Nazria Zaroorat

Nazria Zaroorat Nazria What should be done?

17/09/2025

ایران میں کامیاب انقلاب مگر
""عراق کی صورت حال مختلف کیوں ""

سب سے پہلے تو
عراق کی آبادی کا تناسب ایران کی آبادی کے تناسب کے برابر نہیں ہے جو کہ کسی بھی انقلاب کے لئے ضروری ہے ورنہ انقلاب بمعنی تبدیلی حکومت تو ہو سکتا نظام تبدیلی نہیں ہو سکتا ہے۔
ایران کے مجتہدین خمینی صاحب کی تحریک میں متحرک نظر نہیں آئے اور ماسوائے مخصوص مواقع پر ساتھ دے رہے تھے ۔اسلئے کیا شکوہ عراق میں باقر الصدر صاحب کا ساتھ نہ دینے کا کوئی معنی نہیں رکھتا ہے؟
ایران کی یونیورسٹیوں میں علی شریعتی جیسا مفکر تھا جس نے اصل کام کیا اور لوگوں کے ذہن تبدیل کیے جبکہ عراق میں کوئی ایسا شخص نہ تھا جس نے لوگوں کو راغب کرنے کی کوشش کی ۔
کوئی مصدق جیسا آدمی عراق میں نہیں تھا جس نے مغربی طاقتوں سے ٹکر لی اور آخر پہ جان قربان کرنی پڑی ہو۔
عراق میں محسن الحکیم صاحب کے خاندان کے کتنے لوگ شہید کیے گئے ۔
لیکن ایران میں شاہ ایران کے اردگرد چند لوگ ایسے موجود تھے جو خمینی صاحب کی زندگی میں طوالت اور جلا وطنی کا سبب بنے۔
جبکہ عراق میں بہت سارے شیعہ مسلک سے تعلق رکھنے والے افراد صدام کے صرف حمایتی نہیں بلکہ قسمیں کھا کر
ساتھ نبھانے والے تھے ۔

ایرانی عوام کا مزاج بھی بہت ساری خوبیوں کا حامل ہے جبکہ عراق کے بارے تاریخ میں بہت کچھ موجود ہے

انقلاب ایران حقیقت میں اللّٰہ تعالیٰ کی طرف سے ایرانیوں کی شرح صدر ہے۔ ورنہ عوام کا عادلانہ نظام حکومت قائم کرنا عجائب در عجائب

سید مخدوم حسین شاہ

17/09/2025

لبنان کی امل ملیشیا اور حزب اللہ
'" بنیاد اور اوتار چڑھاؤ ""

امل تحریک (Amal Movement)

1974 میں امام موسیٰ صدر نے "حرکۃ المحرومین" (محروموں کی تحریک) کے نام سے شیعہ عوام کے حقوق کے دفاع کے لیے تنظیم بنائی۔

خانہ جنگی (1975) کے دوران اس کا عسکری ونگ "افواج المقاومۃ اللبنانیۃ" بنا، جسے امل ملیشیا کہا گیا۔

1980 کی دہائی میں فلسطینی گروہوں اور دیگر ملیشیاؤں سے لڑائی میں شریک رہی۔

آج یہ ایک بڑی سیاسی جماعت ہے، جس کی قیادت نبیہ بری کر رہے ہیں ۔

---

حزب اللہ (Hezbollah)

1982 میں اسرائیلی حملے کے بعد ایران کی مدد سے جنوبی لبنان میں قائم ہوئی۔

نظریاتی بنیاد: ولایت فقیہ (آیت اللہ خمینی کی قیادت کو ماننا)۔

بنیادی مقصد: اسرائیلی قبضے کے خلاف مزاحمت اور اسلامی اقدار کا فروغ۔

2000 میں اسرائیل کو جنوبی لبنان سے نکلنے پر مجبور کیا۔

آج حزب اللہ لبنان کی سب سے بڑی مزاحمتی اور سیاسی طاقت ہے، جس کے پاس اپنا میڈیا، فلاحی ادارے اور ایک منظم عسکری ڈھانچہ ہے۔

---

امل اور حزب اللّٰہ کے تعلقات

1980 کی دہائی میں دونوں کے درمیان خونریز جھڑپیں ہوئیں۔

بعد ازاں ایران و شام کی ثالثی سے تعلقات بہتر ہوئے۔

آج لبنانی شیعہ سیاست میں یہ دونوں مل کر کام کرتے ہیں:

امل کی توجہ کا مرکز پارلیمانی و حکومتی سیاست ہے

جبکہ

حزب اللہ مزاحمت اور علاقائی سیاست پر زور دیتی ہے

لیکن
دونوں مل کر لبنان کی شیعہ سیاست کی ریڑھ کی ہڈی سمجھے جاتے ہیں۔

16/09/2025

دین اور حکومت الٰہیہ

جب سے تصور ملکیت اور حقوق نے بنی نوع انسان میں بیداری پیدا کی اختیار اور اور حکومت کے محور و مرکز نے بھی ساتھ ہی سر اٹھانا شروع کیا ۔
اللّٰہ تعالیٰ نے جو خالق اور مالک حقیقی ہے اس نے انسانی حقوق اور فرائض بتانے کے لئے اپنے نمائندے بھیجے اور انہوں نے اس کام میں خاطر خواہ کامیابی حاصل کی لیکن عوامی اکثریت نے کم وبیش ہی ان حقوق وفرائض کو تسلیم کیا ۔قومیں بنتی رہیں اور تباہ ہوتی رہیں ۔
آخر اللّٰہ تعالیٰ نے ایسے اشخاص کو بحیثیت نمائندہ بھیجا جو سراپا رحمت اور شفقت تھے ۔جسکی وجہ سے انسانی معاشرے عروج وزوال میں مبتلا تو ھوتے رہتے ہیں۔
مگر حقیقی عدل و انصاف قائم کرنے میں کامیاب نہیں ہوتے ۔
اللّٰہ تعالیٰ نے اپنے کچھ نمایندے انسانوں کی آنکھوں سے اوجھل کر دیے ۔ وہ لوگ جو اللّٰہ تعالیٰ کے نمائندوں کو ماننے
والے ہیں اب انکے درمیان سوال اٹھایا جانے لگا کہ

""نظام حکومت کون چلائے""

امام زمانہ علیہ السلام پردہ غیبت کبریٰ میں اللّٰہ کے حکم سے ہیں ۔نہ کہ ذاتی مجبوری کی وجہ سے غائب ہیں اور وہ جب غیبت کبریٰ میں گئے تو کچھ ہدایات دے کر گے جس پر عوام وخواص کو آگاہ کر کے گئے جسکی بدولت زعماء وعلماء اپنی محدود بساط کے مطابق علم دین بھی پہنچا رہے ہیں اور جہاں تک ممکن ہے حکومت کےلئے کوشاں ہیں اور کہیں اللّٰہ تعالیٰ نے کامیابی بھی عطا کی ہے لیکن اقتدار میں اختیارات کے معاملے میں ایک نقطے پر متفق نہیں ہیں اور نہ ہی کبھی ہو سکے ہیں ۔
ہاں البتہ یہاں آپ اقلیت میں ہیں اور مختلف مکاتب کے درمیان رہتے ہیں۔ وہاں آپ اپنے آپ کو نظام کے دائرہ کار میں رکھا کریں تاکہ دوسرے انسان آپ سے اثر لیں اور نظام کی طرف متوجہ ہوں ۔
اگر بالفرض یہاں کہیں یہ نظام قائم ہے وہاں کیا سب انسانوں نے نظام کو اپنی خوشی سے قبول کیا ہوا ہے یا کوئی اور وجوہات ہیں ۔
یقینی طور بہت سی وجوہات ہوں گی کہ کچھ اپنا فریضہ سمجھتے ہوں گے اور کچھ مجبور ہوں گے۔ کچھ حالات کی تبدیلی کا انتظار کر رہے ہو نگے ۔کچھ مفادات کی خاطر اور کچھ آرا ہی نہیں رکھتے ہوں گے جیسا دیس ویسا بھیس
کی راہ اختیار کرتے ہونگے کچھ دشمن بھی ہونگے۔کئی اور وجوہات بھی ہوسکتی ہیں ۔
لیکن اصل نقطہ یہ ہے کہ جب آپ اختیارات کی تقسیم کو دیکھیں تو شخص واحد کو لا محدود اختیارات دینا یعنی بادشاہ سے بھی بڑھا چڑھا کر پیش کرنا ۔کچھ عجیب لگتا ہے کہ ایک عالم دین کو ہر شعبے کا ماہر بنا کر تمام ماہرین کو اسکے حکم کے تابع کر دیا جائے یہ نہ صرف علم کی توہین ہے بلکہ مستقبل میں یہ بھی بنوامیہ اور بنو عباس کی طرز پر ہی چلنے کا اندیشہ واضح ہے۔
ہاں فرق یہ ہوگا کہ بظاہر عالم دین مولانا ہوگا لیکن یہ بھی ممکن ہے علمی معیار پر پورا نہیں اترتا ہوگا ۔ لیکن اس کا نظریہ پکا ہے اور اچھی سیاست کرےگا مختلف توجیہات
بنا کر نا اہل کو اہل پر ترجیح دی جائے گی ۔ اور ساتھ ہی تھوڑی مدت کے بعد آئینی ترامیم کے ذریعے کام چلانا پڑے گا
بس سلطنت نسلی بادشاہت میں تبدیل ہونے کا پورا پورا خدشہ موجود ہے۔ جو روش کافی عرصے سے پاکستان کے کچھ بڑے علماء کی آراء پیش کرنے اور پھر ماننے والوں کے دفاعی طریقہ کار سے یوں لگتا ہے ضرور ایک دوسرے پر ظلم کریں گے خاص طور پر فاتح ضرور مفتوح پر ظلم کرےگا ۔ ۔
یہ بھی ممکن کہ

( کوا چلا ہنس کی چال اور اپنی بھی بھول گیا)

دنیاوی ضرورت کو بھی مدنظر رکھیں اور دین پر چلنا شروع کریں نہ کہ دوسروں کی شکل اختیار کریں اور دین کی طرف رجوع کریں نہ کہ دین کی شکل بگاڑ کر پیش کریں کسی طرز زندگی اور کسی ملک کے طرز آ ئین کے پیچھے لگنے کی بجائے دین کو اپنے ہاتھ اور زبان پر لاگو کریں ۔

