Firdous e Gosh

Firdous e Gosh Firdous e Gosh was a Musical show produced by PTV based on classical music. We have covered 32 Raags.

Art Tree by Faheem Mazhar is a unique project aimed at promoting the beauty of art through music, specifically Indian classical music. Based in Lahore, this project is a tribute to the rich cultural heritage of India and the role music plays in it. Faheem Mazhar, the founder of Art Tree, is a renowned Indian classical musician and music educator who has dedicated his life to promoting the art of m

usic. He believes that music has the power to bring people together and evoke emotions that are beyond words. He has curated Art Tree to bring people closer to the beauty of music and create an atmosphere that is conducive to musical learning and appreciation. Our eastern classical music program is designed to teach you from basic to advanced level.

06/03/2026
Ghazal night where music meets emotion. Contact
23/07/2025

Ghazal night where music meets emotion.

Contact



01/04/2025

Eid na deed

21/03/2025
16/03/2025

Jalib a beautiful dancer and a lovely person passed away. May his soul rest in peace,Ameen.

28/12/2024

On the sad demise of great qawall Sher Ali Khan, an old memory is being shared. May his soul rest in peace.

26/12/2024

We have lost another Icon of qawali from this world. Ustad Sher Ali, a meastro of his genre, has gone to the final abode yesterday. May he rest in peace. His music will keep him alive forever. Our condolences with all music lovers.

25/09/2024

a song from Firdous e gosh.

14/08/2024

کم و بیش دس برس قبل، پاکستان ٹیلی ویژن پر میرے پروگرام فردوس گوش کی ہفتہ وار نشریات جاری تھیں۔ پروگرام کی میزبانی میرے ذمہ تھی اور فریحہ پرویز کو ہوسٹ تھیں۔ برصغیر پاک و ہند کی تاریخ میں یہ اپنی نوعیت کا واحد پروگرام تھا جس میں کلاسیکی موسیقی کو صحیح معنوں میں عوام کے سامنے پیش کرنے کی سعی کی گئی تھی۔ ہر دوسرے ہفتے کسی ایک راگ میں سات آٹھ دھنیں بنانا، ( جن میں لکشن گیت، ٹھمری، گیت، قوالی، انگریزی گانا اور خیال کی بندشیں وغیرہ شامل ہیں) سازندوں اور گویوں کو یاد کرانا اور دھنوں پر بول لکھنا، کہنے کو تو آسان ہے لیکن کرنا بہت مشکل ہے۔
ہندوستانی کلاسیکی موسیقی کے متعلق مشہور ہے کہ یہ علم چھپا کر رکھا گیا ہے اور اس میں نئی اختراعات کو بھی پسندیدگی کی نظر سے نہیں دیکھا جاتا۔ لہذا ہر وہ شخص جو روایت سے ہٹ کر کام کررہا ہو، اسکی حوصلہ افزائی کا رواج نہیں ہے۔ اس پروگرام کے دوران میں بھی کئی گانے والوں اور گھرانے والوں کی طرف سے یہ اعتراض وارد کیا گیا کہ اب عطائی، کلاسیکی موسیقی سکھائیں گے۔ جب مجھ تک یہ بات پہنچی تو میں نے بعض گھرانے دار لوگوں سے کہا کہ اگلا راگ میں نہیں کرتا، اس کی ذمہ داری آپ لے لیں اور اگلے ہفتے متعلقہ راگ میں لکشن گیت، ٹھمری، رقص، غزل، خیال کی بندش اور قوالی کی آئٹمز بنا کر لے آئیں اور ریکارڈ کرلیں، مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے۔ میری توقع کے عین مطابق، کوئی بھی یہ بوجھ اٹھانے کو تیار نہ ہوا، البتہ اعتراضات جاری رہے۔ مجھے پاکستان کے ایک بڑے کلاسیکی گویے نے ایک دو بار استاذانہ بے تکلفی کا مظاہرہ کرتے ہوئے تنبیہ کی کہ "فہیم پتر، نئی بندشیں بنانے سے لقوہ ہوجاتا ہے۔" میں نے ادب سے عرض کیا کہ " میرے محلے میں ایک کوچوان کو بھی لقوہ ہوگیا ہے حالانکہ اس بیچارے نے کوئی بندش نہیں بنائی۔ " غالبا انہیں اس جواب کی توقع نہیں تھی البتہ اس واقعے کے بعد انہوں نے دوبارہ کبھی مجھے ڈرانے کی کوشش نہیں کی۔

