06/08/2025
استاد بن گئے جنسی درندے ۔۔۔
’فرزانہ جمالی ‘‘ کی جنسی حراسگی کا واقعہ میڈیا اس لیے نہیں اٹھا رہا کیونکہ یہ واقعہ " نوابشاہ بینظیر یونیورسٹی " میں ہوا کسی " مدرسہ " میں نہیں
زیر نظر تصویر میں " فرزانہ جمالی " کا بھائی ھے جو اپنی بہن کیلئے آواز اٹھا رہا تھا تو اس پر قاتلانہ حملہ کیا گیا
بہنیں بیٹیاں اور مائیں تو سانجھی ہوتی ہیں مگر فرزانہ جمالی کو دیکھ کر لگتا ہے کہ اب یہ محاورہ غلط ثابت ہوگیا ہے ہونا تو یہ چاہیئے تھا کہ اس خبر پہ پاکستانی قوم سراپا احتجاج بن جاتی مگر تنہا بھائی اپنی بہن کی خاطر ملک کی طاقتور مافیا سے ٹکرایا ہے اور انجام آپ کے سامنے ہے
یہ ہے زوھیب جمالی " جس نےاپنی بہن " فرزانہ جمالی " کو یونیورسٹی " وی سی ارشدسلیم " اورپروفیسرعامرخٹک" کیجانب سےحراساں کرنے کےخلاف احتجاج کیا
اوراپنی بہن کوانصاف دلانےکےلیے مسلسل جدوجہدکررہا ہے اس پرجان لیواحملہ ہواجس میں وہ جان جانے سے بچ گیا😰
یہاں اب کسی لبرل کو کچھ بھی نظر نہیں آئے گا اور نہ کسی کی زبان کھلے گی اس معاملے پر
لبرل ازم اب اندھی گونگی بہری بن جائیگی کیونکہ یہاں اب بات کسی مولوی یا مدرسے کی نہیں ہے یہاں بات یونیورسٹی کی ہے-
Cp