Urdu Kahani

Urdu Kahani Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Urdu Kahani, Arts and entertainment, Lahore.

"اردو کہانی" صرف ایک پیج نہیں، جذبات کا نام ہے۔ یہاں پڑھیے بہترین اردو افسانے اور کہانیاں جو آپ کے ذوق کے مطابق ہیں۔ اپنی تحریریں بھیجنے یا رابطہ کرنے کے لیے نیچے دیے گئے نمبر پر میسج کریں۔

✍️ ایڈمن: محمد وقاص 📱 واٹس ایپ: 03421202013

Kya aap bhi bachon ke deewaron aur kapron par rang chalane se pareshan hain? 😫Ab aur nahi! Pesh hai "Magic Water Book". ...
07/02/2026

Kya aap bhi bachon ke deewaron aur kapron par rang chalane se pareshan hain? 😫

Ab aur nahi! Pesh hai "Magic Water Book". 📘💦

✨ Baghair Gand Ke Rang Bharein: Is jaadui kitaab mein rang bharne ke liye sirf "paani" ki zaroorat hai. Na koi siyahi, na koi paint, aur na hi koi gand!

🔄 Baar Baar Istemal Karein: Jaise hi safha sookhta hai, rang ghaib ho jatay hain aur kitaab dobara istemal ke liye tayyar ho jati hai.

🚗 Safar Ke Liye Behtareen: Bachon ko car mein ya kahin bhi masroof rakhne ka behtareen zariya.

Abhi order karein aur apne ghar ko saaf suthra rakhein! 👇

Reusable drawing board, once you color, the pictures are very vivid and colorful. As soon as they dry the colored areas disappear and the pages can be colored again and again

کہانی کا عنوان: بس کی وہ سیٹ (ایک انجانا دکھ)سمیر پورے دن کی تھکن کے بعد بس میں سوار ہوا۔ خوش قسمتی سے اسے کھڑکی والی سی...
27/01/2026

کہانی کا عنوان: بس کی وہ سیٹ (ایک انجانا دکھ)
سمیر پورے دن کی تھکن کے بعد بس میں سوار ہوا۔ خوش قسمتی سے اسے کھڑکی والی سیٹ مل گئی۔ وہ سکون سے بیٹھ کر آنکھیں بند کر کے آرام کرنا چاہتا تھا۔

اگلے ہی سٹاپ پر ایک ادھیڑ عمر کا آدمی چڑھا اور سمیر کے ساتھ والی خالی سیٹ پر بیٹھ گیا۔ اس آدمی کے کپڑے شکن زدہ تھے، بال بکھرے ہوئے تھے اور وہ عجیب سی خالی نظروں سے سامنے دیکھ رہا تھا۔

کچھ دیر بعد، اس آدمی نے عجیب حرکتیں شروع کر دیں۔ کبھی وہ بے چینی سے پہلو بدلتا، کبھی اپنے ہاتھوں کو رگڑتا اور کبھی کھڑکی کے شیشے پر انگلی سے ٹک ٹک کرنے لگتا۔

سمیر کو بہت کوفت ہو رہی تھی۔ وہ پہلے ہی تھکا ہوا تھا اور اس آدمی کی حرکتیں اسے مزید چڑچڑا بنا رہی تھیں۔ اس نے سوچا کہ شاید یہ آدمی نشے میں ہے یا اس کا دماغی توازن ٹھیک نہیں ہے۔

جب شیشے پر ٹک ٹک کی آواز برداشت سے باہر ہو گئی تو سمیر سے رہا نہ گیا۔ اس نے غصے سے اس آدمی کی طرف دیکھا اور سخت لہجے میں بولا: "محترم! کیا مسئلہ ہے آپ کا؟ آرام سے نہیں بیٹھ سکتے؟ یہ ٹک ٹک بند کریں، میرے سر میں درد ہو رہا ہے۔"

آدمی چونک گیا، جیسے کسی گہری نیند سے جاگا ہو۔ اس نے شرمندہ نظروں سے سمیر کی طرف دیکھا، اس کی آنکھیں سرخ تھیں اور ان میں بے پناہ دکھ تیر رہا تھا۔