پروگرام فردوس گوش کی ایک بات، جو میرے نزدیک اس کا طرہ امتیاز تھا، وہ یہ کہ اس میں راگوں کے حوالے سے تنقیدی گفتگو اور استاد گویوں کی جانب سے مخصوص راگ پر انکے خیالات بھی شامل کیے جاتے تھے۔ یہ سلسلہ شروع کرنے کے پیچھے یہ خیال کار فرما تھا، کہ پاکستان میں موسیقی کے نظری اور علمی پہلو کی طرف توجہ نہیں دی گئی۔ عملی طور پر گھرانے دار لوگوں نے ملک کا نام روشن ضرور کیا، البتہ اکثریت کو صرف وہی گانا یاد تھا، جو ان کے بزرگوں نے انہیں یاد کروایا تھا اور اس کی تصدیق کے لئے بعض پرانی کتابیں موجود تھیں۔ لیکن گانے کا فلسفہ کیا ہوتا ہے، اس کی طرف توجہ کسی نے نہیں دی۔

اسی زمانے میں، میں نے راگ دیس میں کچھ چیزیں بنائیں۔ پی ٹی وی لاہور اسٹیشن میں ریکارڈنگ جاری تھی۔ سب سے پہلے راگ دیس کا لکشن گیت بچوں سے گوایا گیا۔ لکشن گیت، سے مراد ایسا گیت ہے جس میں کسی راگ کی خصوصیات اور نشانیاں بتائی جاتی ہیں اور اگر لکشن گیت یاد کرلیا جائے تو اس راگ کی معلومات ذہن میں محفوظ رہتی ہے۔ بزرگوں نے اگرچہ پہلے بھی راگ دیس کے لکشن گیت بنائے ہیں اور کتابوں میں با آسانی مل جاتے ہیں مگر میری خواہش تھی کہ میں نئے سرے سے گیت لکھوں اور بچوں کو تیار کروا کر ان سے پرفارم کرواؤں۔ لکشن گیت ریکارڈ ہوگیا اور پروگرام کی ریکارڈنگ اگلے مراحل میں داخل ہوگئی۔ آخر پر بزرگ موسیقاروں اور گویوں کو اپنے خیالات کا اظہار کرنا تھا۔

استاد قادر شگن، غلام حیدر خاں جیسے بزرگ تشریف فرما تھے۔ معروف میوزک ڈائریکٹر مجاہد حسین جعفری اور استاد پرویز پارس بھی موقع پر موجود تھے۔

استاد قادر شگن نے راگ دیس پر اپنے خیالات کا بہت خوبی سے اظہار فرمایا لیکن انہوں نے آخر پر کہا کہ راگ دیس کا وادی سر رکھب اور سموادی سر نکھاد ہے۔ یہ بات سن کر میرے کان کھڑے ہوگئے کیونکہ کچھ دیر قبل ریکارڈ ہوئے لکشن گیت میں، میں نے واضح طور پر لکھا اور گوایا تھا کہ راگ دیس کا وادی سر رکھب اور سموادی سر، پنچم ہے۔ ایسا ممکن نہیں تھا کہ ایک ہی پروگرام میں، میری طرف سے سموادی سر پنچم اور استاد قادر شگن کی طرف سے بتایا گیا سموادی سر نکھاد، ایک ساتھ چلا دیا جاتا۔ اس سے کلاسیکی موسیقی والوں کیلیے کنفیوژن بڑھنے کے علاوہ کچھ حاصل نہیں ہونا تھا۔ میری خواہش نہیں تھی کہ ایک بزرگ استاد، اور گھرانے دار موسیقار سے اختلاف کروں لیکن اس کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔

جونہی ان کی بات ختم ہوئی، میں گزارش کی کہ راگ دیس کا سم وادی سر نکھاد نہیں ہوسکتا۔ تس پر انہوں نے فرمایا کہ کیا ہم نے غلط سیکھا ہے؟ میں نے عرض کیا کہ میرے کہنے کا یہ مطلب نہیں کہ آپ نے غلط سیکھا ہے۔ میں تو آپکی توجہ ایک اصول کی جانب دلانا چاہتا ہوں، اور وہ اصول یہ ہے کہ وادی اور سم وادی میں کم از کم تین سروں کا فاصلہ ہونا ضروری ہے۔ پرانے دور میں شاید اس فاصلے کا اتنا خیال نہیں رکھا جاتا ہوگا البتہ موسیقی کوئی جامد شے نہیں ہے، بلکہ موسیقی میں بھی ارتقا کا عمل ہر لمحہ جاری رہتا ہے۔ پچھلے سو ڈیڑھ سو برس سے اس اصول کی پیروی کی جارہی ہے کہ وادی اور سموادی میں تین سروں کا فاصلہ موجود ہو۔ برایں بنا، راگ دیس کا سموادی سر نکھاد نہیں ہوسکتا۔

ہمارے دوست مجاہد حسین جعفری صاحب گویا ہوئے کہ اس میں دونوں نکھادیں لگتی ہیں اور ملہار کا رنگ بھی پایا جاتا ہے، وغیرہ وغیرہ۔

