Urdu Kahani

Urdu Kahani Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Urdu Kahani, Arts and entertainment, Lahore.

"اردو کہانی" صرف ایک پیج نہیں، جذبات کا نام ہے۔ یہاں پڑھیے بہترین اردو افسانے اور کہانیاں جو آپ کے ذوق کے مطابق ہیں۔ اپنی تحریریں بھیجنے یا رابطہ کرنے کے لیے نیچے دیے گئے نمبر پر میسج کریں۔

✍️ ایڈمن: محمد وقاص 📱 واٹس ایپ: 03421202013

دروازے پر آدھی رات کی دستکرات کے ٹھیک بارہ بجے تھے۔علی اپنے کمرے میں اکیلا بیٹھا کتاب پڑھ رہا تھا کہ اچانک...ٹھک... ٹھک....
02/08/2026

دروازے پر آدھی رات کی دستک

رات کے ٹھیک بارہ بجے تھے۔

علی اپنے کمرے میں اکیلا بیٹھا کتاب پڑھ رہا تھا کہ اچانک...

ٹھک... ٹھک... ٹھک...

دروازے پر کسی نے دستک دی۔

اس نے گھڑی دیکھی۔ اتنی رات گئے کون ہو سکتا تھا؟

ہمت کرکے دروازہ کھولا، مگر باہر کوئی نہیں تھا۔

صرف ایک پرانا لکڑی کا صندوق رکھا تھا، جس پر دھول جمی ہوئی تھی۔

صندوق کے اوپر ایک پرچی تھی، جس پر لکھا تھا:

"اسے صرف وہی کھول سکتا ہے جس نے کبھی کسی کا دل نہ دکھایا ہو۔"

علی حیران رہ گیا۔

اس نے پوری زندگی یاد کی۔ اسے اپنے ایک غریب دوست کی بے عزتی یاد آگئی، جو اس نے برسوں پہلے سب کے سامنے کی تھی۔

اگلی صبح وہ اپنے دوست کو ڈھونڈنے نکلا۔

کئی گھنٹوں بعد وہ ایک چھوٹے سے گاؤں میں ملا۔

علی نے اس سے معافی مانگی۔

دوست نے مسکرا کر کہا:

"میں نے تمہیں اسی دن معاف کر دیا تھا، مگر شاید تم نے خود کو آج تک معاف نہیں کیا۔"

علی کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔

وہ گھر واپس آیا اور دوبارہ صندوق کھولا۔

اس بار صندوق آسانی سے کھل گیا۔

اندر نہ سونا تھا، نہ ہیرا...

صرف ایک آئینہ رکھا تھا۔

آئینے کے نیچے لکھا تھا:

"دنیا کا سب سے قیمتی خزانہ صاف ضمیر ہے۔"

اس دن علی کو سمجھ آیا کہ انسان کی اصل دولت اس کا سکون، کردار اور معافی مانگنے کی ہمت ہوتی ہے۔

سبق:
جو انسان اپنی غلطی مان کر معافی مانگ لیتا ہے، وہی حقیقی معنوں میں مضبوط انسان ہوتا ہے۔

عنوان: آخری خطبارش کی ہلکی ہلکی بوندیں کھڑکی پر دستک دے رہی تھیں۔ احمد اپنے کمرے کے ایک کونے میں خاموش بیٹھا ایک پرانا خ...
21/07/2026

عنوان: آخری خط

بارش کی ہلکی ہلکی بوندیں کھڑکی پر دستک دے رہی تھیں۔ احمد اپنے کمرے کے ایک کونے میں خاموش بیٹھا ایک پرانا خط ہاتھ میں لیے سوچوں میں گم تھا۔

یہ خط اس کے مرحوم والد کا تھا، جسے پڑھنے کی ہمت وہ برسوں سے نہیں کر سکا تھا۔

آخر ایک دن اس نے کانپتے ہاتھوں سے خط کھولا۔

اس میں لکھا تھا:

"بیٹا، اگر تم یہ خط پڑھ رہے ہو تو شاید میں اس دنیا میں نہیں ہوں۔ یاد رکھنا، انسان کی اصل دولت اس کا کردار ہوتا ہے، نہ کہ اس کا مال۔ لوگوں کے ساتھ نرمی سے پیش آنا، کبھی کسی کا دل نہ دکھانا، اور ہمیشہ سچ کا ساتھ دینا۔"