اس نے دھیمی اور لرزتی ہوئی آواز میں کہا: "مجھے معاف کرنا بیٹا! مجھے بالکل ہوش نہیں تھا۔ دراصل، میں ابھی ابھی ہسپتال سے آ رہا ہوں۔ میری جوان بیٹی پچھلے تین دن سے وینٹی لیٹر پر تھی، اور آج ڈاکٹروں نے جواب دے دیا ہے۔ میں بس۔۔۔ میں بس یہ سوچ رہا تھا کہ گھر جا کر اس کی ماں کو کیا بتاؤں گا۔ میرا ذہن کام نہیں کر رہا۔"

یہ سننا تھا کہ سمیر کا سارا غصہ جھاگ کی طرح بیٹھ گیا۔ اسے اپنے الفاظ پر شدید ندامت ہوئی۔ وہ جسے ایک پاگل یا نشئی سمجھ کر غصہ کر رہا تھا، وہ دراصل ایک ٹوٹا ہوا باپ تھا جو دنیا کے سب سے بڑے دکھ سے گزر رہا تھا۔

سمیر نے شرمندگی سے سر جھکا لیا۔ اس کے پاس کہنے کو کوئی لفظ نہیں تھا۔ اب اسے وہ ٹک ٹک کی آواز بری نہیں لگ رہی تھی، بلکہ اس میں ایک باپ کا بے پناہ کرب سنائی دے رہا تھا۔

سبق: ہر وہ شخص جو آپ کو عجیب، چڑچڑا یا غصیلا نظر آتا ہے، ضروری نہیں کہ وہ برا ہو۔ ہو سکتا ہے وہ اپنی زندگی کی کسی ایسی جنگ میں مصروف ہو جس کا آپ کو اندازہ بھی نہیں۔ لوگوں کے رویوں پر فوراً ردعمل دینے سے پہلے ایک لمحہ سوچیں اور نرمی اختیار کریں۔ دنیا میں پہلے ہی بہت دکھ ہیں، ہمارا ایک مہربان لفظ کسی کا بوجھ ہلکا کر سکتا ہے۔

سفید داڑھی کا مان (جہیز کی آگ اور سچا ہیرا)ماسٹر کریم بخش ایک ریٹائرڈ سکول ٹیچر تھے۔ ساری زندگی ایمانداری سے گزاری تھی، ...
24/01/2026

سفید داڑھی کا مان (جہیز کی آگ اور سچا ہیرا)
ماسٹر کریم بخش ایک ریٹائرڈ سکول ٹیچر تھے۔ ساری زندگی ایمانداری سے گزاری تھی، اس لیے بینک بیلنس تو نہ بنا سکے، مگر عزت بہت کمائی تھی۔ ان کی سب سے چھوٹی بیٹی، عائشہ کی شادی طے ہو چکی تھی۔

لڑکا، احمد، ایک اچھا پڑھا لکھا اور برسرِ روزگار نوجوان تھا، لیکن لڑکے کے والدین تھوڑے پرانے خیالات کے اور لالچی طبیعت کے مالک تھے۔ اگرچہ انہوں نے کھل کر جہیز نہیں مانگا تھا، مگر ان کی باتوں سے صاف ظاہر ہوتا تھا کہ وہ ایک "شاندار" استقبال اور "بھرپور" سامان کی توقع رکھتے ہیں۔

شادی کی تاریخ قریب آ رہی تھی۔ ماسٹر صاحب نے اپنی پینشن کی جمع پونجی لگا دی، مگر پھر بھی کچھ کمی رہ گئی۔ ان کی پیشانی پر پریشانی کی لکیریں گہری ہو گئیں۔

ایک شام، وہ اپنی سفید داڑھی پر ہاتھ پھیرتے ہوئے، اپنی مرحومہ بیوی کی آخری نشانی—سونے کی دو چوڑیاں—کپڑے میں لپیٹ کر سنار کے پاس جانے لگے۔ عائشہ نے باپ کو دیکھ لیا۔ وہ سمجھ گئی اور دوڑ کر آئی اور باپ کا ہاتھ پکڑ لیا۔

"بابا! یہ امی کی آخری نشانی ہے، پلیز اسے مت بیچیں۔ میں سادگی سے رخصت ہو جاؤں گی، ہمیں کسی دکھاوے کی ضرورت نہیں ہے۔" عائشہ کی آنکھوں میں آنسو تھے۔

