Udas larki

Udas larki Allah is great

14/02/2026

میں اپنی شادی سے بالکل بھی خوش نہیں تھا۔ دل جیسے پتھر ہو چکا تھا۔ بچپن سے جس کزن کے ساتھ کھیلا، ہنسا اور لڑا جھگڑا تھا، آج وہی میری دلہن بن کر میرے کمرے میں بیٹھی تھی۔ مگر میرے دل میں محبت کی جگہ عجیب سی خلش اور غصہ بھرا ہوا تھا۔ وجہ وہ واقعہ تھا جس نے ہمارے پورے خاندان کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ شادی سے پہلے اس کے ساتھ زبردستی کی گئی تھی۔ وہ ایک حادثہ تھا، ایک ظلم تھا، مگر میں اسے حادثہ ماننے کے لیے تیار نہیں تھا۔ میں اسے اپنی انا کا مسئلہ بنا بیٹھا تھا۔
گھر والوں نے کہا، “بیٹا، یہ لڑکی قصوروار نہیں، اس کے ساتھ ظلم ہوا ہے۔”
مگر میں نے صرف اتنا سوچا کہ لوگ کیا کہیں گے؟ دوست کیا کہیں گے؟ معاشرہ کیا سوچے گا؟
آخر کار خاندان کی عزت، ماں کے آنسو اور باپ کے دباؤ کے آگے ہار کر میں نے نکاح کے لیے ہاں کر دی۔
سہاگ رات آئی تو کمرہ سجا ہوا تھا۔ خوشبوئیں پھیلی ہوئی تھیں، مگر میرے دل میں بدگمانی کا اندھیرا تھا۔ وہ سر جھکائے بیٹھی تھی، سرخ جوڑے میں لپٹی، کانپتی ہوئی۔ میں نے نفرت بھری نظروں سے اسے دیکھا اور بغیر کچھ کہے منہ لپیٹ کر دوسری طرف سو گیا۔
رات کے کسی پہر میری آنکھ اچانک کھل گئی۔ کمرے میں ہلکی سی روشنی تھی۔ میں نے کروٹ بدلی تو نظر اس پر پڑی۔ وہ سوئی ہوئی تھی مگر اس کے چہرے پر سکون نہیں تھا۔ آنکھوں کے کنارے نم تھے، جیسے روتے روتے سو گئی ہو۔ اس کے ہونٹ ہل رہے تھے، جیسے کوئی ڈراؤنا خواب دیکھ رہی ہو۔
اچانک وہ سہم کر اٹھ بیٹھی اور ہانپنے لگی۔ میں چونک گیا۔ اس نے بے اختیار کہا،
“نہیں… مجھے چھوڑ دو… میں نے کچھ نہیں کیا…”
یہ الفاظ سن کر میرے جسم میں جیسے بجلی دوڑ گئی۔ وہ خواب میں بھی اسی اذیت کو جی رہی تھی۔ میں پہلی بار سوچنے لگا کہ جس واقعے کو میں اپنی انا کا مسئلہ بنا رہا ہوں، وہ اس کے لیے ایک نہ ختم ہونے والا عذاب ہے۔
وہ مجھے جاگتا دیکھ کر خاموش ہو گئی۔ نظریں جھکا لیں۔ چند لمحے کمرے میں سناٹا رہا۔ پھر اس نے دھیمی آواز میں کہا،
“میں جانتی ہوں آپ مجھ سے خوش نہیں ہیں۔ آپ کو حق ہے ناراض ہونے کا… مگر خدا کے لیے مجھے مجرم نہ سمجھیں۔ میں نے کبھی بھی خود کو معاف نہیں کیا، حالانکہ قصور میرا نہیں تھا۔”
اس کی آواز ٹوٹ رہی تھی۔ میں خاموش رہا، مگر دل کے اندر کچھ پگھلنے لگا تھا۔
اس نے مزید کہا،
“اگر آپ چاہیں تو میں کل ہی آپ کی زندگی سے چلی جاؤں گی۔ میں آپ پر بوجھ نہیں بننا چاہتی۔ جاری

