07/08/2023
اپنی ساری کاوشوں کو رائیگاں میں نے کیا
میرے اندر جو نہ تھا اس کو بیاں میں نے کیا
سر پہ جب سایا رہا کوئی نہ دوران سفر
اس کی یادوں کو پھر اپنا سائباں میں نے کیا
اب یہاں پر سانس تک لینا مجھے دشوار ہے
کس تمنا پر زمیں کو آسماں میں نے کیا
لمحہ لمحہ وقت کے ہاتھوں کیا خود کو سپرد
سب گنوا بیٹھا تو پھر فکر زیاں میں نے کیا
جب نہ اس کے اور میرے درمیاں کچھ بھی رہا
خود کو ہی پھر اس کے اپنے درمیاں میں نے کیا
دونوں چپ تھے زور سے چلتی ہوا کے سامنے
پھر اچانک خشک پتوں کو زباں میں نے کیا