Bazm E Sukhan

Bazm E Sukhan Like and follow for entertainment videos

27/04/2023
ﺟﻨﮓ ﭨﮭﮩﺮﯼ ﺗﮭﯽ ﻣﯿﺮﯼ ﮔﺮﺩﺵِ ﺗﻘﺪﯾﺮ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫﻣﯿﮟ ﻗﻔﺲ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺍﻟﺠﮭﺘﺎ ﺭﮨﺎ ﺯﻧﺠﯿﺮ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺍﮔﺮ ﺍﺱ ﺧﻮﺍﺏ ﮐﯽ ﺗﻌﺒﯿﺮ ﺟﺪﺍﺋﯽ ﮨﮯ ﺗﻮ ﭘﮭﺮﮨﻢ ﺗﻮ...
04/10/2020

ﺟﻨﮓ ﭨﮭﮩﺮﯼ ﺗﮭﯽ ﻣﯿﺮﯼ ﮔﺮﺩﺵِ ﺗﻘﺪﯾﺮ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ
ﻣﯿﮟ ﻗﻔﺲ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺍﻟﺠﮭﺘﺎ ﺭﮨﺎ ﺯﻧﺠﯿﺮ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ

ﺍﮔﺮ ﺍﺱ ﺧﻮﺍﺏ ﮐﯽ ﺗﻌﺒﯿﺮ ﺟﺪﺍﺋﯽ ﮨﮯ ﺗﻮ ﭘﮭﺮ
ﮨﻢ ﺗﻮ ﻣﺮ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯ ﺍﺱ ﺧﻮﺍﺏ ﮐﯽ ﺗﻌﺒﯿﺮ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ

ﺭﻭﺡ ﺁﺑﺎﺩ ﮐﺮﻭ ﮔﮯ ﺗﻮ ﺑﺪﻥ ﺍﺟﮍﮮ ﮔﺎ
ﺍﮎ ﺧﺮﺍﺑﯽ ﺑﮭﯽ ﺟﻨﻢ ﻟﯿﺘﯽ ﮨﮯ ﺗﻌﻤﯿﺮ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ

ﺩﻝ ﮐﮯ ﺯﺧﻤﻮﮞ ﺳﮯ ﺍﻟﺠﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺑﮭﭩﮏ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ
ﻟﻔﻆ ﮈﮬﻠﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﻣﯿﺮﮮ ﺷﮩﺮ ﻣﯿﮟ ﺗﺎﺧﯿﺮ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ

ﺍﯾﺴﺎ ﻗﺎﺗﻞ ﮨﮯ ﻣﯿﺴﺤﺎ ﮐﮯ ﺑﺎ ﺍﻧﺪﺍﺯ ﺟﻨﻮﮞ
ﺩﻝ ﮐﻮ ﺩﻝ ﺳﮯ ﻣﻼﺗﺎ ﮨﮯ ﺷﻤﺸﯿﺮ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ

ﺁﻧﮑﮫ ﺍﺏ ﺑﮭﯽ ﺑﺮﺳﺘﺎ ﮨﻮﺍ ﺑﺎﺩﻝ ﭨﮭﮩﺮﯼ
ﭼﺎﻧﺪ ﺍﺏ ﮐﮯ ﺑﮭﯽ ﻧﻈﺮ ﺁﯾﺎ ﮨﮯ ﺗﺎﺧﯿﺮ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ

ﮨﻢ ﺟﻮ ﻧﻮﻭﺍﺭﺩِ ﻋﻘﻠﯿﻢ ﺳﺨﻦ ﮨﯿﮟ ﻣﺤﺴﻦ
ﮐﺒﮭﯽ ﻏﺎﻟﺐ ﮐﮯ ﻣﻘﻠﺪ ﺗﻮ ﮐﺒﮭﯽ ﻣﯿﺮ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ
ﻣﺤﺴﻦ ﻧﻘﻮﯼ

یارب کریم ! ہم آج اس نصف شعبان کی رات آپ سے ہر اس خیر اور بھلائیوں کا سوال کرتے ہیں ___جو  ہمارے پیارے نبی کریم صلی اللہ...
08/04/2020

یارب کریم !
ہم آج اس نصف شعبان کی رات آپ سے ہر اس خیر اور بھلائیوں کا سوال کرتے ہیں ___جو ہمارے پیارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آپ سے اپنی امت کے لیے مانگی ہیں! آمین

شبِ برآت مبارک اچھے لوگو ❤

مانگنے کا مزہ آج کی رات ھے😊

08/04/2020

امریکا میں لاک ڈاؤن کے دوران بارہ سال کی اس لڑکی کو ریاضی کے کچھ سوالات حل کرنے میں مشکل کا سامنا ہو رہا تھا اُس نے اپنے...
05/04/2020

امریکا میں لاک ڈاؤن کے دوران بارہ سال کی اس لڑکی کو ریاضی کے کچھ سوالات حل کرنے میں مشکل کا سامنا ہو رہا تھا اُس نے اپنے ٹیچر کو ای میل کی تو ٹیچر وائٹ بورڈ لیکر اسکے گھر کے سامنے آئے اور انہیں فاصلے سے سوالات سمجھا دئیے ـ
قوم اس طرح بنتی ہے

.یوں بھی کچھ لوگ تھے محفل میں جو لائے نہ گئےجب سُنا بھی کبھی آئے ہیں تو پائے نہ گئےدوست احباب مُصیبت میں تو پائے نہ گئےہ...
04/04/2020

.
یوں بھی کچھ لوگ تھے محفل میں جو لائے نہ گئے
جب سُنا بھی کبھی آئے ہیں تو پائے نہ گئے

دوست احباب مُصیبت میں تو پائے نہ گئے
ہم اذیّت میں اکیلے گئے، سائے نہ گئے

راہ پر ہم سے کسی طور وہ لائے نہ گئے
کرکے وعدے جو مُلاقات کو پائے نہ گئے

اپنے معیار پہ ہم سے تو وہ لائے نہ گئے
گھر جو مرضی سے ہماری کبھی آئے نہ گئے

شاملِ حال رہِیں میرے، دُعائیں سب کی
اُن کی اُلفت کے مِرے سر رہے سائے نہ گئے

دِل کے سب دِل میں رہے راز، کِسے کیا کہتے
درجۂ دوست تک احباب بھی لائے نہ گئے

چھوڑنا ہم کو پڑا بادِلِ ناخواستہ گھر
فیصلوں میں جو تسلسل سے بٹھائے نہ گئے

دَیں نہ کیوں حُسنِ بَلاخیز پہ الزام، کہ جب
دوسرے خواب تک آنکھوں میں سجائے نہ گئے

سب گُماں جو ہمیں لاحق تھے یقیں میں بدلے
شکوک اُن سے جو ذرا دِل کے مِٹائے نہ گئے

موسمِ گُل ہی نہیں وجۂ آشفتہ سری !
ہم تِری یادوں سے کِس پَل کہ ستائے نہ گئے

شک کوئی چارہ گری پر نہ ہو، اے چارہ گرو !
ہم سے غم اپنے، دِلاسوں میں دبائے نہ گئے

ہوکے لازم رہے جینے کو تنفس کی طرح
بِیتے لمحے جو تِرے سنگ، بُھلائے نہ گئے

یاد آتے ہی نہیں اُن کو کسی طور خلش
ہاں مگر اوروں سے جب ناز اٹھائے نہ گئے

شفیق خلش

Address

Lahore

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Bazm E Sukhan posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share