21/07/2025
*_مرزا غالب نے بستر پر پیشاب کردیا بیوی بولی یہ کیا ہوا ہے غالب ؟_*
*_غالب بولے_*
*_ناکامی عشق میں یہ حال ہوا غالب_*
*_آنسو نکل رہے ہیں رستہ بدل بدل کر_*
مرزا غالب کے اس شعر کا پیٹرولیم کی قیمتوں میں اضافے والی سمری پر دستخط کرتے وقت نکلنے والے آنسووں سے قطعا اور دور دور تک کا کوئی تعلق نہیں
*دور فٹے منہ ایسے حکمران پر🖐🏿*