ماسٹر کریم بخش نے کانپتے ہاتھوں سے بیٹی کے آنسو پونچھے اور زبردستی مسکراتے ہوئے بولے: "میری بچی! بیٹی کی عزت سے بڑھ کر کوئی زیور نہیں ہوتا۔ یہ دنیا ہے، یہاں سفید داڑھی کا مان رکھنے کے لیے بہت کچھ قربان کرنا پڑتا ہے۔"

وہ چوڑیاں بیچ آئے اور سامان مکمل کر لیا۔

شادی کا دن آ گیا۔ بارات آ گئی۔ ماسٹر صاحب کا دل دھک دھک کر رہا تھا کہ کہیں لڑکے والوں کو کوئی کمی نہ نظر آ جائے۔ کھانے کے بعد، جب جہیز کا سامان دکھانے کی باری آئی، تو لڑکے کے والد اور والدہ سامان کو تنقیدی نظروں سے دیکھنے لگے۔ ان کے چہروں پر ناگواری کے تاثرات تھے۔

ماسٹر صاحب کا کلیجہ منہ کو آ گیا۔ ان کی سفید داڑھی شرمندگی سے جھکنے ہی والی تھی کہ اچانک دولہا احمد اپنی جگہ سے اٹھا۔

احمد سیدھا اپنے والدین کے پاس گیا اور بلند آواز میں بولا: "ابا جان! اماں جان! آپ یہ کیا کر رہے ہیں؟ ہم یہاں ایک بیٹی کو عزت بنا کر لے جانے آئے ہیں، کسی دکان سے سودا خریدنے نہیں آئے۔"

پھر احمد ماسٹر کریم بخش کے پاس گیا، ان کے جھکے ہوئے سر کو اوپر اٹھایا، ان کے ہاتھ چومے اور اپنی جیب سے ایک مخملی ڈبہ نکال کر ان کے ہاتھ میں رکھ دیا۔

"ماسٹر صاحب! مجھے معلوم ہوا ہے کہ آپ نے میری ہونے والی شریکِ حیات کی خوشی کے لیے آنٹی کی آخری نشانی بیچ دی۔ یہ وہ چوڑیاں ہیں، میں نے سنار سے واپس خرید لی ہیں۔ یہ آپ کی امانت ہیں۔ مجھے آپ کی بیٹی چاہیے، آپ کا فرنیچر یا سونا نہیں۔ آپ کی تربیت ہی میرے لیے سب سے بڑا جہیز ہے۔"

ماسٹر کریم بخش کی آنکھوں سے ٹپ ٹپ آنسو گرنے لگے، مگر یہ آنسو دکھ کے نہیں، خوشی اور فخر کے تھے۔ آج ان کی سفید داڑھی کا مان رہ گیا تھا، کیونکہ انہیں داماد کی شکل میں ایک سچا ہیرا مل گیا تھا۔

سبق: بیٹی بوجھ نہیں ہوتی، معاشرے کی غلط رسمیں اسے بوجھ بنا دیتی ہیں۔ جہیز مانگنا بھیک مانگنے سے بدتر ہے۔ اصلی مرد وہ ہے جو سسرال کی دولت پر نہیں، اپنے بازوؤں پر بھروسہ کرے اور اپنی بیوی کو عزت دے۔ خدارا! بیٹیوں کے باپ کی سفید داڑھیوں کو جھکنے سے بچا لیں۔

20/01/2026
یقیناً! آپ کے فیس بک پیج "Urdu Kahani" کے لیے ماں کی عظمت اور اس کی خاموش قربانیوں پر مبنی ایک اور دل کو پگھلا دینے والی...
16/01/2026

یقیناً! آپ کے فیس بک پیج "Urdu Kahani" کے لیے ماں کی عظمت اور اس کی خاموش قربانیوں پر مبنی ایک اور دل کو پگھلا دینے والی کہانی حاضر ہے۔ یہ ایک ایسا موضوع ہے جو ہر کسی کے دل کے قریب ہوتا ہے۔

کہانی کا عنوان: ماں کا 'جھوٹ' (دنیا کی سب سے سچی محبت)
بلال آج ایک بہت بڑی ملٹی نیشنل کمپنی کا سی ای او (CEO) تھا۔ اس کے سامنے کھانے کی میز پر دنیا بھر کے لذیذ پکوان سجے تھے۔ لیکن آج، اس عالیشان ڈائننگ ٹیبل پر بیٹھے بیٹھے اس کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔

اسے اپنا بچپن یاد آ گیا۔ وہ اور اس کی بیوہ ماں، سکینہ، ایک چھوٹے سے کچے مکان میں رہتے تھے۔ غربت کا یہ عالم تھا کہ اکثر دو وقت کی روٹی بھی مشکل سے میسر آتی تھی۔

اسے یاد آیا کہ جب بھی رات کو کھانا کھانے کا وقت آتا، تو ماں پلیٹ میں موجود تھوڑا سا سالن اور آخری روٹی اس کے سامنے رکھ دیتیں۔

ننھا بلال پوچھتا: "اماں! آپ نہیں کھائیں گی؟"

سکینہ مسکرا کر اس کے سر پر ہاتھ پھیرتی اور کہتی: "نہیں بیٹا، مجھے بالکل بھوک نہیں ہے۔ میں نے کھانا پکاتے ہوئے تھوڑا سا چکھ لیا تھا، میرا پیٹ بھر گیا ہے۔ تم کھاؤ، تمہیں بڑھنا ہے، طاقت چاہیے سکول جانے کے لیے۔"

بلال ماں کی بات سچ مان کر مزے سے کھانا کھا لیتا۔ لیکن اسے کیا معلوم تھا کہ اس کی ماں نے سارا دن کچھ نہیں کھایا تھا اور وہ آج رات بھی صرف پانی پی کر بھوکے پیٹ سونے والی تھی، تاکہ اس کا بیٹا بھوکا نہ سوئے۔

سال گزرتے گئے، ماں کی قربانیوں اور محنت نے بلال کو پڑھایا لکھایا اور آج وہ اس مقام پر تھا۔

کچھ عرصہ پہلے ماں کا انتقال ہو گیا تھا۔ آج بلال کی پرانی پڑوسن، زاہدہ خالہ، اس سے ملنے آئی تھیں۔ باتوں باتوں میں انہوں نے بتایا: "بلال بیٹا! تمہیں یاد ہے وہ راتیں جب تمہارے گھر میں پکانے کو کچھ نہیں ہوتا تھا؟ تمہاری ماں میرے پاس آ کر تھوڑا سا آٹا ادھار مانگتی تھی اور کہتی تھی کہ 'میرا بلال بھوکا ہے'۔ اور جب وہ روٹی پکا لیتی، تو خود بھوکی سو جاتی اور تم سے جھوٹ بولتی کہ اسے بھوک نہیں ہے۔ وہ تمہارے لیے جیتی تھی بیٹا۔"

یہ سن کر بلال کے ہاتھ سے نوالہ چھوٹ گیا۔ آج اسے سمجھ آیا کہ ماں کا وہ "مجھے بھوک نہیں ہے" والا جملہ، دنیا کا سب سے بڑا اور سب سے پیارا 'جھوٹ' تھا۔ وہ جھوٹ، جو اس کی زندگی بنانے کے لیے بولا گیا تھا۔

آج سامنے سجے ہزاروں نعمتوں والے دسترخوان پر اسے وہ سکون نہیں مل رہا تھا، جو ماں کے ہاتھ کی اس آدھی روٹی میں تھا جو وہ اپنی بھوک مار کر اسے کھلاتی تھی۔

سبق: ماں وہ ہستی ہے جو اپنی اولاد کے لیے ہنستے ہنستے اپنی خواہشات اور ضروریات کا گلا گھونٹ دیتی ہے۔ اس کے "جھوٹ" میں بھی صرف اور صرف محبت چھپی ہوتی ہے۔ اپنے والدین، خاص طور پر ماں کی قدر کریں، کیونکہ جب وہ چلی جاتی ہے تو دنیا کی ساری رونقیں اور نعمتیں پھیکی پڑ جاتی ہیں۔

کہانی کا عنوان: میلے کپڑے، اُجلا دل (ایک سبق آموز واقعہ)سیٹھ دانیال کا شمار شہر کے امیر ترین بزنس مینوں میں ہوتا تھا۔ ان...
06/01/2026