مخدوم حسین شاہ

16/09/2025

مذہب کے بارے میں دانشوروں کی خیالی تصویر

🔹 1. مذہب کا ماخذ اور فطرت

سقراط، افلاطون اور ارسطو: یہ مذہب کو اخلاق اور کائنات کے نظام کے ساتھ جوڑتے ہیں۔ ان کے نزدیک خدا یا اعلیٰ ہستی کائنات کا نظم و نسق قائم رکھتی ہے۔

ابنِ خلدون: مذہب کو انسان کی اجتماعی زندگی اور تہذیب کے لیے ناگزیر سمجھتے ہیں۔

---

🔹 2. مذہب اور جذبات

ڈیوڈ ہیوم (David Hume): مذہب انسان کے خوف اور امید سے پیدا ہوا، یعنی انسان نے قدرتی آفات اور نامعلوم قوتوں سے بچنے کے لیے خدا کا تصور بنایا۔

شوپنہار (Schopenhauer): مذہب کو انسانی دکھ اور تکلیف کا جواب قرار دیتے ہیں، تاکہ انسان صبر اور تسلی پاسکے۔

---

🔹 3. مذہب اور سماج

کارل مارکس (Karl Marx): مذہب کو "عوام کی افیون" کہا۔ ان کے نزدیک مذہب سرمایہ دار طبقہ لوگوں کو خواب و وعدوں میں مصروف رکھنے کے لیے استعمال کرتا ہے۔

ایمل دورکھائم (Émile Durkheim): مذہب کو ایک سماجی حقیقت قرار دیتے ہیں جو معاشرتی ہم آہنگی اور اتحاد پیدا کرتا ہے۔

---

🔹 4. مذہب اور نفسیات

سگمنڈ فرائڈ (Sigmund Freud): مذہب کو لاشعوری خواہشات اور خوف کی عکاسی سمجھتے ہیں۔ ان کے نزدیک مذہب ایک طرح کا "اجتماعی وہم" ہے۔

کارل یونگ (Carl Jung): مذہب کو انسانی لاشعور کے اندرونی "آرکی ٹائپس" (قدیم تصورات) کا اظہار قرار دیتے ہیں۔

---

🔹 5. مذہب اور وجودیت

سورن کیرکیگارڈ (Kierkegaard): مذہب کو ایمان اور ذاتی تعلقِ خدا سے جوڑتے ہیں۔ ان کے مطابق ایمان ایک "چھلانگ" ہے جو عقل سے ماورا ہے۔

فریڈرک نطشے (Nietzsche): مذہب (خصوصاً عیسائیت) کو انسان کی کمزوری کا اظہار سمجھتے ہیں۔ ان کے نزدیک مذہب نے انسان کی قوتِ ارادی کو دبایا۔

---

🔹 6. اسلامی مفکرین

امام غزالی: مذہب کو عقل اور وحی دونوں کے امتزاج سے سمجھتے ہیں۔ ان کے نزدیک وحی عقل سے برتر ہے۔

ابن رشد (Averroes): مذہب اور فلسفہ کو ہم آہنگ قرار دیتے ہیں۔ ان کے مطابق وحی اور عقل دونوں حق تک لے جاتے ہیں۔

علامہ اقبال: مذہب کو انسانی خودی کی تربیت اور عملی زندگی میں انقلابی قوت قرار دیتے ہیں۔ ان کے نزدیک مذہب محض روحانی سکون نہیں بلکہ ایک عملی نظامِ حیات ہے۔

27/09/2024

امیر المومنین امام المتقین علی ابن طالب علیہ السلام فتنوں کے بارے میں کیا ارشاد فرمایا ۔

(٥٠) وَ مِنْ خُطْبَةٍ لَّهٗ عَلَیْهِ السَّلَامُ

اِنَّمَا بَدْءُ وُقُوْعِ الْفِتَنِ اَهْوَآءٌ تُتَّبَعُ، وَ اَحْكَامٌ تُبْتَدَعُ، یُخَالَفُ فِیْهَا كِتَابُ اللهِ، وَ یَتَوَلّٰی عَلَیْهَا رِجَالٌ رِّجَالًا، عَلٰی غَیْرِ دِیْنِ اللهِ، فَلَوْ اَنَّ الْبَاطِلَ خَلَصَ مِنْ مِّزَاجِ الْحَقِّ لَمْ یَخْفَ عَلَی الْمُرْتَادِیْنَ، وَ لَوْ اَنَّ الْحَقَّ خَلَصَ مِنْ لَّبْسِ الْبَاطِلِ لَانْقَطَعَتْ عَنْهُ اَلْسُنُ الْمُعَانِدِیْنَ، وَ لٰكِنْ یُّؤْخَذُ مِنْ هٰذَا ضِغْثٌ، وَ مِنْ هٰذَا ضِغْثٌ، فَیُمْزَجَانِ! فَهُنَالِكَ یَسْتَوْلِی الشَّیْطٰنُ عَلٰۤی اَوْلِیَآئِهٖ، وَ یَنْجُوْ الَّذِیْنَ سَبَقَتْ لَهُمْ مِنَ اللهِ الْحُسْنٰی.

ترجمہ نہج البلاغہ مفتی جعفر حسین رح
فتنوں کے وقوع کا آغاز وہ نفسانی خواہشیں ہوتی ہیں جن کی پیروی کی جاتی ہے اور وہ نئے ایجاد کردہ احکام کہ جن میں قرآن کی مخالفت کی جاتی ہے اور جنہیں فروغ دینے کیلئے کچھ لوگ دین الٰہی کے خلاف باہم ایک دوسرے کے مدد گار ہو جاتے ہیں۔ تو اگر باطل حق کی آمیزش سے خالی ہوتا تو وہ ڈھونڈنے والوں سے پوشیدہ نہ رہتا اور اگر حق باطل کے شائبہ سے پاک و صاف سامنے آتا تو عناد رکھنے والی زبانیں بھی بند ہو جاتیں، لیکن ہوتا یہ ہے کہ کچھ ادھر سے لیا جاتا ہے اور کچھ ادھر سے اور دونوں کو آپس میں خلط ملط کر دیا جاتا ہے۔ اس موقعہ پر شیطان اپنے دوستوں پر چھا جاتا ہے اور صرف وہی لوگ بچے رہتے ہیں جن کیلئے توفیق الٰہی اور عنایت خداوندی پہلے سے موجود ہو۔
--***--

24/09/2024

(٤٨) وَ قَالَ عَلَیْهِ السَّلَامُ
اَلظَّفَرُ بِالْحَزْمِ، وَ الْحَزْمُ بِاِجَالَةِ الرَّاْیِ، وَ الرَّاْیُ بِتَحْصِیْنِ الْاَسْرَارِ.

فرمان امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام

کامیابی دور اندیشی سے وابستہ ہے، اور دور اندیشی فکر و تدبر کو کام میں لانے سے، اور تدبر بھیدوں کو چھپا کر رکھنے سے۔

