M Noman Kamboh

M Noman Kamboh pesonal Blog

20/07/2026

There is nothing as the ‘perfect time’.
Take it as it is and make it perfect.

19/07/2026

زندگی میں آپ ایک اصول طے کر لیں کچھ بھی بن جائیں مگر کبھی بے فیض انسان نہ بنیئے گا کیونکہ درخت جب بے فیض ہو جائے تو اسے بھٹی یا چولہے میں جھونک دیا جاتا ہے
بیشک آپ اپنے ارد گرد دیکھ لیجئے گا اور یہ بات انسانوں کی ہو رہی درخت تو صرف ایک مثال ہے۔

10/07/2026

وہ پانی کا نظام ٹھیک کر کے زراعت میں جدت لا کر آپ کا معیار زندگی بہتر بنا سکتے ہیں؛
لیکن وہ ایسا نہیں کرتے۔

وہ ڈیم بنا کر، نہروں پر ٹربائن لگا کر سستی بجلی پیدا کرکے آپ کو دے سکتے ہیں؛
لیکن وہ نہیں دیتے۔

وہ ایران سے سستا تیل و گیس لے کر آپ کی مشکلات کم کر سکتے ہیں؛

لیکن وہ نہیں کرتے۔

وہ لا اینڈ آرڈر ٹھیک کر کے آپ کو پرسکون زندگی دے سکتے ہیں؛
لیکن وہ کر کے نہیں دیتے۔

وہ ٹوورزم کو بہتر بنا کر اور امن و امان قائم کر کے فی کس آمدنی بڑھا سکتے ہیں؛
لیکن وہ نہیں بڑھاتے۔

وہ بہتر اور معیاری نظام تعلیم لا کر قوم کا شمار مہذب قوموں میں کرا سکتے ہیں؛
لیکن وہ ایسا نہیں کرتے۔

وہ غربت اور جہالت کا خاتمہ کر کے ریاست کوخوشحال بنا سکتے ہیں؛

لیکن وہ نہیں بناتے۔

وہ ایسا کیوں نہیں کرتے؟
وہ ایسا اس لیے نہیں کرتے کیونکہ یہ ان کا مقصد ہی نہیں ہے۔

ان کا مقصد صرف اور صرف دولت سمیٹنا ھے،
جس کے لیے ضروری بے کہ عوام کو نان نفقہ کا محتاج رکھا جائے،
جس میں فی الحال وہ کامیاب ہیں۔
انہوں نے ہر قیمت پر تمہیں غلام ہی رکھنا ہے۔
اس طرح ہم سب قید میں ہیں۔

عوام کو ریلیف کیوں نہیں ملتا؟
عوام کی زندگی کیوں نہیں بدلتی؟

کیونکہ غلاموں کے اتنے ہی حقوق ہوتے ہیں جتنے ہمیں مل رہے ہیں۔
اس سے زیادہ سہولتیں آزاد قوموں کیلئے ہوتی ہیں۔

آپ محنت کرکے اپنا رہن سہن بہتر بنانے کی کوشش کرتے ہیں تو وہ مزید ٹیکسوں کا بوجھ ڈال کر آپ کو پچھلی پوزیشن پر پہنچا دیتے ہیں۔
آپ مزید محنت کرتے ہیں وہ مزید ٹیکس لگاتے ہیں۔
آپ کو وہ مصیبتوں سے نکلنے نہیں دیتے بلکہ آئے روز مزید پریشانیاں آپ کی منتظر ہوتی ہیں۔
ان سب نکات کو آپ ایک پاکستانی بن کرسوچیں!
آپ کو سب کچھ واضح نظر آئے گا
اور یہ سیاسی پوسٹ نہیں ہے یہ ہر پاکستانی کا مسئلہ..یہ مذہبی پوسٹ بھی نہیں ہے کہ یہ ہر فرقے کا مسئلہ ہے.. یہ علاقائی پوسٹ نہیں کہ سندھی پنجابی پٹھان بلوچ سبھی متاثرہ ہیں..براہ مہربانی کمنٹس میں ہر سیاسی جماعت کا کارکن اپنی جماعت کی ڈفلی بجا کر باقیوں کو غلط ثابت کرنے کے بجائے سارے نظام پر چار حرف بھیج کر باشعور ہونے کا ثبوت دیں. ہم کب تک دوسروں کے لیے نعرے بلند کرتے رہیں گے..کب تک دوسروں کے گوبر کو سوہن حلوہ ثابت کرتے رہیں گے..کب تک دوسروں کی غلاظت ڈھانپتے رہیں گے..کب تک اپنے حقوق سے بے خبر رہیں گے.. ایک غلام قوم کی ساری خصوصیات ہم گماشتوں کو ہم پر مسلط کرگیا جنھیں آقا بنا کر ہم خوشی خوشی غلامی کی زندگی بسر کررہے ہیں..

