02/08/2026
دروازے پر آدھی رات کی دستک
رات کے ٹھیک بارہ بجے تھے۔
علی اپنے کمرے میں اکیلا بیٹھا کتاب پڑھ رہا تھا کہ اچانک...
ٹھک... ٹھک... ٹھک...
دروازے پر کسی نے دستک دی۔
اس نے گھڑی دیکھی۔ اتنی رات گئے کون ہو سکتا تھا؟
ہمت کرکے دروازہ کھولا، مگر باہر کوئی نہیں تھا۔
صرف ایک پرانا لکڑی کا صندوق رکھا تھا، جس پر دھول جمی ہوئی تھی۔
صندوق کے اوپر ایک پرچی تھی، جس پر لکھا تھا:
"اسے صرف وہی کھول سکتا ہے جس نے کبھی کسی کا دل نہ دکھایا ہو۔"
علی حیران رہ گیا۔
اس نے پوری زندگی یاد کی۔ اسے اپنے ایک غریب دوست کی بے عزتی یاد آگئی، جو اس نے برسوں پہلے سب کے سامنے کی تھی۔
اگلی صبح وہ اپنے دوست کو ڈھونڈنے نکلا۔
کئی گھنٹوں بعد وہ ایک چھوٹے سے گاؤں میں ملا۔
علی نے اس سے معافی مانگی۔
دوست نے مسکرا کر کہا:
"میں نے تمہیں اسی دن معاف کر دیا تھا، مگر شاید تم نے خود کو آج تک معاف نہیں کیا۔"
علی کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔
وہ گھر واپس آیا اور دوبارہ صندوق کھولا۔
اس بار صندوق آسانی سے کھل گیا۔
اندر نہ سونا تھا، نہ ہیرا...
صرف ایک آئینہ رکھا تھا۔
آئینے کے نیچے لکھا تھا:
"دنیا کا سب سے قیمتی خزانہ صاف ضمیر ہے۔"
اس دن علی کو سمجھ آیا کہ انسان کی اصل دولت اس کا سکون، کردار اور معافی مانگنے کی ہمت ہوتی ہے۔
سبق:
جو انسان اپنی غلطی مان کر معافی مانگ لیتا ہے، وہی حقیقی معنوں میں مضبوط انسان ہوتا ہے۔