16/07/2026
بحیرہ روم (Mediterranean Sea) کی نیلی لہروں پر ایک ایسا دور بھی گزرا ہے جب کسی یورپی جہاز کے کپتان کو دور افق پر ایک خاص جھنڈا لہراتا ہوا نظر آتا، تو پورے جہاز پر موت کا سناٹا چھا جاتا تھا۔ عیسائی ملاح خوف سے کانپنے لگتے، اور جہاز کے توپچی بدحواسی میں اپنی پوزیشنیں سنبھالتے۔
سدیوں تک مغرب کی تاریخ نے ان لوگوں کو "باربری پائریٹس" (Barbary Pirates) یعنی خونخوار بحری قزاق، لٹیرے اور لاء لیس چور بنا کر پیش کیا۔ لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ جنہیں پورا یورپ سمندر کا سب سے بڑا خوف اور ڈاکو کہتا تھا، وہ اصل میں باقاعدہ مسلم ریاستوں کے سٹریٹجک کمانڈرز اور عثمانی خلافت کے آفیشل نیول آفیسرز تھے؟
مغرب کا پروپیگنڈا ایک طرف، مگر حقیقت کی گہرائی میں اتریں تو بحیرہ روم کے ان "قزاقوں" کی اصل داستان دنگ کر دینے والی ہے۔
باربری کورسیئرز (Barbary Corsairs) کون تھے؟
یہ کہانی شروع ہوتی ہے سولہویں صدی کے آغاز میں۔ شمالی افریقہ کے ساحلی علاقے (موجودہ الجزائر، تیونس، اور لیبیا) کو مغرب "باربری کوسٹ" کہتا تھا۔ یہاں سے آپریٹ کرنے والے مسلم ملاحوں کو تاریخ میں باربری کورسیئرز کہا گیا۔
یورپ انہیں "قزاق" (Pirates) اس لیے کہتا تھا کیونکہ وہ یورپی تجارتی جہازوں پر حملے کرتے تھے، ان کا مال ضبط کرتے تھے اور ان کے ملاحوں کو قیدی بنا لیتے تھے۔ لیکن قانونِ جنگ کی رو سے وہ عام ڈاکو نہیں تھے۔ وہ "پرائیویٹیئرز" (Privateers) تھے—یعنی ایسے بحری کمانڈرز جنہیں باقاعدہ مسلم سلطنتوں، خصوصاً سلطنتِ عثمانیہ (Ottoman Empire) کی طرف سے دشمن ممالک کے خلاف بحری کارروائیاں کرنے کا قانونی اجازت نامہ اور سرکاری سرپرستی حاصل تھی۔
اندلس کا انتقام اور ایک نئی جنگ
مسلمانوں کے ان بحری حملوں کے پیچھے ایک بہت گہرا تاریخی پس منظر اور درد تھا۔ جب 1492ء میں اسپین سے مسلمانوں کا خاتمہ کیا گیا اور اندلس سے لاکھوں مسلمانوں اور یہودیوں کو بے دردی سے نکالا گیا، تو ان مظلوموں کی ایک بڑی تعداد نے شمالی افریقہ کے ساحلوں پر پناہ لی۔
ان کے دلوں میں اپنے چھنے ہوئے وطن کا دکھ اور ہسپانوی حکمرانوں کے خلاف شدید غصہ تھا۔ ان اندلسی مہاجرین نے بحری طاقت کو اپنا ہتھیار بنایا۔ انہوں نے عثمانی خلافت کی مدد سے ایسے تیز رفتار جہاز تیار کیے جو ہسپانوی اور پرتگالی جہازوں کو سیکنڈوں میں گھیر لیتے تھے۔ یہ ان کے لیے محض لوٹ مار نہیں، بلکہ اندلس کے مظلوموں کا یورپی طاقتوں سے لیا جانے والا ایک سٹریٹجک انتقام تھا۔
خیر الدین باربروسا: قزاق یا گرینڈ ایڈمرل؟
جب بھی باربری ملاحوں کا ذکر آتا ہے، تو مغرب کا ہیرو اور مسلمانوں کا نامور غازی خیر الدین باربروسا اور ان کا بھائی عروج باربروسا ذہن میں آتے ہیں۔ ہالی ووڈ کی مشہور فلم "پائریٹس آف دی کیریبین" کا مرکزی کردار 'کیپٹن ہیکٹر باربروسا' اسی مسلم ہیرو کے نام پر بنایا گیا ہے، لیکن فلموں میں انہیں ایک ڈاکو دکھایا گیا۔