20/09/2024

نہج البلاغہ
خطبہ 182
ترجمہ ۔زیشان حیدر جوادی رحمت اللہ علیہ
ﻧﻮﻑ ﺑﮑﺎﻟﻲ ﺳﮯ ﺭﻭﺍﻳﺖ ﮐﻲ ﮔﺌﻲ ﮨﮯ ﮐﮧ
ﺍﻣﻴﺮ ﺍﻟﻤﻮﻣﻨﻴﻦ علیہ السلام ﻧﮯ ﺍﻳﮏ ﺩﻥ ﮐﻮﻓﮧ ﻣﻴﮟ ﺍﻳﮏ ﭘﺘﮭﺮ ﭘﺮﮐﮭﮍﮮ ﮨﻮ ﮐﺮﺧﻄﺒﮧ ﺍﺭﺷﺎﺩ ﻓﺮﻣﺎﻳﺎ ﺟﺴﮯ ﺟﻌﺪﮦ ﺑﻦ ﮨﺒﻴﺮﮦ ﻣﺨﺰﻭﻣﻲ ﻧﮯ ﻧﺼﺐ ﮐﻴﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﺁﭖ ﺍﻭﻥ ﮐﺎ ﺍﻳﮏ ﺟﺒﮧ ﭘﮩﻨﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﺁﭖ ﮐﻲ ﺗﻠﻮﺍﺭ ﮐﺎ ﭘﺮﺗﻠﮧ ﺑﮭﻲ ﻟﻴﻒ ﺧﺮﻣﺎ ﮐﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﭘﻴﺮﻭﮞ ﻣﻴﮟ ﻟﻴﻒ ﺧﺮﻣﺎ ﮨﻲ ﮐﻲ ﺟﻮﺗﻴﺎﮞ ﺗﮭﻴﮟ ﺁﭖ ﮐﻲ ﭘﻴﺸﺎﻧﻲ ﺍﻗﺪﺱ ﭘﺮ ﺳﺠﺪﻭﮞ ﮐﮯ ﮔﮭﭩﮯ ﻧﻤﺎﻳﺎﮞ ﺗﮭﮯ ۔
ﻓﺮﻣﺎﻳﺎ ! ﺳﺎﺭﻱ ﺗﻌﺮﻳﻒ ﺍﺱ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﮨﮯ ﺟﺲ ﮐﻲ ﻃﺮﻑ ﺗﻤﺎﻡ ﻣﺨﻠﻮﻗﺎﺕ ﮐﻲ ﺑﺎﺯﮔﺸﺖ ﺍﻭﺭﺟﻤﻠﮧ ﺍﻣﻮﺭ ﮐﻲ ﺍﻧﺘﮩﺎﺀ ﮨﮯ۔ﻣﻴﮟ ﺍﺱ ﮐﻲ ﺣﻤﺪ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﻮﮞ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻋﻈﻴﻢ ﺍﺣﺴﺎﻥ' ﻭﺍﺿﺢ ﺩﻻﺋﻞ ﺍﻭﺭ ﺑﮍﮬﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﻓﺾ ﻭ ﮐﺮﻡ ﭘﺮ۔ﻭﮦ ﺣﻤﺪ ﺟﻮ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺣﻖ ﮐﻮ ﭘﻮﺭﺍ ﮐﺮ ﺳﮑﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺷﮑﺮ ﮐﻮﺍﺩﺍ ﮐﺮﺳﮑﮯ۔ﺍﺱ ﮐﮯ ﻋﻈﻴﻢ ﺍﺣﺴﺎﻥ ' ﻭﺍﺿﺢ ﺩﻻﺋﻞ ﺍﻭﺭ ﺑﮍﮬﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﻓﻀﻞ ﻭ ﮐﺮﻡ ﭘﺮ۔ﻭﮦ ﺣﻤﺪ ﺟﻮﺍﺱ ﮐﮯ ﺣﻖ ﮐﻮ ﭘﻮﺭﺍ ﮐﺮﺍ ﺳﮑﮯ ﺍﻭﺭﺍﺱ ﮐﮯ ﺷﮑﺮ ﮐﻮﺍﺩﺍ ﮐﺮﺳﮑﮯ۔ﺍﺱ ﮐﮯ ﺛﻮﺍﺏ ﺳﮯ ﻗﺮﻳﺐ ﺑﻨﺎ ﺳﮑﮯ ﺍﻭﺭﻧﻌﻤﺘﻮﮞ ﻣﻴﮟ ﺍﺿﺎﻓﮧ ﮐﺎ ﺳﺒﺐ ﺑﻦ ﺳﮑﮯ۔ﻣﻴﮟ ﺍﺱ ﺳﮯ ﻣﺪﺩ ﭼﺎﮨﺘﺎ ﮨﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﺑﻨﺪﮦ ﮐﻲ ﻃﺮﺡ ﺟﻮ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻓﻀﻞ ﮐﺎ ﺍﻣﻴﺪ ﻭﺍﺭ ﮨﻮ۔ﺍﺱ ﮐﮯ ﻣﻨﺎﻓﻊ ﮐﺎ ﻃﻠﺐ ﮔﺎﺭ ﮨﻮ۔ﺍﺱ ﮐﮯ ﺩﻓﻊ ﺑﻼﺀ ﮐﺎ ﻳﻘﻴﻦ ﺭﮐﮭﻨﮯ ﻭﺍﻻ ﮨﻮ ﺍﺱ ﮐﮯ ﮐﺮﻡ ﮐﺎ ﺍﻋﺘﺮﺍﻑ ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻻ ﮨﻮ ﺍﻭﺭ ﻗﻮﻝ ﻭﻋﻤﻞ ﻣﻴﮟ ﺍﺱ ﭘﺮ ﻣﮑﻤﻞ ﺍﻋﺘﻤﺎﺩ ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻻ ﮨﻮ۔
ﻣﻴﮟ ﺍﺱ ﭘﺮ ﺍﻳﻤﺎﻥ ﺭﮐﮭﺘﺎ ﮨﻮﮞ ﺍﺱ ﺑﻨﺪﮦ ﮐﻲ ﻃﺮﺡ ﺟﻮ ﻳﻘﻴﻦ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺍﻣﻴﺪ ﻭﺍﺭ ﮨﻮ ﺍﻭﺭ ﺍﻳﻤﺎﻥ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺍﺱ ﮐﻲ ﻃﺮﻑ ﻣﺘﻮﺟﮧ ﮨﻮ۔ﺍﺫﻋﺎﻥ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺍﺱ ﮐﻲ ﺑﺎﺭﮔﺎﮦ ﻣﻴﮟ ﺳﺮ ﺑﺴﺠﻮﺩ ﮨﻮ ﺍﻭﺭ ﺗﻮﺣﻴﺪ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺍﺱ ﺳﮯ ﺍﺧﻼﺹ ﺭﮐﮭﺘﺎ ﮨﻮ۔ﺗﻤﺠﻴﺪ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺍﺱ ﮐﻲ ﻋﻈﻤﺖ ﮐﺎ ﺍﻗﺮﺍﺭ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﻮ ﺍﻭﺭ ﺭﻏﺒﺖ ﻭ ﮐﻮﺷﺶ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺍﺱ ﮐﻲ ﭘﻨﺎﮦ ﻣﻴﮟ ﺁﻳﺎ ﮨﻮ۔
ﻭﮦ ﭘﻴﺪﺍ ﻧﮩﻴﮟ ﮐﻴﺎ ﮔﻴﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﮐﻮﺋﻲ ﺍﺱ ﮐﻲ ﻋﺰﺕ ﻣﻴﮟ ﺷﺮﻳﮏ ﺑﻦ ﺟﺎﺋﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻧﮯ ﮐﺴﻲ ﺑﻴﭩﮯ ﮐﻮﭘﻴﺪﺍ ﻧﮩﻴﮟ ﮐﻴﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺧﻮﺩ ﮨﻼﮎ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﮯ ﺍﻭﺭ ﺑﻴﭩﺎ ﻭﺍﺭﺙ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﮯ۔ﻧﮧ ﺍﺱ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﮐﻮﺋﻲ ﺯﻣﺎﻥ ﻭ ﻣﮑﺎﻥ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﻧﮧ ﺍﺱ ﭘﺮ ﮐﻮﺋﻲ ﮐﻤﻲ ﻳﺎ ﺯﻳﺎﺩﺗﻲ ﻃﺎﺭﻱ ﮨﻮﺗﻲ ﮨﮯ۔ﺍﺱ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﻲ ﻣﺤﮑﻢ ﺗﺪﺑﻴﺮ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﮯ ﺣﺘﻤﻲ ﻓﻴﺼﻠﮩﮑﻲ ﺑﻨﺎ ﭘﺮ ﺍﭘﻨﮯ ﮐﻮ ﻋﻘﻠﻮﮞ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺑﺎﻟﮑﻞ ﻭﺍﺿﺢ ﺍﻭﺭﻧﻤﺎﻳﺎﮞ ﮐﺮﺩﻳﺎ ﮨﮯ۔ﺍﺱ ﮐﻲ ﺧﻠﻘﺖ ﮐﮯ ﺷﻮﺍﮨﺪ ﻣﻴﮟ ﺍﻥ ﺁﺳﻤﺎﻧﻮﮞ ﮐﻲ ﺗﺨﻠﻴﻖ ﺑﮭﻲ ﮨﮯ ﺟﻨﮩﻴﮟ ﺑﻐﻴﺮ ﺳﺘﻮﻥ ﮐﮯ ﺭﻭﮎ ﺭﮐﮭﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺑﻐﻴﺮ ﮐﺴﻲ ﺳﮩﺎﺭﮮ ﮐﮯ ﻗﺎﺋﻢ ﮐﺮﺩﻳﺎ ﮨﮯ۔ﺍﺱ ﻧﮯ ﺍﻧﮩﻴﮟ ﭘﮑﺎﺭﺍ ﺗﻮ ﺳﺐ ﻟﺒﻴﮏ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺣﺎﺿﺮ ﮨﻮﮔﺌﮯ۔ﺍﻃﺎﻋﺖ ﻭ ﺍﺩﻏﺎﻥ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ۔ﻧﮧ ﮐﺴﻲ ﻃﺮﺡ ﮐﻲ ﺗﺴﺎﮨﻠﻲ ﺍﻭﺭ ﻧﮧ ﮐﺎﮨﻠﻲ۔