27/09/2026
ڈرامہ "آپ کی عزت" نے ریکارڈ توڑ مقبولیت حاصل کی ۔اس کی مقبولیت کا یہ عالم رہا کہ شروع سے ہی لوگوں نے اپنی مختلف آراء دینی شروع کر دیں بلکہ اس بارے میں بھی بہت منفی رویوں کا اظہار کیا ۔
میں نے کئی مرتبہ کہا کہ عمیرہ احمد کی تحریر پر اعتبار کریں انہوں نے پہلے بھی کبھی مایوس نہیں کیا ۔جب بھی لکھا معاشرتی اور مذہبی حدود کی بات کی ۔
یہ ڈرامہ بھی بہت خوبصورتی سے ختم ہوا ۔اس میں ایک بیوی کی حیثیت سے عورت کے اس کرب کو بیان کیا ہے جو ایک عام عورت کو بیوی کی حیثیت سے جھیلنا پڑتا ہے اور شوہر اس کرب و اذیت سے بے خبر ہوتا ہے۔
عزت نفس ہر ذی نفس کو عزیز ہوتی ہے عزت نفس پر لگنے والی چوٹ روح تک ہلا دیتی ہے اور ہمارے ہاں مذاق کرنے کے نام پر بیوی کا مذاق اڑانا عام ہے۔
یہ درد بے شمار عورتوں کو سہنا پڑتا ہے جس پر عورت بے یقینی کا شکار ہو جاتی ہے ۔
بینا نے جو قدم اٹھایا وہ انتہائی غلط تھا جس پر وہ شدید شرمندگی اور پچھتاوے کا شکار ہے لیکن اس کے پیچھے بھی وجہ وہ ہی تھی ،عزت نفس کا مسلسل مجروح ہونا۔
ایک ماں کی حیثیت سے بھی بے شمار گھروں کی نمائندگی کی گئی ہے جس میں انجانے میں ایک ماں نفسیاتی طور پر اس وقت خود کو غیر محفوظ سمجھنے لگتی ہے جب بیٹے کی شادی ہوتی اور اس ذہنی کشمکش کے نتیجے میں بیٹے اور بہو کے بیچ میں آ جاتی ہے۔
ایک نئے رشتے میں عورت کے ساتھ ساتھ مرد کو بھی وقت چاہئیے ہوتا ہے کہ وہ اپنے نئے رشتے کو وقت دے ۔
اس ڈرامے میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ عورت مرد کی عزت ہے تو عورت اپنی بھی تو عزت ہے تو کیا عزت کی عزت لازم نہیں۔
کوئی بھی ہو کسی کا بھی مذاق اڑانا غیر اخلاقی عمل ہے جس کی ہمارے مذہب میں کوئی اجازت نہیں ۔
گھر میں توازن رکھنا اصل میں مرد کی زمہ داری ہے لیکن ہر ایک کا فرض ہے کہ دوسرے کی عزت نفس کا خیال رکھے۔
اکثر یہ سوال کیا جاتا ہے کہ ہمارے ہاں اب طلاقیں اتنی زیادہ کیوں ہو رہی ہیں تو اس کی بھی بہت بڑی وجہ بے یقینی اور جو ڈرامے میں مذکورہ حالات کے نتیجے میں پیدا ہوتی ہے۔
اس لئیے درست ہے وقت پر دونوں فریقوں اپنی اور ایک دوسرے کی عزت نفس مجروح ہونے سے بچائیں کہ اسلام میں میاں بیوی کو ایک دوسرے کا لباس قرار دیا گیا ہے ۔
افشین شہریار