ساغر صدیقی - Saghar Siddique

ساغر صدیقی - Saghar Siddique ساغرِ صدیقی (پیدائشی نام محمد اختر ) (1928 کو امرتسر میں پیدا ہوئے،اور 19 جولائی 1974 کو لاہور میں وفات ہوئے ) ایک اردو زبان کے پاکستانی شاعر تھے

دھڑکنیں زندگی کے دامن میںگیت ہیں بنسری کے دامن میںکچھ خطائیں اگر اجازت ہوڈال دیں بندگی کے دامن میںآج تم کو پکار کر کوئیس...
12/02/2026

دھڑکنیں زندگی کے دامن میں
گیت ہیں بنسری کے دامن میں

کچھ خطائیں اگر اجازت ہو
ڈال دیں بندگی کے دامن میں

آج تم کو پکار کر کوئی
سو گیا چاندنی کے دامن میں

میرے اشعار کے قوافی ہیں
جتنے غم ہیں خوشی کے دامن میں

کچھ شگوفے بہار سے پہلے
گر گئے بے خودی کے دامن میں

یاد آئی بہار کی ساغرؔ
پھول دیکھے کسی کے دامن میں

ساغر صدیقی - #قطعہ

کوئی تازہ اَلم نہ دِکھلائےآنے والے خُوشی سے ڈرتے ہیںلوگ اب موت سے نہیں ڈرتےلوگ اب زندگی سے ڈرتے ہیںساغر صدیقی #قطعہ     ...
11/02/2026

کوئی تازہ اَلم نہ دِکھلائے
آنے والے خُوشی سے ڈرتے ہیں
لوگ اب موت سے نہیں ڈرتے
لوگ اب زندگی سے ڈرتے ہیں
ساغر صدیقی
#قطعہ

چشم  کو  اعتبار  کی  زحمت دِل کو صبر و شکیب دیتا ہےآئینے میں نہ عکسِ ہستی دیکھ  آئینہ   بھی   فریب   دیتا   ہےساغر صدیقی...
10/02/2026

چشم کو اعتبار کی زحمت
دِل کو صبر و شکیب دیتا ہے
آئینے میں نہ عکسِ ہستی دیکھ
آئینہ بھی فریب دیتا ہے
ساغر صدیقی
#قطعہ

صحنِ کعبہ بھی یہِیں ہے ، تو صنم خانے بھی دِل کی دُنیا میں گُلستاں بھی ہیں ویرانے بھی لوگ کہتے ہیں اجارہ ہے تِرے جلووں پر...
09/02/2026

صحنِ کعبہ بھی یہِیں ہے ، تو صنم خانے بھی
دِل کی دُنیا میں گُلستاں بھی ہیں ویرانے بھی

لوگ کہتے ہیں اجارہ ہے تِرے جلووں پر
اِتنے ارزاں تو نہیں ہیں‘ تِرے دِیوانے بھی

آتشِ عشق میں پتّھر بھی پگھل جاتے ہیں
مجرمِ سوزِ وفا شمع بھی پروانے بھی

کُچھ فسانوں میں حقیقت کی جھلک ہوتی ہے
کُچھ حقیقت سے بنا لیتے ہیں افسانے بھی

میرے اشعار ہیں تصویرِ تمنّا ساغرؔ
اِن کی آغوش میں ہیں درد کے افسانے بھی

ساغر صدیقی

پُھول مَسلیں تو اُنہیں نغمہ و جھنکار مِلیں مَیں نے کانٹے تو نہیں بوئے ، کہ انگار مِلیںآنکھ لرزاں ہے سرِ محفلِ ہستی اے دو...
08/02/2026

پُھول مَسلیں تو اُنہیں نغمہ و جھنکار مِلیں
مَیں نے کانٹے تو نہیں بوئے ، کہ انگار مِلیں

آنکھ لرزاں ہے سرِ محفلِ ہستی اے دوست
اِن کی چلمن کے قریں تشنۂ دِیدار مِلیں

اُس کوادراک کی پُر نور زُباں کہتے ہیں
جس میں انسان کی تعظیم کے اطوار مِلیں

ایسی مجروحِ تمنّا ہی صلیبِ غم ہے
جس کو غُنچے بھی بہاروں میں گرفتار مِلیں

خُونِ دِل شرط ہے اے یار بصیرت کیلئے
یہ بھی ممکن ہے کہ صحراؤں میں گُلزار مِلیں

حیف اُس چارہ گرِ وقت کی قسمت ساغرؔ
جس کو ہر گام پہ تقدیر کے بیمار مِلیں

ساغر صدیقی

یاد آکے رہ گئے ہیں زمانے وفاؤں کےشعلے جگا کے چل دئیے جھونکے ہواؤں کےہر اک قدم پہ تلخیٔ دوراں کی دھوپ تھیتھے ہم بھی اُس گ...
06/12/2025