ﺍﻭﺭ ﻇﺎﮨﺮ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﮔﺮ ﺍﻥ ﺁﺳﻤﺎﻧﻮﮞ ﻧﮯ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﺍﺱ ﮐﻲ ﺭﺑﻮﺑﻴﺖ ﮐﺎ ﺍﻗﺮﺍﺭﻧﮧ ﮐﻴﺎ ﮨﻮﺗﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺳﺮﺗﺴﻠﻴﻢ ﺧﻢ ﻧﮧ ﮐﺮﺩﻳﺎ ﮨﻮﺗﺎ ﺗﻮ ﻭﮦ ﮐﺒﮭﻲ ﺍﻧﮩﻴﮟ ﺍﭘﻨﮯ ﻋﺮﺵ ﮐﻲ ﻣﻨﺰﻝ (1) ﻣﻼﺋﮑﮧ ﮐﺎ ﻣﺴﮑﻦ۔ﮐﻠﻤﮧ ﻃﻴﺐ ﺍﻭﺭ ﻋﻤﻞ ﺻﺎﺣﻞ ﮐﻲ ﺑﻠﻨﺪﻳﻮﮞ ﮐﺎ ﻣﺮﮐﺰ ﻧﮧ ﻗﺮﺍﺭ ﺩﻳﺘﺎ۔ﺍﺱ ﻧﮯ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺳﺘﺎﺭﻭﮞ ﮐﻮﻣﺨﺘﻠﻒ ﺭﺍﺳﺘﻮﮞ ﻣﻴﮟ ﺣﻴﺮﺍﻥ ﻭ ﺳﺮﮔﺮﺩﺍﮞ ﻣﺴﺎﻓﺮﻭﮞ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﻧﺸﺎﻥ ﻣﻨﺰﻝ ﺑﻨﺎﺩﻳﺎﮨﮯ۔ﺍﻥ ﮐﮯ ﺍﻧﻮﺍﺭ ﮐﻲ ﺗﺎﺑﺶ ﮐﻮ ﺯﻣﻴﻦ ﺗﮏ ﭘﮩﻨﭽﻨﮯ ﺳﮯ ﻧﮧ ﺗﺎﺭﻳﮏ ﺭﺍﺕ ﮐﻲ ﺳﻴﺎﮨﻲ ﺭﻭﮎ ﺳﮑﻲ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻧﮧ ﺳﻮﺍﺩ ﺷﺐ ﮐﻲ ﭼﺎﺩﺭ ﻣﻴﮟ ﺍﺗﻨﺎ ﺩﻡ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺁﺳﻤﺎﻧﻮﮞ ﻣﻴﮟ ﭘﮭﻴﻠﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﻧﻮﺭ ﻗﻤﺮ ﮐﻲ ﺭﻭﺷﻨﻲ ﮐﻮ ﺭﻭﮎ ﺳﮑﮯ ۔
ﭘﺎﮎ ﻭ ﺑﮯ ﻧﻴﺎﺯ ﮨﮯ ﻭﮦ ﺧﺪﺍ ﺟﺲ ﭘﺮ ﻧﮧ ﺗﺎﺭﻳﮏ ﺭﺍﺕ ﮐﻲ ﺳﻴﺎﮨﻲ ﻣﺨﻔﻲ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻧﮧ ﭨﮭﮩﺮﻱ ﮨﻮﺋﻲ ﺷﺐ ﮐﻲ ﺗﺎﺭﻳﮑﻲ۔ﻧﮧ ﭘﺴﺖ ﺯﻣﻴﻨﻮﮞ ﮐﮯ ﻗﻄﻌﺎﺕ ﻣﻴﮟ ﺍﻭﺭﻧﮧ ﺑﺎﮨﻤﻲ ﻣﻠﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﭘﮩﺎﮌﻭﮞ ﮐﻲ ﭼﻮﭨﻴﻮﮞ ﻣﻴﮟ۔ﺍﺱ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﻧﮧ ﺁﺳﻤﺎﻥ ﮐﻲ ﺑﻠﻨﺪﻱ ﭘﺮ ﮔﺮﺟﺘﻲ ﮨﻮﺋﻲ ﺭﻋﺪ ﭘﻮﺷﻴﺪﮦ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻧﮧ ﺑﺎﺩﻟﻮﮞ ﮐﻲ ﭼﻤﮑﺘﻲ ﮨﻮﺋﻴﺒﺠﻠﻴﺎﮞ ﺍﻭﺭ ﻧﮧ ﺩﺭﺧﺘﻮﮞ ﺳﮯ ﮔﺮﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﭘﺘﮯ ﺟﻨﮩﻴﮟ ﺑﺎﻟﺪﻭﮞ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﭼﻠﺘﻲ ﮨﻮﺋﻲ ﺗﻴﺰ ﮨﻮﺍﺋﻴﮟ ﻳﺎﻣﻮﺳﻼ ﺩﮬﺎﺭ ﺑﺎﺭﺵ ﮐﺎ ﺯﻭﺭ ﮔﺮﺍﺩﻳﺘﺎ ﮮ۔ﻭﮦ ﮨﺮ ﻗﻄﺮﮦ ﮐﮯ ﮔﺮﻧﮯ ﮐﻲ ﺟﮕﮧ ﺑﮭﻲ ﺟﺎﻧﺘﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﭨﮭﮩﺮﻧﮯ ﮐﻲ ﺟﮕﮧ ﺑﮭﻲ۔ﮨﺮ ﭼﻴﻮﻧﭩﻲ ﮐﮯ ﭼﻠﻨﮯ ﮐﻲ ﺟﮕﮧ ﺳﮯ ﺑﮭﻲ ﺑﺎ ﺧﺒﺮ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﮐﮭﻴﻨﭻ ﮐﺮ ﭘﮩﻨﭽﻨﮯ ﮐﻲ ﻣﻨﺰﻝ ﺳﮯ ﺑﮭﻲ۔ﻭﮦ ﻳﮧ ﺑﮭﻲ ﺟﺎﻧﺘﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﻳﮏ ﻣﭽﮭﺮﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﮐﺘﻨﻲ ﻏﺬﺍ ﮐﺎﻓﻲ ﮨﻮﺗﻲ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻳﮧ ﺑﮭﻲ ﺟﺎﻧﺘﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﻳﮏ ﻣﺎﺩﮦ ﺍﭘﻨﮯ ﺷﮑﻢ ﻣﻴﮟ ﮐﻴﺎ ﻟﺌﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮨﮯ۔ﺳﺎﺭﻱ ﺗﻌﺮﻳﻒ ﺍﺱ ﺧﺪﺍ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﮨﮯ ﺟﻮ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﺑﮭﻲ ﺗﮭﺎ ﺟﺐ ﻧﮧ ﮐﺮﺳﻲ ﺗﮭﻲ ﺍﻭﺭ ﻧﮧ ﻋﺮﺵ ۔ﻧﮧ ﺁﺳﻤﺎﻥ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﻧﮧ ﺯﻣﻴﻦ ۔ﻧﮧ ﺟﻨﺎﺕ ﺗﮭﮯ ﻧﻨﮧ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﻧﮧ ﻭﮨﻢ ﺳﮯ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺍﺩﺭﺍﮎ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻧﮧ ﻓﮩﻢ ﺳﮯ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺍﻧﺪﺍﺯﮦ ۔ﻧﮧ ﮐﻮﺋﻲ ﺳﺎﺋﻞ ﺍﺳﮯ ﻣﺸﻐﻮﻝ ﮐﺮ ﺳﮑﺘﺎ ﮮ ﺍﻭﺭ ﻧﮧ ﮐﺴﻲ ﻋﻄﺎ ﺳﮯ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺧﺰﺍﻧﮧ ﻣﻴﮟ ﮐﻮﺋﻲ ﮐﻤﻲ ﺁﺳﮑﺘﻲ ﮨﮯ ۔ﻭﮦ ﻧﮧ ﺁﻧﮑﮭﻮ ﺳﮯ ﺩﻳﮑﮭﺘﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻧﮧ ﮐﺴﻲ ﻣﮑﺎﻥ ﻣﻴﮟ ﻣﺤﺪﻭﺩ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ۔ﻧﮧ ﺳﺎﺗﮭﻴﻮﮞ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺍﺱ ﮐﻲ ﺗﻮﺻﻴﻒ ﮨﻮ ﺳﮑﺘﻲ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻧﮧ ﺍﻋﻀﺎﺀ ﻭ ﺟﻮﺍﺭﺡ ﮐﻲ ﺣﺮﮐﺖ ﺳﮯ ﮐﺴﻲ ﭼﻴﺰ ﮐﻮﺧﻠﻖ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ ﺟﻮ ﺍﺱ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺍﺩﺭﺍﮎ ﻧﮩﻴﮟ ﮐﺮ ﺳﮑﺘﮯ ﮨﻴﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﻧﺴﺎﻧﻮﮞ ﭘﺮ ﺍﺱ ﮐﺎ ﻗﻴﺎﺱ ﻧﮩﻴﮟ ﮐﻴﺎ ﺟﺎ ﺳﮑﺘﺎﮮ۔ﺍﺱ ﻧﮯ ﻣﻮﺳﻲ ﮐﻮ ﮐﻠﻴﻢ ﺑﻨﺎﻳﺎ ﺗﻮ ﺍﻧﮩﻴﮟ ﻋﻈﻴﻢ ﻧﺸﺎﻧﻴﺎﮞ ﺑﮭﻲ ﺩﮐﮭﻼﺩﻳﮟ ﺣﺎﻻﻧﮑﮧ ﻧﮧ ﺟﻮﺍﺭﺡ ﮐﻮ ﺍﺳﺘﻌﺎﻝ ﮐﻴﺎ ﺍﻭﺭﻧﮧ ﺁﻻﺕ ﮐﻮ۔ﻧﮧ ﮐﻮﺋﻲ ﻧﻄﻖ ﺩﺭﻣﻴﺎﻥ ﻣﻴﮟ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﻧﮧ ﮔﻠﮯ ﮐﮯ ﮐﻮﮮ ﮐﻲ ﺣﺮﮐﺖ
