Dr.Asar Rao

Dr.Asar Rao Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Dr.Asar Rao, Poet, Lahore.

And The Fighters Fight Till The End 🔥

✨ Radiologist ✨

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جہاں سچ کی کڑواہٹ ، حقیقت ، یادیں اور کہیں کونے میں چند قہقہے ایک ہی پیالے میں چائے کی طرح پکتے ہیں🔥🙋🏻‍♂️

22/07/2025

"چالیس کے بعد ماں کے قدموں کی تھکن… سمجھنے کی ضرورت ہے!"

ماں صرف ایک رشتہ نہیں، ایک مکمل کائنات ہے۔ وہ جو زندگی کے ہر موڑ پر ہمارے لیے سایہ بن کر کھڑی رہی، وہ جو اپنی نیند، سکون، حتیٰ کہ صحت تک قربان کر کے ہمیں پروان چڑھاتی رہی اُس ماں کے جسم میں جب چالیس کے پیچھے کی دہلیز پر ہارمونی تبدیلیاں آتی ہیں، تو ہم میں سے اکثر بچے لاعلمی کے باعث اُن کی کیفیت کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔اور جب ماں کہتی ہے "ذرا ٹانگیں دبا دو" تو ہم موبائل یوز کرتے ہوئے چڑ کر بولتے ہیں "اوفو امی! میں نہیں ، مجھے کام ہے"
ماں بیچاری خاموش ہو جاتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

عمر کی ایک قدرتی تبدیلی (Menopause)

چالیس سے پچاس سال کے درمیان خواتین ایک فطری مرحلے سے گزرتی ہیں جسے "مینوپاز" کہا جاتا ہے۔ یہ وہ وقت ہوتا ہے جب عورت کی ریپروڈکٹو عمر ختم ہونے لگتی ہے اور پیریڈز(Menses) کا سلسلہ بند ہو جاتا ہے۔ اس مرحلے پر جسم میں موجود ایک اہم مادہ، ایسٹروجن (Estrogen)، کی مقدار خاص طور پر کم ہونے لگتی ہے۔ ایسٹروجن نہ صرف reproductive system بلکہ دل، دماغ، ہڈیوں، پٹھوں اور اعصابی نظام پر بھی اثر انداز ہوتا ہے۔

ہارمونل تبدیلیوں کے اثرات:


1.ٹانگوں کی بےچینی
Restless Legs Syndrome (RLS)

یہ ایک نیورولوجیکل مسئلہ ہے جو خواتین میں خاص طور پر مینوپاز کے دوران عام ہو جاتا ہے۔

ایسٹروجن کی کمی دماغ میں ڈوپامین (Dopamine) کی سطح کو متاثر کرتی ہے، جو اعصاب کی کارکردگی میں خلل ڈالتی ہے۔

نتیجتاً، رات کو سوتے وقت یا آرام کی حالت میں ٹانگوں میں کھچاؤ، جھنجھناہٹ، یا مسلسل حرکت کرنے کی خواہش پیدا ہوتی ہے۔

خواتین کو سکون سے لیٹنا مشکل ہو جاتا ہے اور نیند متاثر ہوتی ہے۔

2. ہڈیوں اور عضلات کی کمزوری:

ایسٹروجن کی کمی سے ہڈیوں کی کثافت (Bone Density) کم ہونے لگتی ہے جس سے ٹانگوں اور کمر میں درد ہوتا ہے۔

پٹھے کمزور ہو جاتے ہیں اور تھوڑا سا چلنا یا کھڑے ہونا بھی تھکن کا باعث بنتا ہے۔
تبھی ہم اکثر اپنی ماؤں کے منہ سے سنتے ہیں "افف ذرا سا چلنے سے میرا تو سانس پھول گیا یا میں تو دو قدم چلنے سے تھک گئی"

3. خون کی روانی میں رکاوٹ:

ایسٹروجن دل اور خون کی نالیوں کو محفوظ رکھتا ہے۔ اس کی کمی سے خون کی روانی متاثر ہوتی ہے، خاص طور پر ٹانگوں میں۔

نتیجتاً، ٹانگوں میں بھاری پن، سن ہونا (numbness) یا بےچینی محسوس ہوتی ہے۔

4. نیند اور مزاج کی تبدیلی:

نیند کی خرابی، چڑچڑاپن، بےچینی، ذہنی دباؤ اور کبھی کبھی ڈپریشن یہ سب بھی مینوپاز کے اثرات ہوتے ہیں۔

جب نیند مکمل نہ ہو، جسمانی تھکن بڑھ جائے اور کوئی بات سمجھی نہ جائے، تو عورت مزید تنہائی محسوس کرنے لگتی ہے۔

اب ہماری زمہ داری ہے ماں کو سمجھنے کی۔۔۔۔۔۔۔

ہم جب ماں سے یہ سنتے ہیں کہ "بیٹا ذرا ٹانگیں دبا دو" تو ہمیں لگتا ہے کہ وہ ہمیں روک رہی ہیں، ہمارے وقت میں مداخلت کر رہی ہیں، یا صرف تھکن کا بہانہ کر رہی ہیں۔ لیکن دراصل وہ نہ تو شکایت کرتی ہیں، نہ تفصیل بیان کرتیں بس ایک اشارہ دیتی ہیں، ایک بےآواز فریاد کہ شاید اُن کی اولاد سمجھ جائے۔

ماں کا یہ کہنا:
"میرے پاؤں بھاری ہو رہے ہیں" یا "ٹانگوں میں بے چینی ہے"
درحقیقت ایک مکمل جسمانی اور اعصابی کیفیت کا نتیجہ ہے، جس کی جڑیں اُس کے بدلتے ہارمونی نظام میں چھپی ہوتی ہیں۔ وہ نہیں جانتیں کہ یہ مینوپاز ہے یا RLS، لیکن وہ محسوس کرتی ہیں کہ اُن کے پاؤں اُن کے نہیں رہے۔
اور اکثر بیٹیاں منہ بناتی ہیں کہ "امی کا تو روز کا ہو گیا ہے"
لیکن وہ یہ نہیں جانتیں کہ ایک عمر میں وہ بھی اس عمل سے گزریں گی تب شاید انکی اولاد بھی یہی کہے "امی کو تو عادت ہو گئی ہے"
اور بیٹوں سے تو پھر مائیں کیا امید رکھیں جب اکثر بیٹیاں ہی اس بات سے بے خبر ہوتی ہیں ۔۔۔۔۔۔۔

پیغام ہر بیٹے اور بیٹی کے نام

اگر آپ کی ماں چالیس کی عمر کو عبور کر چکی ہیں، تو اُن کے جسم میں آنے والی تبدیلیوں کو سمجھنے کی کوشش کریں۔
ماں کی باتوں کو صرف الفاظ کے طور پر نہ لیں، بلکہ اُس کے پس منظر میں چھپی جسمانی اذیت کو جانیں۔

جب ماں تھکی ہوئی ہو کر کہتی ہے:
"ذرا میری ٹانگیں دبا دو"
تو یہ ایک معمولی درخواست نہیں، بلکہ ایک طبی ضرورت ہے۔

یہ ہمارا فرض ہے کہ ہم:

اُن کے ساتھ ہمدردی سے پیش آئیں،

ان علامات پر توجہ دیں،

اُنہیں مکمل آرام اور محبت دیں،

ہم موبائل چلاتے ہوئے بھی اپنی ماؤں کی خدمت کر سکتے ہیں ۔۔۔۔۔
چونکہ اس طرح سے ہونے والی بے چینی کا حل مسلسل حرکت ہے تو ہم ایک ہاتھ سے موبائل یوز کرتے ہوئے دوسرے ہاتھ سے کچھ جنت کما سکتے ہیں ۔۔۔۔۔۔

آخری بات: ماں کے قدموں تلے جنت کیوں ہے؟

کیونکہ ماں اپنی ساری عمر جسمانی، ذہنی اور جذباتی قربانیاں دے کر اپنی اولاد کی جنت بناتی ہے۔
اب جب اُس کی اپنی ٹانگیں بوجھل ہوں، اعصاب تھکے ہوں، تو کیا ہماری انگلیوں کی چند ہلکی حرکتیں اُس کے درد کو کم نہیں کر سکتیں؟