21/01/2026

السلام علیکم!
اج میں اس لڑکی کے بارے میں تحریر کر رہی ہوں جو خود سے لڑ رہی ہے حالات اور معاشرے سے بھی لڑ رہی ہے۔
اس کا نام ہے اسوہ ماشاءاللہ کتنا پیارا نام ہے لیکن قڈمت اتنی پیاری نہیں یا شاید ابھی کچھ دن ازمائش کے باقی ہیں اس لڑکی کو ذیدہ سوچنے کی عادت ہے اس کو عادت کہوں یا رب کی عطاء کیونکہ اسے لوگوں کی لہجے پڑھنے اتے ہیں انکھوں میں کیا ہے وہ کس مزاج کے مالک ہیں وہ کس حد تک خود سے اور لوگوں سے بیزار ہیں خاص بات یہ کہ کون کس حد تک منافق ہے
اب بات یہ ہےکہ کافی حد تک سہی ہے لیکن کوئی یہ بات تسلیم نہیں کرتا اور اس کا دماغ اسے دوہرے لوگوں کے ساتھ رہنے کی اجازت نہیں دیتا اب نہ وہ خود سے جیت سکتی ہے نہ حالات سے
عرض کیا ہے !
منسوب چراغوں سے طرف دار ہوا کے
تم لوگ منافق ہو منافق بھی بلا کے
بس سب سے التجا یے کہ وہ اس لڑکی کے حق میں دعا کریں اللہ اس کے لیے اسانیاں پیدا کرے امین

15/01/2026

آپ نے بہادری کے بڑے قصے سنے ہونگے آئیں یہ بھی پڑھیں کائنات میں کوئی شخص حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ بہادر نہیں۔
ابیّ بن خلف دنیا کے بدترین انسانوں سے ایک ہے جو جہنم کے شدید ترین عذاب میں مبتلا ہو گا۔یہ قریش کے نمایاں افراد میں سے ایک تھا جنگ بدر میں قیدی بنا لیکن اسے رہاکردیا گیا ۔اس احسان کا بدلہ اس نے یہ دیاکہ قسم اُٹھائی کہ میں اپنے قیمتی گھوڑے” العُود “کو روزانہ اتنے سیر مکئی کا دانہ کھلایا کروں گا اور پھر اس پر سوار ہوکر محمد (صلی اللہ علیہ وسلم )کو قتل کردوں گا۔اسکی یہ بڑجب حضور کے گوشِ انور تک پہنچی تو آپ نے فرمایا”وہ نہیں بلکہ میں اسے موت کے گھاٹ اتاروں گا،انشاءاللہ“ ۔ اُحد کے دن وہ اپنے اسی گھوڑے پر سوار ہوکر شریک ہوا، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام سے فرمایا ”خیال رکھنا ،مباداکہ ابّی بن خلف مجھ پر عقب سے حملہ آور ہو،تم اسے دیکھو تو مجھے اطلاع دے دینا “۔یہ ارشاد اس لیے ہوا کہ حضور لڑائی کے دوران پیچھے مڑکر نہیں دیکھا کرتے تھے،جب حضور اُحد کی گھاٹی پر تھے تو اچانک یہ آدھمکا۔اس نے سر پر خود اورچہرے پر آہنی نقاب ڈالا ہوا تھا وہ گھوڑے کو ایڑ لگاتا ہوا آگے بڑھ رہا تھا ،وہ کہہ رہا تھا محمد (صلی اللہ علیہ وسلم )کہاں ہیں؟اگروہ بچ گئے میرا بچنا محال ہے اسکے عزائم بھانپ کر بہت سے مجاہدین نے اس کا راستہ روکنا چاہا، لیکن حضور علیہ السلام نے بلند آواز سے کہا ”اسے چھوڑدو،اس کا راستہ خالی کردو۔“پھر حضور نے ابّی سے کہا ”اے کذاب! اب بھاگ کر کہاں جاتے ہو؟ آپ نے حارث بن صِمہ کے ہاتھ سے چھوٹا نیزہ پکڑ لیا اورایک ایسے عالمِ جلال میں بڑے جوش سے جھرجھری لی کہ صحابہ کرام بھی اسکی تاب نہ لاسکے اور دیکھنے والوں کے بدن پر لرزہ طاری ہوگیا ۔ آپ نے اکیلے اسکے سامنے کھڑے ہوکر نیزے سے اسکی گردن کے اس حصے پر ضرب لگائی جو خود اور زرہ کے درمیان ننگا رہ گیا تھا،پھر کیا تھا اُسکے توحواس باختہ ہوگئے، سر چکراگیا گھوڑے کی پشت سے غش کھا کر لڑھکنے لگا، اس ضرب سے بظاہر معمولی خراش آئی تھی لیکن بظاہر معمولی چوٹ نے اسکے سینے کی پسلیاں اورجسم کی ہڈیاں کڑکڑادی تھیں اور سر پیٹتا ،چیختاچلاتا اپنی قوم کے پاس پہنچا ۔بخدا مجھے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) نے قتل کردیا ،لوگوں نے معمولی خراش دیکھی تو کہنے لگے ،حد ہوگئی تمہاری بزدلی کی بھی،کوئی گہرا زخم تو آیا نہیں اورتم نے چیخ چیخ کر آسمان سر پر

