24/06/2026
ردیف ,قافیہ بے ساختہ محبت ھے
مرے تو شعر کا ہر زاویہ محبت ھے
قلم نے لفظ کئی لکھے کتنے کاٹے ہیں
دیا جو ساتھ میں وہ حاشیہ محبت ھے
پرانے دکھ بھی علامت کے طور پر ہیں پڑے
نیا نیا جو لگا عارضہ محبت ھے
یہ زندگی تھی کڑی ایک سلسلے کی مگر
جو بارہا ہوا وہ واقعہ محبت ھے
حوالہ کوئی مرے نام سے جڑا ہی نہیں
مری تو ذات کا ہر سلسلہ محبت ھے
لڑائی اپنی مری لا کے سامنے دیکھو
تمام تلخیوں میں ذائقہ محبت ھے
یہ اشتہار لگایا گیا ھے گھر گھر میں
تمہیں ھے ایک مجھے سو گنا محبت ھے
وہ بات کرنے نہ کرنے کی ضد بجا لیکن
زبان کوئی بھی ہو قاعدہ محبت ھے
تمام مسخ شدہ چہرے نفرتوں کے نہیں
نظر نظر میں دھرا آئنہ محبت ھے
مطالعہ کبھی کرنا مری کتابوں کا
یہ شاعری, یہ تری شاعرہ محبت ھے
جدائی چل رہی ھے پاؤں پاؤں ساتھ مرے
کڑا سفر ھے مگر راستہ محبت ھے
غزل کہی تو کہیں نظم کہہ رہی ہوں میں
یہ تیرا عشق نہیں بے پناہ محبت ھے
جنوں کی اپنی ہی منطق ھے یاسمین سحر
یہاں تو حادثے پر حادثہ محبت ھے
یاسمین سحر