احمد کی آنکھوں سے بے اختیار آنسو بہنے لگے۔

اسے یاد آیا کہ دولت کمانے کی دوڑ میں اس نے اپنے رشتے، دوست اور اپنی ماں کی محبت تک کو نظر انداز کر دیا تھا۔

اسی لمحے اس نے فیصلہ کیا کہ وہ اپنی زندگی بدل دے گا۔

چند ماہ بعد لوگ اسے ایک کامیاب کاروباری نہیں بلکہ ایک اچھے انسان کے طور پر پہچاننے لگے۔ وہ ہر ضرورت مند کی مدد کرتا، اپنی ماں کا خیال رکھتا اور ہمیشہ سچ بولتا۔

ایک دن اس نے وہی خط اپنے بیٹے کے ہاتھ میں دیا اور مسکرا کر کہا:

"بیٹا، یہ صرف ایک خط نہیں، پوری زندگی کا سبق ہے۔"

سبق:
دولت وقتی خوشی دے سکتی ہے، لیکن اچھا کردار انسان کو ہمیشہ زندہ رکھتا ہے۔

Kya aap bhi bachon ke deewaron aur kapron par rang chalane se pareshan hain? 😫Ab aur nahi! Pesh hai "Magic Water Book". ...
07/02/2026

Kya aap bhi bachon ke deewaron aur kapron par rang chalane se pareshan hain? 😫

Ab aur nahi! Pesh hai "Magic Water Book". 📘💦

✨ Baghair Gand Ke Rang Bharein: Is jaadui kitaab mein rang bharne ke liye sirf "paani" ki zaroorat hai. Na koi siyahi, na koi paint, aur na hi koi gand!

🔄 Baar Baar Istemal Karein: Jaise hi safha sookhta hai, rang ghaib ho jatay hain aur kitaab dobara istemal ke liye tayyar ho jati hai.

🚗 Safar Ke Liye Behtareen: Bachon ko car mein ya kahin bhi masroof rakhne ka behtareen zariya.

Abhi order karein aur apne ghar ko saaf suthra rakhein! 👇

Reusable drawing board, once you color, the pictures are very vivid and colorful. As soon as they dry the colored areas disappear and the pages can be colored again and again

کہانی کا عنوان: بس کی وہ سیٹ (ایک انجانا دکھ)سمیر پورے دن کی تھکن کے بعد بس میں سوار ہوا۔ خوش قسمتی سے اسے کھڑکی والی سی...
27/01/2026

کہانی کا عنوان: بس کی وہ سیٹ (ایک انجانا دکھ)
سمیر پورے دن کی تھکن کے بعد بس میں سوار ہوا۔ خوش قسمتی سے اسے کھڑکی والی سیٹ مل گئی۔ وہ سکون سے بیٹھ کر آنکھیں بند کر کے آرام کرنا چاہتا تھا۔

اگلے ہی سٹاپ پر ایک ادھیڑ عمر کا آدمی چڑھا اور سمیر کے ساتھ والی خالی سیٹ پر بیٹھ گیا۔ اس آدمی کے کپڑے شکن زدہ تھے، بال بکھرے ہوئے تھے اور وہ عجیب سی خالی نظروں سے سامنے دیکھ رہا تھا۔

کچھ دیر بعد، اس آدمی نے عجیب حرکتیں شروع کر دیں۔ کبھی وہ بے چینی سے پہلو بدلتا، کبھی اپنے ہاتھوں کو رگڑتا اور کبھی کھڑکی کے شیشے پر انگلی سے ٹک ٹک کرنے لگتا۔

سمیر کو بہت کوفت ہو رہی تھی۔ وہ پہلے ہی تھکا ہوا تھا اور اس آدمی کی حرکتیں اسے مزید چڑچڑا بنا رہی تھیں۔ اس نے سوچا کہ شاید یہ آدمی نشے میں ہے یا اس کا دماغی توازن ٹھیک نہیں ہے۔

جب شیشے پر ٹک ٹک کی آواز برداشت سے باہر ہو گئی تو سمیر سے رہا نہ گیا۔ اس نے غصے سے اس آدمی کی طرف دیکھا اور سخت لہجے میں بولا: "محترم! کیا مسئلہ ہے آپ کا؟ آرام سے نہیں بیٹھ سکتے؟ یہ ٹک ٹک بند کریں، میرے سر میں درد ہو رہا ہے۔"