ﺍﮮ ﺗﻮﺻﻴﻒ ﭘﺮﻭﺭﺩﮔﺎﺭ ﻣﻴﮟ ﺑﻼ ﺳﺒﺐ ﺯﺣﻤﺖ ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻟﻮ! ﺍﮔﺮﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﺧﻴﺎﻝ ﻣﻴﮟ ﺻﺪﺍﻗﺖ ﭘﺎﺋﻲ ﺟﺎﺗﻲ ﮨﮯ ﺗﻮ ﭘﮩﻠﮯ ﺟﺒﺮﺍﺋﻴﻞ ﻭ ﻣﻴﮑﺎﺋﻴﻞ ﺍﻭﺭﺍﺱ ﮐﮯ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﻣﻘﺮﺏ ﻣﻼﺋﮑﮧ ﮐﻲ ﺗﻮﺻﻴﻒ ﺑﻴﺎﻥ ﮐﺮﻭ ﺟﻮ ﭘﺎﮐﻴﺰﮔﻲ ﮐﮯ ﺣﺠﺮﺍﺕ ﻣﻴﮟ ﺳﺮ ﺟﮭﮑﺎﺋﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﭘﮍﮮ ﮨﻴﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﮐﻲ ﻋﻘﻠﻴﮟ ﺣﻴﺮﺍﻥ ﮨﻴﮟ ﮐﮧ ﺍﺣﺴﻦ ﺍﻟﺨﺎﻟﻘﻴﻦ ﮐﻲ ﺗﻮﺻﻴﻒ ﮐﺲ ﻃﺮﺡ ﺑﻴﺎﻥ ﮐﺮﻳﮟ ۔
ﻳﺎﺩ ﺭﮐﮭﻮ ﺻﻔﺎﺕ ﮐﮯ ﺫﺭﻳﻌﮧ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺍﺩﺭﺍﮎ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﺟﺲ ﮐﻲ ﺷﮑﻞ ﻭ ﺻﻮﺭﺕ ﮨﻮﺗﻲ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺟﺲ ﮐﮯ ﺍﻋﻀﺎﺀ ﻭ ﺟﻮﺍﺭﺡ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﻴﮟ ﺍﻭﺭ ﺟﻮ ﺍﭘﻨﻲ ﺁﺧﺮﻱ ﺣﺪ ﭘﺮ ﭘﮩﻨﭻ ﮐﺮ ﻓﻨﺎ ﮨﻮ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ۔ﭘﺲ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻋﻼﻭﮦ ﮐﻮﺋﻲ ﺧﺪﺍ ﻧﮩﻴﮟ ﮨﮯ ﺟﺲ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﻧﻮﺭ ﻭﺟﻮﺩ ﺳﮯ ﮨﺮ ﺗﺎﺭﻳﮑﻲ ﮐﻮ ﻣﻨﻮﺭ ﺑﻨﺎﺩﻳﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﻋﺪﻡ ﮐﻲ ﻇﻠﻤﺖ ﺳﮯ ﮨﺮ ﻧﻮﺭﺍﻧﻲ ﺷﮯ ﮐﻮ ﺗﺎﺭﻳﮏ ﺑﻨﺎﺩﻳﺎ ﮨﮯ۔
ﺑﻨﺪﮔﺎﻥ ﺧﺪﺍ! ﻣﻴﮟ ﺗﻤﮩﻴﮟ ﺍﺱ ﺧﺪﺍ ﺳﮯ ﮈﺭﻧﮯ ﮐﻲ ﺩﻋﻮﺕ ﺩﻳﺘﺎ ﮨﻮﮞ ﺟﺲ ﻧﮯ ﺗﻤﮩﻴﮟ ﺑﮩﺘﺮﻳﻦ ﻟﺒﺎﺱ ﭘﮩﻨﺎﺋﮯ ﮨﻴﮟ ﺍﻭﺭ ﺗﻤﮩﺎﺭﻱ ﻣﮑﻤﻞ ﻣﻌﻴﺸﺖ ﮐﺎ ﺍﻧﺘﻈﺎﻡ ﮐﻴﺎ ﮨﮯ۔ﻳﺎﺩ ﺭﮐﮭﻮ ﺍﮔﺮ ﮐﻮﺋﻲ ﺷﺨﺺ ﺍﻳﺴﺎ ﮨﻮﺗﺎ ﺟﺴﮯ ﺑﻘﺎ ﮐﻲ ﺯﻳﻨﮧ ﻣﻞ ﺟﺎﺗﺎ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﻣﻮﺕ ﮐﻮ ﭨﺎﻟﻨﮯ ﮐﺎ ﺭﺍﺳﺘﮧ ﺗﻼﺵ ﮐﺮ ﻟﻴﺘﺎ ﺗﻮ ﻭﮦ ﺳﻠﻴﻤﺎﻥ ﺑﻦ ﺩﺍﺋﻮﺩ ﮨﻮﺗﮯ ﺟﻦ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺟﻦ ﻭ ﺍﻧﺲ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﮐﻮ ﻣﺴﺨﺮ ﮐﺮﺩﻳﺎ ﮔﻴﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﻧﺒﻮﺕ ﺍﻭﺭ ﺗﻘﺮﺏ ﺍﻟﮩﻲ ﮐﺎ ﺷﺮﻑ ﺑﮭﻲ ﺣﺎﺻﻞ ﺗﮭﺎ ﻟﻴﮑﻦ ﺟﺐ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺣﺼﮧ ﮐﻲ ﻏﺬﺍ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﮐﺮﻟﻲ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﻲ ﻣﺪﺕ ﺑﻘﺎ ﮐﻮ ﭘﻮﺭﺍ ﮐﺮﻟﻴﺎ ﺗﻮ ﻓﻨﺎ ﮐﻲ ﮐﻤﺎﻧﻮﮞ ﻧﮯ ﻣﻮﺕ ﮐﮯ ﺗﻴﺮ ﭼﻼ ﺩﺋﻴﮯ ﺍﻭﺭ ﺳﺎﺭﮮ ﺩﻳﺎﺭ ﺍﻥ ﺳﮯ ﺧﺎﻟﻲ ﮨﻮ ﮔﺌﮯ ﺍﻭﺭ ﺳﺎﺭﮮ ﻗﺼﺮ ﻣﻌﻄﻞ ﮨﻮ ﮐﺮ ﺭﮦ ﮔﺌﮯ ﺍﻭﺭ ﺩﻭﺳﺮﻱ ﻗﻮﻣﻴﮟ ﺍﻥ ﮐﻲ ﻭﺍﺭﺙ ﮨﻮﮔﺌﻴﮟ '' ﺍﻭﺭ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﻟﺌﮯ ﺍﻧﮩﻴﮟ ﮔﺬﺷﺘﮧ ﻗﻮﻣﻮﮞ ﻣﻴﮟ ﻋﺒﺮﺕ ﮐﺎ ﺳﺎﻣﺎﻥ ﻓﺮﺍﮨﻢ ﮐﻴﺎ ﮔﻴﺎ ﮨﮯ ''۔
ﮐﮩﺎﮞ ﮨﻴﮟ ( ﺷﺎﻡ ﻭ ﺣﺠﺎﺯ ﮐﮯ ) ﻋﻤﺎﻟﻘﮧ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﮐﻲ ﺍﻭﻻﺩ؟ ﮐﮩﺎﮞ ﮨﻴﮟ ( ﻣﺼﺮ ﮐﮯ ) ﻓﺮﺍﻋﻨﮧ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﮐﻲ ﺍﻭﻻﺩ ؟ ﮐﮩﺎﮞﮨﻴﮟ (ﺁﺫﺭﺑﺎﺋﻴﺠﺎﻥ ﮐﮯ ) ﺍﺻﺤﺎﺏ ﺍﻟﺮﺱ؟ ﺟﻨﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺍﻧﺒﻴﺎﺀ ﮐﻮ ﻗﺘﻞ ﮐﻴﺎ ﻣﺮﺳﻠﻴﻦ ﮐﻲ ﺳﻨﺘﻮﮞ ﮐﻮﺧﺎﻣﻮﺵ ﮐﻴﺎ ﺍﻭﺭ ﺟﺒﺎﺭﻭﮞ ﮐﻲ ﺳﻨﺘﻮﮞ ﮐﻮ ﺯﻧﺪﮦ ﮐﺮﺩﻳﺎ ﺗﮭﺎ۔ﮐﮩﺎﮞ ﮨﻴﮟ ﻭﮦ ﻟﻮﮒ ﺟﻮ ﻟﺸﮑﺮ ﻟﮯ ﮐﺮ ﺑﮍﮬﮯ ﺍﻭﺭ ﮨﺰﺍﺭ ﮨﺎ ﮨﺰﺍﺭ ﮐﻮ ﺷﮑﺴﺖ ﺩﮮ ﺩﻱ۔ﻟﺸﮑﺮﮐﮯ ﻟﺸﮑﺮ ﺗﻴﺎﺭ ﮐﺌﮯ ﺍﻭﺭ ﺷﮩﺮﻭﮞ ﮐﮯ ﺷﮩﺮ ﺁﺑﺎﺩ ﮐﺮﺩﺋﻴﮯ۔
(ﺍﺳﻲ ﺧﻄﺒﮧ ﮐﺎ ﺍﻳﮏ ﺣﺼﮧ)
ﻭﮦ ﺣﮑﻤﺖ ﮐﻲ ﺳﭙﺮ ﺯﻳﺐ ﺗﻦ ﮐﺌﮯ ﮨﻮﮔﺎ۔ﺍﻭﺭ ﺍﺳﮯ ﭘﻮﺭﮮ ﺁﺩﺍﺏ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺍﺧﺘﻴﺎﺭ ﮐﺌﮯ ﮨﻮﮔﺎ ﮐﮩﺎﺱ ﮐﻲ ﻃﺮﻑ ﻣﺘﻮﺟﮧ ﮨﻮﮔﺎ۔ﺍﺱ ﮐﻲ ﻣﻌﺮﻓﺖ ﺭﮐﮭﺘﺎ ﮨﻮﮔﺎ ﺍﻭﺭﺍﺱ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﻣﮑﻤﻞ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﻓﺎﺭﻍ ﮨﻮﮔﺎ۔ﻳﮧ ﺣﮑﻤﺖ ﺍﺱ ﮐﻲ ﻧﮕﺎﮦ ﻣﻴﮟ ﺍﺱ ﮐﻲ ﮔﻢ ﺷﺪﮦ ﺩﻭﻟﺖ ﮨﻮﮔﻲ ﺟﺲ ﮐﻮ ﺗﻼﺵ ﮐﺮ ﺭﮨﺎ ﮨﻮﮔﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﻳﺴﻲ ﺿﺮﻭﺭﺕ ﮨﻮﮔﻲ ﺟﺲ ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﻴﮟ ﺩﺭﻳﺎﻓﺖ ﮐﺮ ﺭﮨﺎ ﮨﻮﮔﺎ۔ﻭﮨﺎﺳﻼﻡ ﮐﻲ ﻏﺮﺑﺖ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﻏﺮﻳﺐ ﺍﻟﻮﻃﻦ ﮨﻮﮔﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﺍﻭﻧﭧ ﮐﻲ ﻃﺮﺡ ﮨﻮﮔﺎ ﺟﻮ ﺗﮭﮑﻦ ﺳﮯ ﺯﻣﻴﻦ ﭘﺮ ﺩﻡ ﭘﭩﮏ ﺭﮨﺎ ﮨﻮ ﺍﻭﺭﺳﻴﻨﮧ ﺯﻣﻴﻦ ﭘﺮ ﭨﻴﮏ ﮨﻮﺋﮯ ﮨﻮ۔ﺍﻟﻠﮧ ﮐﻲ ﺣﺠﺘﻮﮞ ﻣﻴﮟ ﺳﮯ ﺁﺧﺮﻱ ﺣﺠﺖ ﺍﻭﺭﺍﺱ ﮐﮯ ﺍﻧﺒﻴﺎﺀ ﮐﮯ ﺧﻠﻔﺎﺀ ﻣﻴﮟ ﺳﮯ ﺍﻳﮏ ﺧﻠﻴﻔﮧ۔
ﻟﻮﮔﻮ! ﻣﻴﮟ ﻧﮯ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﻟﺌﮯ ﻭﮦ ﺗﻤﺎﻡ ﻧﺼﻴﺤﺘﻴﮟ ﭘﻴﺶ ﮐﺮﺩﻱ ﮨﻴﮟ ﺟﻮ ﺍﻧﺒﻴﺎﺀ (1) ﻧﮯ ﺍﭘﻨﻲ ﺍﻣﺘﻮﮞ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﭘﻴﺶ ﮐﻲ ﺗﮭﻴﮟ ﺍﻭﺭﺗﻢ ﺗﮏ ﺍﻥ ﺗﻤﺎﻡ ﮨﺪﺍﻳﺘﻮﮞ ﮐﻮ ﭘﮩﻨﭽﺎ ﺩﻳﺎﮨﮯ ﺟﻮ ﺍﻭﻟﻴﺎﺀ ﻧﮯﺑﻌﺪﻭﺍﻟﻮﮞ ﮐﮯﺣﻮﺍﻟﮧ ﮐﻲ ﺗﮭﻴﮟ۔ﻣﻴﮟ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺗﺎﺯﻳﺎﻧﮧ ﺳﮯ ﺗﻤﮩﺎﺭﻱ ﺗﻨﺒﻴﮧ ﮐﻲ ﻟﻴﮑﻦ ﺗﻢ ﺳﻴﺪﮬﮯ ﻧﮧ ﮨﻮﺋﮯ ﺍﻭﺭ ﺗﻢ ﮐﻮ ﺯﺟﺮﻭ ﺗﻮ ﺑﻴﺦ ﺳﮯ ﮨﻨﮑﺎﻧﺎ ﭼﺎﮨﺎ ﻟﻴﮑﻦ ﺗﻢ ﻣﺘﺤﺪ ﻧﮧ ﮨﻮﺋﮯ۔ﺍﻟﻠﮧ ﮨﻲ ﺗﻤﮩﻴﮟ ﺳﻤﺠﮭﮯ ﮐﻴﺎ ﻣﻴﺮﮮ ﺑﻌﺪ ﮐﺴﻲ ﺍﻭﺭ ﺍﻣﺎﻡ ﮐﺎﺍﻧﺘﻈﺎﺭ ﮐﺮ ﺭﮨﮯ ﮨﻮ ﺟﻮ ﺗﻤﮩﻴﮟ ﺳﻴﺪﮬﮯ ﺭﺍﺳﺘﮧ ﭘﺮ ﭼﻼﺋﮯ ﮔﺎ ﺍﻭﺭ ﺭﺍﮦ ﺣﻖ ﮐﻲ ﮨﺪﺍﻳﺖ ﺩﮮ ﮔﺎ۔
