Asjad haidry

Asjad haidry تمام موضوعات پر تجزیہ ہمارا ذاتی ہے اس سے اختلاف اور متفق ہونا آپکا حق ہے

31/10/2025

‏یہ سوات کا رہنے والا ایک کم عمر خواجہ سرا شایان ہے۔ چند روز قبل اسے چند ظالموں نے زیادتی کا نشانہ بنا کر ایک اونچی پہاڑی سے نیچے پھینک دیا جس کی وجہ سے اسکی کمر ٹوٹ گئی۔ آج شایان ہسپتال میں بنا کسی ماں، باپ اور رشتے دار کے اپنی زندگی کی جنگ لڑ رہا ہے۔

وہ جو ہم ڈھنڈورا پیٹتے ہیں کہ ہمارے بخت سیاہ ہوگئے ہیں۔ ہماری کمائی زہر بن گئی ہے۔ ہمارے رستے بند ہوگئے ہیں۔ ہم پے قحط اتر آیا ہے۔ ہمارے دریا سوکھ گئے ہیں۔ ہمارا جون اور جنوری ایک سا ہوگیا ہے۔ ہم سے چھاؤں چھین لی گئی ہے۔ ہماری خوش بختی مٹا دی گئی ہے۔ ہمیں مہلک بیماریاں لگ گئی ہیں۔ ہمارے بڑھاپے رسوا ہوگئے ہیں اور ہمیں دکھائی دینا بند ہوگیا ہے۔

دراصل یہ سب ہمارے ہی پیدا کردہ اسباب ہیں جس میں ہم نے زندگی اور درندگی کا فرق مٹا کر خود سے انسان ہونے کا ٹائٹل چھین لیا ہے۔ ہم آج بھی شاید سینکڑوں بلکہ ہزاروں سال پیچھے ہیں اور انسان کی کھال پہنے عقل اور شعور سے عاری منافق الفطرت غلیظ جاندار ہیں جنہیں واقعی گریبانوں سے گھسیٹ کر قیامت تک کے لیے کسی جہنم نما قید خانوں میں مقید کر دینا چاہئیے۔
رضا اختر کی وال سے
゚viralシalシ ***de

یہ  کم عمر خواجہ سرا تشدد کا شکار ہوگیا ہے اور اس وقت سیدو شریف ہسپتال میں زیر علاج ہے ذرائع کیمطابق اس کے دانت ٹوٹ چکے ...
22/10/2025

یہ کم عمر خواجہ سرا تشدد کا شکار ہوگیا ہے اور اس وقت سیدو شریف ہسپتال میں زیر علاج ہے
ذرائع کیمطابق اس کے دانت ٹوٹ چکے ہیں، اسپائنل کارڈ فریکچر ہوچکا ہے، اور وہ معذوری کے خطرے سے دوچار ہے۔

Khyber Pakhtunkhwa is hell for trans community. 😞

چائے ہی بہتر ہے جو تمہاری طرح جگر نہیں جلاتی🤣🤣🤣🤣🤣😂😂😂😂
21/10/2025

چائے ہی بہتر ہے جو تمہاری طرح جگر نہیں جلاتی
🤣🤣🤣🤣🤣😂😂😂😂

20/10/2025

10/10/2025

جہاں انسانیت ہو وہاں مشکلات ختم ہونے میں وقت نہیں لگتا
کیسے خود مصیبت میں گھری عورت نے رپورٹر کو اپنے گھر خوش آمدید بولا
゚viralシalシ

2006 میں ایک کمزور اور ناتواں بچہ جسے بھوک اور افلاس نے ہڈیوں کا ڈھانچہ بنا دیا تھا، زندگی اور موت کی کشمکش میں کھڑا تھا...
10/10/2025

