Dard-e-Dil

Dard-e-Dil Dard-e-Dil for every person who live for love.

19/12/2025
31/07/2020

Eid mubrk❤️

😔😔😔😔
04/06/2020

😔😔😔😔

کُچھ اور بھی جذبوں کو بے نقاب کیا اُس نےآج جب مہندی لگے ہاتھوں سے آداب کیا اُس نے
29/02/2020

کُچھ اور بھی جذبوں کو بے نقاب کیا اُس نے
آج جب مہندی لگے ہاتھوں سے آداب کیا اُس نے

( دنیا کو بتایا جائے کہ بھٹو ایک عظیم لیڈر نہیں بلکہ ایک قومی مجرم ہے )بھٹو 11 دسمبر 1971 کو نیویارک پہنچ گئے تھے 15 دسم...
04/10/2019

( دنیا کو بتایا جائے کہ بھٹو ایک عظیم لیڈر نہیں بلکہ ایک قومی مجرم ہے )
بھٹو 11 دسمبر 1971 کو نیویارک پہنچ گئے تھے 15 دسمبر کو سلامتی کونسل کے اجلاس میں شرکت کے لئے گئے کیونکہ انھیں زکام ہو گیا تھا اور بخار تھا جس وجہ سے وہ چار دن اپنی ہوٹل کے لگثرری کمرے میں آرام کرتے رہے جبکہ بنگال میں ہماری فوج کے پاس ہر گزرتے دن کے ساتھ اسلحہ اور رسد ختم ہوتی جا رہی تھی کمک پہنچ نہیں رہی تھی کیا ایسے موقع پر بھٹوکا ہوٹل میں قیام کرنا مناسب تھا ؟
بھٹو 15 دسمبر کو سلامتی کونسل کے اجلاس میں گئے جہاں ساری دنیا نے سویت اور پولش کی طرف سے پیش کی گئی قرارداد کی متفقہ منظوری دیدی جس کے بعد پاکستان کی رضامندی ضروری تھی ۔۔
قرارداد کے مطابق ۔
پاکستان اقتدار پر امن طور پر جیتنے والے ممبر کو سونپ دے یعنی مجیب الراحمن کو ۔
پاکستان کی فوج کو اقوام متحدہ کی نگرانی میں بحفاظت بنگال سے نکالنا دنیا یقینی بنائے گی
انڈین مداخلت کو بنگال سے ختم کیا جائے گا ۔
اس قرار داد کے منظور ہو جانے کے بعد ہمیں کیا ملتا ؟
نا ہماری فوج یرغمال بنتی اور نا انڈیا کامیاب ہوتا اور نا ہی پاکستان کے دو ٹکڑے ہوتے ۔

مگر بھٹو نے اپنا خطاب شروع کیا تو کہا میں اپنے ملک میں کسی کا قبضہ برداشت نہیں کرونگا ۔ حالانکہ وہ کوئی نہیں ایک جیتا ہوا عوامی لیڈر تھا (مجیب الرحمان)
میں اقتدار کسی کو نہیں دونگا
مجبیب الراحمن محب وطن نہیں غدار ہے (بغیر کسی ثبوت کے)
ہم لڑینگے اور ہر حالت میں لڑینگے ۔ جبکہ وہ جانتا تھا کہ فوج کے پاس اسلحہ نہیں ہے ۔
میں سلامتی کونسل کی کسی قرارداد کو نہیں مانتا ۔
وہاں پڑی پولش اور سویت کی قراد داد کو پھاڑا اپنی جیب میں ڈالا ہوٹل پہنچا واپس پاکستان کے لئے سفر پر نکلا ابھی راستے میں ہی تھا کہ سولہ 16 کو پاکستانی فوج کو سرینڈر کرنا پڑا ۔ اور یوں ہم عالمی فورم پر جیتی ہوئی جنگ ایک اقتدار کے بھوکے ، کمینے شاطر شخص کی وجہ سے ہار گئے ۔۔۔
مگر وہ الفاظ اور جذبات سے کھیلنا جانتا تھا اس نے واپس آکر قوم کو جذباتی کیا اپنی غلطی کو چھپایا اور بتایا کہ اس نے کیسے سلامتی کونسل میں پیپر پھاڑے تھے دنیا اسی پر خوش ہو گئی اور بھول گئے کہ اس شخص کی وجہ سے ہمارے 90 ہزار فوجی یرغمال بنے ملک دو لخت ہوا
آج بھی اس کی پارٹی اور اس کے ماننے والے اسے عظیم لیڈر کہتے ہوئے تھکتے نہیں تو عرض فقط یہ کرنی تھی وہ 1971 تھا جبکہ انفارمیشن کے محدود ذرائع تھے آج جب میں یہ بلاگ لکھ رہا ہوں تو میرے سامنے 10 دسمبر سے لیکر 16 دسمبر تک کی دنیا کی تمام اخبارات کے تراشے میرے میز پر موجود ہیں بھٹو کی تقریر سے پہلے اور بعد کے دنیا کے راہنماوں کے بیانات میرے ایک کلک پر کھل جاتے ہیں جو بات حمود الراحمن کمیشن بیان نہیں کر سکا آج میں دنیا کے ایک کونے میں بیٹھ کر آسانی سے بیان کر سکتا ہوں ۔۔
دنیا کو بتایا جائے کہ بھٹو ایک عظیم لیڈر نہیں بلکہ ایک قومی مجرم تھا۔

04/10/2019

Marketing for mobile app.