ﻳﺎﺩ ﺭﮐﮭﻮ ﺟﻮ ﭼﻴﺰﻳﮟ ﺩﻧﻴﺎ ﮐﻲ ﻃﺮﻑ ﺭﺥ ﮐﺌﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺗﮭﻴﮟ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﻣﻨﮧ ﭘﮭﻴﺮﺍ ﻟﻴﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺟﻮﻣﻨﮧ ﭘﮭﻴﺮﺍﺋﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺗﮭﻴﮟ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺭﺥ ﮐﺮﻟﻴﺎ ﮨﮯ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮯ ﻧﻴﮏ ﺑﻨﺪﻭﮞ ﻧﮯ ﻳﮩﺎﮞ ﺳﮯ ﮐﻮﭺ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﺎ ﻋﺰﻡ ﮐﺮﻟﻴﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺩﻧﻴﺎ ﮐﺎ ﻭﮦ ﻗﻠﻴﻞ ﺳﺮﻣﺎﻳﮧ ﺟﻮ ﺑﺎﻗﻲ ﺭﮨﻨﮯ ﻭﺍﻻ ﻧﮩﻴﮟ ﮨﮯ ﺍﺳﮯ ﺑﻴﭻ ﮈﺍﻻ ﮨﮯ ۔ﺍﺱ ﺁﺧﺮﺕ ﮐﮯ ﺍﺟﺮ ﮐﺜﻴﺮ ﮐﮯ ﻣﻘﺎﺑﻠﮧ ﻣﻴﮟ ﺟﻮ ﻓﻨﺎ ﮨﻮﻧﮯ ﻭﺍﻻ ﻧﮩﻴﮟ ﮨﮯ۔ﮨﻤﺎﺭﮮ ﻭﮦ ﺍﻳﻤﺎﻧﻲ ﺑﮭﺎﺋﻲ ﺟﻦ ﮐﺎ ﺧﻮﻥ ﺻﻔﻴﻦ ﮐﮯ ﻣﻴﺪﺍﻥ ﻣﻴﮟ ﺑﮩﺎﺩﻳﺎ ﮔﻴﺎ ﺍﻥ ﮐﺎ ﮐﻴﺎ ﻧﻘﺼﺎﻥ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ ﺍﮔﺮ ﻭﮦ ﺁﺝ ﺯﻧﺪﮦ ﻧﮩﻴﮟ ﮨﻴﮟ ﮐﮧ ﺩﻧﻴﺎ ﮐﮯ ﻣﺼﺎﺋﺐ ﮐﮯ ﮔﮭﻮﻧﭧ ﭘﺌﻴﮟ ﺍﻭﺭ ﮔﻨﺪﮮ ﭘﺎﻧﻲ ﭘﺮ ﮔﺰﺍﺭﺍ ﮐﺮﻳﮟ۔ﻭﮦ ﺧﺪﺍ ﮐﻲ ﺑﺎﺭﮔﺎﮦ ﻣﻴﮟ ﺣﺎﺿﺮ ﮨﻮﮔﺌﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﻧﮩﻴﮟ ﺍﻥ ﮐﺎﻣﮑﻤﻞ ﺍﺟﺮ ﻣﻞ ﮔﻴﺎ۔ﻣﺎﻟﮏ ﻧﮯ ﺍﻧﮩﻴﮟ ﺧﻮﻑ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺍﻣﻦ ﮐﻲ ﻣﻨﺰﻝ ﻣﻴﮟ ﻭﺍﺭﺩ ﮐﺮﺩﻳﺎ ﮨﮯ۔ﮐﮩﺎ ﮨﻴﮟ ﻣﻴﺮﮮ ﻭﮦ ﺑﮭﺎﺋﻲ ﺟﻮ ﺳﻴﺪﮬﮯ ﺭﺍﺳﺘﮧ ﭘﺮ ﭼﻠﮯ ﺍﻭﺭ ﺣﻖ ﮐﻲ ﺭﺍﮦ ﭘﺮ ﻟﮕﮯ ﺭﮨﮯ۔ﮐﮩﺎﮞ ﮨﻴﮟ ﻋﻤﺎﺭ ؟ ﮐﮩﺎﮞ ﮨﻴﮟ ﺍﺑﻦ ﺍﻟﺘﻴﮩﺎﻥ ؟۔ﮐﮩﺎﮞ ﮨﻴﮟ ﺫﻭﺍﻟﺸﮩﺎﺩﺗﻴﻦ؟ ﮐﮩﺎﮞ ﮨﻴﮟ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺟﻴﺴﮯ ﺍﻳﻤﺎﻧﻲ ﺑﮭﺎﺋﻲ ﺟﻨﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﻣﻮﺕ ﮐﺎ ﻋﮩﺪﻭ ﭘﻴﻤﺎﻥ ﺑﺎﻧﺪﮪ ﻟﻴﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺟﻦ ﮐﮯ ﺳﺮ ﻓﺎﺟﺮﻭﮞ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺑﮭﻴﺞ ﺩﺋﻴﮯ ﮔﺌﮯ۔
(ﻳﮧ ﮐﮩﮧ ﮐﺮ ﺁﭖ ﻧﮯ ﻣﺤﺎﺳﻦ ﺷﺮﻳﻒ ﭘﺮ ﮨﺎﺗﮫ ﺭﮐﮭﺎ ﺍﻭﺭﺗﺎﺩﻳﺮ ﮔﺮﻳﮧ ﻓﺮﻣﺎﺗﮯ ﺭﮨﮯ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻓﺮﻣﺎﻳﺎ :)
ﺁﮦ ! ﻣﻴﺮﮮ ﺍﻥ ﺑﮭﺎﺋﻴﻮﮞ ﭘﺮ ﺟﻨﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﻗﺮﺁﻥ ﮐﻲ ﺗﻼﻭﺕ ﮐﻲ ﺗﻮ ﺍﺳﮯ ﻣﺴﺘﺤﮑﻢ ﮐﻴﺎ ﺍﻭﺭ ﻓﺮﺍﺋﺾ ﭘﺮ ﻏﻮﺭﻭ ﻓﮑﺮ ﮐﻴﺎ ﺗﻮ ﺍﻧﮩﻴﮟ ﻗﺎﺋﻢ ﮐﻴﺎ ۔ﺳﻨﺘﻮﮞ ﮐﻮ ﺯﻧﺪﮦ ﮐﻴﺎ ﺍﻭﺭ ﺑﺪﻋﺘﻮﮞ ﮐﻮ ﻣﺮﺩﮦ ﺑﻨﺎﻳﺎ۔ ﺍﻧﮩﻴﮟ ﺟﮩﺎﺩ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺑﻼﻳﺎ ﮔﻴﺎ ﺗﻮ ﻟﺒﻴﮏ ﮐﮩﻲ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﮯ ﻗﺎﺋﺪ ﭘﺮ ﺍﻋﺘﻤﺎﺩ ﮐﻴﺎ ﺗﻮﺍﺱ ﮐﺎ ﺍﺗﺒﺎﻉ ﺑﮭﻲ ﮐﻴﺎ۔
(ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺑﻠﻨﺪ ﺁﻭﺍﺯﺳﮯ ﭘﮑﺎﺭ ﮐﺮ ﻓﺮﻣﺎﻳﺎ)
ﺟﮩﺎﺩ ,ﺟﮩﺎﺩ , ﺍﮮ ﺑﻨﺪﮔﺎﻥ ﺧﺪﺍ! ﺁﮔﺎﮦ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﻮ ﮐﮧ ﻣﻴﮟ ﺁﺝ ﺍﭘﻨﻲ ﻓﻮﺝ ﺗﻴﺎﺭ ﮐﺮ ﺭﮨﺎ ﮨﻮﮞ ﺍﮔﺮ ﮐﻮﺋﻲ ﺧﺪﺍ ﮐﻲ ﺑﺎﺭﮔﺎﮦ ﮐﻲ ﻃﺮﻑ ﺟﺎﻧﺎ ﭼﺎﮨﺘﺎ ﮨﮯ ﺗﻮ ﻧﮑﻠﻨﮯ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺗﻴﺎﺭ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﮯ ۔
ﻧﻮﻑ ﮐﺎ ﺑﻴﺎﻥ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺣﻀﺮﺕ ﻧﮯ ﺩﺱ ﮨﺰﺍﺭ ﮐﺎ ﻟﺸﮑﺮ ﺍﻣﺎﻡ ﺣﺴﻴﻦ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ۔ﺩﺱ ﮨﺰﺍﺭ ﻗﻴﺲ ﺑﻦ ﺳﻌﺪ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ۔ﺩﺱ ﮨﺰﺍﺭ ﺍﺑﻮ ﺍﻳﻮﺏ ﺍﻧﺼﺎﺭﻱ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺍﻭﺭﺍﺳﻲ ﻃﺮﺡ ﻣﺨﺘﻠﻒ ﺗﻌﺪﺍﺩ ﻣﻴﮟ ﻣﺨﺘﻠﻒ ﺍﻓﺮﺍﺩ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺗﻴﺎﺭ ﮐﻴﺎ ﺍﻭﺭ ﺁﭖ ﮐﺎ ﻣﻘﺼﺪ ﺩﻭﺑﺎﺭﮦ ﺻﻔﻴﻦ ﮐﻲ ﻃﺮﻑ ﮐﻮﭺ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﺁﺋﻨﺪﮦ ﺟﻤﻌﮧ ﺁﻧﮯ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﮨﻲ ﺁﭖ ﮐﻮ ﺍﺑﻦ ﻣﻠﺠﻢ ﻧﮯ ﺯﺧﻤﻲ ﮐﺮﺩﻳﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﺳﺎﺭﺍ ﻟﺸﮑﺮ ﭘﻠﭧ ﮔﻴﺎ ﺍﻭﺭ ﮨﻢ ﺳﺐ ﺍﻥ ﭼﻮﭘﺎﻳﻮﮞ ﮐﮯ ﻣﺎﻧﻨﺪ ﮨﻮﮔﺌﮯ ﺟﻦ ﮐﺎ ﺭﮐﮭﻮﺍﻻ ﮔﻢ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﻧﮩﻴﮟ ﭼﺎﺭﻭﮞ ﻃﺮﻑ ﺳﮯ ﺑﮭﻴﮍﺋﻴﮯ ﺍﭼﮏ ﻟﻴﻨﮯ ﮐﻲ ﻓﮑﺮﻣﻴﮟ ﮨﻮ۔

