21/08/2026
💔 یونیورسٹی کی لڑکی کا بس ڈرائیور سے نکاح — ایک ایسی دعا جس نے اسے اندر سے توڑ دیا
اس کے ماں باپ نے اسے بڑے لاڈ، محبت اور ناز و نعم سے پالا تھا۔ وقت گزرا، وہ جوان ہوئی تو والدین کی مرضی کے بغیر کالج کی بس کے ڈرائیور سے خفیہ نکاح کر لیا۔
جب والد کو اس بات کا علم ہوا تو بیٹی نے کہا:
"میرا نکاح ہو چکا ہے۔ بہتر یہی ہے کہ آپ اپنے ہاتھوں مجھے رخصت کر دیں، ورنہ میں خود ان کے پاس چلی جاؤں گی۔"
باپ نے بیٹی کا فیصلہ سن کر کہا:
"اگر یہ تمہارا آخری فیصلہ ہے تو گھر سے جو کچھ لے جانا چاہتی ہو، لے جاؤ اور خود اپنے شوہر کے پاس چلی جاؤ۔ لیکن یاد رکھنا، آج کے بعد نہ تمہارا ہم سے کوئی تعلق ہے اور نہ ہمارا تم سے۔ تم ہمارے لیے مر گئی ہو اور ہم تمہارے لیے۔"
وہ خوشی خوشی اپنا سامان سمیٹ کر شوہر کے گھر چلی گئی۔
وقت گزرتا رہا…
تقریباً آٹھ سال بعد اس کی ملاقات ایک قریبی عزیز سے ہوئی۔ وہ اسے اپنے گھر لے آیا۔
بات چیت کے دوران اچانک وہ زار و قطار رونے لگی۔
گھر والوں نے سمجھا کہ شاید سسرال کے حالات اچھے نہیں، یا والدین سے جدائی اور نافرمانی کا پچھتاوا اسے اندر سے کھائے جا رہا ہے۔
سب اسے تسلی دینے لگے اور رونے کی وجہ پوچھنے لگے۔
کافی اصرار کے بعد اس نے آنسو پونچھتے ہوئے کہا:
"میں نے اپنے والدین کی نافرمانی کی، ان سے تمام تعلقات ختم کر لیے۔ اس بات کا پچھتاوا مجھے ساری زندگی رہے گا۔ مالی لحاظ سے بھی مجھے کوئی پریشانی نہیں، اللہ نے مجھے بہت کچھ دیا ہے۔"
پھر کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد وہ بولی:
"لیکن میرے لیے سب سے زیادہ تکلیف دہ بات کچھ اور ہے…"
اس کی صرف ایک بیٹی تھی۔
اس نے کہا:
"میرے شوہر جب نماز پڑھنے کے بعد دعا مانگتے ہیں تو میں نے کئی مرتبہ چھپ کر ان کی دعا سنی ہے۔ وہ روتے ہوئے اور گڑگڑاتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے صرف ایک ہی دعا مانگتے ہیں…"
پھر اس نے وہ الفاظ دہرائے:
🤲 "یا اللہ! میری بیٹی اپنی ماں جیسی نہ بنے۔"
🤲 "یا اللہ! میری بیٹی اپنی ماں کی طرح گھر سے بھاگ کر شادی نہ کرے۔"
🤲 "یا اللہ! یہ اپنی ماں کی طرح اپنے والدین کی عزت کو کبھی رسوا نہ کرے۔"
یہ الفاظ کہتے ہوئے شاید اسے پہلی مرتبہ احساس ہوا کہ ایک غلط فیصلہ صرف انسان کی اپنی زندگی کو نہیں، بلکہ آنے والی نسلوں کے دلوں پر بھی اثر چھوڑ سکتا ہے۔
💔 یہ دعا صرف ایک ماں کے لیے نہیں، بلکہ ہر بیٹے اور بیٹی کے لیے ایک پیغام ہے۔