shafqat Aziz poet

shafqat Aziz poet شاعری شوقِ زندگی
زندگی ذوقِ شاعری

غزل
28/09/2024

غزل

15/09/2024
14/07/2024

حسین ابنِ علی
بوچھاڑ ہو نیزوں کی یا تیروں کی برسات ہو
سفر ہو کوفہ کا یا کربل کی کوئی رات ہو
پیاس ہو صدیوں کی یا بہتی ہوئی ُفراط ہو
لاکھ مصائب میں بس ایک حسین کی بات ہو
فوج ہو لاکھوں کی اور سامنے صرف بہتر ہوں
بچہ چھ ماہ کا اور تیر بدن سے بڑھ کر ہوں
اُس لعین کی شاہی سے جن کے نوکر برتر ہوں
حسین ابن علی، کاش! تیرے ہم بھی نوکر ہوں

شفقت عزیز

30/06/2024

غزل
آج اس میٹھے لہجے سے اک سبق نچوڑ آیا
نشان ٹوٹنے کا باقی رہا جہاں بھی جوڑ آیا
تیرے آنے کی خبر سن کر اتنا جلدی کی کہ
آ گیا میں تو مگر خود کو گھر پہ چھوڑ آیا
عجیب لوگ ہیں دنیا میں پڑھے لکھے بھی
فیصلہ کسی کا تھا اور وہ قلم کو توڑ آیا
تجھ کو جو چاہیے تھا سرخ رنگ مہندی کا
تیرا کچھ نہ لگنے والا بھی سر کو پھوڑ آیا
گر کوئی نہ بچھڑا تھا اس جگہ پر تو پھر
ویراں سیدھے رستے پر کیوں یہ موڑ آیا

شفقت عزیز

16/06/2024

کوئی نہیں سمیٹے گا بکھر کے دیکھ لیا
موت بھی نہیں حسیں، مر کے دیکھ لیا
کس طرح ٹھہریے کسی کے لیے دوست
کچھ نہیں ملتا بہت ٹھہر کے دیکھ لیا
سکون تک کا لفظ ہے نہیں کہیں یہاں
کہ تیرے دل میں بھی اتر کے دیکھ لیا
سوائے دولت، نہیں کہیں وفا دھرتی پر
دوست بھی تو ایک ایک کر کے دیکھ لیا
آج میں ہوں پتھر سے جو انسان بنا ہوا
آج اس نے مجھے آنکھ بھر کے دیکھ لیا
ابھی بھی نہیں مطمئن عکس دینے کو
آئینے نے سو بار بن سنور کے دیکھ لیا
ایا نہ ترس شفقت کسی حال پر اسے
کتنا اس در پہ سر کو دھر کے دیکھ لیا

شفقت عزیز

09/06/2024

غزل
وہ جو بھاگا تھا بچپن میں بستہ چھوڑ کر
اطمینان سے رویا کسی کو ہنستا چھوڑ کر
پھر کیوں کوئی نہ مر مٹے تیرے حسن پر
کہ بھیڑیے چلیں بھیڑوں کا رستہ چھوڑ کر
پہاڑ سے بھی پھوٹ پڑتی اک ندی یہ سنتے
بات سنیے آئی ہوں میں روتا بچہ چھوڑ کر
تیرا وقت قیمتی ہے تو میں بھی نہیں نکما
بس تیرے لیے مسکرایا میں گریہ چھوڑ کر
تجھ کو بھی اچھا نہیں لگ رہا ہے دوست
میں بھی ہوں یہ پہلی رات دریا چھوڑ کر
اس نے کہا، تم اکیلے اچھے لگتے ہو مجھے
پھر تنہا رہ گیا سب کچھ وہ پگلا چھوڑ کر

شفقت عزیز

06/06/2024

میں بے کار ہی ہو گیا ہوں تو نے جو دیکھا نہیں مجھے
تیرے بعد بھی زندہ رہا مگر کسی نے چاہا نہیں مجھے
میں کیسی سوچ میں گم ہوں کہ سوچ بھی آئے نہ اب
جب بھی یہ سوچتا ہوں کہ تو نے سوچا نہیں مجھے
دل نام ہے احساس کا اور چاہتا ہوں احساس سب کا کروں
مگر کیا کروں جو ایک دل میں ہے وہی بھولتا نہیں مجھے
میری زبان پہ ہیں الفاظ پر میرے الفاظ میں زبان نہیں
میں مسلسل بولتا ہوں مگر کوئی اب سنتا نہیں مجھے
خود کو تباہ کروں خود کو میں مار دوں اور کیا کروں
خود ہی رک جاتا ہوں کہ اب کوئی روکتا نہیں مجھے
انجان لوگ چھوڑ جاتے ہیں راہ میں کہیں شفقت
تو نے جو چھوڑ دیا کیا تو بھی ابھی جانتا نہیں مجھے

شفقت عزیز

Address

Lahore

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when shafqat Aziz poet posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Establishment

Send a message to shafqat Aziz poet:

Share

Category