کہانی کا عنوان: میلے کپڑے، اُجلا دل (ایک سبق آموز واقعہ)
سیٹھ دانیال کا شمار شہر کے امیر ترین بزنس مینوں میں ہوتا تھا۔ ان کا گاڑیوں کا عالیشان شوروم تھا جہاں کروڑوں کی چمچماتی گاڑیاں کھڑی رہتی تھیں۔ سیٹھ صاحب کو اپنی دولت اور رتبے پر بہت غرور تھا اور وہ غریب یا سادہ حلیے والے لوگوں کو حقارت کی نظر سے دیکھتے تھے۔

ایک مصروف دوپہر، شوروم کا شیشے کا دروازہ کھلا اور ایک نہایت سادہ، بلکہ خستہ حال کپڑوں میں ملبوس ایک بوڑھا شخص اندر داخل ہوا۔ اس کی چپل ٹوٹی ہوئی تھی اور قمیض پر پیوند لگے تھے۔

شوروم میں موجود سیلز مینوں نے اسے نظر انداز کر دیا، یہ سوچ کر کہ یہ کوئی مانگنے والا فقیر ہے یا راستہ بھول کر آ گیا ہے۔

سیٹھ دانیال اپنے کیبن سے یہ سب دیکھ رہا تھا۔ اسے شدید غصہ آیا کہ ایسے "دو ٹکے" کے آدمی کی ہمت کیسے ہوئی میرے اتنے مہنگے شوروم میں داخل ہونے کی۔ وہ غصے میں اپنی کرسی سے اٹھا اور تیزی سے بوڑھے کے پاس پہنچا۔

سیٹھ نے تلخ لہجے میں کہا: "او بڑے میاں! کدھر منہ اٹھا کر چلے آئے ہو؟ یہ کاروں کا شوروم ہے، کوئی لنگر خانہ نہیں۔ یہاں تمہارے کام کی کوئی چیز نہیں ہے، چلو شاباش! باہر کا راستہ ناپو، ورنہ گارڈ کو بلا کر دھکے دے کر نکلواؤں گا۔"

بوڑھے شخص نے سیٹھ کی بدتمیزی پر کوئی غصہ نہیں کیا، بلکہ اس کے چہرے پر ایک پرسکون مسکراہٹ آ گئی۔ اس نے اپنی میلی سی چادر کے نیچے ہاتھ ڈالا اور ایک چیک بک نکال کر سیٹھ کے سامنے کر دی۔

بوڑھے نے نرمی سے کہا: "بیٹا! میں یہاں مانگنے نہیں آیا۔ دراصل، میرا بیٹا آج بیرونِ ملک سے اپنی تعلیم مکمل کر کے، ایک بڑا سرجن بن کر واپس آ رہا ہے۔ اس نے بچپن میں ایک بار ایسی ہی ایک بڑی گاڑی کی خواہش کی تھی۔ میں نے اپنی ساری زندگی کی محنت سے جو کچھ جمع کیا ہے، میں اس سے اسے ایک تحفہ دینا چاہتا ہوں۔"

یہ کہہ کر بوڑھے نے شوروم میں کھڑی سب سے مہنگی گاڑی کی طرف اشارہ کیا اور کہا: "مجھے وہ والی گاڑی پیک کر دیں، اور بتائیں کتنی رقم کا چیک لکھنا ہے؟"

سیٹھ دانیال کا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا۔ اس کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ یہ پھٹے پرانے کپڑوں والا شخص کروڑوں کی گاڑی نقد خریدنے کی طاقت رکھتا ہے۔ اس کا سارا غرور خاک میں مل گیا۔ وہ شرمندگی سے زمین میں گڑ گیا اور اس کے پاس معافی مانگنے کے لیے الفاظ نہیں تھے۔

بوڑھے نے گاڑی کا آرڈر دیا اور جاتے جاتے سیٹھ کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر ایک ایسی بات کہی جو سیٹھ کو زندگی بھر نہیں بھولی:

"بیٹا! یاد رکھنا، کسی کی حیثیت کا اندازہ اس کے کپڑوں یا جوتوں سے نہیں لگایا جاتا۔ اصل امیری بینک بیلنس میں نہیں، بلکہ دل کے اطمینان اور نیت کی سچائی میں ہوتی ہے۔ کبھی کسی کے میلے ظاہر کو دیکھ کر اس کے باطن کا فیصلہ مت کرنا، ہو سکتا ہے اس کا دل تمہارے مہنگے لباس سے زیادہ اجلا ہو۔"