یاد آکے رہ گئے ہیں زمانے وفاؤں کے
شعلے جگا کے چل دئیے جھونکے ہواؤں کے

ہر اک قدم پہ تلخیٔ دوراں کی دھوپ تھی
تھے ہم بھی اُس گلی میں طلبگار چھاؤں کے

کرتے رہے جو چاند سِتاروں کی راہبری
کُچھ منتظر ہیں ہم بھی اُنہی رہنماؤں کے

ہر ذہن میں پڑے ہیں ، تِری زُلف کے بھنور
ہر دِل کی سر زمیں پہ نشاں تیرے پاؤں کے

بے چارگی زیست کا دامن نہ بھر سکا
ہم نے لُٹا دِیئے ہیں خزانے دُعاؤں کے

تجدیدِ ذوقِ ساغرؔ و مینا کی بات کر
بدلے ہُوئے ہیں رَنگ چَمن کی فضاؤں کے

ساغر صدیقی
ڈیزائننگ بشکریہ : علی نیازی

جفا و جور و ستم‘ انتخاب کر لیں گے تُمہاری زُلف کے خم انتخاب کر لیں گے کسی طرح تو کریں گے دیارِ دِل روشنچراغِ شامِ عدم ان...
05/12/2025

جفا و جور و ستم‘ انتخاب کر لیں گے
تُمہاری زُلف کے خم انتخاب کر لیں گے

کسی طرح تو کریں گے دیارِ دِل روشن
چراغِ شامِ عدم انتخاب کر لیں گے

مَیں سوچتا ہُوں یہ فاقوں میں ڈوبتے سُورج
فریبِ ابرِ کرم انتخاب کر لیں گے

چلے چلو کہ تجسّس کا نام ایماں ہے
خُدا نہیں ، تو صنم انتخاب کر لیں گے

جو منزلیں نہ مِلیں رہگزارِ ہستی میں
کسی کا نقشِ قدم انتخاب کر لیں گے

ساغر صدیقی
ڈیزائننگ بشکریہ : علی نیازی

وہ عزم ہو کہ منزلِ بیدار ہنس پڑےہر نقشِ پا پہ جُرآتِ رَہوار ہنس پڑےاب کے برس بہار کی صُورت بدل گئیزخموں میں آگ لگ گئی گ...
04/12/2025

وہ عزم ہو کہ منزلِ بیدار ہنس پڑے
ہر نقشِ پا پہ جُرآتِ رَہوار ہنس پڑے

اب کے برس بہار کی صُورت بدل گئی
زخموں میں آگ لگ گئی گلزار ہنس پڑے

اس داستانِ درد کی تمہید آپ ہیں
جس داستانِ درد پہ غم خوار ہنس پڑے

حیران ہو رہی ہے شگوفے پہ چاندنی
شاید قفس پہ آج گرفتار ہنس پڑے

لُٹ جائے تیرے نام سے ہر تلخیٓ جفا
وہ کام کر کہ بے کس و نادار ہنس پڑے

میرے جنوں نے آج وہ سجدہ ادا کیا
بُت خانہٓ حیات کے آثار ہنس پڑے

پھر شادماں ہوئے ہیں خرابے حیات کے
ساغؔر کسی کے گیسُوئے خمدار ہنس پڑے

ساغر صدیقی

مَیں خُود نِگر ہُوں‘ کسی موڑ پر نہ ٹھہروں گا  اَزل  سے  دیتی  رہی  مُجھ کو  زندگی  آواز(درویش شاعر)ساغرؔ صدیقی ¹⁹⁷⁴-¹⁹²⁸
03/12/2025

مَیں خُود نِگر ہُوں‘ کسی موڑ پر نہ ٹھہروں گا
اَزل سے دیتی رہی مُجھ کو زندگی آواز

(درویش شاعر)
ساغرؔ صدیقی ¹⁹⁷⁴-¹⁹²⁸

صُراحی جام سے ٹکرائیے ، برسات کے دِن ہیںحدیثِ  زندگی  دُہرائیے ، برسات  کے  دِن  ہیںسفینہ لے چلا ہے کِس مُخالف سَمت کو ظ...
22/07/2025

صُراحی جام سے ٹکرائیے ، برسات کے دِن ہیں
حدیثِ زندگی دُہرائیے ، برسات کے دِن ہیں

سفینہ لے چلا ہے کِس مُخالف سَمت کو ظالم
ذرا ملّاح کو سمجھایئے ، برسات کے دِن ہیں

کِسی پُر نُور تُمہت کی ضرورت ہے گھٹاؤں کو
کہِیں سے مہ وشوں کو لایئے، برسات کے دِن ہیں

طبیعت گردشِ دَوراں کی گھبرائی ہُوئی سی ہے
پریشاں زُلف کو سُلجھائیے ، برسات کے دِن ہیں

بہاریں اِن دِنوں دشتِ بیاباں میں بھی آتی ہیں
فقیروں پر کرم فرمائیے ،،، برسات کے دِن ہیں

یہ موسم شورشِ جذبات کا مخصوص موسم ہے
دلِ نادان کو بہلائیے ، برسات کے دِن ہیں

سُہانے آنچلوں کے ساز پر اشعار ساغرؔ کے
کِسی بے چین دُھن میں گائیے ، برسات کے دِن ہیں

(درویش شاعر)
ساغرؔ صدیقی ¹⁹⁷⁴-¹⁹²⁸

آج ساغر صدیقی کی  برسی ہےزندگی جبر مسلسل کی طرح کاٹی ہے جانے کس جرم کی پائی ہے سزا یاد نہیں
19/07/2025

آج ساغر صدیقی کی برسی ہے
زندگی جبر مسلسل کی طرح کاٹی ہے
جانے کس جرم کی پائی ہے سزا یاد نہیں

19/07/2025

Address

Lahore

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when ساغر صدیقی - Saghar Siddique posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category