آدمی چونک گیا، جیسے کسی گہری نیند سے جاگا ہو۔ اس نے شرمندہ نظروں سے سمیر کی طرف دیکھا، اس کی آنکھیں سرخ تھیں اور ان میں بے پناہ دکھ تیر رہا تھا۔

اس نے دھیمی اور لرزتی ہوئی آواز میں کہا: "مجھے معاف کرنا بیٹا! مجھے بالکل ہوش نہیں تھا۔ دراصل، میں ابھی ابھی ہسپتال سے آ رہا ہوں۔ میری جوان بیٹی پچھلے تین دن سے وینٹی لیٹر پر تھی، اور آج ڈاکٹروں نے جواب دے دیا ہے۔ میں بس۔۔۔ میں بس یہ سوچ رہا تھا کہ گھر جا کر اس کی ماں کو کیا بتاؤں گا۔ میرا ذہن کام نہیں کر رہا۔"

یہ سننا تھا کہ سمیر کا سارا غصہ جھاگ کی طرح بیٹھ گیا۔ اسے اپنے الفاظ پر شدید ندامت ہوئی۔ وہ جسے ایک پاگل یا نشئی سمجھ کر غصہ کر رہا تھا، وہ دراصل ایک ٹوٹا ہوا باپ تھا جو دنیا کے سب سے بڑے دکھ سے گزر رہا تھا۔

سمیر نے شرمندگی سے سر جھکا لیا۔ اس کے پاس کہنے کو کوئی لفظ نہیں تھا۔ اب اسے وہ ٹک ٹک کی آواز بری نہیں لگ رہی تھی، بلکہ اس میں ایک باپ کا بے پناہ کرب سنائی دے رہا تھا۔

سبق: ہر وہ شخص جو آپ کو عجیب، چڑچڑا یا غصیلا نظر آتا ہے، ضروری نہیں کہ وہ برا ہو۔ ہو سکتا ہے وہ اپنی زندگی کی کسی ایسی جنگ میں مصروف ہو جس کا آپ کو اندازہ بھی نہیں۔ لوگوں کے رویوں پر فوراً ردعمل دینے سے پہلے ایک لمحہ سوچیں اور نرمی اختیار کریں۔ دنیا میں پہلے ہی بہت دکھ ہیں، ہمارا ایک مہربان لفظ کسی کا بوجھ ہلکا کر سکتا ہے۔

سفید داڑھی کا مان (جہیز کی آگ اور سچا ہیرا)ماسٹر کریم بخش ایک ریٹائرڈ سکول ٹیچر تھے۔ ساری زندگی ایمانداری سے گزاری تھی، ...
24/01/2026

سفید داڑھی کا مان (جہیز کی آگ اور سچا ہیرا)
ماسٹر کریم بخش ایک ریٹائرڈ سکول ٹیچر تھے۔ ساری زندگی ایمانداری سے گزاری تھی، اس لیے بینک بیلنس تو نہ بنا سکے، مگر عزت بہت کمائی تھی۔ ان کی سب سے چھوٹی بیٹی، عائشہ کی شادی طے ہو چکی تھی۔

لڑکا، احمد، ایک اچھا پڑھا لکھا اور برسرِ روزگار نوجوان تھا، لیکن لڑکے کے والدین تھوڑے پرانے خیالات کے اور لالچی طبیعت کے مالک تھے۔ اگرچہ انہوں نے کھل کر جہیز نہیں مانگا تھا، مگر ان کی باتوں سے صاف ظاہر ہوتا تھا کہ وہ ایک "شاندار" استقبال اور "بھرپور" سامان کی توقع رکھتے ہیں۔

شادی کی تاریخ قریب آ رہی تھی۔ ماسٹر صاحب نے اپنی پینشن کی جمع پونجی لگا دی، مگر پھر بھی کچھ کمی رہ گئی۔ ان کی پیشانی پر پریشانی کی لکیریں گہری ہو گئیں۔

ایک شام، وہ اپنی سفید داڑھی پر ہاتھ پھیرتے ہوئے، اپنی مرحومہ بیوی کی آخری نشانی—سونے کی دو چوڑیاں—کپڑے میں لپیٹ کر سنار کے پاس جانے لگے۔ عائشہ نے باپ کو دیکھ لیا۔ وہ سمجھ گئی اور دوڑ کر آئی اور باپ کا ہاتھ پکڑ لیا۔