آئیے! ماں کو صرف محبت کا حق نہ دیں، بلکہ سمجھنے کا حق بھی دیں۔
کیونکہ وہ کبھی نہیں کہے گی کہ وہ تکلیف میں ہے ، ہمیں خود محسوس کرنا ہو گا۔

~اثر

لے دے کے اپنے پاس فقط اک نظر تو ہےکیوں دیکھیں زندگی کو کسی کی نظر سے ہمساحر لدھیانوی
22/07/2025

لے دے کے اپنے پاس فقط اک نظر تو ہے
کیوں دیکھیں زندگی کو کسی کی نظر سے ہم

ساحر لدھیانوی

ہم جیسے بے سروں سے بھلا کیا سلوک ہو۔داؤد کــا خـــدا بــڑا ردھــم پــســند ہـــے💔
21/07/2025

ہم جیسے بے سروں سے بھلا کیا سلوک ہو۔
داؤد کــا خـــدا بــڑا ردھــم پــســند ہـــے💔

ذکر جہاں کہیں بھی پریوں کا ہوا ہے۔دل نے میرے،فقط تیرا ہی نام لیا ہے🙂
21/07/2025

ذکر جہاں کہیں بھی پریوں کا ہوا ہے۔
دل نے میرے،فقط تیرا ہی نام لیا ہے🙂

20/07/2025

مکافات مٹر پلاؤ

بندہ ناچیز نے پیدا ہوتے ہی ناشتہ نہ کرنے کی گھٹی لی تھی اپنے سب سے چھوٹے ماموں حضور کے ہاتھوں ۔۔۔۔۔۔۔
چونکہ ماموں شروع ہی سے ناشتہ نہ کرنے کے لیے مشہور تھے اس لیے انکے ہاتھ سے لی گئی گھٹی کا اثر انکے بھانجے میں بھی زور شور سے کود پڑا۔

ہماری اماں حضور ، بھائی کی محبت میں مجبور انھیں انکے لخت جگر کو گھٹی دینے سے منع تو نہیں کر پائیں مگر جب گھٹی کے اخیر اثرات نمایاں ہوئے تو روز صبح سر پکڑ کر اپنے بھائی کو دہائی دیتیں ۔۔۔۔۔۔۔۔
"میں ہی پاگل تھی جو عمران کو ہاتھوں اسے گھٹی دلوا دی ، دیکھ لو اب یہ بے شرم بھی ناشتہ نہیں کرتا"

ایک طرف ہماری والدہ انکے لاڈلے بیٹے کے صبح کا ناشتہ نہ کرنے کو لے کر فکر مند تھیں جبکہ دوسری جانب ہمارا ماما حضور اپنے بھانجے کی اس فرمانبرداری سے خاصے خوش نظر آتے تھے ۔۔۔۔۔۔۔

گھر والے ہاتھ میں ناشتہ اٹھائے ہمارے پیچھے بھاگتے تھے مگر گھٹی کا اثر غالب آ جاتا تھا ۔۔۔۔۔۔
سب کی لاکھ کوشش کے باوجود ہم اپنے ماموں جان کی دی گئی گھٹی کی لاج رکھتے ہوئے ایک کپ چائے کا گٹک کر سکول روانہ ہو جاتے تھے۔اور پھر سکول کی چھٹی ہونے پر گھر آ کر 2:30 پر ہی کھانا اپنے حلق سے نیچے تناول فرماتے تھے ۔۔۔۔۔۔۔

اب والدین تو پھر والدین ہی ہوتے ہیں ، ابو سکول کے گیٹ پر امی سے چھپ کر ایکسٹرا پاکٹ منی دیتے تھے کہ لو ایک سموسے سے پیٹ نہیں بھرے گا پوتر تو دو کھائیں ۔۔۔۔۔۔

امی اس راز سے بے خبر زبردستی میرے بیگ میں لنچ پیک کر دیتی تھی جو میں دو سموسے ٹھونسنے کے بعد صرف ایک دو نوالہ ہی کھا پاتا تھا ۔۔۔۔۔۔
لنچ نہ کھانے پر امی خاصی پریشان ہوتی تھیں کہ انکا لاڈلا پتر پہلے ای کمزور ہے اور اوپر سے ناشتہ نہیں کرتا ۔۔۔۔۔