سبق: انسان کی قدر اس کے اخلاق اور کردار سے ہوتی ہے، اس کے لباس یا دولت سے نہیں۔ ظاہری دکھاوے پر کبھی غرور نہ کریں، کیونکہ وقت اور حالات بدلتے دیر نہیں لگتی۔

03/01/2026

ایک باپ کی ادھوری خواہش اور بیٹے کا پچھتاوا 😢💔 | پرانی گھڑی

یہ کہانی ہر اس اولاد کے لیے ایک سبق ہے جو دنیا کی مصروفیات میں اپنے بوڑھے والدین کو بھول بیٹھی ہے۔ 🕰️

عدیل کے پاس دنیا کی ہر دولت تھی مگر اپنے باپ کے لیے دو منٹ نہیں تھے۔ اس نے باپ کی سب سے قیمتی نشانی کو "کباڑ" کہہ کر ٹھکرا دیا۔ لیکن جب باپ دنیا سے چلا گیا، تو ایک خط اور اسی ٹوٹی ہوئی گھڑی نے اسے زندگی کا سب سے بڑا سبق سکھایا۔

😭 ایک بہت ہی جذباتی کہانی جو آپ کی آنکھیں نم کر دے گی۔

سبق: اپنے بزرگوں کو دولت نہیں، اپنا وقت دیں۔ اس سے پہلے کہ وہ صرف ایک یاد بن کر رہ جائیں۔

اگر یہ کہانی آپ کے دل کو چھو گئی ہو تو اسے شیئر ضرور کریں اور مزید ایسی ویڈیوز کے لیے ہمیں فالو کریں۔ ❤️

کہانی کا عنوان: پرانی گھڑی (ایک ادھورا احساس)عدیل ایک بہت کامیاب بزنس مین تھا۔ اس کے پاس دنیا کی ہر آسائش تھی، بڑا گھر، ...
03/01/2026

کہانی کا عنوان: پرانی گھڑی (ایک ادھورا احساس)
عدیل ایک بہت کامیاب بزنس مین تھا۔ اس کے پاس دنیا کی ہر آسائش تھی، بڑا گھر، مہنگی گاڑیاں اور نوکر چاکر۔ لیکن اس کے پاس جو چیز نہیں تھی، وہ تھا "وقت"۔

اس کا بوڑھا باپ، جو ریٹائر ہو چکا تھا، اکثر گھر کے برآمدے میں کرسی پر بیٹھا عدیل کا انتظار کرتا رہتا۔ وہ چاہتا تھا کہ بیٹا آئے تو اس سے دو باتیں کر لے، پرانی یادیں تازہ کر لے۔

ایک شام عدیل گھر جانے کی جلدی میں تھا کیونکہ اسے ایک پارٹی میں جانا تھا۔ جیسے ہی وہ گیٹ سے نکلنے لگا، اس کے والد نے اسے آواز دی: "عدیل بیٹا! ذرا رکنا۔"

عدیل نے بے صبری سے گھڑی دیکھی اور جھنجھلا کر بولا: "ابا! مجھے دیر ہو رہی ہے، کیا بات ہے؟ جلدی بتائیں۔"

بوڑھے باپ نے کانپتے ہاتھوں سے اپنی جیب سے ایک بہت پرانی، ٹوٹی ہوئی کلائی والی گھڑی نکالی اور عدیل کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا: "بیٹا، یہ گھڑی دیکھو، یہ اب چلتی نہیں ہے، میں سوچ رہا تھا اگر تم اسے ٹھیک کروا دو۔۔۔"

عدیل کو شدید غصہ آ گیا اور وہ اونچی آواز میں بولا: "حد ہو گئی ابا! آپ مجھے اس کباڑ کے لیے روک رہے تھے؟ میرے پاس کروڑوں کے بزنس ڈیلز ہیں اور آپ چاہتے ہیں میں یہ ٹکا سا گھڑی لے کر بازاروں میں گھوموں؟ پھینک دیں اسے، میں آپ کو نئی اور مہنگی گھڑی لا دوں گا۔"

یہ کہہ کر عدیل گاڑی میں بیٹھ کر چلا گیا۔ بوڑھا باپ حسرت بھری نظروں سے بیٹے کی گاڑی کو جاتے ہوئے دیکھتا رہا اور خاموشی سے وہ پرانی گھڑی واپس جیب میں رکھ لی۔

