21/05/2026
کہیں وہ دن نہ آجائے!
(احمد الشرع کے نام)
تم اپنی دُوربیں آنکھوں سے
ان اغیار کا چہرہ نہیں___
چہروں پہ پھیلی مسکراہٹ بھی نہیں___ بلکہ
حسِیں اس مسکراہٹ کے عقب میں
’’دوستی‘‘ کی دلدلوں میں تیرتے سانپوں کو بھی دیکھو!
وگرنہ___!
تم ان کے مرمریں ہاتھوں میں گلدستے نہیں___
گلدستۂ رنگیں میں لپٹے سرخ نیلے پھول تارے ہی نہیں___ بلکہ
ذرا ان پتّیوں سے پھوٹتی اک بوئے قاتل کو بھی تو سونگھو!
کبھی ان ناریوں کی بھی زباں سمجھو!
وگرنہ___!
وگرنہ قربتوں کے اِس سفر میں دن وہ آئے گا
گئی تاریخ کا چکّر
پلٹ کر گھوم جائے گا!
بدیسی لوگ ہوں گے اور___کتابی صورتوں کے ہر ورق پر ’’صرف ہم اور ہم‘‘___ لکھا ہوگا!
مسلماں کے نو ِشتے میں
کلامِ غم لکھا ہوگا!
شہر کی اِن فصیلوں پر
نیا پرچم لگا ہوگا
پتہ تم ’’دوستوں‘‘ کا پوچھتے رہ جاؤ گے ہر سُو ___
مگر تاریخ کا کاتب
قلم تک کھو چکا ہوگا!
-شیخ احسن عزیز شہیدؒ
(تمہارا مجھ سے وعدہ تھا)