31/10/2025
یہ سوات کا رہنے والا ایک کم عمر خواجہ سرا شایان ہے۔ چند روز قبل اسے چند ظالموں نے زیادتی کا نشانہ بنا کر ایک اونچی پہاڑی سے نیچے پھینک دیا جس کی وجہ سے اسکی کمر ٹوٹ گئی۔ آج شایان ہسپتال میں بنا کسی ماں، باپ اور رشتے دار کے اپنی زندگی کی جنگ لڑ رہا ہے۔
وہ جو ہم ڈھنڈورا پیٹتے ہیں کہ ہمارے بخت سیاہ ہوگئے ہیں۔ ہماری کمائی زہر بن گئی ہے۔ ہمارے رستے بند ہوگئے ہیں۔ ہم پے قحط اتر آیا ہے۔ ہمارے دریا سوکھ گئے ہیں۔ ہمارا جون اور جنوری ایک سا ہوگیا ہے۔ ہم سے چھاؤں چھین لی گئی ہے۔ ہماری خوش بختی مٹا دی گئی ہے۔ ہمیں مہلک بیماریاں لگ گئی ہیں۔ ہمارے بڑھاپے رسوا ہوگئے ہیں اور ہمیں دکھائی دینا بند ہوگیا ہے۔
دراصل یہ سب ہمارے ہی پیدا کردہ اسباب ہیں جس میں ہم نے زندگی اور درندگی کا فرق مٹا کر خود سے انسان ہونے کا ٹائٹل چھین لیا ہے۔ ہم آج بھی شاید سینکڑوں بلکہ ہزاروں سال پیچھے ہیں اور انسان کی کھال پہنے عقل اور شعور سے عاری منافق الفطرت غلیظ جاندار ہیں جنہیں واقعی گریبانوں سے گھسیٹ کر قیامت تک کے لیے کسی جہنم نما قید خانوں میں مقید کر دینا چاہئیے۔
رضا اختر کی وال سے
゚viralシalシ ***de