کچھ دن بعد، اچانک عدیل کے والد کا انتقال ہو گیا۔ عدیل کو بہت دھچکا لگا۔ جنازے اور تدفین کے بعد جب گھر میں خاموشی چھا گئی، تو عدیل اپنے والد کے کمرے میں گیا۔

کمرے میں والد کی چیزیں بکھری پڑی تھیں۔ سرहाنے والی میز پر وہی پرانی ٹوٹی ہوئی گھڑی رکھی تھی، اور اس کے نیچے ایک کاغذ کا ٹکڑا دبا ہوا تھا۔

عدیل نے وہ کاغذ اٹھایا۔ وہ اس کے والد کے ہاتھ کا لکھا ہوا ایک مختصر سا خط تھا۔

"میرے پیارے بیٹے عدیل! میں جانتا ہوں کہ یہ گھڑی تمہارے لیے کباڑ ہے اور اب چلتی بھی نہیں ہے۔ لیکن یہ وہ گھڑی ہے جو میں نے اپنی زندگی کی پہلی تنخواہ جمع کر کے خریدی تھی، صرف اس لیے کہ میں وقت دیکھ سکوں اور جلدی گھر آ کر تمہارے ساتھ کھیل سکوں۔ جب تم چھوٹے تھے، تو گھنٹوں میرے سینے پر سر رکھ کر اس گھڑی کی 'ٹک ٹک' سنا کرتے تھے اور سو جاتے تھے۔

آج میں بوڑھا ہو گیا ہوں، میرے پاس وقت ہی وقت ہے، لیکن تمہارے پاس میرے لیے وقت نہیں ہے۔ میں تو بس یہ گھڑی تمہیں دکھانے کے بہانے تمہارے پاس دو منٹ کھڑا ہونا چاہتا تھا، تمہاری آواز سننا چاہتا تھا۔ کاش تم سمجھ پاتے۔"

عدیل خط پڑھ کر وہیں فرش پر بیٹھ گیا اور پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا۔ وہ ٹوٹی ہوئی گھڑی اب اسے دنیا کی سب سے قیمتی چیز لگ رہی تھی۔ لیکن اب بہت دیر ہو چکی تھی، وقت کا پنچھی ہاتھ سے نکل چکا تھا۔

سبق: اپنے بزرگوں کو اپنی دولت نہیں، اپنا وقت دیں۔ ان کی پرانی باتوں اور چیزوں میں ان کی محبت چھپی ہوتی ہے۔ ان کی قدر کریں اس سے پہلے کہ وہ صرف ایک یاد بن کر رہ جائیں۔

الوداع 2025 ۔۔۔ خوش آمدید 2026! 🎉نیا سال، نئی امیدیں، نئے خواب۔اللہ کرے یہ سال آپ سب کے لیے رحمتوں اور برکتوں کا سال ثاب...
31/12/2025

الوداع 2025 ۔۔۔ خوش آمدید 2026! 🎉
نیا سال، نئی امیدیں، نئے خواب۔
اللہ کرے یہ سال آپ سب کے لیے رحمتوں اور برکتوں کا سال ثابت ہو۔ "اردو کہانی" فیملی کی طرف سے آپ سب کو نیا سال بہت بہت مبارک ہو! ❤️
ایڈمن: محمد وقاصرابطہ: 03421202013

السلام علیکم! 2026 کی آمد مبارک! 🌙✨نئے سال کا سورج طلوع ہونے کو ہے۔ میری دعا ہے کہ یہ سال آپ کی زندگی سے تمام غموں کے ان...
31/12/2025

السلام علیکم! 2026 کی آمد مبارک! 🌙✨

نئے سال کا سورج طلوع ہونے کو ہے۔ میری دعا ہے کہ یہ سال آپ کی زندگی سے تمام غموں کے اندھیرے مٹا دے۔ اللہ پاک آپ کو صحت، عزت اور وہ سب کچھ عطا فرمائے جو آپ کے لیے بہتر ہے۔ آئیے عہد کریں کہ اس سال ہم نہ صرف اپنی زندگی سنواریں گے بلکہ دوسروں کے لیے بھی آسانیاں پیدا کریں گے۔

نئے سال کی ڈھیروں دعائیں! 🌹

طالبِ دعا: محمد وقاص اردو کہانی آفیشل 📞 03421202013

Address

Lahore
54000

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Urdu Kahani posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share