22/07/2025
"چالیس کے بعد ماں کے قدموں کی تھکن… سمجھنے کی ضرورت ہے!"
ماں صرف ایک رشتہ نہیں، ایک مکمل کائنات ہے۔ وہ جو زندگی کے ہر موڑ پر ہمارے لیے سایہ بن کر کھڑی رہی، وہ جو اپنی نیند، سکون، حتیٰ کہ صحت تک قربان کر کے ہمیں پروان چڑھاتی رہی اُس ماں کے جسم میں جب چالیس کے پیچھے کی دہلیز پر ہارمونی تبدیلیاں آتی ہیں، تو ہم میں سے اکثر بچے لاعلمی کے باعث اُن کی کیفیت کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔اور جب ماں کہتی ہے "ذرا ٹانگیں دبا دو" تو ہم موبائل یوز کرتے ہوئے چڑ کر بولتے ہیں "اوفو امی! میں نہیں ، مجھے کام ہے"
ماں بیچاری خاموش ہو جاتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عمر کی ایک قدرتی تبدیلی (Menopause)
چالیس سے پچاس سال کے درمیان خواتین ایک فطری مرحلے سے گزرتی ہیں جسے "مینوپاز" کہا جاتا ہے۔ یہ وہ وقت ہوتا ہے جب عورت کی ریپروڈکٹو عمر ختم ہونے لگتی ہے اور پیریڈز(Menses) کا سلسلہ بند ہو جاتا ہے۔ اس مرحلے پر جسم میں موجود ایک اہم مادہ، ایسٹروجن (Estrogen)، کی مقدار خاص طور پر کم ہونے لگتی ہے۔ ایسٹروجن نہ صرف reproductive system بلکہ دل، دماغ، ہڈیوں، پٹھوں اور اعصابی نظام پر بھی اثر انداز ہوتا ہے۔
ہارمونل تبدیلیوں کے اثرات:
1.ٹانگوں کی بےچینی
Restless Legs Syndrome (RLS)
یہ ایک نیورولوجیکل مسئلہ ہے جو خواتین میں خاص طور پر مینوپاز کے دوران عام ہو جاتا ہے۔
ایسٹروجن کی کمی دماغ میں ڈوپامین (Dopamine) کی سطح کو متاثر کرتی ہے، جو اعصاب کی کارکردگی میں خلل ڈالتی ہے۔
نتیجتاً، رات کو سوتے وقت یا آرام کی حالت میں ٹانگوں میں کھچاؤ، جھنجھناہٹ، یا مسلسل حرکت کرنے کی خواہش پیدا ہوتی ہے۔
خواتین کو سکون سے لیٹنا مشکل ہو جاتا ہے اور نیند متاثر ہوتی ہے۔
2. ہڈیوں اور عضلات کی کمزوری:
ایسٹروجن کی کمی سے ہڈیوں کی کثافت (Bone Density) کم ہونے لگتی ہے جس سے ٹانگوں اور کمر میں درد ہوتا ہے۔
پٹھے کمزور ہو جاتے ہیں اور تھوڑا سا چلنا یا کھڑے ہونا بھی تھکن کا باعث بنتا ہے۔
تبھی ہم اکثر اپنی ماؤں کے منہ سے سنتے ہیں "افف ذرا سا چلنے سے میرا تو سانس پھول گیا یا میں تو دو قدم چلنے سے تھک گئی"
3. خون کی روانی میں رکاوٹ:
ایسٹروجن دل اور خون کی نالیوں کو محفوظ رکھتا ہے۔ اس کی کمی سے خون کی روانی متاثر ہوتی ہے، خاص طور پر ٹانگوں میں۔
نتیجتاً، ٹانگوں میں بھاری پن، سن ہونا (numbness) یا بےچینی محسوس ہوتی ہے۔
4. نیند اور مزاج کی تبدیلی:
