12/02/2026
دھڑکنیں زندگی کے دامن میں
گیت ہیں بنسری کے دامن میں
کچھ خطائیں اگر اجازت ہو
ڈال دیں بندگی کے دامن میں
آج تم کو پکار کر کوئی
سو گیا چاندنی کے دامن میں
میرے اشعار کے قوافی ہیں
جتنے غم ہیں خوشی کے دامن میں
کچھ شگوفے بہار سے پہلے
گر گئے بے خودی کے دامن میں
یاد آئی بہار کی ساغرؔ
پھول دیکھے کسی کے دامن میں
ساغر صدیقی - #قطعہ