میں نے عرض کیا کہ ملہار کا رنگ کیسے آسکتا ہے؟ ملہار تو اس وقت بنتا ہے جب اوپر " ما رے پا " کی تان اور نیچے " ما پا نی دھا نی سا " کی تان کہیں۔ اس میں تو دونوں نکھاد بالکل مختلف طریقے سے لگ رہے ہیں۔

ریکارڈنگ کے دوران تو یہ بحث کسی منطقی انجام پر نہ پہنچ سکی اور کسی حد تک بدمزگی بھی پیدا ہوئی کیونکہ میں ہرگز یہ نہیں چاہتا تھا کہ اپنے بزرگوں کے ساتھ بحث و تمحیص میں الجھوں۔

گھر پہنچ کر خیال آیا کہ اگر استاد قادر شگن نے دیس کا سموادی سر نکھاد بتایا ہے تو یقینا اس کی کوئی وجہ ہوگی۔ ایک علم رکھنے والے گھرانے دار گویے کا یوں بے وجہ ایسی بات کردینا، ممکن نہیں ہے۔ تلاش کرنے پر موسیقی کی معروف کتاب " معارف النغمات " میں راگ دیس کے ضمن میں یہ مل گیا کہ اس کا سموادی سر نکھاد ہے۔

معارف النغمات، نواب ٹھاکر علی خاں کی تصنیف ہے اور دو جلدوں پر مشتمل ہے۔ پاکستان میں کلاسیکی موسیقی سے تعلق رکھنے والے لوگ اکثر اس کتاب سے استفادہ کرتے ہیں۔ اس کے قدیم نسخے تو اب کمیاب ہیں البتہ استاد بدرالزماں خان نے اس کتاب کو از سر نو شائع کیا ہے۔ جب ان کے علم میں یہ معاملہ لایا گیا تو وہ بھی حیران رہ گئے کہ کتاب کی ایڈیٹنگ کے دوران یہ غلطی میری نظر میں آنے سے کیسے رہ گئی۔ جس پر میں نے عرض کیا کہ معارف النغمات میں صرف ایک یہی غلطی موجود نہیں ہے، بلکہ بے شمار غلطیاں موجود ہیں۔ اس کے علاوہ یہ کتاب اس قدر قدیم ہے کہ اس سے مزید استفادہ کرتے ہوئے احتیاط کرنی چاہیے کیونکہ اس کا بہت سا مواد اب متروک ہوچکا ہے۔ بہت سی نئی کتب لکھی جاچکی ہیں اور ہندوستانی کا موسیقی بھی اس کتاب سے آگے بڑھ چکی ہے۔

خیر یہ بات آئی گئی ہوگئی۔ لیکن میرا عزم مزید پختہ ہوگیا کہ موسیقی کے نظری و علمی پہلو پر کام کرنے کی شدید ضرورت ہے۔ لیکن سوال یہی ہے کہ اس بھاری پتھر کو آخر اٹھائے کون؟

ایک بات تو یقین سے کہی جاسکتی ہے کہ پاکستانی حکومت کی طرف سے کلاسیکی موسیقی کی خدمت یا ترقی کیلیے کسی اقدام کے انتظار میں بیٹھے رہنا بے وقوفی ہے۔ اگر موسیقی میں تحقیق کا معاملہ اکیڈیمیا کے سپرد کیا گیا تو اغلب امکان ہے کہ ترقیوں اور تنخواہوں میں اضافے کیلیے شاید پروفیسر صاحبان دھڑا دھڑ مقالے لکھنا شروع کردیں۔ ان مقالوں کا معیار بھی دیگر علوم کے مقالوں جیسا یا شاید ان سے برا ہی ہوگا۔ انفرادی سطح پر یہ کام کرنا مشکل ہے۔ جو لوگ انفرادی سطح پر یہ کام کرسکتے تھے انہوں نے ہر ممکن کوشش کی ہے۔ مثلا استاد پرویز پارس اور استاد بدرالزماں خاں وغیرہ کی کاوشیں سراہے جانے کے قابل ہیں۔ پھر ہمارے یہاں کلاسیکی موسیقی کو بھی چھپا چھپا کر رکھنے کا رواج ہے، اگر کوئی شخص غلط بھی کررہا ہے تو اسے جانتے بوجھتے بھی ٹھیک نہیں کرایا جاتا۔ گھرانے والوں کا موقف ہے کہ ہم اپنا علم یونہی کیونکر کسی کے حوالے کردیں۔ لہذا موسیقی کے حلقوں میں رہ کر بھی آپ اس طرح علم حاصل نہیں کرسکتے، جیسا کہ اسکا حق ہے۔ اسی شہر لاہور میں جہاں، وشنو دگمبر پلوسکر نے ایک صدی قبل ایک عظیم الشان میوزک کالج قائم کیا تھا، آج اس شہر میں آپ کوئی اچھا ستار نواز، سارنگی نواز ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملے گا۔ اگر یہی حالت رہی تو میری چشم تصور میں وہ زمانہ بھی کچھ زیادہ دور نہیں جب کلاسیکل گویے بھی تلاش کرنے پر ہی ملیں گے۔