یہ کلاس تھری کی بات ہے جب امی ہماری شکایت لے کر سکول پہنچ گئیں ۔۔۔۔۔۔۔
کلاس ٹیچر سے شکایت کی اور کہا کہ اس نمونے کو بریک ٹائم آپ اپنی نگرانی میں لنچ ٹھونسوا دیا کریں مجھے ٹینشن ہوتی ہے ۔۔۔۔۔🤧

کلاس ٹیچر جو بندہ ناچیز کی پہلا کرش میرا مطلب فیورٹ ٹیچر تھی انھوں نے مکمل یقین دلایا کہ عماز کو لنچ کروانا انکی ذمہ داری ہے آپ بے فکر ہو جائیں آج سے ہی لنچ خالی ڈبہ گھر آئے گا🫣

والدہ نے خوشی خوشی گھر کی راہ لی اور جیسے ہی بریک کی گھنٹی بجی ، ٹیچر صاحبہ لنچ سمیت مجھے آفس لے گئیں اور لنچ تناول فرمانے کا کہہ دیا ۔۔۔۔۔۔
ہم بیچارے جسے 2:30 سے پہلے گھر کے کھانے کی بھوک لگتی ہی نہیں تھی لنچ باکس کھول کر دیکھنے سے ہی جی بھر گیا ۔۔۔۔۔۔

چھوٹے بچے نے ہلکا سا احتجاج کیا مگر ٹیچر نے گال پر ایک عدد ستارہ بنانے اور دوسرے گال پر ایک عدد پیار دینے کا لالچ دے کر کھانے کو کہا ۔۔۔۔۔۔۔
اب سودا وارے کا تھا اس لیے ہم نے لنچ باکس میں رکھے مٹر پلاؤ کی پہلی چمچ ٹھونسی تو کچھ اچھے لگے پھر دوسری چمچ پھر تیسری اور اس طرح آدھے چاول(مٹر پلاؤ) کھا کر ڈکار لیا ۔۔۔۔۔۔
(کچھ جگہ دو سموسوں کے لیے بچا لی تھی)

ٹیچر صاحبہ نے حوصلہ افزائی کرتے ہوئے آدھے پر ہی پورا انعام عنایت فرمایا جس پر وہ چھوٹا بچہ کچھ شرما سا گیا۔
مگر مسئلہ اب گھر خالی ڈبہ دینے کے وعدے کو لے کر تھا جو ٹیچر نے امی سے کیا تھا ۔۔۔۔۔۔

ٹیچر جی آپ کھا لیں ۔۔۔۔۔۔۔
"نہیں عماز میں گھر سے ناشتہ کر کے آئی ہوں"
"اچھا تھوڑے سے چیک کر لیں" (بچے نے اصرار کیا)
"اچھا چلو دکھاؤ ادھر چمچ" 🫠

پہلی ہی چمچ میں ٹیچر صاحبہ کی آنکھیں اس طرح حیرت سے کھلی اور ایک لمبا ہمممممممم
"کتنے مزے دار مٹر پلاؤ ہے عماز ۔۔۔۔۔۔ آنٹی کے ہاتھ میں بہت ذائقہ ہے ماشاءاللہ"

دیکھتے ہی دیکھتے مس ۔۔۔۔۔۔۔ نے جو خالی ڈبہ گھر بھیجنے کا وعدہ کیا تھا وہ وفا کیا اور بقیہ آدھا ٹائم بس مٹر پلاؤ کی تعریف میں گزرا ۔۔۔۔۔۔
گھر پہنچا تو خالی ڈبہ دیکھ گھر میں عید کا سماں تھا سب لوگ خوش تھے لیکن ابو مجھے بیٹھک (سرائے/مہمان خانہ) میں لے جا کر پوچھنے لگے "اج پیسے کہیں گما دیے کیا ؟"