19/09/2024

صحیح بخاری
کتاب: جہاد اور سیرت رسول اللہ ﷺ
باب: باب: اللہ کے راستے میں جن لوگوں پر گرد پڑی ہو ان کی گرد پونچھنا۔
حدیث نمبر: 2812

حدیث نمبر: 2812
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عِكْرِمَةَ ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ قَالَ لَهُ، ‏‏‏‏‏‏وَلِعَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ:‏‏‏‏ ائْتِيَا أَبَا سَعِيدٍ فَاسْمَعَا مِنْ حَدِيثِهِ فَأَتَيْنَاهُ، ‏‏‏‏‏‏وَهُوَ وَأَخُوهُ فِي حَائِطٍ لَهُمَا يَسْقِيَانِهِ فَلَمَّا رَآنَا جَاءَ فَاحْتَبَى وَجَلَسَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ كُنَّا نَنْقُلُ لَبِنَ الْمَسْجِدِ لَبِنَةً لَبِنَةً، ‏‏‏‏‏‏وَكَانَ عَمَّارٌ يَنْقُلُ لَبِنَتَيْنِ لَبِنَتَيْنِ، ‏‏‏‏‏‏فمر بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏وَمَسَحَ عَنْ رَأْسِهِ الْغُبَارَ، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَ:‏‏‏‏ وَيْحَ عَمَّارٍ تَقْتُلُهُ الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ عَمَّارٌ يَدْعُوهُمْ إِلَى اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏وَيَدْعُونَهُ إِلَى النَّارِ.

ترجمہ:
ہم سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا ‘ کہا ہم کو عبدالوہاب ثقفی نے خبر دی ‘ کہا ہم سے خالد نے بیان کیا عکرمہ سے کہ ابن عباس ؓ نے ان سے اور (اپنے صاحبزادے) علی بن عبداللہ سے فرمایا تم دونوں ابو سعید خدری ؓ کی خدمت میں جاؤ اور ان سے احادیث نبوی سنو۔ چناچہ ہم حاضر ہوئے ‘ اس وقت ابوسعید ؓ اپنے (رضاعی) بھائی کے ساتھ باغ میں تھے اور باغ کو پانی دے رہے تھے ‘ جب آپ نے ہمیں دیکھا تو (ہمارے پاس) تشریف لائے اور (چادر اوڑھ کر) گوٹ مار کر بیٹھ گئے ‘ اس کے بعد بیان فرمایا ہم مسجد نبوی کی اینٹیں (ہجرت نبوی کے بعد تعمیر مسجد کیلئے) ایک ایک کر کے ڈھو رہے تھے لیکن عمار ؓ دو دو اینٹیں لا رہے تھے ‘ اتنے میں نبی کریم ﷺ ادھر سے گزرے اور ان کے سر سے غبار کو صاف کیا پھر فرمایا افسوس! عمار کو ایک باغی جماعت مارے گی ‘ یہ تو انہیں اللہ کی (اطاعت کی) طرف دعوت دے رہا ہوگا لیکن وہ اسے جہنم کی طرف بلا رہے ہوں گے۔

07/09/2024

القرآن - سورۃ نمبر 17 الإسراء
آیت نمبر 23

أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَقَضٰى رَبُّكَ اَلَّا تَعۡبُدُوۡۤا اِلَّاۤ اِيَّاهُ وَبِالۡوَالِدَيۡنِ اِحۡسَانًا‌ ؕ اِمَّا يَـبۡلُغَنَّ عِنۡدَكَ الۡكِبَرَ اَحَدُهُمَاۤ اَوۡ كِلٰهُمَا فَلَا تَقُلْ لَّهُمَاۤ اُفٍّ وَّلَا تَنۡهَرۡهُمَا وَقُلْ لَّهُمَا قَوۡلًا كَرِيۡمًا‏ ۞

ترجمہ:
اور آپ کے پروردگار نے فیصلہ کر دیا ہے کہ تم اس کے سوا اور کسی کی عبادت نہ کرو اور ماں باپ کے ساتھ بھلائی کرو اگر تمہارے پاس ان میں سے ایک یا دونوں بڑھاپے تک پہنچ جائیں تو انہیں اف تک نہ کہو اور نہ انہیں جھڑکو۔ اور ان سے احترام کے ساتھ بات کرو۔

18/08/2024

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِذَا لَقِیۡتُمُ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا زَحۡفًا فَلَا تُوَلُّوۡہُمُ الۡاَدۡبَارَ ﴿ۚ۱۵﴾۱۵۔اے ایمان والو! جب میدان جنگ میں کافروں سے تمہارا سامنا ہو جائے تو ان سے پیٹھ نہ پھیرنا ۔
وَ مَنۡ یُّوَلِّہِمۡ یَوۡمَئِذٍ دُبُرَہٗۤ اِلَّا مُتَحَرِّفًا لِّقِتَالٍ اَوۡ مُتَحَیِّزًا اِلٰی فِئَۃٍ فَقَدۡ بَآءَ بِغَضَبٍ مِّنَ اللّٰہِ وَ مَاۡوٰىہُ جَہَنَّمُ ؕ وَ بِئۡسَ الۡمَصِیۡرُ﴿۱۶﴾۱۶۔اور جس نے اس روز اپنی پیٹھ پھیری مگر یہ کہ جنگی چال کے طور پر ہو یا کسی فوجی دستے سے جا ملنے کے لیے تو (کوئی حرج نہیں ورنہ) وہ اللہ کے غضب میں گرفتار ہو گیا اور اس کا ٹھکانا جہنم ہو گا اور وہ بہت بری جگہ ہے۔
تشریح کلمات
زَحۡفًا:(ز ح ف) زحف۔ اصل میں چھوٹے بچوں کے پاؤں گھسیٹ گھسیٹ کر چلنے کے معنوں میں ہے۔ لشکر بھی ہجوم کی وجہ سے آہستہ گھسٹ گھسٹ کر آگے بڑھتا ہے۔
مُتَحَرِّفًا:التحریف (ح ر ف) کنارہ کشی کرنا۔ ایک طرف ہٹ کر کمین گاہ میں بیٹھنا۔
مُتَحَیِّزًا:حیز (ح ی ز) جگہ بنانا۔ ٹھکانا تلاش کرنا۔
تفسیرآیات
۱۔ فَلَا تُوَلُّوۡہُمُ الۡاَدۡبَارَ: جنگ کے میدان سے اپنی جان بچانے کے لیے فرارہونا، دنیا کے حربی قانون میں بہت بڑا جرم ہے۔ اسلامی جنگوں میں دو خصوصیات اور ہوتی ہیں جو باقی جنگوں میں نہیں ہے:

اول یہ کہ اسلامی جنگیں دفاعی ہوتی ہیں ، جارحانہ نہیں ہوتیں۔ لہٰذا ایسی جنگ سے فرار ہونا دفاع وطن، دفاع ناموس اور دفاع مذہب یعنی اللہ کو پشت دکھانے کے مترادف ہوتاہے۔

دوسری یہ کہ اسلامی جنگیں نظریاتی ہوتی ہیں ، جس کے تحت مؤمن اِحدی الحُسنَیَیْن دو نیکیوں میں سے ایک، فتح یا شہادت کا متمنی ہوتا ہے۔ یہ دونوں قابل رشک ہیں۔ فرار کا مطلب یہ نکلتا ہے کہ ان چیزوں پر اس کا ایمان نہیں ہے۔ اس کا فتح سے سروکار ہے نہ شہادت سے کوئی مطلب ہے۔ اس لیے میدان جنگ سے فرار ہونے والا اللہ کے غضب اور جہنم کا سزاوار ہے۔ دو صورتیں فرار کی جائز ہیں جو بظاہر فرار ہے، حقیقتاً فرار نہیں ہے اور وہ یہ ہیں :

الف: پہلی صورت: مُتَحَرِّفًا لِّقِتَالٍ جنگی چال اور حربی حکمت عملی کے طور پر وقتی پسپائی اختیار کرنا۔ تاکہ دشمن کو نرغے میں لیا جا سکے۔

ب: دوسری صورت میں مُتَحَیِّزًا اِلٰی فِئَۃٍ: فوجی دستے سے جا ملنے کے لیے اگر لڑنے والے منتشر ہو جائیں تو اپنے دستے سے جا ملنے کے لیے واپس آنا فرار نہیں ہے۔یہ دونوں جنگی حکمت عملی کا حصہ ہیں۔

نہایت ناانصافی کرتے ہیں وہ لوگ جو فرار از جنگ کی حرمت کو صرف جنگ بدر کے ساتھ مخصوص گردانتے ہیں اور اس آیت میں یَوۡمَئِذٍ سے مراد یوم الزحف ہے، نہ یوم بدر۔ کیونکہ جنگ بدر میں اول تو کسی نے فرار نہیں کیا۔ ثانیاً یہ سورہ جنگ بدر کے بعد نازل ہوا۔ ثالثاً اعتبار لفظ کے عموم کا کیا جاتا ہے، نہ سبب کے خصوص کا۔ رابعاً احادیث بھی ہمارے موقف کی تائید میں ہیں۔