میں نے ایک سال قبل، اسی خیال کے تحت لاہور میں ” آرٹ ٹری فاونڈیشن " کے نام سے ایک منصوبے کا آغاز کیا تھا، اور پہلے مرحلے میں موسیقی کی نظری مبادیات پر سو کے قریب مختصر ویڈیوز، اور چند مفصل لیکچرز ریکارڈ کروائے تھے۔ دیکھتے ہی دیکھتے چند ماہ کے مختصر عرصے میں پندرہ ہزار کے قریب لوگ میرے فیسبک اکاونٹ سے جڑ گئے جن میں ایک قابل ذکر تعداد پڑوسی ملک بھارت کے لوگوں کی بھی ہے۔

اس منصوبے کے دوسرے مرحلے میں جلد میری کلاسیکی موسیقی کی ذاتی کولیکشن بھی جلد منظر عام پر آنے والی ہے، جس میں بہت سی ایسی ریکارڈنگز بھی ہیں، جو انٹرنیٹ پر موجود نہیں۔ مثلا ماسٹر عبداللہ کی آڈیو اور ویڈیو ریکارڈنگز، استاد نذر حسین کی میرے گھر پر کی گئی ریکارڈنگز، اسی اور نوے کی دہائی میں ہماری بیٹھک پر کی گئی ریکارڈنگز اور ہندوستان سے لاہور اور کراچی آ کر گانے والے ہندوستانی گویوں کی ریکارڈنگز جنہیں عوامی رسائی دینا، پاکستانیوں کی ذمہ داری تھی، لیکن کسی نے اس ذمہ داری کو ذمہ داری نہیں سمجھا۔ جن لوگوں کے پاس ذاتی طور پر ایسی ریکارڈنگز ہیں، وہ ان پر سانپ بن کر بیٹھے ہیں اور اسے عوامی رسائی دینے سے گھبراتے ہیں۔ آپ صرف اس بات سے اندازہ لگا لیجئے کہ میرے پاس میری اپنی چالیس سال کی ریکاڑدنگز مکمل موجود نہیں ہیں، اور کس قدر تلاش بسیار کے بعد کوئی نہ کوئی ریکارڈنگ ہاتھ آتی ہے، تو اسے انٹرنیٹ پر ڈال دیا جاتا ہے۔

تیسرے مرحلے میں موسیقی پر کتب کی اشاعت کا کام بھی زیر غور ہے۔ اگر پاکستان سے جرنل آف سنگیت ریسرچ اکادمی کے کسی شمارے کے پائے کی صرف ایک کتاب، ہر سال شائع ہوجائے اور 25 کروڑ آبادی میں سے صرف ایک ہزار قاری بھی اس کتاب کو میسر ہوجائیں، تو اسے ایک انقلابی تبدیلی سمجھنا چاہئے۔ اور اسی موہوم امید پر، ہم ایسے دیوانے ابھی تک ہار نہیں مان بیٹھے۔ بقول احمد مشتاق

دل نہ میلا کرو، سوکھا نہیں سارا جنگل
ابھی اک جھنڈ سے پانی کی صدا آتی ہے

فہیم مظہر

14/06/2024

Host: Juggun KazimGuests: Riaz Khan, Faheem Mazhar, Chef Tayyaba AltafProject Head: Dr. Qaisar SharifExec. Producer: Sayyed Azhar FareedProduced by: Sidra Ta...

11/06/2024
25/05/2024

Address

Lahore

Telephone

+923218433694

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Firdous e Gosh posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category

//iconSize: [32, 32], //html: '' }) .bindTooltip(name, { //permanent: true, direction: 'bottom', //offset: L.point(12, 25), //opacity: 0.88, interactive: true }) .bindPopup(name); markersLayer.addLayer(marker); } function getMore() { if (gettingMore) { return; } gettingMore = true; var center = map.getCenter(); $.ajax({ url: "/vicinitysearch", data: { lat: center.lat, lng: center.lng, country: "PAKISTAN" } }) .done(function(data) { var added = 0; data.forEach(function(loc) { if (!locationIds.includes(loc.id)) { var mapLoc = {id:loc.id,lat:loc.latitude,lng:loc.longitude,title:trunc20(loc.name),popupHtml:loc.popupHtml,urlPath:loc.urlPath,pictureUrl:loc.pictureUrl}; locations.push(mapLoc); locationIds.push(loc.id); map._addMarker(mapLoc); added++; } }); }) .always(function() { gettingMore = false; }); } map._clearMarkers = function() { markersLayer.clearLayers(); } }); }, 4000); });