23/06/2026
سنہ 1995ء میں بوسنیا کی جنگ کے دوران ایک ایسا تاریخی موڑ آیا جس نے اس جنگ کی سمت بدل دی اور اس تبدیلی کا سبب یہ تھا
افغانستان ،پاکستان ،ترکی ،مصر ،ایران سعودی عرب اور کویت سے مختلف تعداد میں نوجوان رضاکار بوسنی مسلمان عوام کا دفاع کرنے کے لیے بوسنیا پہنچے تاکہ بوسنی سرب افواج کی جانب سے کیے جانے والے قتل عام کا مقابلہ کر سکیں۔
یہ جانباز جب بوسنیا پہنچے تو سب سے پہلے "زاویدووچی" نامی ایک بوسنی گاؤں میں اترے، جہاں ان کی قیادت ایک بہادر البانوی مسلمان کمانڈر صباح الدین کر رہے تھے۔
اس وقت سرب افواج زاویدووچی شہر کا محاصرہ کیے ہوئے تھیں۔ وہ شہر سے تقریباً ڈیڑھ میل کے فاصلے پر صنوبر کے درختوں سے ڈھکی پہاڑیوں پر قابض تھیں۔ اس شہر میں تقریباً بیس ہزار مسلمان آباد تھے، جن پر سرب افواج نے چار ہزار ہاؤٹزر اور مارٹر گولے برسائے تھے۔
اخبار لاس اینجلس ٹائمز کے مطابق ان رضاکاروں کی آمد کے وقت شہر کے باشندوں اور اس کے محافظوں کی صورتحال انتہائی مایوس کن تھی جبکہ یہ مجاہدین صرف ہلکے پیدل فوجی ہتھیاروں سے لیس تھے۔
آٹھ ماہ تک ان جانبازوں نے سرب افواج کی پیش قدمی روکنے کی کوشش جاری رکھی، لیکن وہ جانتے تھے کہ صرف دفاع کافی نہیں بلکہ محاصرہ مکمل طور پر توڑنے کے لیے ایک غیر معمولی کارروائی ضروری ہے۔ تاہم روایتی عسکری منصوبوں کے مطابق صرف ہلکی مشین گنوں اور دستی بموں کے ذریعے ایک مکمل مسلح فوج کا سامنا کرنا تقريباً ناممکن سمجھا جاتا تھا۔
اخبار کے مطابق بوسنی فوج نے سب سے خطرناک محاذ پر انہی مجاہدین کو تعینات کیا۔ اخبار ان کے طرز عمل کا ذکر کرتے ہوئے لکھتا ہے کہ وہ لاؤڈ اسپیکر لگا کر دن رات تکبیر کی صدائیں بلند کرتے رہتے تھے، جس سے سرب افواج میں خوف اور بے چینی پھیل جاتی تھی۔
وقت گزرتا رہا انتظار طویل ہوتا گیا، اور یہ جانباز بے چینی اور جوش کے ساتھ اس گھڑی کے منتظر رہے جب حملے کا حکم ملے اور محاصرہ ختم کیا جا سکے۔
بالآخر اللہ کی مدد کا وقت آیا۔
ایک دن صبح چار بجے انہیں وہ اشارہ ملا جس کا وہ مدت سے انتظار کر رہے تھے۔ اندھیرے کی آڑ میں یہ جانباز خاموشی سے اس پہاڑ کی طرف روانہ ہوئے جو دو برس سے سرب افواج کے دفاعی نظام کا بنیادی مرکز تھا اور جس کا نام "بودسيجيلووو" تھا۔ یہ نہایت دشوار گزار اور انتہائی کھڑی پہاڑی تھی، جسے عبور کرنا بہت مشکل سمجھا جاتا تھا۔
ان جانبازوں کے پاس صرف بندوقیں، چھریاں اور دستی بم تھے۔ انہوں نے اچانک سرب افواج پر حملہ کر دیا اور بوسنی فوجیوں کے بیان کے مطابق دس منٹ سے بھی کم وقت میں دشمن کی خندقوں پر قبضہ کر لیا، ابتدائی مرحلے میں ساٹھ سرب فوجیوں کو ہلاک کیا، جبکہ ان کے اپنے پندرہ افراد مارے گئے۔
بیان کے مطابق تین سرب بٹالینیں مکمل طور پر ختم کر دی گئیں اور بوسنی فوج کا کہنا تھا کہ وہ یونٹ عملی طور پر ہمیشہ کے لیے ناکارہ ہو گئے۔
اس کے بعد ان جانبازوں نے فوزوکا شہر کی طرف پیش قدمی کی۔ بوسنی سرب رہنما را دووان کارادژچ نے اس شہر کے بارے میں دعویٰ کیا تھا کہ وہ اس کا دفاع اسی شدت سے کرے گا جیسے دوسری عالمی جنگ میں روسیوں نے اسٹالن گراڈ کا دفاع کیا تھا، لیکن مصنف کے مطابق اس کا یہ منصوبہ ناکام ہو گیا۔ بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ شہر کی فوجی چھاؤنی تباہ کر دی گئی اور پانچ سو سرب فوجی مارے گئے۔
ایک مسلمان فوجی جس نے ان کے ساتھ خدمات انجام دی تھیں، ان جانبازوں کی بابت یہ الفاظ نقل کرتا ہے
وہ قیدی بنانے کو پسند نہیں کرتے تھے بلکہ اپنی چھریوں سے لڑنا اور قتل کرنا پسند کرتے تھے۔
ان کارروائیوں کے بعد یورپ میں شدید ردِ عمل پیدا ہوا اور امن کانفرنسوں اور مختلف سفارتی اقدامات کا آغاز کیا گیا، کیونکہ یہ خدشہ پیدا ہو گیا تھا کہ اگر مزید مجاہدین یورپ پہنچے تو وہ ان کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔ اسی بنا پر ان کے خلاف کارروائیاں کی گئیں، یہاں تک کہ ان میں سے اکثر کو بوسنیا سے نکلنا پڑا جبکہ چند افراد بوسنی خواتین سے شادی کرنے کے بعد وہیں مقیم رہے۔
تصویر میں بوسنی کمانڈر ناصر اوریچ دکھائے گئے ہیں۔
صلى الله اگر آپ نے مکمل تحریر پڑھ لی ہے تو نبی کریم محمد ﷺ پر درود بھیجیں۔