30/07/2019
تم بس خوش رہو ۔ ایک لفظ ہی تو ہے نا جسے کون سمجھا ۔ کہنے والا تو کہہ دیتا ہے لیکن کون اس کی حقیقت سمجھے ۔ کہ تم تو شاہ کو کہہ رہے ہونا خوش رہو ۔ زرا یہ بتائو کیا میں خوش رہ سکتا ہوں تمہارے بغیر . اب یہ تم کو کیسے پتا میں تمہارے جانے سے خوش ہوں یا غم زدہ ۔ مجھے سکون ہے یا تکلیف ۔ جب تم نے ٹھان ہی لی ہے کہ مجھے چھوڑ دیا جائے کسی اور کی زندگی کو رونق بخشنی ہے تو میں تم کو کہتا ہوں تم خوش رہو بلکہ تمہاری آنکھوں سے جھلک رہا ہے وہ سکون کہ تم کو فکر نہیں کوئی جیئے یا مرے بس تم نے تو اپنی زندگی جینی ہے نا تو جیئو روکا کب ہے ۔ بس ایک بات یاد رکھنا جو سبق تم نے دیا ہے نا میری روح پہ اسکے نشانات لگ چکے ہیں ۔ مجھے کھڑے پانیوں سے ڈر لگتا ہے اور تم اس میں ہی اتار گئے ۔ کوئی گلا نہیں تم سے ۔ ہوتا ہے اکثر ہی ہوتا ہے جن کو خاص مان کر زندگی کی سچائی سونپ دیتے ہیں نا وہی ریزہ ریزہ کرکے انسان کو ریت کی طرح اڑا دیتے ہیں ۔ جو نا کبھی جڑ سکتے ہیں اور نا کبھی جی سکتے ہیں ۔ تو کیا ہوا یہاں تو دستور ہے لوگوں کا کہ چھوڑ جاتے ہیں اور کہتے ہیں خوش رہو...!
ب