13/09/2018

عورت مرتی ہے اس کا جنازہ مرد اٹھاتا ہے ۔اس کو لحد میں یہی مرد اتارتا ہے ۔۔۔ پیدائش پر یہی مرد اس کے کان میں اذان دیتا ہے۔ باپ کے روپ میں سینے سے لگاتا ہے بھائی کے روپ میں تحفظ فراہم کرتا ہے اور شوہر کے روپ میں محبت دیتا ہے۔ اور بیٹے کی صورت میں اس کے قدموں میں اپنے لیے جنت تلاش کرتا ہے ۔۔۔ واقعی بہت ہوس کی نگاہ سے دیکھتا ہے ۔۔۔ ہوس بڑھتے بڑھتے ماں حاجرہ کی سنت پر عمل کرتے ہوئے صفا و مروہ کے درمیان سعی تک لے جاتی ہے ۔۔۔ اسی عورت کی پکار پر سندھ آپہنچتا ہے ۔۔۔ اسی عورت کی خاطر اندلس فتح کرتا ہے۔ اور اسی ہوس کی خاطر 80% مقتولین عورت کی عصمت کی حفاظت کی خاطر موت کی نیند سو جاتے ہیں۔ واقعی ''مرد ہوس کا پجاری ہے۔''
لیکن جب ہوا کی بیٹی کھلا بدن لیے، چست لباس پہنے باہر نکلتی ہے اور اسکو اپنے سحر میں مبتلا کر دیتی ہے تو یہ واقعی ہوس کا پجاری بن جاتا ہے ۔۔۔ اور کیوں نا ہو؟؟ کھلا گوشت تو آخر کتے بلیوں کے لیے ہی ہوتا ہے ۔۔۔ جب عورت گھر سے باہر ہوس کے پجاریوں کا ایمان خراب کرنے نکلتی ہے۔ تو روکنے پر یہ آزاد خیال عورت مرد کو "تنگ نظر" اور "پتھر کے زمانہ کا" جیسے القابات سے نواز دیتی ہے کہ کھلے گوشت کی حفاظت نہیں کتوں بلوں کے منہ سینے چاہیے ہیں
ستر ہزار کا سیل فون ہاتھ میں لیکر تنگ شرٹ کے ساتھ پھٹی ھوئی جینز پہن کر ساڑھے چارہزار کا میک اپ چہرے پر لگا کر کھلے بالوں کو شانوں پر گرا کر انڈے کی شکل جیسا چشمہ لگا کر کھلے بال جب لڑکیاں گھر سے باہر نکل کر مرد کی ہوس بھری نظروں کی شکایت کریں تو انکو توپ کے آگے باندھ کر اڑادینا چاہئیے جو سیدھا یورپ میں جاگریں اور اپنے جیسی عورتوں کی حالت_زار دیکھیں جنکی عزت صرف بستر کی حد تک محدود ھے
"سنبھال اے بنت حوا اپنے شوخ مزاج کو
ھم نے سر_بازار حسن کو نیلام ھوتے دیکھا ھے" 😒
اچھا نہ لگا ہو تو معزرت خواہ ہوں

07/08/2018

‏میرے واسطے بس تم اور تمہارا ساتھ ___❤

تمہارے واسطے میرا دل اور اس سے نکلی ہر دعا ___❤

Address

Lahore
54000

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Dard-e-Dil posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

//iconSize: [32, 32], //html: '' }) .bindTooltip(name, { //permanent: true, direction: 'bottom', //offset: L.point(12, 25), //opacity: 0.88, interactive: true }) .bindPopup(name); markersLayer.addLayer(marker); } function getMore() { if (gettingMore) { return; } gettingMore = true; var center = map.getCenter(); $.ajax({ url: "/vicinitysearch", data: { lat: center.lat, lng: center.lng, country: "PAKISTAN" } }) .done(function(data) { var added = 0; data.forEach(function(loc) { if (!locationIds.includes(loc.id)) { var mapLoc = {id:loc.id,lat:loc.latitude,lng:loc.longitude,title:trunc20(loc.name),popupHtml:loc.popupHtml,urlPath:loc.urlPath,pictureUrl:loc.pictureUrl}; locations.push(mapLoc); locationIds.push(loc.id); map._addMarker(mapLoc); added++; } }); }) .always(function() { gettingMore = false; }); } map._clearMarkers = function() { markersLayer.clearLayers(); } }); }, 4000); });