Hijrat

Hijrat یہ پیج عمدہ اور با ذوق شاعری کیلیے ھے۔

ردیف ,قافیہ بے ساختہ محبت ھے مرے تو شعر کا ہر زاویہ محبت ھےقلم نے لفظ کئی لکھے کتنے کاٹے ہیں دیا جو ساتھ میں وہ حاشیہ مح...
24/06/2026

ردیف ,قافیہ بے ساختہ محبت ھے
مرے تو شعر کا ہر زاویہ محبت ھے
قلم نے لفظ کئی لکھے کتنے کاٹے ہیں
دیا جو ساتھ میں وہ حاشیہ محبت ھے
پرانے دکھ بھی علامت کے طور پر ہیں پڑے
نیا نیا جو لگا عارضہ محبت ھے
یہ زندگی تھی کڑی ایک سلسلے کی مگر
جو بارہا ہوا وہ واقعہ محبت ھے
حوالہ کوئی مرے نام سے جڑا ہی نہیں
مری تو ذات کا ہر سلسلہ محبت ھے
لڑائی اپنی مری لا کے سامنے دیکھو
تمام تلخیوں میں ذائقہ محبت ھے
یہ اشتہار لگایا گیا ھے گھر گھر میں
تمہیں ھے ایک مجھے سو گنا محبت ھے
وہ بات کرنے نہ کرنے کی ضد بجا لیکن
زبان کوئی بھی ہو قاعدہ محبت ھے
تمام مسخ شدہ چہرے نفرتوں کے نہیں
نظر نظر میں دھرا آئنہ محبت ھے
مطالعہ کبھی کرنا مری کتابوں کا
یہ شاعری, یہ تری شاعرہ محبت ھے
جدائی چل رہی ھے پاؤں پاؤں ساتھ مرے
کڑا سفر ھے مگر راستہ محبت ھے
غزل کہی تو کہیں نظم کہہ رہی ہوں میں
یہ تیرا عشق نہیں بے پناہ محبت ھے
جنوں کی اپنی ہی منطق ھے یاسمین سحر
یہاں تو حادثے پر حادثہ محبت ھے