نیند کی خرابی، چڑچڑاپن، بےچینی، ذہنی دباؤ اور کبھی کبھی ڈپریشن یہ سب بھی مینوپاز کے اثرات ہوتے ہیں۔
جب نیند مکمل نہ ہو، جسمانی تھکن بڑھ جائے اور کوئی بات سمجھی نہ جائے، تو عورت مزید تنہائی محسوس کرنے لگتی ہے۔
اب ہماری زمہ داری ہے ماں کو سمجھنے کی۔۔۔۔۔۔۔
ہم جب ماں سے یہ سنتے ہیں کہ "بیٹا ذرا ٹانگیں دبا دو" تو ہمیں لگتا ہے کہ وہ ہمیں روک رہی ہیں، ہمارے وقت میں مداخلت کر رہی ہیں، یا صرف تھکن کا بہانہ کر رہی ہیں۔ لیکن دراصل وہ نہ تو شکایت کرتی ہیں، نہ تفصیل بیان کرتیں بس ایک اشارہ دیتی ہیں، ایک بےآواز فریاد کہ شاید اُن کی اولاد سمجھ جائے۔
ماں کا یہ کہنا:
"میرے پاؤں بھاری ہو رہے ہیں" یا "ٹانگوں میں بے چینی ہے"
درحقیقت ایک مکمل جسمانی اور اعصابی کیفیت کا نتیجہ ہے، جس کی جڑیں اُس کے بدلتے ہارمونی نظام میں چھپی ہوتی ہیں۔ وہ نہیں جانتیں کہ یہ مینوپاز ہے یا RLS، لیکن وہ محسوس کرتی ہیں کہ اُن کے پاؤں اُن کے نہیں رہے۔
اور اکثر بیٹیاں منہ بناتی ہیں کہ "امی کا تو روز کا ہو گیا ہے"
لیکن وہ یہ نہیں جانتیں کہ ایک عمر میں وہ بھی اس عمل سے گزریں گی تب شاید انکی اولاد بھی یہی کہے "امی کو تو عادت ہو گئی ہے"
اور بیٹوں سے تو پھر مائیں کیا امید رکھیں جب اکثر بیٹیاں ہی اس بات سے بے خبر ہوتی ہیں ۔۔۔۔۔۔۔
پیغام ہر بیٹے اور بیٹی کے نام
اگر آپ کی ماں چالیس کی عمر کو عبور کر چکی ہیں، تو اُن کے جسم میں آنے والی تبدیلیوں کو سمجھنے کی کوشش کریں۔
ماں کی باتوں کو صرف الفاظ کے طور پر نہ لیں، بلکہ اُس کے پس منظر میں چھپی جسمانی اذیت کو جانیں۔
جب ماں تھکی ہوئی ہو کر کہتی ہے:
"ذرا میری ٹانگیں دبا دو"
تو یہ ایک معمولی درخواست نہیں، بلکہ ایک طبی ضرورت ہے۔
یہ ہمارا فرض ہے کہ ہم:
اُن کے ساتھ ہمدردی سے پیش آئیں،
ان علامات پر توجہ دیں،
اُنہیں مکمل آرام اور محبت دیں،
ہم موبائل چلاتے ہوئے بھی اپنی ماؤں کی خدمت کر سکتے ہیں ۔۔۔۔۔
چونکہ اس طرح سے ہونے والی بے چینی کا حل مسلسل حرکت ہے تو ہم ایک ہاتھ سے موبائل یوز کرتے ہوئے دوسرے ہاتھ سے کچھ جنت کما سکتے ہیں ۔۔۔۔۔۔
آخری بات: ماں کے قدموں تلے جنت کیوں ہے؟
کیونکہ ماں اپنی ساری عمر جسمانی، ذہنی اور جذباتی قربانیاں دے کر اپنی اولاد کی جنت بناتی ہے۔
اب جب اُس کی اپنی ٹانگیں بوجھل ہوں، اعصاب تھکے ہوں، تو کیا ہماری انگلیوں کی چند ہلکی حرکتیں اُس کے درد کو کم نہیں کر سکتیں؟
آئیے! ماں کو صرف محبت کا حق نہ دیں، بلکہ سمجھنے کا حق بھی دیں۔
کیونکہ وہ کبھی نہیں کہے گی کہ وہ تکلیف میں ہے ، ہمیں خود محسوس کرنا ہو گا۔
~اثر