31/03/2024
عید کارڈ کا دور ختم ہو گیا
لیکن ___________
عید جوں جوں قریب آتی جاتی ہے
وہ یادیں وہ شعر اب بھی یوں ذہن میں گردش کرتے ہیں جیسے کل کی بات ہو
رمضان میں اگر سموسے پکوڑے کے اسٹال کے بعد اگر سب سے زیادہ رَش ہوتا تھا تو وہ تھے عید کارڈ کے سٹال
ایک روپے کے چار کارڈ سے لیکر پانچ سو روپے تک کے کارڈ اتنی نفاست سے سجے ہوتے تھے کہ دل کرتا تھا یہ بھی خرید لوں وہ بھی خرید لوں بلکہ سارے ہی خرید لوں
مجھے یاد ہے میری سال بھر کی مٹی کے گلے کی کمائی عید کارڈز خریدنے میں صرف ہو جاتی تھی،
افطاری کے بعد اسٹال پر پہنچ کر سب سے مشکل مرحلہ عید کارڈ کی سلیکشن کا ہوتا تھا، ہم جب تک بچے تھے تو کارٹون، چمپینزی یا شوخ سے پھولوں والے کارڈ خریدتے تھے خریدتے وقت جس کو بھیجا جانا ہوتا تھا اس کی شکل کو ملحوظ خاطر رکھا جانا لازمی ہوتا تھا
اور اگر کسی سے ان بن چل رہی ہوتی تو انگلش میں پرنٹڈ کارڈ خریدے جاتے جس میں اپنا اور اسکا نام لکھنے کے لیے سپیس ہوتی تھی
تاکہ بھگتایا جاسکے، عاشق لوگ سرخ پھولوں سے آراستہ کپل کارڈز خریدتے ، شادی شدہ یا خاندان کو بھیجے جانے والے کارڈ زیادہ تر تین تین پیجز والے سنہری اور خوبصورت کَور فوٹو کے ساتھ منتخب کیے جاتے
لیکن
جو اس کے بعد مرحلہ ہوتا تھا وہ تھا کارڈ پر لکھائی کا
الحمدللہ واجبی سی ہینڈ رائٹنگ تھی تو ٹیوشن والی باجی کی خدمات حاصل کی جاتیں یا گھر میں جس کی ہینڈ رائٹنگ اچھی ہوتی اس کو رشوت دی جاتی
اگر کوئی نہ ملتا تو
لکھنے والے الفاظ یا شعروں کو تین تین چار چار مرتبہ رَف کاپی پر لکھ کر لکھنے کی پریکٹس کر کے لکھا جاتا
پھر شعر لکھتے ہوئے ترچھے انداز میں لکھنا اور اس طرح سے لکھنا کہ خوبصورتی میں اضافہ ہو اور پڑھنے والا داد دیے بغیر نہ رہ سکے
اس دور کے چند مشہور اشعار💕
میٹھی ہے چینی کڑوے ہیں بادام
عید کارڈ کھولنے والے کو میرا سلام
ڈبے میں ڈبہ، ڈبے میں کیک
میرا دوست لاکھوں میں ایک
چاول چنتے چنتے نیند آ گئی،
صبح اٹھ کر دیکھا تو عید آ گئی
گرم گرم روٹی توڑی نہیں جاتی،
تم سے دوستی چھوڑی نہیں جاتی ________
سویاں پکی ہیں سب نے چکھی ہیں
تم کیوں روتے ہو تمہارے لیے بھی رکھی ہیں
وہ وقت بہت حسین تھا جب ٹوٹی ہوئی دوستی چھنگلی یا چیچی انگلی مل جانے سے جُڑ جاتی تھی، اور عید کارڈ اسے پختگی بخشنے کی ضمانت ہوتے تھے
منقول🕳❤️