یاسمین سحر

24/06/2026

مٹی کا ہیر پھیر ہیں کوئی پتا نہیں
ہم اور کتنی دیر ہیں کوئی پتا نہیں

بھوکے ہیں بچے اور زمیں پر پڑے ہوئے
حشرات ہیں کہ بیر ہیں کوئی پتا نہیں

جسموں کی بھوک بھوگتے جسموں کا کیا کہوں
برتن ہیں یا چنگیر ہیں کوئی پتا نہیں

پنجرے تمیز۔ قامت و قد بھول جاتے ہیں
کیا شیر کیا بٹیر ہیں کوئی پتا نہیں

دونوں طرف مہیب اداسی کی دھند ہے
ہم شام ہیں سویر ہیں کوئی پتا نہیں

مرنے کے ڈر سے دوسروں کو مارتے ہوئے
بزدل ہیں یا دلیر ہیں کوئی پتا نہیں

چکرا کے اپنے آپ میں گزری ہے زندگی
ہم کس گلی کا گھیر ہیں کوئی پتا نہیں

آندھی کے سامنے ہیں پرندوں کے قافلے
یا بال و پر کے ڈھیر ہیں کوئی پتا نہیں

شاہد چراغ رکھیو یہاں دیکھ بھال کر
گھر گھاس کی منڈیر ہیں۔۔۔ کوئی پتا نہیں

شاہد ذکی

24/06/2026

ہر ظلم ترا یاد ہے بھولا تو نہیں ہوں
اے وعدہ فراموش میں تجھ سا تو نہیں ہوں

اے وقت مٹانا مجھے آسان نہیں ہے
انساں ہوں کوئی نقش کف پا تو نہیں ہوں

چپ چاپ سہی مصلحتاً وقت کے ہاتھوں
مجبور سہی وقت سے ہارا تو نہیں ہوں

یہ دن تو مجھے ان کے تغافل نے دکھائے
میں گردش دوراں ترا مارا تو نہیں ہوں

ان کے لیے لڑ جاؤں گا تقدیر میں تجھ سے
حالانکہ کبھی تجھ سے میں الجھا تو نہیں ہوں

ساحل پہ کھڑے ہو تمہیں کیا غم چلے جانا
میں ڈوب رہا ہوں ابھی ڈوبا تو نہیں ہوں

کیوں شور بپا ہے ذرا دیکھو تو نکل کر
میں اس کی گلی سے ابھی گزرا تو نہیں ہوں

مضطرؔ مجھے کیوں دیکھتا رہتا ہے زمانہ
دیوانہ سہی ان کا تماشا تو نہیں ہوں

آفتاب مضطر

24/06/2026

ذکر اس پری وش کا، اور پھر بیاں اپنا
بن گیا رقیب آخر، تھا جو رازداں اپنا

مے وہ کیوں بہت پیتے بزمِ غیر میں یا رب
آج ہی ہوا منظور اُن کو امتحاں اپنا

منظر اک بلندی پر اور ہم بنا سکتے
عرش سے اُدھر ہوتا، کاشکے مکاں اپنا

دے وہ جس قد ر ذلت ہم ہنسی میں ٹالیں گے
بارے آشنا نکلا، ان کا پاسباں، اپنا

دردِ دل لکھوں کب تک، جاؤں ان کو دکھلا دوں
انگلیاں فگار اپنی، خامہ خونچکاں اپنا

گھستے گھستے مٹ جاتا، آپ نے عبث بدلا
ننگِ سجدہ سے میرے، سنگِ آستاں اپنا

تا کرے نہ غمازی، کر لیا ہے دشمن کو
دوست کی شکایت میں ہم نے ہمزباں اپنا

ہم کہاں کے دانا تھے، کس ہنر میں یکتا تھے
بے سبب ہوا غالبؔ دشمن آسماں اپنا

مرزا غالب

24/06/2026

بھلاتا لاکھ ہوں لیکن برابر یاد آتے ہیں
الٰہی ترک الفت پر وہ کیونکر یاد آتے ہیں

نہ چھیڑ اے ہم نشیں کیفیت صہبا کے افسانے
شراب بے خودی کے مجھ کو ساغر یاد آتے ہیں

رہا کرتے ہیں قید ہوش میں اے وائے ناکامی
وہ دشت خود فراموشی کے چکر یاد آتے ہیں

نہیں آتی تو یاد ان کی مہینوں تک نہیں آتی
مگر جب یاد آتے ہیں تو اکثر یاد آتے ہیں

حقیقت کھل گئی حسرتؔ ترے ترک محبت کی
تجھے تو اب وہ پہلے سے بھی بڑھ کر یاد آتے ہیں

حسرت موہانی۔

حضرت لقمان اگرچہ غلام اور غلام زادے تھے لیکن باخدا اور حرص و ہوس سے پاک تھے۔ ان کا آقا بھی ظاہر میں تو مالک تھا لیکن در ...
24/06/2026

حضرت لقمان اگرچہ غلام اور غلام زادے تھے لیکن باخدا اور حرص و ہوس سے پاک تھے۔ ان کا آقا بھی ظاہر میں تو مالک تھا لیکن در اصل ان کے مرتبے سے واقف اور دل سے ان کا غلام ہوگیا تھا۔ وہ ان کو کبھی آزاد کردیتا لیکن لقمان اپنا بھید چھپا کے رکھنا چاہتے تھے اور آقا ان کے خلافِ مرضی کوئی کام نہ کرناچاہتا تھا۔ اسے تو حضرت لقمان سے یہاں تک محبت وعقیدت ہوگئی تھی کہ جو کھانا ملازمین اس کے واسطے حاضر کرتے تو وہ ساتھ ہی لقمان کے پاس آدمی روانہ کرتا تاکہ پہلے وہ کھالیں اور ان کا الش وہ کھائے۔ وہ لقمان کا جھوٹا کھاتا اور خوش ہوتا تھا اور جو کھانا وہ نہ کھاتے اسے پھینک دیتاتھا۔ اور اگر کھاتا بھی تو بالکل بے دل اور بے بھوک کھاتا۔ یہاں تک نوبت پہنچ گئی تھی، ایک دفعہ کا اتفاق یہ کہ خربوزہ تحفے میں آیا اور لقمان اس وقت حاضر نہ تھے۔ مالک نے ایک غلام سے کہا جلدی جاؤ اور میرے فرزند حضرت لقمان کو تو بلالاؤ۔ جب لقمان آئے اور سامنے بیٹھے تو مالک نے چھُری لی اور خود خربوزہ کا ٹا اور ایک قاش لقمان کو دی۔
انہوں نے ایسے شوق و رغبت سے کھائی کہ مالک نے دوسری قاش دی یہاں تک کہ سترھویں قاش تک وہ اسی طرح ذوق شوق سے کھاتے رہے ۔جب صرف ایک قاش باقی رہی تو مالک نے کہا کہ اس کو میں کھاؤں گا تاکہ معلوم ہو کہ یہ کتنا میٹھا خربوزہ ہے۔ اس نے تو ایسا مزے لے کر کھایا ہے کہ دوسروں کے منہ میں پانی بھر آیا اور کھانے کو جی چاہا۔ جب مالک نے کھایا تو خربوزے کی کڑواہٹ نے حلق میں مرچیں سی لگادیں اور زبان میں آبلے پڑگئے۔ گھنٹہ بھر تک اس کی کڑواہٹ سے بد مزا رہا۔ پھر حیرت سے پوچھا کہ او عزیز تونے اس زہر کو کیوں نوش کیا اور اس قہر کو مہر کیوں سمجھ لیا۔ یہ بھی کوئی صبر ہے اور یہ صبوری کس سبب سے ہے۔ شاید تواپنی جان کا دشمن ہے ۔تونے کھانے سے بچنے کا حیلہ کیوں نہیں کیا۔ یہ ہی کہہ دیا ہوتا مجھے اس کے کھانے میں عذر ہے۔ ذرا توقف کیجئے۔