رسول کریمؐ سے روایت ہے کہ تین گناہ ایسے ہیں کہ ان کے ساتھ نیکی کا کوئی فائدہ نہیں : ایک شرک، دوسرا والدین کا حق ادا نہ کرنا اور تیسرا جہاد فی سبیل اللّٰہ سے فرار۔

دیگر احادیث میں فرار از جنگ سات ایسے گناہوں میں شمار کیا گیا ہے جن کا ارتکاب کرنے والا تباہ و ہلاک ہو جاتا ہے۔ ملاحظہ ہو وسائل الشیعہ۔ ۱۵:۳۳۰۔ صحیح بخاری کتاب الوصایا۔

اہم نکات
۱۔ اسلامی نظریاتی دفاعی جہاد میں میدان جنگ سے فرار گناہ ہے: فَلَا تُوَلُّوۡہُمُ الۡاَدۡبَارَ۔۔۔۔

۲۔ حربی حکمت عملی کے تحت وقتی طور پر پسپائی جائز ہے: اِلَّا مُتَحَرِّفًا۔۔۔۔

۳۔ اسلامی جہاد سے فرار انسان کو جہنمی بناتا ہے: فَقَدۡ بَآءَ بِغَضَبٍ مِّنَ اللّٰہِ وَ مَاۡوٰىہُ جَہَنَّمُ۔۔۔۔

۴۔ یہ حکم ایک قانون کلی ہے، بدر سے مختص نہیں۔

الکوثر فی تفسیر القرآن: جلد 3، صفحہ 367

17/08/2024

ہم کو نہ مل سکا تو فقط اک سکون دل
اے زندگی وگرنہ زمانے میں کیا نہ تھا

25/07/2024

سورج مریم آیت 71 اور 72

وَ اِنۡ مِّنۡکُمۡ اِلَّا وَارِدُہَا ۚ کَانَ عَلٰی رَبِّکَ حَتۡمًا مَّقۡضِیًّا ﴿ۚ۷۱﴾۷۱۔
اور تم میں سے کوئی ایسا نہیں ہو گا جو جہنم پر وارد نہ ہو، یہ حتمی فیصلہ آپ کے رب کے ذمے ہے۔
ثُمَّ نُنَجِّی الَّذِیۡنَ اتَّقَوۡا وَّ نَذَرُ الظّٰلِمِیۡنَ فِیۡہَا جِثِیًّا﴿۷۲﴾۷۲۔
پھر اہل تقویٰ کو نجات دیں گے اور ظالموں کو اس میں گھٹنوں کے بل پڑا چھوڑ دیں گے۔
تشریح کلمات
وَارِدُہَا:(و ر د) الورود پانی کا قصد کرنا۔ پانی پر پہنچنے والے کو وارد کہتے ہیں۔
تفسیر آیات
تمام مکلف انسانوں کو ایک مرتبہ جہنم میں وارد ہونا ہے۔ اس مطلب کو نہایت تاکیدی لفظوں کے ساتھ بیان فرمایا: کَانَ عَلٰی رَبِّکَ آپ کے رب کے ذمے ہے۔ یہ بات اللہ پر لازم اور واجب ہے۔ اللہ پر کوئی اور لازم اور واجب نہیں کر سکتا بلکہ خود اللہ اپنے اوپر لازم کر فرماتا ہے۔ جیسا کہ کَتَبَ رَبُّکُمۡ عَلٰی نَفۡسِہِ الرَّحۡمَۃَ۔۔۔۔ (۶ انعام:۵۴) تمہارے رب نے رحمت کو اپنے اوپر لازم قرار دیا۔ اس طرح تمام انسانوں کو ایک مرتبہ آتش جہنم میں وارد کرنا مشیت الٰہی میں واجب ہے۔

حَتۡمًا: واجب اور لازمی شیٔ کو حتمی کہتے ہیں۔ لسان العرب میں آیا ہے: حتمت علیہ الشیٔ اوجبتہ۔ میں نے اس پر حتمی یعنی واجب کر دیا۔ مَّقْضِيًّا فیصلہ شدہ ہے جس میں تبدیلی ممکن نہیں ہے۔ جیسے وَ قَضٰی رَبُّکَ اَلَّا تَعۡبُدُوۡۤا اِلَّاۤ اِیَّاہُ۔۔۔۔۔ (۱۷ بنی اسرائیل:۲۳) اور آپ کے پروردگار نے فیصلہ کر دیا ہے کہ تم اس کے سوا کسی کی بندگی نہ کرو۔

۱۔ یہاں خطاب تمام مکلف انسانوں سے ہے خواہ مؤمن ہوں یا کافر۔ اس پر دلیل بعد کی آیت ہے جس میں فرمایا : ثُمَّ نُنَجِّی الَّذِیۡنَ اتَّقَوۡا پھر ہم تقویٰ والوں کو نجات دیں گے۔ وَّ نَذَرُ الظّٰلِمِیۡنَ اور ظالموں کو اس میں چھوڑ دیں گے۔

۲۔ کیا وَارِدُہَا میں ورود، حضور کے معنوں میں ہے یا داخل ہونے کے معنوں میں؟ کیونکہ یہ لفظ اگرچہ لغت میں پانی کا قصد کرنے اور پانی پر پہنچنے کے معنوں میں ہے جیسا کہ اس آیت میں ہے:وَ لَمَّا وَرَدَ مَآءَ مَدۡیَنَ (۲۸ قصص:۲۳) جب مدین کے پانی پر پہنچے، لیکن اس لفظ کا استعمال داخل ہونے کے معنوں میں بھی ہوا ہے جیسا کہ قرآن میں آیا ہے:

اِنَّکُمۡ وَ مَا تَعۡبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ حَصَبُ جَہَنَّمَ ؕ اَنۡتُمۡ لَہَا وٰرِدُوۡنَ (۲۱ انبیاء:۹۸)بتحقیق تم اور تمہارے وہ معبود جنہیں تم اللہ کو چھوڑ کر پوجتے تھے جہنم کاایندھن ہیں جہاں تمہیں داخل ہونا ہے۔
ان دونوں معنوں میں استعمال کی وجہ سے یہاں یہ مسئلہ پیدا ہوا کہ وَارِدُہَا میں وارد کے معنی حضور کے ہیں یا داخل ہونے کے ہیں۔ کیا مؤمن و غیر مؤمن سب جہنم میں داخل ہو جائیں گے پھر مؤمنین کو نجات ملے گی یا ان سب کو جہنم کے پاس حاضر کیا جائے گا۔

پہلے نظریہ پر تین دلیلیں قائم کی جاتی ہیں:

اول: قرآن میں وارد داخل کے معنوں میں استعمال ہوا ہے۔

دوم: یہ کہ ثُمَّ نُنَجِّی الَّذِیۡنَ اتَّقَوۡا پھر ہم تقویٰ والوں کو نجات دیں گے قرینہ ہے کیونکہ داخل نہ ہوئے ہوں تو نجات کس چیز سے۔

سوم: اس سلسلے میں وارد احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ یہاں داخل ہونا مراد ہے۔

اس نظریہ پر یہ سوال آتا ہے کہ مؤمن جہنم میں کس لیے جائے گا؟

جواب دیتے ہیں: مؤمن کے لیے آتش جہنم گلزار بن جائے گی جیسے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے لیے آتش نمرود گلزار بن گئی تھی۔

دوسرا جواب یہ بھی دیتے ہیں: جہنم میں بعض مقامات ایسے بھی ہیں جہاں آتش باعث عذاب نہیں ہوتی۔ خود جہنم کے زبائن (کارندے) جہنم میں ہوتے ہیں لیکن ان کو عذاب نہیں ہوتا۔

تیسرا جواب اس صورت میں دیتے ہیں کہ مؤمن کا جسم آتش جہنم کو قبول نہیں کرتا جب کہ کافر کا جسم جہنم کے لیے ایندھن بنتا ہے۔

اس سوال کے جوابات سے معلوم ہوا کہ اس نظریے کو قبول کرنے میں تکلف کرنا پڑ رہا ہے۔

دوسرے نظریے پر یہ دلائل قائم کرتے ہیں:

i۔ وارد کے لغوی معنی حضور کے ہیں۔ لفظ جب قرینہ کے بغیر استعمال ہوتا ہے تو لغوی معنی مراد لیا جاتا ہے۔ ثُمَّ نُنَجِّی الَّذِیۡنَ اتَّقَوۡا قرینہ نہیں بنتا کیونکہ نجات، آتش جہنم میں داخل ہونے پر موقوف نہیں۔’’آتش میں داخل ہونے سے نجات‘‘ مراد لی جا سکتا ہے۔

ii۔ قرآن میں مؤمن کے بارے میں آیا ہے۔

اُولٰٓئِکَ عَنۡہَا مُبۡعَدُوۡنَ لَا یَسۡمَعُوۡنَ حَسِیۡسَہَاـ۔۔۔۔ (۲۱ انبیاء:۱۰۱۔۱۰۲)وہ اس آتش سے دور ہوں گے جہاں وہ اس کی آہٹ تک نہ سنیں گے۔
iii۔ وہ روایات جو انسان کو صراط سے گزارنے کے بارے میں کثرت سے آئی ہیں، اس پر دلیل بنتی ہیں کہ وارد سے مراد حضور ہے اور ممکن ہے اس آیت کو ہم صراط پر تطبیق کریں۔

iv۔ دیگر متعدد روایات میں آیا ہے کہ مؤمن کو جنت میں داخل کرنے سے پہلے جہنم کے پاس ضرور لے جایا جائے گا تاکہ جنت کی نعمتوں کی قدر کرے۔ اسی طرح جہنمی کو جنت کے پاس سے گزارا جائے گا۔

اہم نکات
۱۔ ہر مکلف کو قریب سے جہنم کا مشاہدہ کرایا جائے گا۔

۲۔ یہ بات مصلحت الٰہی کے تحت حتمی فیصلہ ہے۔

الکوثر فی تفسیر القرآن: جلد 5، صفحہ 136

Address

Lahore

Telephone

+923028174751

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Nazria Zaroorat posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Establishment

Send a message to Nazria Zaroorat:

Share

Category