23/08/2026
بھوپال میں مسلمان عموماً پٹھان تھے، دراز قد، خوبصورت۔ ہندو لڑکیاں ان پر عاشق ہوجاتی تھیں اور اُن کے ساتھ بھاگ جاتی تھیں۔ ایک ہندو لڑکی اسی طرح ایک خوبصورت مسلمان پر فریفتہ ہوگئی اور دونوں نے کہیں دوسری جگہ جانے کا پروگرام بنالیا۔ لڑکی کے گھر میں ایک گھوڑی تھی اس نے کہا وہ یہ لے کر آجائے گی اور وہ دونوں کسی دوسرے علاقہ میں چلے جائینگے۔ وقت مقررہ پر وہ گھوڑی لے کر آگئی اور دونوں اس پر بیٹھ کر روانہ ہوگئے، کافی دور جاکر ایک ندی آئی جو گہری نہ تھی۔ لڑکی نے بڑی کوشش کی کہ گھوڑی آگے چلے مگر اس نے صاف انکار کردیا اور بے قابو ہونے لگی۔ لڑکے نے پوچھا کہ یہ کیوں ایسا کررہی ہے؟ لڑکی نے کہا اس کی ماں بھی ایسا ہی کرتی تھی۔ لڑکے نے کہا چلو واپس چلتے ہیں میں آگے نہ جائوں گا۔ لڑکی نے وجہ پوچھی تو اس نے کہا کہ میں نہیں چاہتا کہ ہماری اولاد بھی وہی کرے جو تم کررہی ہو، اس طرح وہ واپس آگئے۔ بعد میں لڑکی نے اسلام قبول کرکے شادی کرلی اور وہ خوش و خرم شہر میں رہنے لگے۔ ہندو اس زمانہ میں مسلمانوں سے شادی کو برا نہیں جانتے تھے۔ اس سلسلہ میں ایک پرانی کہاوت یاد آتی ہے ، ’’باپ پر پوت پتا پر گھوڑا ۔ بہت نہیں تو تھوڑا تھوڑا‘‘ یعنی باپ کا کردار و اخلاق بچوں میں آجاتا ہے