادشاہ نے اپنی جیب خاص سے ہمیں ایک دونی عطا کی کہ بچو میری طرف سے جا کر گنڈیریاں کھا لو ۔۔۔۔۔۔ بہت مہربانی تمہاری ۔۔۔۔۔۔ نسیم نے دونی وصول کی اور فی الفور چپ ہو گیا اور ہم سائیکل پر سوار ہو کر مزے سے واپس آ گئے

اس وقوعے کے بعد ہم اطمنان سے ڈبلنگ کرتے اس چوک سے گزرتے اور سنتری بادشاہ ہمیشہ پہلے ایک قہر آلود نظر سے ہمیں دیکھتا اور پھر فوراً مسکرانے لگتا

ہزاروں ہیں شکوے
مستنصر حسین تارڑ

Address

Lahore

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Hijrat posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

//iconSize: [32, 32], //html: '' }) .bindTooltip(name, { //permanent: true, direction: 'bottom', //offset: L.point(12, 25), //opacity: 0.88, interactive: true }) .bindPopup(name); markersLayer.addLayer(marker); } function getMore() { if (gettingMore) { return; } gettingMore = true; var center = map.getCenter(); $.ajax({ url: "/vicinitysearch", data: { lat: center.lat, lng: center.lng, country: "PAKISTAN" } }) .done(function(data) { var added = 0; data.forEach(function(loc) { if (!locationIds.includes(loc.id)) { var mapLoc = {id:loc.id,lat:loc.latitude,lng:loc.longitude,title:trunc20(loc.name),popupHtml:loc.popupHtml,urlPath:loc.urlPath,pictureUrl:loc.pictureUrl}; locations.push(mapLoc); locationIds.push(loc.id); map._addMarker(mapLoc); added++; } }); }) .always(function() { gettingMore = false; }); } map._clearMarkers = function() { markersLayer.clearLayers(); } }); }, 4000); });