💯
15/06/2026

💯

13/06/2026
ضروری اعلان
12/06/2026

ضروری اعلان

 میریٹل ریپ کیا ہوتا ہے؟ یہ چونسٹھ سال کا شخص بھی آپ کو سمجھا سکتا ہے۔ اس ملک میں عورت انسان نہیں، برتنے کی شے ہے۔ یہ با...
12/06/2026


میریٹل ریپ کیا ہوتا ہے؟

یہ چونسٹھ سال کا شخص بھی آپ کو سمجھا سکتا ہے۔

اس ملک میں عورت انسان نہیں، برتنے کی شے ہے۔

یہ بات اٹھاون سالہ عورت کا لاشہ بھی آپ کو سکھا سکتا ہے۔

لیکن اگر اسی شخص کے گرد اکٹھے ہو کر آپ اسی قتل پر خوش گپیاں کر رہے ہیں۔ ٹھٹھے لگا رہے ہیں، میمز بنا رہے ہیں، وکیل کہہ رہے ہیں کہ ہم آپ کا کیس مفت لڑیں گے کیونکہ آپ کا اپنی بیوی کو قتل کرنا جائز تھا۔

تو کوئی آپ کو کچھ نہیں سمجھا سکتا۔ کوئی کچھ نہیں سکھا سکتا۔

آپ مسوجنی کو مساگنی لکھ کر اپنا کام کرتے رہیے۔

ابھی آپ پوٹینشل ریپسٹ ہیں۔

موقع ملنے کی دیر ہے۔ آپ ریپسٹ ہوں گے۔

مزید موقع مل گیا تو قاتل بھی۔

اس ملک میں اکثریت آپ جیسوں کی ہی ہے۔ سو آپ ہر حال میں مامون رہیں گے۔

آپ داروغے ہیں۔ یہ خطہ ارض جہنم ہے اور اس میں جلنے پر عورتوں کا حق پہلا تھا اور پہلا رہے گا۔

اپنی گرل فرینڈ پر خرچہ کریں لیکن کبھی اس کی بہن کو پڑھا کر وکیل نہ بنائیں۔A public service message by Chaddar
11/06/2026

اپنی گرل فرینڈ پر خرچہ کریں لیکن کبھی اس کی بہن کو پڑھا کر وکیل نہ بنائیں۔

A public service message by Chaddar

  خود ساختہ فیمینسٹ ذرا ادھر بھی دھیان دیں۔ذرا سوچیں آپ اپنے کسی عزیز کی ڈیڈ باڈی آخری رسومات ادا کرنے کی بجائے سائنٹیفک...
11/06/2026


خود ساختہ فیمینسٹ ذرا ادھر بھی دھیان دیں۔

ذرا سوچیں آپ اپنے کسی عزیز کی ڈیڈ باڈی آخری رسومات ادا کرنے کی بجائے سائنٹیفک ریسرچ کے لیے ڈونیٹ کر دیں اور ایک ڈاکٹر کسی شو میں جا کے آپ کے عزیز کے جسمانی اعضا کا مذاق اڑائے تو آپ کو کیسا لگے گا؟

یہ سجل پوار (Sejal Pawar) ہیں یہ ڈاکٹر ہیں پرنیت مورے(Pranit More) کے شو میں گئیں اور مردوں کی لاشوں پر
جوکس مارے ۔

ان کے ڈک(عضو تناسل )کے سائز کا مذاق اڑایا ۔
اور انہیں کسی تنقید کا سامنا نہیں کرنا پڑا نہ ان کی نوکری گئی ۔
بلکہ وہ اس شو کے بعد مشہور ہو گئی اور ان کے ڈھائی لاکھ سے زیادہ فالوورز ہیں ۔
انہیں کسی فیمنسٹ (حقوقِ نسواں کے علمبردار) یا عام لوگوں کی طرف سے غصے یا مخالفت کا سامنا نہیں کرنا پڑا کیونکہ وہ ایک خاتون ہیں
بہت سی خود ساختہ فیمنسٹس اب بھی ان کا دفاع کر رہی ہیں

اگر ہمانشو اپنے کہے گئے الفاظ پر تنقید کے مستحق تھا، تو سجل پوار کو اس سطح کے ردعمل اور غصے کا سامنا کیوں نہیں کرنا پڑ رہا؟
انہیں اسی طرح کی ٹرولنگ اور نتائج کا سامنا کرنے کے بجائے انسٹاگرام پر فالوورز اور سپورٹ کیوں مل رہی ہے؟
کیا یہ معاشرے کی برابری (مساوات) ہے؟

Address

Mananwala
Lahore
39170

Telephone

+923460674147

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when M Noman Kamboh posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Establishment

Send a message to M Noman Kamboh:

Shortcuts

Share

Category