13/01/2026

مدینہ کا بازار تھا ، گرمی کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ لوگ نڈھال ہورہے تھے
۔ ایک تاجر اپنے ساتھ ایک غلام کو لیے پریشان کھڑا تھا ۔ غلام جو ابھی بچہ ہی تھا وہ بھی دھوپ میں کھڑ ا پسینہ پسینہ ہورہا تھا ۔
تاجر کا سارا مال اچھے داموں بک گیا تھا بس یہ غلام ہی باقی تھا جسے خریدنے میں کوئی بھی دلچسپی نہیں دکھا رہا تھا۔ تاجر سوچ رہا تھا کہ اس غلام کو خرید کر شاید اس نے گھاٹے کا سودا کیا ہے۔ اس نے تو سوچا تھا کہ اچھا منافع ملے گا لیکن یہاں تو اصل لاگت ملنا بھی دشوار ہورہا تھا۔ اس نے سوچ لیا تھا کہ اب اگر یہ غلام پوری قیمت پر بھی بکا تو وہ اسے فورا" بیچ دے گا۔
مدینہ کی ایک لڑکی کی اس غلام پر نظر پڑی تو اس نے تاجر سے پوچھا کہ یہ غلام کتنے کا بیچو گے۔ تاجر نے کہا کہ میں نے اتنے میں لیا ہے اور اتنے کا ہی دے دوں گا۔ اس لڑکی نے بچے پر ترس کھاتے ہوئے اسے خرید لی۔ تاجر نے بھی خدا کا شکر ادا کیا اور واپسی کے راہ لی.
مکہ سے ابو حذیفہ مدینہ آئے تو انہیں بھی اس لڑکی کا قصہ معلوم ہوا۔ لڑکی کی رحم دلی سے متاثر ہوکر انہوں نے اسکے لیے نکاح کا پیغام بھیجا جو قبول کرلیا گیا۔ یوں واپسی پر وہ لڑکی جس کا نام ثبیتہ بنت یعار تھا انکی بیوی بن کر انکے ہمراہ تھی اور وہ غلام بھی مالکن کے ساتھ مکہ پہنچ گیا۔
ابو حذیفہ مکہ آکر اپنے پرانے دوست عثمان ابن عفان سے ملے تو انہیں کچھ بدلا ہوا پایا اور انکے رویے میں سرد مہری محسوس کی۔ انہوں نے اپنے دوست سے استفسار کیا کہ عثمان یہ سرد مہری کیوں!!۔ تو عثمان بن عفان نے جواب دیا کہ میں نے اسلام قبول کرلیا ہے اور تم ابھی تک مسلمان نہیں ہوئے تو اب ہماری دوستی کیسے چل سکتی ہے۔
ابو حذیفہ نے کہا تو پھر مجھے بھی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے چلو اور اس اسلام میں داخل کردو جسے تم قبول کرچکے ہو۔ چنانچہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا اور وہ کلمہ پڑھ کر دائرہ اسلام میں داخل ہوگئے۔ گھر آکر انہوں نے اپنی بیوی اور غلام کو اپنے مسلمان ہونے کا بتایا تو ان دونوں نے بھی کلمہ پڑھ لیا۔
حضرت ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ نے اس غلام سے کہا کہ چونکہ تم بھی مسلمان ہوگئے ہو اس لیے میں اب تمہیں غلام نہیں رکھ سکتا لہذا میری طرف سے اب تم آزاد ہو۔ غلام نے کہا آقا میرا اب اس دنیا میں آپ دونوں کے سوا کوئی نہیں ہے۔ آپ نے مجھے آزاد کردیا تو میں کہاں جاؤں گا۔

Address

Multan
Lahore

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Udas larki posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share