12/09/2025
صحرا کی ہوا، آنکھوں میں خواب لیے بیٹھا ہے
اک چھوٹا سا دل، غموں کے حساب لیے بیٹھا ہے
پرانا سا پہیہ، امید کا سہارا بنا ہوا
وقت کی دھول میں بھی مسکرانے کا گہرا بنا ہوا
پاؤں ننگے، مگر خواب ستاروں کے ہیں
خاکی راستے، مگر ارادے بہاروں کے ہیں
چہرے پہ سادگی، نگاہوں میں سوال چھپے ہیں
زندگی کی کتاب میں، کئی نئے خیال چھپے ہیں
غربت کے بیچ بھی دل امیر لگتا ہے
یہ بچہ اپنی معصومیت میں تقدیر لگتا ہے
🌹🙏✅