حضرت لقمان نے کہا کہ میں نے تمہارے نعمت بخشنے والے ہاتھ سے اس قدر کھایا ہے کہ مارے شرم کے دُہرا ہوا جاتا ہوں۔ اس لیے اے صاحبِ معرفت مجھے شرم آئی کہ ایک تلخ چیز تمہارے ہاتھ سے نہ کھاؤں۔ میرے تمام اعضا و جوارح تمہاری عطا سے پلے ہیں اور تمہارے ہی دانہ و دام میں اسیر ہیں۔اگر میں صرف ایک کڑوے پن پر واویلا مچانے لگوں تو خدا کرے سو راستوں کی خاک میرے اعضا وجوارح پر پڑے۔ تمہارے شکر بخشنے والے ہاتھ نے اس خربوزے میں کڑواہٹ کہاں چھوڑی تھی کہ میں اس کی شکایت کرتا۔
مأخذ :

کتاب : حکایات رومی حصہ اول (Pg. 69)

ہم ساری محبتیں چھوڑ کر اللّٰه کے پاس نہیں جاتے اللّٰه ہمیں ساری محبتوں کی اصلیت دِکھا کر اپنے پاس بلاتا ہے .
24/06/2026

ہم ساری محبتیں چھوڑ کر اللّٰه کے پاس نہیں جاتے اللّٰه ہمیں ساری محبتوں کی اصلیت دِکھا کر اپنے پاس بلاتا ہے .

24/06/2026

"جن لوگوں کو خاندانی مسائل کا سامنا نہیں ہوتا وہ کبھی نہیں سمجھ سکتے کہ رات کے وقت باہر کی سڑکیں جنت کیوں لگتی ہیں."

24/06/2026
مجنوں ایک کتے کی بلائیں لیتا تھا، اس کو پیار کرتا تھا اور اس کے آگے بچھاجاتا تھا۔ جس طرح حاجی کعبے کے گرد سچی نیت سے طوا...
24/06/2026

مجنوں ایک کتے کی بلائیں لیتا تھا، اس کو پیار کرتا تھا اور اس کے آگے بچھاجاتا تھا۔ جس طرح حاجی کعبے کے گرد سچی نیت سے طواف کرتا ہے اسی طرح مجنوں اس کتے کے گرد پھر کر صدقے قربان ہورہا تھا۔ کسی بازاری نے دیکھ کر آواز دی کہ اے دیوانے یہ کیا پاکھنڈ تونے بنا رکھا ہے۔ کتے کا بچہ ہمیشہ غلاظت کھاتا ہے اور اپنے چوتڑوں کو اپنی ہی زبان سے چاٹا کرتا ہے۔ اسی طرح کتے کے بہت سے عیب اس نے گنائے کیوں کہ عیب دیکھنے والا غیب کی بھنک بھی نہیں پاتا۔
مجنوں نے کہا کہ تو ظاہری صورت کا دیکھنے والا ہے ذرا گہرائی میں اتر اور میری آنکھوں سے اسے دیکھ کہ میرے مالک کی محبت میں گرفتار ہے یعنی کوچۂ لیلیٰ کا نگہبان ہے۔ ذرا اس کی ہمت اور اس کے انتخاب پر غور کر کہ اس نے کس مقام کو پسند کیا ہے۔ وہ جگہ جو میرے دل کا چین ہے یہ اس جگہ کا مبارک کتا ہے۔ وہ میرا ہمدرد اور ہم جنس ہے۔ جو کتا لیلیٰ کے کوچے میں رہ گیا اس کے پاؤں کی خاک بڑے بڑے شیروں سے بھی افضل ہے۔ میں شیر کو اس کے ایک بال برابر بھی نہیں سمجھتا۔

اس لیے دوستو! اگر صورت سے نظر اٹھا لو اور معنیٰ میں پہنچ جاؤ تو وہاں جنت ہی جنت ہے۔
مأخذ :

کتاب : حکایات رومی حصہ اول (Pg. 111)

Address

Lahore

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Hijrat posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share