01/04/2024
اے بہار باغ دنیا چند روز
دیکھ لو اس کا تماشا چند روز
اے مسافر کوچ کا سامان کر
اس سرا میں ہے بسیرا چند روز
دفن کر کے قبر میں بولی قضا
اب یہاں تم سوتے رہنا چند روز
ہے نمائش اس جہاں کی اس طرح
جیسے نو چندی کا میلہ چند روز
غافلو یاد الٰہی چاہئے
ہے بکھیڑا زندگی کا چند روز
کیوں ستاتے ہو کسی مجبور کو
ظالمو یہ ہے زمانہ چند روز