"بابا! یہ امی کی آخری نشانی ہے، پلیز اسے مت بیچیں۔ میں سادگی سے رخصت ہو جاؤں گی، ہمیں کسی دکھاوے کی ضرورت نہیں ہے۔" عائشہ کی آنکھوں میں آنسو تھے۔

ماسٹر کریم بخش نے کانپتے ہاتھوں سے بیٹی کے آنسو پونچھے اور زبردستی مسکراتے ہوئے بولے: "میری بچی! بیٹی کی عزت سے بڑھ کر کوئی زیور نہیں ہوتا۔ یہ دنیا ہے، یہاں سفید داڑھی کا مان رکھنے کے لیے بہت کچھ قربان کرنا پڑتا ہے۔"

وہ چوڑیاں بیچ آئے اور سامان مکمل کر لیا۔

شادی کا دن آ گیا۔ بارات آ گئی۔ ماسٹر صاحب کا دل دھک دھک کر رہا تھا کہ کہیں لڑکے والوں کو کوئی کمی نہ نظر آ جائے۔ کھانے کے بعد، جب جہیز کا سامان دکھانے کی باری آئی، تو لڑکے کے والد اور والدہ سامان کو تنقیدی نظروں سے دیکھنے لگے۔ ان کے چہروں پر ناگواری کے تاثرات تھے۔

ماسٹر صاحب کا کلیجہ منہ کو آ گیا۔ ان کی سفید داڑھی شرمندگی سے جھکنے ہی والی تھی کہ اچانک دولہا احمد اپنی جگہ سے اٹھا۔

احمد سیدھا اپنے والدین کے پاس گیا اور بلند آواز میں بولا: "ابا جان! اماں جان! آپ یہ کیا کر رہے ہیں؟ ہم یہاں ایک بیٹی کو عزت بنا کر لے جانے آئے ہیں، کسی دکان سے سودا خریدنے نہیں آئے۔"

پھر احمد ماسٹر کریم بخش کے پاس گیا، ان کے جھکے ہوئے سر کو اوپر اٹھایا، ان کے ہاتھ چومے اور اپنی جیب سے ایک مخملی ڈبہ نکال کر ان کے ہاتھ میں رکھ دیا۔

"ماسٹر صاحب! مجھے معلوم ہوا ہے کہ آپ نے میری ہونے والی شریکِ حیات کی خوشی کے لیے آنٹی کی آخری نشانی بیچ دی۔ یہ وہ چوڑیاں ہیں، میں نے سنار سے واپس خرید لی ہیں۔ یہ آپ کی امانت ہیں۔ مجھے آپ کی بیٹی چاہیے، آپ کا فرنیچر یا سونا نہیں۔ آپ کی تربیت ہی میرے لیے سب سے بڑا جہیز ہے۔"

ماسٹر کریم بخش کی آنکھوں سے ٹپ ٹپ آنسو گرنے لگے، مگر یہ آنسو دکھ کے نہیں، خوشی اور فخر کے تھے۔ آج ان کی سفید داڑھی کا مان رہ گیا تھا، کیونکہ انہیں داماد کی شکل میں ایک سچا ہیرا مل گیا تھا۔

سبق: بیٹی بوجھ نہیں ہوتی، معاشرے کی غلط رسمیں اسے بوجھ بنا دیتی ہیں۔ جہیز مانگنا بھیک مانگنے سے بدتر ہے۔ اصلی مرد وہ ہے جو سسرال کی دولت پر نہیں، اپنے بازوؤں پر بھروسہ کرے اور اپنی بیوی کو عزت دے۔ خدارا! بیٹیوں کے باپ کی سفید داڑھیوں کو جھکنے سے بچا لیں۔

20/01/2026
یقیناً! آپ کے فیس بک پیج "Urdu Kahani" کے لیے ماں کی عظمت اور اس کی خاموش قربانیوں پر مبنی ایک اور دل کو پگھلا دینے والی...
16/01/2026

یقیناً! آپ کے فیس بک پیج "Urdu Kahani" کے لیے ماں کی عظمت اور اس کی خاموش قربانیوں پر مبنی ایک اور دل کو پگھلا دینے والی کہانی حاضر ہے۔ یہ ایک ایسا موضوع ہے جو ہر کسی کے دل کے قریب ہوتا ہے۔