حقیقت یہ ہے کہ عروج اور خیر الدین باربروسا نے اپنی غیر معمولی بحری صلاحیتوں کی بدولت نہ صرف اسپین کے بحری بیڑوں کو ناکوں چنے چبوائے، بلکہ جب عثمانی خلیفہ سلطان سلیم اول نے ان کی طاقت کو دیکھا، تو انہیں باقاعدہ عثمانی بحریہ میں شامل کر لیا۔ خیر الدین باربروسا کو سلطنتِ عثمانیہ کا "قپودان پاشا" (Grand Admiral) یعنی بحری فوج کا سب سے بڑا کمانڈر مقرر کیا گیا۔ انہوں نے 1538ء میں "جنگِ پریوزا" (Battle of Preveza) میں پورے یورپ کے متحدہ بحری بیڑے کو وہ عبرتناک شکست دی جس نے اگلے تین سو سال کے لیے بحیرہ روم کو "عثمانی جھیل" بنا کر رکھ دیا۔
امریکہ کو بھی جزیہ دینا پڑا!
یہ مسلم کمانڈرز اس قدر طاقتور تھے کہ دنیا کی بڑی بڑی سلطنتیں ان سے امن خریدنے کے لیے سالانہ جزیہ (ٹیکس) دیا کرتی تھیں۔ یہاں تک کہ جب امریکہ ایک آزاد ملک بنا اور اس کے تجارتی جہاز بحیرہ روم میں آئے، تو ان باربری کمانڈرز نے امریکی جہازوں کو پکڑ لیا۔
امریکہ اس وقت ان سے لڑنے کی پوزیشن میں نہیں تھا۔ چنانچہ 1795ء میں امریکہ کو طرابلس (لیبیا) اور الجزائر کے مسلم حکام کے ساتھ باقاعدہ ایک معاہدہ کرنا پڑا، جسے "Treaty of Tripoli" کہا جاتا ہے۔ اس معاہدے کے تحت امریکی تاریخ میں پہلی اور آخری بار، امریکی حکومت نے مسلمانوں کو اپنے جہازوں کی حفاظت کے بدلے بھاری رقم اور سالانہ جزیہ دینا منظور کیا۔
پروپیگنڈا بمقابلہ حقیقت
تاریخ ہمیشہ جیتنے والا لکھتا ہے۔ چونکہ انیسویں صدی کے بعد مسلم بحری طاقت کمزور پڑ گئی اور یورپی ممالک نے ان علاقوں پر قبضہ کر لیا، اس لیے انہوں نے مسلم جرنیلوں اور ایڈمرلز کو تاریخ کی کتابوں میں "بحری ڈاکو" لکھ دیا۔
جب فرانس یا اسپین کے جہاز مسلم ساحلوں پر حملے کرتے، تو وہ "مقدس جنگ" کہلاتی، لیکن جب مسلم کمانڈرز اپنی ریاست کے دفاع اور اندلس کا بدلہ لینے کے لیے یورپی جہازوں کو نشانہ بناتے، تو انہیں "قزاق" کا نام دے دیا جاتا۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ سمندری حدود کے محافظ تھے، جو اپنی مٹی، اپنی خلافت اور اپنے لوگوں کا دفاع ایک ایسی نیول وارفیئر (Naval Warfare) کے ذریعے کر رہے تھے جس کے اصول خود یورپ نے طے کیے تھے۔
آج جب ہم تاریخ کو کھوجتے ہیں، تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ سمندر کی ان لہروں کے نیچے کتنے ہی ایسے مسلم ہیروز کے نام دفن ہیں جن کے جلال سے کبھی سمندر کا سینہ کانپتا تھا، مگر وقت کی دھول نے انہیں پسِ منظر میں دھکیل دیا۔
اگر آپ کو تاریخ کا یہ سچا اور سنسنی خیز رخ پسند آیا ہو، تو کمنٹ میں اپنی رائے ضرور دیں اور اس پوسٹ کو شیئر کر کے اپنے دوستوں تک بھی یہ معلومات پہنچائیں۔