میں نے سینا بھرتے ہوئے کہا "ابو چیز بھی کھائی اور لنچ بھی"
یہ سن کر ابو بھی کافی خوش ہوئے ۔۔۔۔۔۔۔
خیر اگلے دن پراٹھا اور آملیٹ پیک کر دیا گیا ، ٹیچر صاحبہ پھر ہمیں آفس لے گئیں ہم نے پھر آدھا لنچ چھوڑ دیا اور ٹیچر صاحبہ نے پھر سے اپنا وعدہ وفا کیا ۔۔۔۔۔۔۔۔

اس کے بعد یہ روز کی روٹین بن گئی ٹیچر صاحبہ امی کے ہاتھ کے ذائقہ کی فین ہو گئیں اور اپنا عہد وفا کرتی رہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔
کچھ دن کھانے سے ہماری بھی بھوک کھل گئی جس کے باعث اب پورے کی بھوک میں آدھا اپنی فیورٹ ٹیچر کے لیے قربان کرنا ہی پڑتا تھا ۔۔۔۔۔۔

اس کا حل پھر یہ نکلا کہ ہم نے گھر میں کہا "اب مجھے بھوک زیادہ لگتی ہے دو پراٹھے دیا کرو اور پلاؤ ہو تو زیادہ دیا کرو" 🥲

جیسا کہ میں کہتا ہوں کہ مرد مرد ہی ہوتا ہے چاہے تیسری جماعت کا بچہ ہو یا 60 سال کا ریٹائرڈ بوڑھا ۔۔۔۔۔۔۔
ٹیچر کی جانب سے روز اس خاص انعام کے لیے اب اتنا کرنا تو بنتا تھا ۔۔۔۔۔۔
گھر والے خوشی سے جھوم اٹھے اور لنچ کا ڈبہ ڈبل کر دیا گیا ۔۔۔۔۔۔۔

ٹیچر اور سٹوڈنٹ کی جوڑی روز مل بیٹھ کر لنچ کرتی باتیں کرتے بہت خوش ہوتے تھے
اور خوش ہوتے بھی کیسے نہیں ؟ گھر والے بھی خوش ، ٹیچر بھی خوش اور سب سے بڑھ کر سٹوڈنٹ بھی خوش 😌

یہ سلسلہ بہت عرصے تک جاری رہا ۔۔۔۔۔۔۔
مگر ڈبل ڈبہ ہونا اور خالی ڈبہ گھر جانے کا راز ، راز ہی رہا۔۔۔۔۔
لیکن وہ کہتے ہیں نہ کہ ایک نہ ایک دن راز فاش ہو کر ہی رہتا ہے۔
آج بازار میں امی کے ساتھ شاپنگ پر موجود تھا کہ اچانک پیچھے سے آواز آئی "عماز ۔۔۔۔۔ عماز ۔۔۔۔۔۔ رکو ۔۔۔۔۔ بات سنو"
میں رکا ،پیچھے مڑ کر دیکھا تو یہ میری وہی ٹیچر صاحبہ تھیں ، دیکھ کر بہت خوشی ہوئی آخر 7 سال بعد جو ملاقات ہوئی ۔۔۔۔۔

سلام دعا کے بعد اچانک انکے ساتھ دو بچوں پر نگاہ پڑی جو مجھے دیکھ منہ چڑھا رہے تھے ۔۔۔۔۔۔
میں سمجھ گیا 😴
"اثر مبارک ہو تو پھر سے ماموں بن گیا" 😒

حال احوال کے بعد ماموں بھانجوں کا آپس میں تعارف کروایا گیا ۔۔۔۔۔۔
اور پھر ہماری والدہ نے وہ سوال پوچھا جس پر تمام بھید کھل گیا
"اور بیٹے ۔۔۔۔۔ بچوں کی پڑھائی اچھی جا رہی ہے ؟"
جس پر ٹیچر نے ہنس کر جواب دیا :

"جی آنٹی بس ابھی بڑا بیٹا سکول جاتا ہے ون کلاس میں ہے ، لیکن میرے بیٹے کو بھی عماز کے جیسی کوئی میڈم مل گئی ہے ، جیسے میں آپ کے ہاتھ کا مٹر پلاؤ کھا کر فین ہو گئی تھی اور تب سے عماز کے ساتھ عماز کا ہاف لنچ کھا جاتی تھی اسی طرح ایک بار میرے بیٹے کو میں نے لنچ میں مٹر پلاؤ دیا تھا ، اسکی ٹیچر نے کھایا تو پنکھا ہو گئی تب۔ سے ڈبل لنچ دے کر بھیجنا پر رہا ہے" 🥹