کہانی کا عنوان: ماں کا 'جھوٹ' (دنیا کی سب سے سچی محبت)
بلال آج ایک بہت بڑی ملٹی نیشنل کمپنی کا سی ای او (CEO) تھا۔ اس کے سامنے کھانے کی میز پر دنیا بھر کے لذیذ پکوان سجے تھے۔ لیکن آج، اس عالیشان ڈائننگ ٹیبل پر بیٹھے بیٹھے اس کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔

اسے اپنا بچپن یاد آ گیا۔ وہ اور اس کی بیوہ ماں، سکینہ، ایک چھوٹے سے کچے مکان میں رہتے تھے۔ غربت کا یہ عالم تھا کہ اکثر دو وقت کی روٹی بھی مشکل سے میسر آتی تھی۔

اسے یاد آیا کہ جب بھی رات کو کھانا کھانے کا وقت آتا، تو ماں پلیٹ میں موجود تھوڑا سا سالن اور آخری روٹی اس کے سامنے رکھ دیتیں۔

ننھا بلال پوچھتا: "اماں! آپ نہیں کھائیں گی؟"

سکینہ مسکرا کر اس کے سر پر ہاتھ پھیرتی اور کہتی: "نہیں بیٹا، مجھے بالکل بھوک نہیں ہے۔ میں نے کھانا پکاتے ہوئے تھوڑا سا چکھ لیا تھا، میرا پیٹ بھر گیا ہے۔ تم کھاؤ، تمہیں بڑھنا ہے، طاقت چاہیے سکول جانے کے لیے۔"

بلال ماں کی بات سچ مان کر مزے سے کھانا کھا لیتا۔ لیکن اسے کیا معلوم تھا کہ اس کی ماں نے سارا دن کچھ نہیں کھایا تھا اور وہ آج رات بھی صرف پانی پی کر بھوکے پیٹ سونے والی تھی، تاکہ اس کا بیٹا بھوکا نہ سوئے۔

سال گزرتے گئے، ماں کی قربانیوں اور محنت نے بلال کو پڑھایا لکھایا اور آج وہ اس مقام پر تھا۔

کچھ عرصہ پہلے ماں کا انتقال ہو گیا تھا۔ آج بلال کی پرانی پڑوسن، زاہدہ خالہ، اس سے ملنے آئی تھیں۔ باتوں باتوں میں انہوں نے بتایا: "بلال بیٹا! تمہیں یاد ہے وہ راتیں جب تمہارے گھر میں پکانے کو کچھ نہیں ہوتا تھا؟ تمہاری ماں میرے پاس آ کر تھوڑا سا آٹا ادھار مانگتی تھی اور کہتی تھی کہ 'میرا بلال بھوکا ہے'۔ اور جب وہ روٹی پکا لیتی، تو خود بھوکی سو جاتی اور تم سے جھوٹ بولتی کہ اسے بھوک نہیں ہے۔ وہ تمہارے لیے جیتی تھی بیٹا۔"

یہ سن کر بلال کے ہاتھ سے نوالہ چھوٹ گیا۔ آج اسے سمجھ آیا کہ ماں کا وہ "مجھے بھوک نہیں ہے" والا جملہ، دنیا کا سب سے بڑا اور سب سے پیارا 'جھوٹ' تھا۔ وہ جھوٹ، جو اس کی زندگی بنانے کے لیے بولا گیا تھا۔

آج سامنے سجے ہزاروں نعمتوں والے دسترخوان پر اسے وہ سکون نہیں مل رہا تھا، جو ماں کے ہاتھ کی اس آدھی روٹی میں تھا جو وہ اپنی بھوک مار کر اسے کھلاتی تھی۔

سبق: ماں وہ ہستی ہے جو اپنی اولاد کے لیے ہنستے ہنستے اپنی خواہشات اور ضروریات کا گلا گھونٹ دیتی ہے۔ اس کے "جھوٹ" میں بھی صرف اور صرف محبت چھپی ہوتی ہے۔ اپنے والدین، خاص طور پر ماں کی قدر کریں، کیونکہ جب وہ چلی جاتی ہے تو دنیا کی ساری رونقیں اور نعمتیں پھیکی پڑ جاتی ہیں۔

Address

Lahore
54000

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Urdu Kahani posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share