2006 میں ایک کمزور اور ناتواں بچہ جسے بھوک اور افلاس نے ہڈیوں کا ڈھانچہ بنا دیا تھا، زندگی اور موت کی کشمکش میں کھڑا تھا۔ لیکن ایک اجنبی عورت نے اس کی پیاس بجھائی اس کے ہاتھ میں روٹی رکھی اور سب سے بڑھ کر اس کے وجود کو نئی زندگی دی۔
وقت گزرتا گیا
2013 میں وہی بچہ مسکراتا ہوا، خوش لباس اور صحت مند نوجوان بن کر اس خاتون کے ساتھ بیٹھا ہے۔ یہ منظر بتا رہا ہے کہ محبت دعا اور قربانی سے زندگی بدلتی ہے۔
اور آج 2025 میں، وہ بچہ یونیورسٹی کا گریجویٹ ہے۔ چہرے پر اعتماد، دل میں خواب اور مستقبل میں روشنی۔ ساتھ کھڑی وہی عورت ہے جس نے کبھی اسے سڑک پر سے اٹھایا تھا، مگر آج وہ اس کی کامیابی پر فخر کے ساتھ مسکرا رہی ہے۔
ایک نیکی کسی کی پوری دنیا بدل سکتی ہے۔
امید اور محبت سب سے بڑی طاقت ہیں یتیمی اور غربت قسمت کا فیصلہ نہیں بلکہ انسانیت اور دعا سے قسمت بدلی جا سکتی ہے

زندگی سے مایوس ٹرانس جینڈر ابیحہ رضوی نے خود کشی کرلی ایک اور ہنستی کھیلتی روح زندگی کے غموں سے آزاد ہوگی۔کراچی کے پوش ع...
10/10/2025

زندگی سے مایوس ٹرانس جینڈر ابیحہ رضوی نے خود کشی کرلی

ایک اور ہنستی کھیلتی روح زندگی کے غموں سے آزاد ہوگی۔

کراچی کے پوش علاقے ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی کے فیز فائیو بدر کمرشل میں رہائش پزیر خواجہ سراء عبداللہ بابر عرف ابیحہ رضوی کی پنکھے سے لٹکی ہوئی لاش ملی ہے۔

تھانہ درخشاں کے اسٹیشن ہاؤس آفیسر (ایس ایچ او) شاہد تاج نے میڈیا کو بتایا کہ 24 سالہ ابیحہ رضوی ایک خاتون دوست کے ساتھ بدر کمرشل علاقے میں فلیٹ میں رہائش پذیر تھیں۔ایس ایچ او نے بتایا کہ خواجہ سرا کی شناخت ابیہ کے نام سے کی گئی جبکہ اس کا اصل نام عبداللہ بابر ہے

پولیس کا کہنا ہے کہ خاتون یسری نے اپنے ابتدائی بیان میں بتایا کہ ابیحہ اپنے والدین سے ملنے گلشنِ اقبال گئی تھیں، اور رات گئے واپس آئیں، صبح جب وہ جاگیں تو انہوں نے دیکھا کہ ابیحہ کی لاش چھت سے لٹکی ہوئی ہے۔

لڑکی نے پولیس کو بیان دیا ہے کہ اس نے اپنے دوستوں کو فون کر کے واقعے سے آگاہ کیا اور انھوں نے موقع پر پہنچ کر خواجہ سرا کی لاش اتار کر مدد گار 15 پر اطلاع دی۔

اطلاع ملنے پر امدادی کارکن اور پولیس کی نفری وقوعہ پر پہنچی۔پولیس نے کرائم سین سے شواہد اکھٹے کئے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ خواجہ سرا کی گردن پر پھندے کا نشان ہے اور ابتدائی طور پر واقعہ گلے میں پھندا لگا کر خودکشی کا معلوم ہوتا ہے۔
دوستوں کے مطابق آج دوپہر پاپوش قبرستان میں ابیحہ رضوی کی آخری رسومات ادا کردی گئی ہیں۔





***de

13/12/2024

پنجابی زبان کے بے مثال شاعر استاد دامن کی آج برسی ہے

استاد دامن کا منتخب کلام ـ

"مَینوں کَئیاں نیں آکھیا، کَئی واری
تُوں لَینا پنجابی دَا ناں چَھڈ دے

گود جِدھی چے پَل کے جَوان ہویوں
اوہ ماں چَھڈّ دے، تے گراں چَھڈ دے

جے پنجابی، پنجابی اِی کُوکنا اِیں
جِتّھے کَھلا کَھلوتا ایں، تھاں چَھڈّ دے

مَینوں اِنج لگدا، لوکیں آکھدے نیں
او پُترا! "اپنی توں ماں چَھڈ دے"

(استاد دامن)

Address

Shad Bagh
Lahore

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Asjad haidry posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share