04/10/2019
( دنیا کو بتایا جائے کہ بھٹو ایک عظیم لیڈر نہیں بلکہ ایک قومی مجرم ہے )
بھٹو 11 دسمبر 1971 کو نیویارک پہنچ گئے تھے 15 دسمبر کو سلامتی کونسل کے اجلاس میں شرکت کے لئے گئے کیونکہ انھیں زکام ہو گیا تھا اور بخار تھا جس وجہ سے وہ چار دن اپنی ہوٹل کے لگثرری کمرے میں آرام کرتے رہے جبکہ بنگال میں ہماری فوج کے پاس ہر گزرتے دن کے ساتھ اسلحہ اور رسد ختم ہوتی جا رہی تھی کمک پہنچ نہیں رہی تھی کیا ایسے موقع پر بھٹوکا ہوٹل میں قیام کرنا مناسب تھا ؟
بھٹو 15 دسمبر کو سلامتی کونسل کے اجلاس میں گئے جہاں ساری دنیا نے سویت اور پولش کی طرف سے پیش کی گئی قرارداد کی متفقہ منظوری دیدی جس کے بعد پاکستان کی رضامندی ضروری تھی ۔۔
قرارداد کے مطابق ۔
پاکستان اقتدار پر امن طور پر جیتنے والے ممبر کو سونپ دے یعنی مجیب الراحمن کو ۔
پاکستان کی فوج کو اقوام متحدہ کی نگرانی میں بحفاظت بنگال سے نکالنا دنیا یقینی بنائے گی
انڈین مداخلت کو بنگال سے ختم کیا جائے گا ۔
اس قرار داد کے منظور ہو جانے کے بعد ہمیں کیا ملتا ؟
نا ہماری فوج یرغمال بنتی اور نا انڈیا کامیاب ہوتا اور نا ہی پاکستان کے دو ٹکڑے ہوتے ۔
مگر بھٹو نے اپنا خطاب شروع کیا تو کہا میں اپنے ملک میں کسی کا قبضہ برداشت نہیں کرونگا ۔ حالانکہ وہ کوئی نہیں ایک جیتا ہوا عوامی لیڈر تھا (مجیب الرحمان)
میں اقتدار کسی کو نہیں دونگا
مجبیب الراحمن محب وطن نہیں غدار ہے (بغیر کسی ثبوت کے)
ہم لڑینگے اور ہر حالت میں لڑینگے ۔ جبکہ وہ جانتا تھا کہ فوج کے پاس اسلحہ نہیں ہے ۔
میں سلامتی کونسل کی کسی قرارداد کو نہیں مانتا ۔
وہاں پڑی پولش اور سویت کی قراد داد کو پھاڑا اپنی جیب میں ڈالا ہوٹل پہنچا واپس پاکستان کے لئے سفر پر نکلا ابھی راستے میں ہی تھا کہ سولہ 16 کو پاکستانی فوج کو سرینڈر کرنا پڑا ۔ اور یوں ہم عالمی فورم پر جیتی ہوئی جنگ ایک اقتدار کے بھوکے ، کمینے شاطر شخص کی وجہ سے ہار گئے ۔۔۔
مگر وہ الفاظ اور جذبات سے کھیلنا جانتا تھا اس نے واپس آکر قوم کو جذباتی کیا اپنی غلطی کو چھپایا اور بتایا کہ اس نے کیسے سلامتی کونسل میں پیپر پھاڑے تھے دنیا اسی پر خوش ہو گئی اور بھول گئے کہ اس شخص کی وجہ سے ہمارے 90 ہزار فوجی یرغمال بنے ملک دو لخت ہوا
آج بھی اس کی پارٹی اور اس کے ماننے والے اسے عظیم لیڈر کہتے ہوئے تھکتے نہیں تو عرض فقط یہ کرنی تھی وہ 1971 تھا جبکہ انفارمیشن کے محدود ذرائع تھے آج جب میں یہ بلاگ لکھ رہا ہوں تو میرے سامنے 10 دسمبر سے لیکر 16 دسمبر تک کی دنیا کی تمام اخبارات کے تراشے میرے میز پر موجود ہیں بھٹو کی تقریر سے پہلے اور بعد کے دنیا کے راہنماوں کے بیانات میرے ایک کلک پر کھل جاتے ہیں جو بات حمود الراحمن کمیشن بیان نہیں کر سکا آج میں دنیا کے ایک کونے میں بیٹھ کر آسانی سے بیان کر سکتا ہوں ۔۔
دنیا کو بتایا جائے کہ بھٹو ایک عظیم لیڈر نہیں بلکہ ایک قومی مجرم تھا۔