اس کے بعد ٹیچر اور بھانجوں کو تو امی نے ہنستے ہوئے اکٹھے شاپنگ کی مگر تب سے میری سٹی بٹی گل ہے۔

امی کچھ بول نہیں رہیں مگر نہ جانے کیوں کھانے میں ہر چیز میرے سامنے ڈبل رکھ رہی ہیں 😑

~اثر

I never set foot again in those places where my self respect has been hurt. My self-respect is my most prized possession...
19/07/2025

I never set foot again in those places where my self respect has been hurt. My self-respect is my most prized possession,🙂 and I guard it fiercely. I'd rather stand alone, unapologetically myself, with dignity. intact, than sacrifice my self worth for fleeting validation that would only leave me empty and unfulfilled.😴

بارات کے ویلکم پر کھانا کھانے ضرور جاؤں گا 😔(بنا انپھی ٹئشن کے) 🙁
19/07/2025

بارات کے ویلکم پر کھانا کھانے ضرور جاؤں گا 😔
(بنا انپھی ٹئشن کے) 🙁

اُس کی آنکھیں ایک طرفجادو ٹونا ایک طرف۔ 🙂
19/07/2025

اُس کی آنکھیں ایک طرف
جادو ٹونا ایک طرف۔ 🙂

18/07/2025

محلے کی محفل میں ایک شخص اپنے ساتھ بیٹھے ایک بھولے بھالے بندے کو بار بار "اوئے بڑے سر والے" کہہ کر تنگ کر رہا تھا ۔۔۔۔۔۔

وہ بھائی پہلے تو اسے مکمل نظر انداز کرتے رہے مگر وہ شخص جب اپنی اس گستاخی کرنے سے پیچھے نہیں ہٹا تو انھوں نے بڑے غصے سے سینا چوڑا کرتے ہوئے اپنی انگلی سے اسے للکارتے ہوئے کہا :

"سر وڈے سرداراں دے ، تے پیر وڈے مرداراں دے" 😑
(کیونکہ اس بندے کے پاؤں نارمل سے کچھ زیادہ ہی بڑے تھے)

سردار جی کی بات سن کر محفل میں بیٹھا ہر شخص ہنس پڑا اور ان بھائی صاحب میں آگے کچھ بھی کہنے یا سننے کی تاب نہ رہی ۔۔۔۔۔۔۔🤧

بتانے کا مقصد یہ ہے کہ "نہ چھیڑ ملنگاں نوں" 🫣
خاموش رہتوں کو خاموش رہنے دیں ،کیونکہ جس دن گونگے بول پڑتے ہیں اس دن لطیفے بچتے ہیں نہ لطافت 😬

نتیجہ : "کسی کا سر ناپنے سے پہلے اپنے پیر دیکھ لینا بہتر ہوتا ہے"🙂

~اثر

17/07/2025

قصــور کیــا ہــے میــرا،جــو دشـمـن زمـانـہ ہے ؟
حــق ہـی بــولــتا ہــوں ، تـلــخ رویــہ بــہانہ ہـے۔
🙁😐

نویں جماعت میں فزکس والے سر کو "سر آپ کس طرح پڑھاتے ہیں ؟ کچھ سمجھ نہیں آتی" کہنے پر چار ڈنڈے تشریف پر کھانے کے بعد کے خیالات 👆🏻🗣️🚴🏻‍♂️

~اثر 🤧

Life is short, and every moment counts. Don't get caught up in overthinkingThink less, live more. Before it's too late, ...
17/07/2025

Life is short, and every moment counts. Don't get caught up in overthinking
Think less, live more.
Before it's too late, live the life you've always dreamt of.
Remember, setbacks are a part of the journey: We fall, we break, we fail, but then
we rise, we heal, and we overcome.
So, take a deep breath, let go of fear, and chase your dreams.🩶💙

😺

Address

Lahore

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Dr.Asar Rao posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category